Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو

nighatکل کی ایک اھم خبر تھی کہ عراق میں دس سال تک کے بچے جبراً جنگ لڑ رھے ھیں اور اٍس خبر نے ھم سب کو ھی متاثر کیا ھے ۔ یہ بات اور بھی تکلیف دہ ھو گئی ھے کہ اٍس وقت تین لاکھ سے زائد بچے جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ھے اور انہی میں سب سے کم عمر سات سال تک کے بچے بچیاں شامل ھیں اور اُنہیں اپنی غریبی اور ملکی انتشار کی سزا یوں ملتی ھے کہ وہ اپنی عمر اور خواب گروی رکھ دیتے ھیں ۔
اُسی شکست کو محسوس کرتے ھوئے جو بھی لکھا اُسے آپ سب کی نظر کر رھی ھوں ۔۔۔۔

مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو

ماں تمہیں تو یاد ھو گا کہ آج میرا جنم دن ھے
تیرا بیٹا تیرا شیر آج پندرہ برس کا ھو گیا ھے
اور تجھ سے بچھڑے پورے دو برس بیت گئے ھے
سوچتا ھوں توں کیسی دٍکھتی ھو گی
سفید بالوں میں بھی کتنی جچتی ھو گی
صدرہ ،ثمرہ اور بابا سے یونہی الجھتی ھو گی
توں بھی مجھے اپنے من کے دیئے میں دیکھتی تو ھو گی
دیکھ کے مجھے قد میں بڑا پھر اشکبار توں ھوگئی ھو گی
تمہیں یاد ھے نا ماں توں تو جانتی ھو گی
جب تم نے تیرہ برس کے بچے کو گھر کا بڑا کہا تھا
اور بابا کی جگہ اٰسے ھی محازٍ جنگ پر بھیج دیا تھا
جب میں تڑپ تڑپ کر رو دیا تھا
اور تم نے خالی باورچی خانہ دکھا دیا تھا
پھر بے قراری سے بازؤں میں چھپا لیا تھا
مجھے اب بھی یاد ھے جو توں نے کہا تھا
یہ روٹی اور بھوک کی جنگ ھے بیٹا
عزت اور چاردیواری کی جنگ ھے بیٹا
بے گور لاشوں اور کفن کی جنگ ھے بیٹا
جو غیروں نے سازش بوئی تھی ھمارے گھر
اب وہی فصل کاٹنے کی جنگ ھے بیٹا
ماں مجھے یوں لگا تھا
جیسے تیرا آنچل بادلوں کے ساتھ ھی آگیا تھا
عمر بھر کے لیئے دعاؤں کا سائیبان ھو گیا تھا
اب بھی اکثر تم مجھ سے باتیں کرتی ھو
مجھے میرا منصب کام یاد دلاتی ھو
اور کہتی ھو میرے شہزادے
ھماری زمین پر شاعراور موسیقار مر رھے ھے
امن کے پیامبر، فلاسفر اور قلمکار مر رھے ھے
جانتی ھوں تجھے ڈاکٹر انجینیر کچھ تو بننا ھے
پر جہاں نہ ھو امن وہاں کیا کسی نے بننا ھے
جا میرے بچے اور بچالے جو بچا سکے کچھ تو
اور ماں میں چلا تو آیا تھا سب کچھ چھوڑ کے
پر جی اب کرتا ھے لگ جاؤں گلے تیرے دوڑ کے
اور بھی ھے یہاں مجھ جیسے غریب الوطن
ذات پات کے سب اچھے پر نہیں قبائے تن
ماں یاد تجھے میں دن رات کرتا ھوں
اب تو خواب میں اکثر ڈر جاتا ھوں
کیسے بتاؤں تمہیں بارود کی بو میں دم میرا گھٹتا ھے
توں ھی بتا لاشوں کے ساتھ کوئی کیسے رہ سکتا ھے
طوقٍ غلامی کوئی کب تک پہن سکتا ھے
سکوتٍ جبر کوئی کب تک روک سکتا ھے
میری ماں میری اچھی ماں
آج میرا کہا کر دو
میرے جنم دن پر مجھے ایک تحفہ دے دو
مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

22 تبصرے »

  1. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 8:20 pm

    محترمہ نگہت صاحبہ۔
    سلام۔اس خبر کو سب نے پڑھا ہوگا، لیکن جس نفسیاتی پہلو سے آپ نے مطالعہ کیا، شاید ہی کوئی اور کر پایا ہو گا۔

    بس یہی کہوں گا کہ دل چیر کے رکھ دیا اس نوحے نے۔ کاش بطور قوم اس نوحے کی صدا پر ہم ماتمی طمانچے اپنے قاتل کے رخسار پر لگا سکتے۔

    بہت خوب کہی آپ نے۔ جزاک اللہ خیرا۔

  2. جیم فے غوری نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 10:39 pm

    محترمہ نگہت
    آپ پر سلامتی ہو
    آپ کی اثر انگیز اور اصلی جذبات سے لبریز اور وقت کی ضرورت، اہم فکری تناظر میں لکھی نظم پر آپ کا ممنون کون نہیں ہوگا۔اپنی حقیر سی غزل کے ساتھ آپ کے فکر انگیز عالمانہ خیالات کی تائید اور حمایت کی سعی کرتا ہوں۔
    جیم فے غوری۔۔۔۔۔فیدنسا، اٹلی
    غزل
    خیال کاٹتے زرد چہروں کی آس لکھنا
    کھتیوں میں کھلے سفید پھول کپاس لکھنا

    گذر چکے ہیں تیرے بغیر موسم کتنے
    لوٹ آؤ کہ گھرکی ہر شے ہےاُداس لکھنا

    پرندوں کو اُڑتے پھر ریت پر گرتے دیکھ کر
    گلیوں میں کرتی ہے رقص پیاس لکھنا

    بھوک کھاتے اور دھوپ اُوڑھتے بچوں کو
    زبان کا ذائقہ لکھو تو مٹھاس لکھنا

    آج بھی سورج ڈوب رات سروں پر آئی
    پھیل رہا ہے شہر میں خوف و ہراس لکھنا
    جیم فے غوری۔۔۔۔۔فیدنسا، اٹلی

  3. اکمل سید UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 27, 2008 at 11:08 pm

    خبر کیا ہے ہم سب کو درس عبرت ہے اور ہمارے قلم کا امتحان ہے نہ جانے کتنے سنگ دل ہیں وہ لوگ جو ان بچوں کو میدان علم کی جگہ میدان جنگ دے رہے ہیں!
    ذہنوں پہ تررقون کے اندھیرے برس گئے
    طلمت کے ناگ روح انسان کو دس گئے!

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 4:59 am

    سمجھوتہ جی کیا بتاؤں ابھی بھی وہ نہیں لکھ پائی جو دل پر گزری ھے ، بس اللہ پاک سے دعا گو ھوں کہ وہ ھمارے بچوں کے خواب انہیں لوٹا دے ۔آمین

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 5:10 am

    جیم فے غوری جی آپ کی پُر تاثر غزل نے تو ماحول بنا دیا ھے ، سبحان اللہ کیا اچھاکہا آپ نے کہ مجھے اور بھی اشکبار کر دیا

    پرندوں کو اُڑتے پھر ریت پر گرتے دیکھ کر
    گلیوں میں کرتی ہے رقص پیاس لکھنا

    بھوک کھاتے اور دھوپ اُوڑھتے بچوں کو
    زبان کا ذائقہ لکھو تو مٹھاس لکھنا

  6. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 5:15 am

    اکمل جی سچ ھی ھے نا طلمت کے ناگ روح انسان کو ڈس گئے ، بس یہی سوچتی ھوں کہ اٍس اندھیرے کو کسی طرح سے مٹانا ھے ھم سب نے مل کر انشاللہ

  7. عاطف توقیر PAKISTAN نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 12:32 pm

    محترم قارئین۔
    اس نظم سے پہلے کی خبر ۔۔کسی حوالے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔
    یہ نظم مکمل عکس ہے اس صورتَحال کا جس کا کرب ہر سوچنے والا شخص اپنے اندر محسوس کر سکتا ہے۔۔ یہ اسکیچ تھا اس منظر کا جو شاید ہم دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

    نگہت نسیم آپ صرف شاعرہ نہیں بلکہ آپکے ہاتھ میں قلم بھی ہے۔ آپ مصورہ ہو آپ کے ہاتھ میں برش ہے جس کے ایک ہلکے سے اسٹوک سے منظر جنم لے لیتا ہے۔ نظم پڑھنے کی نہیں دیکھنے کی ہے۔

    مجھے نئے شعراء خصوصآ خواتین شعراء سے شکایت رہی ہے کہ وہ اتنی شدت سے لکھ نہیں سکتیں جتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں۔بہت کم شاعرات اردو ادب کے منظر نامے پر نظر آتی ہیں۔ لیکن اس نظم کو پڑھ کر میں تخلیق کار کی روح میں صرف ایک خبر سے پڑنے والے بل محسوس کر سکتا ہوں۔

    شاعری کسی بھی دور کی ایف آئی آر ہوتی ہے اور نگہت آپ نے اس نظم میں یہ ایف آئی آر درج کروا دی ہے اب اگر کوئی تفتیش نہ ہوئی، مقدمہ نہ چلا تو یہ زمانے کا نقصان ہوگا ک
    آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا۔۔

    فن کے لئے فنکار کے اندر کے انسان کا عظیم ہونا لازم ہے ورنہ کراچی اور لوہور کے ادبی منظر نامے سامنے آتے ہیں جہاں کسی شعر کے بڑے ہونے کا معیار واہ واہ سے زیادہ کچھ نہیں۔اقبال نے کہا تھا
    ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
    آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
    مگر نگہت صاحبہ نے اپنے اندر ایک عظیم عورت اور ایک عظیم فنکار کے ہونے کی گواہی دے دی۔

    میں خوش ہوں کہ آپ لکھ رہی ہو۔۔میں چاہتا ہوں کہ آپ لکھتی رہیں
    ہمیں احساس ہوتا رہے کہ ہم زندہ ہیں۔۔۔

  8. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 1:42 pm

    عاطف میں جب بھی کچھ لکھتی ھوں مجھے ھمیشہ آپ کی بات یاد رہتی ھے کہ لکھنے والا اپنے دور کی ایف آئی آر ھوتا ھے جو اُسے ایمانداری سے کاٹنی چاھیئے اور آج جب آُ پ نے میری نظم کو ایف آئی آر کا درجہ دیا تو یقین کرے احسانمندی سے اپنے رب کی شکر گزار ھوں کہ اُس نے مجھے قلم دیا ، حوصلہ بھی دیا اور آپ جیسے تمام پڑھنے والوں کی دعایئں اور ساتھ بھی دیا ۔
    دوستو عاطف کا تعارف نہ کرانا زیادتی ھو گی اور یہ مجھ سے نہیں ھو سکے گا حلانکہ جانتی ھوں کہ عاطف کو شائد اٍس کی ضرورت بھی نہ ھو کہ وہ اٍن تمام ظاھری دنیاداری سے بچنے کے سارے ھنر جانتے ھے ۔ کئی کتابوں کا خالق ، ایف ایم ایک سو سات کراچی سے سچ کی صدایئں لگانے والے عاطف بہت ساری ٹیلی فلمس لکھ چکے ھے اور ٍاس کے ساتھ ساتھ اے آر وائی پر تخلیقی کام پر ایک عرصہ سے مامور ھیں ۔
    میرا جب بھی کراچی جانا ھوتا ھے ایف ایم پر میری ڈیوٹی لگا دیتے ھے اور سننے والے مجھے مہمان نہیں میزبان سمجھنے لگتے ھیں اور یوں عاطف باتوں باتوں میں اتنا کچھ سکھا دیتے ھے کہ میں باقی وقت سیکھے ھوئے کو یاد کرتی رہتی ھوں ۔ عاطف کے قلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ھے کہ وہ محسوسات اور انقلاب کی باتیں لکھتا ھے اور یہ میں نہیں گلزار کہتے ھیں ۔

    میں اپنے القمر بلاگ کے ساتھیو کی جانب سے آپ کو قلبی خوش آمدید کہتی ھوں اور درخواست کرتی ھوں کہ اپنی شمولیت سے ھمیں کچھ سیکھنے کا موقعہ بھی ضرور دے ۔ ھم سب کو آپ کی نگارشات کا انتظار رھے گا۔
    عاطف میں اُپ کی اٍس توجہ اور گواھی کی مشکور و ممنون ھوں ۔ اللہ پاک آپ کو سلامتی دے اور قلم کی سچایئوں سے مالا مال رکھے ۔ آمین ۔

  9. عاطف توقیر PAKISTAN نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 1:50 pm

    محترمہ نگہت نسیم
    مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مجھ ایسے کم فہم و کم علم شخص کو یہ سعادت و عزت بخسشی۔ مجھے مخر ہو گا کہ میں آپ تمام ذی شعور لوگوں کے درمیان موجود رہوں۔ مجھے آپ اور آپ کے ساتھیوں کی نظمیں ، غزلیں اور نگارشات پڑھنے کا موقع ملے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے مان ، محبت اور خلوص سے نوازتے رہیں گے۔
    میری دعائیں ، محبتیں اور چاہتیں آپ کے ساتھ رہیں گی۔

  10. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 3:30 pm

    اتنی خوبصورت نظم جو حقیقت ہی حقیقت ہے اس پر تبصرہ کرنے کے لیئے بھی آگہی چاہیئے جو مجھ جیسے فقیر کے پاس بہت کم ہے صرف اتنا کہوں گا”آفرین صد آفرین ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ”

  11. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 5:22 pm

    نگہت خوب بہت ھی خوب الفاظ نہیں ھیں تعریف کے لیے.
    توں بھی مجھے اپنے من کے دیئے میں دیکھتی تو ھو گی
    دیکھ کے مجھے قد میں بڑا پھر اشکبار توں ھوگئی ھو گی

  12. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 6:19 pm

    صفدر صاحب میں شکر گزار ھوں آپ کی کہ آپ کی راہنمائی ایک حوصلے کی طرح ھم سب کے ساتھ رھتی ھے ۔

  13. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 6:20 pm

    تانیہ بہت شکریہ ۔خوش رھو ۔

  14. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    April 28, 2008 at 8:14 pm

    عزت اور چاردیواری کی جنگ ھے بیٹا
    بے گور لاشوں اور کفن کی جنگ ھے بیٹا
    بہت ھی خوب نگہت …بہت بار پڑھی جتنی بار بھی پڑھی اتنی بار روئ ھوں …
    ھماری زمین پر شاعراور موسیقار مر رھے ھے
    امن کے پیامبر، فلاسفر اور قلمکار مر رھے ھََے
    یہ کہانی بہت سے مسلم ممالک کی ھے ….خاموشی سے بے نام قبروں کا اضافہ ھو رہا ھے
    کیسے بتاؤں تمہیں بارود کی بو میں دم میرا گھٹتا ھے
    توں ھی بتا لاشوں کے ساتھ کوئی کیسے رہ سکتا ھے
    طوقٍ غلامی کوئی کب تک پہن سکتا ھے
    سکوتٍ جبر کوئی کب تک روک سکتا ھے
    لاجواب نگہت

  15. ارشد نذیر ساحل SPAIN نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 2:44 am

    اسلام علیکم
    محترمہ نگہت نسیم آپ کی شاعری موجودہ حالات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔اللہ ہمارے ملک کےحالات بہتر کرے۔آمین

  16. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 3:28 am

    محترمہ نگہت صاحبہ ۔

    آپ نے اپنی نظم میں ایک بیٹے کی طرف سے ماں کے نام درخواست میں اس کے جنم دن کے موقعہ پر کوئی تحفہ مانگا ہے تو لیجئے آپ مختصر سی نظم ہے جو کئی سال گزر ے میں نے اپنے جنم دن پر اپنے لیے کہی تھی آج آپ اور اس “بیٹے “ کی نذر کرتا ہوں ۔ گر قبول افتد :

    میرے جنم دن پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از نصر ملک ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھکے پروں والے روشنی کے پرندے
    سورج کے سنہری گھونسلوں کو لَوٹتے ہیں‘
    تو رات کے حملے شروع ہو جاتے ہیں ۔
    رات آتی ہے تو مجھ سے پوچھتی ہے
    “ تم نے دھرتی ماتا کو کیا دیا ہے؟ “
    میں نے کیا دینا تھا ؟ کچھ بھی تو نہیں
    بلکہ میں نے تو دھرتی سے وہ بھی لے لیا ہے
    جو اُس نے بچا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ “ رات کی رانی “
    “چمپا کی کلیاں “ اور “ گل یاسمین “
    نیلگوں رات میں چمکنے والے ستار ے بھی
    مجھ سے یہی پوچھتے ہیں
    “ تم نے آسمان کو کیا دیا ہے؟ “
    میرے پاس دینے کو تو کچھ بھی نہیں
    میں تو دھرتی کی بھاشا اور رسمیں سب بھول چکا ہوں
    مجھے تو اب یہ تک یاد نہیں کہ
    گجرے اور گلد ستے بنانے کے لیے
    کون سے پھول‘ کیسے پروئے جاتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مطبوعہ : سنہ انیس سو ستاسی ۔

  17. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:10 am

    دوستو میرے پاس وہ الفاط نہیں ھے جو میں شکریہ اور مہربانی کے لیئے لکھ سکوں بس دعا کرتی ھوں کہ اللہ پاک ھم سب کو ایک دوسرے کی دعاؤں میں آباد رکھے ۔ آمین

  18. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 7:05 pm

    نگہت جی آپ نے تو ہمیں رولا ڈالا۔ کیا دل ہلادینے والے اشعار آپ کے لازوال قلم سے جنم لیکر حقیقت کا رنگ بن گئے ہیں۔

    کیسے بتاؤں تمہیں بارود کی بو میں دم میرا گھٹتا ھے
    توں ھی بتا لاشوں کے ساتھ کوئی کیسے رہ سکتا ھے
    طوقٍ غلامی کوئی کب تک پہن سکتا ھے
    سکوتٍ جبر کوئی کب تک روک سکتا ھے
    میری ماں میری اچھی ماں
    آج میرا کہا کر دو
    میرے جنم دن پر مجھے ایک تحفہ دے دو
    مجھکو میری عمر اور میرے خواب دے دو

  19. نگھت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 8:24 pm

    انور ظہیر رہیر جی آپ کی شکرگزار ھوں کہ آپ نے اٍس درد کو مجھ جیسا ھی محسوس کیا ۔ اللہ ھم سب کا نگہبان ھو ۔ آمین

  20. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    April 30, 2008 at 11:30 am

    ہوئی نا بات ۔ آپ ساری عمر واپس مانگ رہی ہیں ۔ ۔ ۔
    میں پچھلے بیس سال سے اپنے بچپن کے صرف چند ماہ واپس لانے کیلئے اپنا سب کچھ لُٹانے کو تیار ہوں مگر میری کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ۔ کاش ۔ وہ دن اگر جاگتے نہیں تو میرے سوتے میں واپس آ جائیں جب میں ہر چیز سے بے نیاز پرفانی پانی کی نہر میں کود جاتا تھا اور اُس وقت تک باہر نہ نکلتا جب تک میرے ہاتھ بُری طرح کانپنے اور دانت بجنے نہ شروع ہو جاتے ۔ برفیلے پہاڑوں پر بغیر رُکے دوڑتا ہوا چڑھتا چلا جاتا ۔ پچھے سے آوازیں آتیں رُک جاؤ پھسل جاؤ گے گُم ہو جاؤ گے ۔ مگر ان کا مجھ پر کوئی اثر نہ ہوتا ۔

  21. رانی PAKISTAN نے لکھا؛

    May 1, 2008 at 10:01 pm

    نگہت جی آپکی نظم پڑھ کر میرے آنسو چھلک پڑے —–اب بھی اکثر تم مجھ سے باتیں کرتی ھو۔مجھے میرامنصب کام یاد دلاتی ھو۔ بہت خوب نگہت جی ۔۔۔رانی پاکستان

  22. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    May 2, 2008 at 9:55 am

    اجمل صاحب اور رانی جی بہت بہت شکریہ میرا ساتھ دینے کا

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو