باشی بننے کی خواہش
باشی بننے کی خواہش
ترکمان باشی صفرمرادنیازوف ترکمانستانیوں کے باشی یعنی باپ ہیں۔۔۔یہ خطاب انھوں
نے خود اپنے لیے منتخب کیا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اس دنیا میںنہیں رہے ہیں۔۔۔ان کی زندگی میںان کی تصویریں ہرچوراہے،اسکول،گلی اور محلے میں موجودتھیں۔۔۔۔قدآدم اور کہیں کہیںآسمان سے باتیںکرتے ہوئے ان کے پورٹریٹ ہمہ وقت قوم کی آنکھوںمیں رہتے۔۔۔اہم شاہراوں اور مقامات پر ان کے مجسمے نہ ہوں یہ ناممکن تھا۔۔۔ملکی مصنوعات یہاں تک کہ شراب کی بوتلوں پر بھی ان کی تصویرتھی اورسب سے حیرت ناک بات یہ کہ ہر اخبار اپنی پیشانی کے ساتھ ان کی تصویرباقاعدگی سے شائع کرنے کاپابندتھا۔۔۔۔بات یہاں ختم نہیںہوتی بلکہ انھوں نے روح نامہ کے نام سے کتاب لکھ رکھی تھی جس کا اطلاق پوری قوم پر ہوتا تھا ۔۔ اگر کوئی شخص اس کتاب کی ہدایات پر عمل نہ کرتا سزاکامستحق ٹھہرتا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نہ رہے اور ان کی جگہ کسی اور نے لی۔۔۔۔آنے والے نے سب سے پہلے اخبارات سے ان کی تصاویرہٹاکراپنی تصاویرلگانے کاکام شروع کیا۔۔۔۔۔یقینا یہ عمل آگے بڑھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہاں یہ بات اس لیے یادآئی ہے کہ ہمارے یہاں جنرل پرویز مشرف کو بھی قوم کا باپ بننے کی شدید خواہش تھی۔۔۔خودنمائی کی دھن میں جو کچھ اس آمر مطلق نے کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیںاور اسی کی تتبع میںایک طفیلیے چودھری پرویز الٰہی نے وہ کا م کیا جو آج یقینا ان کے لیے باعث اذیت ہو گا۔۔۔۔ترکمان باشی کی تصویریںتو مرنے کے بعد اتری ہیں مگر ان کی تصاویران کی زندگیوںمیں اتاری جاری ہیں۔۔۔۔۔۔پنجاب میں سرکاری اسکولوں کے طلبامیں مفت تقسیم ہونے والی کتابوں سے جنرل پرویز مشرف اور چودھری پرویزالٰہی کی تصا ویر اتارنے کاکام ڈی سی اوز کی نگرانی میں شروع ہو چکا ہے۔۔۔۔۔چکوال اور اٹک میں یہ کام زروں سے جاری ہے اور ممکن ہے چند روز تک باقی صوبوں میں بھی اس نیک کام کا آغاز ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے باپ بننے کی خواہش































نگہت نسیم
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 1:04 pm
خاور جی میں تو یہ سوچ رھی ھوں کہ ایسے لوگ اپنے آپ سے کیسے نظر ملاتے ھو نگے جن کی زندگی میں ھی اللہ پاک ایسے انتظام فرما دے جو باقی سب کے لیئے عبرت کا سامان ھو جائیں لیکن یہ تو اللہ پاک ھی کا قانون ھے کہ اُس کے قانون سے بڑا کسی کا حکم نہیں اور اُس کی حاکمیت سے بڑی کسی کی حکومت نہیں ۔ اللہ پاک ھم سب کو عاجزی اور انکسار ی کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔۔ آمین
اکمل سید
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 1:51 pm
نگہت بی بی
اندھیرے چھوڑ کے سورج کا نور اپناؤ
آپ نے ایک بے مثال روشنی کی بات کرکے جو شعاع کی طرف اشارہ کیا ہے
خاور چودھری
نے لکھا؛
April 27, 2008 at 3:37 pm
نگہت صاحبہ آپ نے بجا فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔
بس ایسے لوگ سمجھتے بوجھتے انجان ہونے کی اداکاری کرتے ہیں۔۔۔۔۔اندرسے آدمی ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔