Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

تمہارے کمرے کا جلتادیا

nighatسنو جس کمرے کی بات ہمیشہ مجھ سے کرتے ھو
وہی کمرا ھے نا جہاں تم روح اپنی تلاش کرتے ھو
دل کے طاق پہ رکھے روشن دیئے جیسا رھتے ھو
تنہائی کی آگ میں دھواں دھواں سا جلتے ھو
بات اٰسی تنہائی کی ھےاور لو بھی اُسی دیئے کی ھے
بات اُسی کمرے کی ھے جہاں آرزو مجھے رھنے کی ھے
بیٹھ کر جہاں کشف کے نئے باب اترتےھیں
رات دن سوئے جاگے سے چراغ لگتے ھیں
diya چپ چاپ سے لمحے مہکے گلاب لگتے ھیں
سنو جس کمرے کی بات ہمیشہ مجھ سے کرتے ھو
بات اُسی کمرے کی ھے
جہاں جلتا ایک دیا ھے
رستہ مجھے دیکھاتا ھے
اور پاس اپنے بلاتا ھے
پل بھر میں
میری سادہ چنری بنفشی ھونے لگتی ھے
سرخ چوڑیوں کی پائلیں بجنے لگتی ھیں
میری تنہایاں مور بن کر ناچنےلگتی ھیں
اور
پھر میں اُسی کمرے کا دیا ھو جاتی ھوں

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

33 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 5:33 am

    ایک اور مضبوط اور نہایت تاثراتی خوبصورت نظم.نظم کیا ہے پوری ایک کہانی ہے جس میں پلاٹ بھی ہے،مکالمے بھی،کشمکش بھی،کردار بھی اور انجام بھی. آپ کی نظموں میں سحر زدہ کیفیت ایک منفرد سی بات ہے اور خود آپ کو شاید اس کا احساس تک نہیں ہے.
    اس دیے کی لو میں
    میں نے اُس کے چہرے کو پڑھنا چاہا تو
    سارے حروف جیسے میری آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگے
    اور پھر
    ہواؤں نے بربط پر وہ نغمہ چھیڑا
    جس کی دُھن میں اسم اعظم کا کشف پوشیدہ ہے
    آنکھوں کے سامنے رقصاں لفظ اور اسم اعظم کا کشف
    یہی تو دیے کو روشن رکھے ہوئے ہیں

  2. زرقا مفتی نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 1:14 pm

    نگہت جی
    آپ کی نظم کا خیال پسند آیا
    داد قبول کیجئے
    والسلام
    زرقا

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 1:38 pm

    آپ دوستو کی توجہ کا بہت شکریہ

  4. IKRAM UL HAQUE UNITED ARAB EMIRATES نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 3:10 pm

    boohat khoob

  5. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 4:23 pm

    نگہت کیا بات ھے اس کمرے کی .جسسسس کی وہ بات کرتے ھیں اور کیا خوب بات کرتے ھیں

  6. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 7:37 pm

    نگہت صاحبہ
    زیادہ آداب۔
    آپ کی تازہ نظم بقول جناب صفدر ہمدانی ایک مضبوط تاثراتی نظم ہے۔ بلکل سچ ہے مگر اس میں تھوڑا سے اضافہ کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی نظمیں قاری کے دل اور ذہن پر اثر کرتی ہیں اور نظم میں استعمال ہونے والے لفظوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوے ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں مثال کے طور پر دئیے کی لُو ، تنہاہی، آرزو ، مہکے گلاب ، سرخ چوڑیاں وغیرہ۔ مبارک ہو۔
    جیم فے غوری۔۔۔فیدنسا،اٹلی

  7. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 7:59 pm

    جیم فے غوری جی آپ نے اتنی خوبصورتی سے میری نظم کے کچھ لفظوں کو قاری کی جاگیر کہا ھے یقین مانیئے بہت اچھا لگا ۔

  8. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 8:01 pm

    اکرام جی اور تانیہ ۔۔۔ نظم کی پسندیدگی پر آپ دونوں کی ممنون ھوں ۔

  9. رانی PAKISTAN نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 8:39 pm

    نگہت جی آپ کی نظم بہت بہت پسند آی۔ رانی پاکستا ن

  10. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 11:48 pm

    نگہت صاحبہ۔
    آپ پر سلامتی ہو۔
    آ پ کی خوبصورت نظم سے یوں تحریک ملی ہے کہ مندرجہ ذیل تین اشعار ہوے۔جو تمام دوستوں کے لئے تحریر کر رہا ہوں۔شاید کسی قابل ہوں۔
    جیم فے غوری
    دیارِ غیر میں دلِ بے قرار ابھی سلامت تھا
    ورنہ اِس بے چراغ شہر کا ہر لمحہ قیامت تھا

    کچے مکان پہ بارشوں کے بعد آنگن میں دوبارہ
    گڑی سولی پر گلُ اُگنا زندگی کی علامت تھا

    دل کے ساتھ تنہائی میں اس طرح سے جنگ ہوئی
    کہ تیرا مل کر بچھڑنا کیوں باعثِ ندامت تھا
    جیم فے غوری۔۔۔فیدنسا، اٹلی

  11. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 25, 2008 at 11:50 pm

    آپ پر سلامتی ہو۔
    آ پ کی خوبصورت نظم سے یوں تحریک ملی ہے کہ مندرجہ ذیل تین اشعار ہوے۔جو تمام دوستوں کے لئے تحریر کر رہا ہوں۔شاید کسی قابل ہوں۔
    جیم فے غوری
    دیارِ غیر میں دلِ بے قرار ابھی سلامت تھا
    ورنہ اِس بے چراغ شہر کا ہر لمحہ قیامت تھا

    کچے مکان پہ بارشوں کے بعد آنگن میں دوبارہ
    گڑی سولی پر گلُ اُگنا زندگی کی علامت تھا

    دل کے ساتھ تنہائی میں اس طرح سے جنگ ہوئی
    کہ تیرا مل کر بچھڑنا کیوں باعثِ ندامت تھا

    جیم فے غوری۔۔۔فیدنسا، اٹلی

  12. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 3:19 am

    نگہت جی ۔سلام مسنون ۔
    آپ کی نظم پر جس محبت اور شوق سے اس بلاگ پر احباب اظہار خیال کر رہے ہیں اور آپ کو دادو تحسین دی جا رہی ہے‘ مجھے پورا اعتماد ہے کہ یہ آپ کے اُن سچے جذبوں کی نمو پزیری ہے ‘ جو دوسروں کے دلوں ‘ دماغوں اور روحوں میں اتر گئے ہیں ۔
    اک “ دیئے “ کی لو نے جس قوت اور محبت سے جلوہ گری کی ہے اُسے محسوس کئے بغیر کوئی رہ ہی نہیں سکتا ۔
    آپ کی نظم میں ‘ جیسا کہ میں سمجھا ہوں “ طاق “ اور اس پر رکھا “ روشن دیا “ اور “ کمرہ “ بہت گہرے اور بلیغ استعار ے ہیں ۔ کمرہ ‘ وہ گھر ہے جس کا اندر و باہر اپنے مرکز سے ہٹ گیا ہے اور اس کا “ ہونا “ اس “ ہونے“ کی طرح نہیں رہا جیسا ہونا چاہیے ۔ اور جہاں تک “ دیئے “ کا استعارہ ہے تو آپ نے اسے جو بھی رنگ دیا ہو وہ اپنی جگہ لیکن میرے لیے یہ “ دیا “ “ اللہ نورالسمٰوات والارض “ ہے ۔ دیا اسی “ نور العلیٰ نور “ کا نور ہے وہی نور جو بشر ہے ‘ آدمی ہے ‘ انسان ہے‘ اور انسان جو عشق ہے ‘ حسن ہے ‘ عقل ہے ۔ دیا ایک روشنی اور توانائی ہے ۔ وہ ادائے توانائی بھی ہے اور حسن دلپذیر کا تماشا بھی اور حسن باطن کا ایک جاں گداز کشف بھی ۔
    آپ کی نظم کی یہ سطر یا مصرعہ “ پھر میں اس کمرے کا دیا ہو جاتی ہوں “ میرے نزدیک یہ آپ کے اندر کی شاعرہ کی اس وجدانی و وارداتی کیفیت کی مثال بھی ہے اور اشاریہ بھی جو آپ کو “ ایک “ مکمل اکائی “ بناتی اور آپ کے حوالے سے ہمیں زمینی و ماورائی حقیقتوں سے جوڑتی اور رشتوں سے ہم آہنگ کرتی اور ہر حال میں زندگی سے پیار کرنے کی کہانی سناتی ہے۔
    لہٰذا نگہت جی ‘ آپ کی یہ نظم ہر اس فرد کے لیے ہے جو “ کمرہ دل “ میں “ دیا “ جلائے مسلسل کسی حُسن میں گم ہوتے رہنے کا متمنی ہو ۔
    آخر میں بس یہی کہوں گا کہ دوسری نظموں کی طرح آپ کی یہ نظم بھی آپ کے اندر کی فطری شاعرہ کے فن کی عکاسی کرتی ہے ۔ آپ کے لکھے ہوئے الفاظ بولتے اور اپ کی شخصیت کی شناخت خود کراتے ہیں ۔ اور یہی اصل شاعر یا شاعرہ کا منصب ہے ۔
    خاکسار کو دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
    وسلام ۔

  13. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 3:56 am

    نصر جی آپ نے تو وہ سب کہہ دیا جو میں نے کہنا چاھا تھا ۔۔ ایک اور بات بھی جو سب سے بڑا سچ ھے اور وہ یہ کہ میں کبھی بھی آپ جیسا نہیں کہہ سکونگی جس عمدگی اور بلاغت سے آپ نے میری نظم کو زندگی دی ھے آللہ آپ کو سلامت رکھے اور اپنی پناہ میں ہمیشہ خوش رکھے۔ آمین

  14. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 4:06 am

    جیم فے غوری جی آپ کی غزل کے چند اشعار میری نظم کی وجہ سے ھوئے اس سعادت پر خوش ھوں ۔ بہت شکریہ ۔

  15. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 4:08 am

    رانی جی خوش آمدید ، نظم کی پسندیدگی کا بہت شکریہ ۔

  16. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 5:23 am

    جیم فے غوری جی ۔ آداب و تسلیمات ۔
    آپ نے نگہت جی کی نظم سے متاثر ہو کر تحریک پکڑی اور خود اتنی اچھی غزل کہہ دی بھئی مبارک ہو ۔ آپ کا یہ اعتراف آپ کی صداقت کی گواہی دیتا اور میرے نزدیک آ پ کا مرتبہ بلند کرتا ہے ۔

    نگہتِ گل پھیلتی کیسے جو ہوتی نہ‘ نسیم
    خوش رہیئے ۔
    وسلام ۔

  17. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 5:42 am

    سبحان اللہ نصر جی آپ نے تو کمال کر دیا ، خوش رہیئے۔

    اب جیم فے غوری جی آُُپ پوری غزل بھیج ھی دیجئے کہ آُپ پر نصر ملک جی جیسے کشادہ دل و نظر رکھنے والے اہلٍ دانش کی نظر پڑ گئی ھے ۔

  18. خاور چودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 12:00 pm

    مجھے آپ کی نظم بہت پسند آئی ہے اور ساتھ ہی اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ فورم میں اسے بھر پور پذیرائی مل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔

  19. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 12:39 pm

    خاور جی مجھے آپ کی خوشی سے خوشی ھو رھی ھے ، بہت شکریہ

  20. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 2:46 pm

    متحرمہ نگہت اور نصر ملک صاحب
    آپ پرسلامتی ہو ،
    آپ حضرات کی ذر ّہ نوازی ہے ورنہ بندہ کس قابل ، آپ جیسے عمدہ اور بے مثال لوگ اس دور میں کم ہی ملتے ہیں ۔خاص طور پر پردیس میں جومخلص اور سچے فنکار اور قلمکار گمنامی کی زندگی گذ ار رہے ہیں اُن کے قدر دان نہ ہونے کے برابر ہیں جب اس بحر اور قافیہ میں تین شعر مکمل ہو ے تو میرے ذخیرہ الفاظ میں مزید الفاظ قافیہ کےختم ہو چکے تھے الہذ میں مزید سطریں لکھنے سے قاصر رہا۔بہرحال کچھ نہ کچھ تو ضرور سناؤں گا کہ آپ جیسے محترم اور عزیز دوست بڑی مشکل سے ملتے ہیں
    جیم فے غوری۔۔۔اٹلی

    غزل
    شہر سے باہر دریا جو بہتا ہے
    ساری عمر ہی تنہا وہ رہتاہے

    خوشبؤ ہم سفر ہوَا کی رہتی ہے
    پھُول مٹی ہونے کا غم سہتاہے

    سورج ڈوبا رات کاخوف مجھ کو
    گھر واپس لُوٹ جانے کو کہتاہے

    دریا سےقطرہ بن کےجدا ہوا میں
    اور دریا ہے کہ پھر بھی بہتا ہے

    سارے دن کی مشقت سےچُورجیم
    صبح تلک یادوں کی مے پیتاہے

    جیم فے غوری۔۔۔۔فیدنسا،اٹلی

  21. ابو تیمور UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 3:51 pm

    آداب نکہت جی
    نظم کیا ہے ایک مشیت کا چراغ ہے
    ”جس طرح جھموتا پانی ہے زراعت کے لئے”

  22. اکمل سید UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 26, 2008 at 3:57 pm

    سلام نکہت بی بی
    ”موت آئے گی اندھیروں کے تماشائی کو
    کون جھٹلائے گا سورج کی توانائی کو ”
    کمرے کا دیا انتہائی خوپ صورت نظم ہے” لوگ کیا دیں گے تجھے عظمت فن کے بدلے”

  23. زیب نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 3:21 am

    واہ کیا کہنے

  24. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 5:20 am

    جیم فے غوری جی عمدہ خیال اور عمدہ بنت کی غزل کا بہت شکریہ۔

  25. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 5:25 am

    ابو تیمور جی آپ کی تشبیحات بہت اچھی لگی ۔نظم کی پسندیگی پر شکرگزار ھوں ۔

  26. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 5:38 am

    اکمل جی آپ نے جسطرح سے دیئے کو سورج کے ساتھ رکھ دیا یقین مانے بہت توانائی ملی اٍس خیال سے ، بہت شکریہ ۔

  27. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 7:06 pm

    محترم جیم ف غوری جی ۔
    خداوند خدا آپ کو اپنی سلامتی میں رکھے ۔
    چراغ سے چراغ اسی طرح تو جلتے اور روشنی پھیلاتے ہیں ۔ آپ خیال کی بندش اور اظہار کے طریق کو خوب جانتے ہیں اور اب تو فروغ اظہار کے لیے القمر کے ذریعے یہ پلیٹ فوروم بھی موجود ہے ۔ سلسہ جاری رکھئے ۔ خداوند آپ کو مزید توفیق دے ۔ مزہ آگیا ۔
    نگہت تسیم مبارک باد کی مستحق ہیں کہ سوئے رہنے والوں کو جگا رہی ہیں ۔ سلامت رہیں اور محفل یاراں میں یوں ہی خوشبو بکھیرتی رہیں ۔ میری ان کے لیے یہی دعا ہے ۔

  28. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 9:36 pm

    قابلِ احترام
    نصر ملک اور نگہت
    آپ پر سلامتی ہو،
    یہ آپ جیسے عظیم لوگوں کی ذرّہ نوازی ہے کہ القمر کے انٹرنشنل پلیٹ فارم پر میری حوصلہ افزائی آپ نے کی ۔اگر یونہی آپ میری ہمت بڑھاتے رہے تو پچس سال سے دبے ہوے
    شوق کو تقویت ملے گی اور میں دوبارہ اس فیلڈ میں سرگرم ہو جاؤں گا۔آپ جضرات کا نہایت ممنون ہوں گا۔ آپ کا خیرخواہ،
    جیم فے غوری۔۔۔۔اٹلی

  29. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:18 am

    چراغ سے چراغ اسی طرح تو جلتے اور روشنی پھیلاتے ہیں ۔بےشک نصر جی ایسے ھی چراغ جلتے ھیں لیکن اٍن چراغوں کو جب تک آپ جیسوں کی مہربان نطر کا قدردان سایہ نہ ملے تو جلد بجھ بھی جاتے ھیں ، تمنا ھے کہ ھم سب یونہی ایک دوسرے سے لو لیتے رھے اور اپنے سفر کو طے کر تے رھے ۔

  30. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 7:25 pm

    نگہت جی آپکی خوبصورت نظم پر اپنا حقیر سا اک قطعہ پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں اُمید کےقبول کریں گی۔

    دو طرف تنہایاں دو طرف اُداسیاں
    لوگو میرے مکان کا ہے طرز جدا سا
    کہتے ہیںلوگ مجھکووہ دیتا ہے بددعا
    پر مجھکو کیوں لگتاہے انداز دعا سا

  31. علی شاہ نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:00 pm

    نگھت جی

    اللہ حاسدوں کی نظر سے بچائے، ہِٹ پر ہِٹ نظمیں لکھ رہیں ہیں، میری داد پلس مبارکباد قبول کریں۔

  32. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:25 pm

    جیتے رھو علی

  33. علی شاہ نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 9:21 pm

    حد ہوگئ بھئ نگھت جی ادھر آپ کے کمرے میں جلتے دیے کی تعریف کی ادھر میرے کچن کا بلب فیوز ہوگیا۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

    رناں والیا دے بلدے نے ڈیوے تے چھڑیاں دا بلب نا جلے۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو