عمر بھر کی کمائی
دوستوں نگہت کےکہنے پر اپنی عمر بھر کی کمائی آپ سب کی نزر۔ امید کرتی ھوں کہ طبیعت پر گراں نہیں گزرے گی۔کیونکہ جانتی ھوں بلاگ میں اتنی لمبی تحریر سہی نہیں ۔عمر بھر کی کمائی۔
آًًماں آماں کہاں ھو ۔ارے کیا ھوا کیوں اتنا شور مچائے جا رہی ھے ،کیا قیامت ٹوٹ پڑی۔آماں نے دالان سے چیخ کر کہا۔آماں ابا کہاں ھیں ۔اور اس کے ساتھ کچھ شور بھی سنائی دیا۔اب آماں کو کچھ کچھ پریشانی ھونے لگی ۔کہ فاطمہ ویسے نہیں شور مچا رہی ۔کہ آواز آئی اماں پولیس آئی ھے۔اور اس کے ساتھ ھی آماں کی ایک زور دار چیخ سنائی دی یااللہ َ خیر،اب اماں اپنے سینے پر ھاتھ رکھے دروازے پر تھی۔
مائی تیرا خاوند کہاں ھے۔وہ تو شہر گیا ھے۔ صبح تڑکے ھی کیوں خیر ھے نا حوالدار جی۔بیشرا ٹھیک تو ھے نا ۔ جلدی بتا میرا دل بیٹھا جا رہا ھے۔ہاں ہاں بیشرا ٹھیک ھے ۔لیکن تیرے دونوں بیٹے جیل میں ھیں جب بشیرا آجائے تو تھانے بجوا دینا۔میرے بچوں نے کیا کیا ھے یہ تو بتا بیٹا ۔ اور مائی اپنا سینا پیٹنے لگی۔گاوں کے باقی لوگ بھی جمح ھو گے ۔ان میں ایک دو اثر رسوخ والے تھے ۔وہ آخر بول ھی پڑئے ۔کہ تھانےدار جی ان کے دونوں بیٹے بڑے شریف ھیں۔ وہ جیل میں کیوں کر چلے گے۔
دیکھو بزرگوہ جو شریف نظر آتے ھیں دراصل وہ باھر کیا کرتے ھیں یہ آپ نہیں جانتے ۔ھم پولیس والوں کا یہ روز کا کام ھے۔ اس لیے ھم سب جانتے ھیں کہ کون شریف ھے اور کون بدمعاش۔
اچھا سن مائی ھم جا رہئے ھیں جوں ھی بشیرا آئے تو تھانے بھیج دینا ۔سمجھی۔ مائی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
اب گلی اور مائی کے دروا زے پر عورتیں بھی جمح ھو چکی تھیں ۔اور آپس میں کھسر پھسر کر رہی تھیں،پتہ نہیں کیا جرم کیا ھے ان دونوں نے ۔ ضرور کوئی لڑکی کا چکر ھو گا۔ یا پھر قتل کا ۔ ہائے مجھے توفاطمہ اور بڑی کی فکر ھے ،دونوں کی ابھی شادی ھونی ھے۔ جس گھر میں پولیس آجائے ،اس گھر سے مشکل سے ھی ڈولے اٹھتے ھیں۔ ،مائی دروازے سے لگی بے سدھ کھڑی تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرئے۔عورتون کی باتوں پر کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔
کیا میری بیٹیاں بن بیاہی رہ جایں گی ۔ اب ان سے کوئی شادی نہیں کرئے گا۔ یا اللہ ھم کو کس گناہ کی سزا مل رہی ھے ،ھم نے تو کسی کا برا نہیں سوچا تھا۔ ایک چینوٹی تک تو ماری نہیں تھی ۔اپنے بچوں کو عزت سے بڑا کیا ۔غیریبی میں میٹرک تک پڑھایا۔پاب نے ایک چھوٹی سی دوکان کر کے ھم سب کو پالا ۔
آج بیٹے اس قابل ھوئے کہ باپ کا ساتھ دے سکیں تو پولیس کے چکروں میں ۔ میرا دل کہتا ھے میرے دونوں بیٹے بے گناہ ھیں بےبصور ھیں ،ایک ماں کا دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
میں کیا کروں کہاں جاوں ۔ مائی زور زور سے چیخنے چلانے لگی۔ دونون بیٹیوں نے بڑی مشکل سے ماں کو تسلی دی۔ آماں دیکھنا سب ٹھیک ھو جائے گا ۔تم ویسے پریشان ھو رہی ھو ۔
بیشرا دیکھو تمھارے دونوں بیٹوں پر چوری کا الزام ھے ۔ نا صاحب میرے بچے چور نہیں ھو سکتے بیشرا دونوں ھاتھ جوڑنے لگا۔ صاحب یہ سب جھوٹ ھے کسی کی سازش ھے۔ بیشرا تم کون سے گاوں کے چودھری ھو، تمھارا بڑا نام ھے عزت ھے ۔جو تیرے خلاف کوئی سازش کرے گا۔مائی باپ اب کیا ھو گا۔ بیشرا رونے والی صورت میں پوچھ رھا تھا ھو گا کیا کیس بنے گا ، سزا ھو گی اور کیا ھو گا۔کیا میں مل سکتا ھوں اپنے بچوں سے ،نہیں تھانےدار نے کہا۔
رات بیشرا کےگھر جیسے ماتم تھا۔ ساری رات کوئی نہیں سویا اور نا کچھ کھایا پییا۔ اگلے دن مائی اور بشیرا صبح صبح تھانے گیے۔ اپنے بیٹوں کی رہائی کے سلسلہ میں لیکن پہلے تو بڑے صاحب نہیں ھیں۔ ابھی انتظار کرو کب آہیں گے کچھ پتہ نہیں ھے۔ ملنے کی بھی اجازت نہیں ھے ۔بوڑھے مان باپ کا دل کٹ کر رہ گیا
صبح چھ بجے سے دونوں تھانے کے باھر بیھٹے ھوئے ھیں ۔ بڑے صاحب کے انتظار میں ۔مائی آخرکار مجبور ھو کر پوچھ بیٹھی کہ بتاو بڑے صاحب کب آہیں گے،کچھ پتہ نہیں ، پھر تم لوگ یہاں کیا کرنے آتے ھو کسی بات کا پتا نہیں ھم صبح سے بیٹھے ھوئے ھیں۔ تو اپنے بیٹوں کو سمجھانا تھا،کہ غلط کام کیوں کیا۔ ایک سپائی نے غصے سے کہا آج پہلی دفعہ میں ھی ہمیت ھار گی ھو ۔مائی اب تو روز کے چکر ھیں لیکن میرے بچوں نے کیا جرم کیا ھے کوئی نہیں بتاتا، تمھارے بیٹوں نے چوری کی ھے۔ وہ بھی ایک فیکڑی میں نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے ،گھر جاو پیسوں کا بندوبست کروں ۔
کتنے پیسے وہ ابھی پوچھنے والے تھے کہ بڑے صاحب آگے سر یہ بیشرا اور اس کے گھر والی صبح سے آئے ھوے ھیں۔ ہاں بشرا (٥٠) ھزار کا بندوبست کرو
بڑے صاحب نے نہایت ھی سکون سے کہا ۔یقینا اس کے لیے یہ کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔لیکن وہ یہ بھول گیا تھا۔ایک غریب کی پوری زندگی کی کمائی ھے۔فاطیمہ کے ابا کہاں سے آئے گی اتنی بڑی رقم ایسا کرو دوکان بیچ دو ۔لیکن اگر دوکان بیچ دوں تو گھر کا خرچہ کہاں سے پورا ھو گا ۔ ھمارے بیٹے ھیں نا مایوس کیوں ھوتے ھو ھمارے دو بازر جیل سے جلد ھی آجایں گے ۔ یہ ایک ماں کی امید تھی اور دوسرا دوکان کون سی میری اپنی ھے ۔کرایہ کی دوکان ۔اس میں جو مال پڑا ھے ۔اس کی بھی قیمت اتنی نہیں۔اب کیا ھو گا ۔اللہ مالک ھے ۔چودھری سے بات کرتا ھوں ۔
اگلے دن پھر صبح صبح بیشرا اور مائی تھانے میں دونوں کے رونے دھونے کا اتنا اثر ھوا کہ بیٹوں سے مولاقات کرائی گیی۔ ابا ھم سچ کہتے ھیں ھم نے کوئی چوری نہیں کی ۔اماں ھم نے سوچا کہ اس دفعہ ھم فیکڑی سے سامان لاتے ھیں ،کیونکہ وہ سستہ پڑے گا۔لیکن ابھی ھم فیکڑی میں داخل ھی ھوئے تھے کہ وہاں پولیس آگی۔اور ھم کچھ لوگوں کو گرفتار کر لیا ۔فیکڑی مالک نے ھم پر الزام لگایا کہ ھم نے اس کے ٥٠) ھزار چوری کیے ھیں۔اماں ابا ھم آپ کی قسم کھاتےھیں ھم بےگناہ ھیں ۔ابا کچھ کرو۔کھانے کو بھی کچھ نہیں ملا۔اور رات سے دو دفعہ مار چکے ھیں اور یہی کہتے ھیں کہ تم لوگ کہو کہ ہاں تم نے چوری کی ھے۔ دونوں بیٹے بچوں کی طرح زار و قطار رہ رہے تھے۔اور بوڑھے ماں باپ بےبسی اور بےکیسی سے سوچ رہے تھے ۔کہ وہ کریں تو کیا کریں
تھانے کوٹ کے چکر کاٹ کاٹ کر اب تو جیسے وہ عادی ھو چلے تھے۔کچھ تائم بعد ایک اور الزام ۔اور عین ممکن تھا۔کہ قتل کا بھی الزام لگا دیں۔ اور دونوں کو پھانسی بھی ھو سکتی ھے۔ ایک دن تھانے دار نے کہا۔ دوکان بھی گیی بیٹیوں کی شادی بھی نا ھو سکی۔اس وقت کا منحوس لمعہ کہ جس گھر میں پولیس آجائے اس گھر کی بیٹیاں ماں پاب کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتیں ھیں ان کے ڈولے نہیں جنازے اٹھتے ھیں۔فاطیمہ اور بڑی کے ابھی جنازے تو نہیں اٹھے ۔لیکن ماں پاب کی دہلیز پر بالوں میں چاندی ضرور اتر آئی۔
نئی حکومت آنے والی تھی ،بشیرا اور اس کے گھر والوں سے وعدہ کیا گیا ۔کہ تم لوگ ووٹ دو نئے آنے والا بہت جلد دونوں کو رہا کروا دے گا۔ لیکن یہ سب ڈرامہ تھا۔
یوں ھی ماہ و سال گزرنے لگے ۔اس دوران بیشرا کی بڑی بیٹی کو چودھری نے اسکول میں استانی لگوا دیا۔ جس سے گھر کا خرچہ نا ھونے کے برابر چل رہا تھا۔بشیرا بھی چھوٹی موٹی محنت مزدوری سے کچھ پیسے جمح کر کے تھانے دار کے پاس لے جاتا ۔ کل کام ھو جائے گا ۔اوپر سے آڈر نہیں ملا۔ وغیرہ وغیرہ ۔صاحب آپ بھی تو کر سکتے ھو ایک دن بیشرا نے تھانے دار سے کہا ۔تھانے دار بولا ۔کیا کرتے ھو بیشرا ان دونوں کو گھر لے جا کر تم لوگوں کا گزارہ تو ھوتا نہیں ۔یہاں پڑے ھوئے ھیں مفت کی روٹی مل جاتئ ھے ۔ہاں میں ایک شرط پر چھوڑ سکتا ھوں کہ تم اپنی چھوٹی بیٹی کو میرے گھر بھیج دو تو۔ تھانے دار خدا کا خوف کراپنی عمر دیکھ۔یوں میری بےبسی کا مزاق نا اڑا۔میں اپنی عزت پر اپنی جان قربان کر دوں گا لیکن یہ سب نہیں ھونے دوں گا۔
آماں آماں کہاں ھو ۔آبا یہاں آو دیکھو تو ۔اماں جو اب اونچا سنستی ھے ،چیخ کر بولی کیا کہہ رہی ھو فاطمیہ
اماں اماں پولیس آئی ھے۔ فاطیمہ نے چیخ کر ماں کے کان میں کہا اب اتنے برسوں بعد پھر کس کو لے جانے آئی ھے۔اماں بڑی مشکل سے دروازے تک پہنچی۔ گاوں کے لوگ پھر جمح ھونا شروع ھو گے۔شور بڑھنے لگا۔ دور چارپائی پر بیھٹا بشیرا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔فاطمیہ اور بڑی کی نظریں پولیس پر جمی ھوئی تھیں۔دروازہ کھلا گیا۔اور لمبی داڑھی لمبے بالون میں ایک پاگل اور دوسرا ھاتھوں اورپاوں سے معزور آترا گیا۔لو مائی اب کی بار ھم لینے نہیں دینے آے ھیں ۔ لوگ بےکار میں ھم سے نفرت کرتے ھیں ،ھم کو برا کہتے ھیں ۔ھم پر الزام ھے کہ ھم ظلم کرتے ھیں ۔ بےگناہوں کو سزا دیتے ھیں ۔اب دیکھو تمھارے دونوں بیٹوں کو لے کر آ گیے ۔سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گے ،مائی فاطمیہ بڑی یہ سب کیا کہہ رہے ھیں مجھے تو نا دکھائی دیتا ھے اور نا سنائی ۔کوئی بولتا کیوں نہیں۔پولیس کیا لے کر آئی ھے۔بشیرا تشکر سے بھری انکھوں کے ساتھ اسمان کی طرف منہ اٹھائے۔اللہ تیرا بڑا کرم ھے۔ آج برسوں بعد میری محنت رنگ لائی ھے۔ میرے دونوں بیٹے مجھے مل گے ۔ میں نے کیا کھویا ان کے عوض کچھ بھی تو نہیں اپنے بیٹوں کی جوانی کے بیس سال مائی کی انکھوں کی لو ۔جو اپنے جگر کے ٹکروں کا رستہ دیکھتے دیکھتے بجھ گیی ۔ یا پھر اپنی جوان فاطیمہ اور بڑی کی شادی کے ارماں ۔یا پھر ایک پاگل اور دوسرا مّعزور بیٹا ۔ اب میں سکون سے مر سکوں گا۔میری عمر بھر کی کمائی مجھے آج واپس مل گیی،































اکمل سید
نے لکھا؛
April 26, 2008 at 4:09 pm
تانیہ بی بی آداب!
اگر عزم ہو تو سب کچھ پورا ہو جاتا ہے
”لاکھ طوفاں ہوں جہاز عزم کا لنگر اُٹھے
سرخ انگارے مسل دے سبز کانٹون پر چلے ،،
”ظاہر باطن بدل دے ہو نظر پیدا تو ہو
سلان لے سکتی ہے میت بھی دم عیسی تو ہو،،
”زندگی یہ راز سمجھی زندگی کے ساز سے
سنگدل پانی ہوئے ہئں گرمی آواز سے،،
سمجھوتہ
نے لکھا؛
April 26, 2008 at 5:53 pm
ما شاء اللہ۔ نہایت خوب اور مبنی بر حقیقت۔ اتنی سچی کہانی جس سے پاکستان میں تقریبا ہر غریب مزدور گزرا ہوگا۔ لیکن دکھ اسی بات کا ہے کہ نیا آنے والا نہ چھڑاتا ہے نہ چھوڑتا ہے۔
اللہ آپ کے قلم میں مزید قوت عطا کرے۔
والسلام۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 26, 2008 at 10:18 pm
بہت شکریہ اکمل سید جی .ویسے آپ تو عید کا چاند ھو گے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 26, 2008 at 10:19 pm
سمجھوتہ جی اللہ اپ کو خوش رکھے .پسندیدگی کے لیے مشکور ھوں
نگہت نسیم
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 6:08 am
بہت اچھی کہانی تانیہ ۔۔ اللہ کرے زورٍ قلم اور زیادہ ۔
خاور چودھری
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 9:17 am
خوب بلکہ بہت خوب
اکمل سید
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 1:41 pm
تانیہ جی آداب
آصل میں قصہ یہ ہے کہ عید کا چاند تو کیا ہونا جس مشین پر مین کام کرتا ہو وہ خاصی عمررسیدہ ہے اور بے وفا وں کی طرح ساتھ چھور دیتی ہے بھر اس کو منانا پڑتا ہے تا کہ یہ ساتھ دیتی رہے اور جس ملک مین میں اور آپ رہتے ہیں یہان پر تو کسی کا بھی اعتبار نہیں کب کوئی ساتھ چھوڑ دے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 27, 2008 at 5:09 pm
نگہت اور خاور جی بہت شکریہ .آپ کی توجہ کا.خوش رہیں
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 27, 2008 at 5:12 pm
اکمل سید جی اللہ سے دعا ھے.کہ آپ کی مشین تاحیات کام کرتی رہئے.اور سچ کہا یہاں سب موسم ھی تو ھیں
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 7:19 pm
تانیہ جی اور اکمل جی
اس بے مروت دنیا میں آخر آپ بیچارے موسم کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں. بدلنا ہو تو پتھر بھی بدل جاتا ہے اور اگر نہ بدلنا ہو تو پتھر کا باپ انسان بھی نہیں بدلتا.یہ دراصل ہم سب کے اپنے اندر کے طوفان اور تجریدی خیالات ہی ہوتے ہیں جن کا شاید الزام خود اپنے پر لینے کی ہمت نہیں ہوتی اور پھر ہم موسم کی طرح کا کوئی استعارہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور” چل بے لونڈے گیند لا” کی طرح اس کے پیچھے ہو جاتے ہیں. ورنہ سچ پوچھیں تو اللہ تعالیٰ نے کرہ ارض پر ہی نہیں بلکہ ایسی ہزاروں مزید دنیاؤں میں جو خوبصورت ترین چیزیں تخلیق کی ہیں موسم بھی ان میں سے ہی ایک ہے. اب ایسے میں اللہ کی اس خوبصورت تخیلق پر الزام لگانا؟
سمجھوتہ
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 7:44 pm
محترم ہمدانی صاحب۔
تسلیمات۔ بصد احترام عرض ہے کہ:
یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں۔
یہ موسم پر اعتراض تھوڑی ہے، لیکن موسم کی اک ادا ہے جو اسی کو زیب دیتی ہے۔ اگر انسان اپنائے تو دل روتا ہے، دکھ ہوتا ہے۔ قدرت کی کئی خوبیاں ہیں جو مخصوص چیزوں کے لئے وقف ہیں اوراس حیوان ناطق کو زیب نہیں دیتیں۔ میں نے اپنے قبیلے کے دو پائے کو حیوان ناطق اس لئے کہا کہ ایک طرف تو آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا‘ اور دوسری طرف انسان ہونے کے دعویدار تو بہت ہیں، لیکن مصداق بہت کمیاب ہیں۔
آداب۔
رانی
نے لکھا؛
April 28, 2008 at 3:13 pm
تانیہ جی آپکی کہانی پڑھ کر بہت مزا آیا۔آپکی تحریر ینگ لوگوں کے لیے ایکاچھا اضافہ ھے ۔اِسی طرح خوب سےخوب تر لکھتی رھیں آمین۔
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
April 28, 2008 at 3:47 pm
واہ تانیہ جی!
دل چھو لینے والی کہانی ہے۔خوش رہیےء۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 28, 2008 at 5:25 pm
رانی بہت شکریہ پسند کرنے کا خوش رہیے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 28, 2008 at 5:26 pm
بتول جی آپ کہاں چلی جاتی ھیں . کہانی پسند کرنے اور داد کے لیے مشکور ھوں
انور ظہیر رہیر
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 6:20 pm
تانیہ جی اتنی خوبصورت کہانی تحریر کرنے پر دلی مبارک باد قبول کریں
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 7:42 pm
تانیا جی
تاخیر سے تبصرہ کی معذرت اور اتنی خوبصورت تحریر پر مبرکباد قبول کریں۔ آجکل امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:35 pm
انور جی بہت شکریہ خوش رہیں
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:38 pm
علی پسند کرنے کا بلکل بھی شکریہ نہیں ادا کروں گی. اور نا معافی ملے گی .جب تک کہ کوئی بڑی سفارش لے کر نہیں آجاتے .ہاں امتحان میں کامیابی کے لیے دعا گوء ھوں
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:44 pm
Angrez kii Chall Angrez kii pydah war ney Hummien iss had tak punchaheyah hey. Humm Appney Aup ko Tabdiil nie Karna Chien ghey too.
Too Keyah Asman cey Frashtey Ah kar Hammien Rahey Rassat deykhahien ghey.
علی شاہ نے لکھا؛
April 30, 2008 at 1:22 am
تانیہ جی اتنی ناراضگی ٹھیک نہیں
اجمل
نے لکھا؛
April 30, 2008 at 11:44 am
یہ ہمارے مُلک کی روزمرہ کی داستان ہے ۔ پولیس والوں کو سب جانتے ہیں ۔ کچھ اور بھی ان جیسے ہیں جو بظاہر شریف اور مہربان نظر آتے ہیں ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 30, 2008 at 6:28 pm
اجمل جی تبصرے کا شکریہ. میرا یہی مقصد تھا.اور ھے .ھمارے ملک میں جو ھو رہا ھے.اس کو تحریر کی صورت میں سامنے لاوں.اپنی ذات کی تسلی کے لیے.ورنہ لکھنے والوں کی کمی نہیں ھے.