Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

لاکھ بدلے زمانہ ھم نہ بدلیں گے کبھی۔۔۔سعدیہ سحر

پچھلے دنوں اسمبلی میں کہیں جوتا چلا تو کہیں گھونسہ چلا ٹی وی میں اور اخبارات نے بتایا یہ سب حسبِروایت اورایک حسب معمول واقعہ ھے پاکستان کی تاریخ میں یہ کوز پہلا واقعہ نہیں ھے ھماری تاریخ ماشااللہ اسیے واقعات سے بھری ھوئ ھے بہت سے نیوز چینلز نے فخریہ طور پہ دکھایاکہ ہڑے بڑے ممالک میں پارلیمنٹ کے سپیکرز کی بھی پیٹائ کی گئ کرسیاں چلائیں گیئں بڑے بڑے ممالک میں ایسا ھو سکاتا ھے تو پاکستان کوئ چھوٹا ملک تو ھے نہیں

بڑے بڑے صنعتکار جاگیردار قرضے لینا اپنا قومی فریضہ سمجھتے ھیں اور واپس نا کر کہ پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ھیں سیاستدان غبن کرنا سیاست کا حصہ سمجھتے ھیں ملکی خزانے کو اپنا خزانہ سمجھ کر خرچ کرکے پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ھیں خزانے کو دونوں ھاتھوں سے لٹاتے ھیں کیونکہ مجبوری ھے خدا نے ھاتھ ھی دو دیئے ھیں اگر دس ھاتھ بھی ھوتے تو وہ کوئ کنجوسی نہ کرتے
عوامی جلسے جلوسوں میں خوبصورت اور رنگین خواب دیکھانا ایک روایت بن چکی ھے یہ بہت ضروری ھے ورنہ تقریر میں کوئ رنگینی نہیں آتی وہ کیا تقریر جس میں حقیقت بیان ھو آٹا نہیں گھی نہیں بجلی نہیں آدھی آبادی ان پڑھ اگر یہ باتیں کی جائیں تو تالیاں کون بجائے گا وعدوں پہ بہلنے والی قوم وعدے سب کے جھوم جاتی ھے کوئ اٹھ کر یہ نہیں پوچھتا جو وعدے کیے جا رھے ھیں وہ پورے کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے
مختلف جلوسوں میں ایسے ھی مذاق مذاق میں درجنوں گاڑیاں جلا نا شغل شغل میں بلڈنگوں کے شیشے توڑنا روایت بن چکا ھے جہاں جہاں سے جلوس گزرتآ جاتا ھے پتھر جلے ھوئے ٹائر اپنی نیشانی کے طور پہ چھوڑتا جاتا ھے تاکہ پوراھفتہ شہر والوں پتا چلتا رھے کہ عوام نے اجتجاج کیا ھے
جہاں لکھا ھو ھارن بجانا منع ھے وھاں رک کر لوگ اپنا ھارن چیک کرتے ھیں کہ بوقتِ ضرورت کام کرے گا یا نہیں . جہاں نو پارکنگ کا بورڈ لگا ھو وہاں گاڑی پارک کرنا ..جہاں لکھا ھو تھوکنا منع ھے وھاں تھوکنا بنا سائلنسر موٹر سائیکل اور رکشے چلانا ھماری روایت کا حصہ بن چکا ھے
اپنے گھر کے سامنے صفائ کر کے کوڑا گلی میں یا ھمسائے کے گھر کے سامنے پھینکنا ..تاکہ ساری گلی اور خاص طور پہ ھمسائے کو پتا چلے کہ آج ھم نے بڑا تیر مارا ھے اپنے گھر کے سامنے صفائ کی ھے کوئ بھی گھریلو تقریب ھو گلی بند کر کے قناتیں لگانا راستہ بند ھوتا ھے ھونے دو کوئ تنگ ھوتا ھے ھونے دو صرف اپنا سوچو….
گرلز اسکول کالج کے سامنے بلاوجہ کھڑے ھونا..گزرتے ھوئے رستوں پہ خواتین کو دیکھ کر سیٹی بجانا .کوئ بےہودہ گانا گانا اپنا فرض سمجھتے ھیں خواتین کے ھاتھ سے پرس اورموبائیل چھیننا قومی کھیل بن چکا ھے
آجکل کوئ بڑے عہدے پہ ھو اور رشوت نا لے تو اس کا مذاق بنایا جاتا ھے کہ آپ کے ساتھ والے کتینی جائداد بنا لی اور ایک آپ ھیں اس کو شرمندہ کیا جاتا ھے جیسے آجکل ایماندار ھونا شرم کی بات ھے اب محفلوں میں فخر سے بتایا جاتا ھے کہ اوپر کی کتنی آمدن ھے آج کتنی فائلوں کا ھیر پھیر کیا دھوکہ دینا بےایمانی کرنا حقدار کو حق نا دینا ھماری روایت بن چکا ھے …
ملکی قوانین کی خلاف روزی کرنا صفائ کا خیال نا رکھنا آج کا کام کل پہ چھوڑنا جلوسوں اور جلسوں میں توڑ پھوڑ کرنا تڑیفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا ھماری روایات میں شامل ھوچکا ھے ….
دنیا چاند پہ جاتی ھے جائے صعنت و ٹیکنولوجی میں ترقی کرتی ھے کرے ..ھم پاکستانی ھیں ھم اپنی قائم کردہ روایات نہیں چھوڑیں گے زمانہ لاکھ بدلے ھے نہ بدلیں گے کبھی

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

9 تبصرے »

  1. شکیل UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 5:04 pm

    اداب سعدیہ سب سے پھلے آپ کی تحریر کی تحریف بہت خوب۔ ۔ ۔آپ کا قلم AK47 کی طرح چالتا ھے۔ ۔ ۔(پاکستان کی تاریخ میں یہ کوز پہلا واقعہ نہیں ھے ھماری تاریخ ماشااللہ اسیے واقعات سے بھری ھوئ ھے )سعدیہ (ماشااللہ) کی جاگا آپ کو (بدنیصی) کا لفظ استمال کرنا چائے تھا۔ ۔ ۔Ek to urdu mai likhna itna muskal hai k sir he ghoom jata hai.Sadia agar insan khud ko badal lay to woh sab kuch badal sakta hai…hum log khud ko he badalna nahi cahate hain….well done once again N keep it up…

  2. شکیل UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 5:06 pm

    اداب سعدیہ سب سے پھلے آپ کی تحریر کی تحریف بہت خوب آپ کا قلم AK47 کی طرح چالتا ھے۔ (پاکستان کی تاریخ میں یہ کوز پہلا واقعہ نہیں ھے ھماری تاریخ ماشااللہ اسیے واقعات سے بھری ھوئ ھے )سعدیہ (ماشااللہ) کی جاگا آپ کو (بدنیصی) کا لفظ استمال کرنا چائے تھا۔ ۔ ۔Ek to urdu mai likhna itna muskal hai k sir he ghoom jata hai.Sadia agar insan khud ko badal lay to woh sab kuch badal sakta hai…hum log khud ko he badalna nahi cahate hain….well done once again N keep it up…

  3. صعرفراز ھئسساین کاےانی GERMANY نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 9:05 pm

    Wohii Tumashah Wohii Kobadii kakhiel.. Paliment Wohi Loog Rupe key Zoor Per Ahtey hien Aur Weyzahrett Rupee key zoor par Hassal kii jahti hey. Aur Pher Deen Ratt Lootney kii Khshash jahrii ho jahti hey.
    Ahwahmm kii kis ko Feykar Wah rey Pakistan.
    Pakistan ” Evrything is OK .” Islam is very good No Problam Nathing. Pakistani Education Is Good No Problame.
    Kiss cey Sheykieyet Kareen Kohn Sah treyka Aeysteymall mien Lahien.Humm Sub Llachar Aur Majboor hien. Humm Sub Madran hien.

  4. علیگجراتی SPAIN نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 11:00 pm

    سلا م سعد یہ بہن لا کھ ز ما نہ تبد یل ہو ۔ ھم نہیں بد لیں گے ۔ آ پکا لکھا پسند آ یا ۔ لیکن بد لنا کسنے ہیں ۔ مسلم ہسٹر ی سکو لو ں کا لجو ں میں پڑ ھا ئ جا تی ہے ۔ و ہا ں ا یکد و سر ے کیسا تھ ا چھے طر یقے ا و ر ملکر رہنا بتا یا جا تا ہے ۔ لیکن و ہا ں د یکھیں سبسذ یا د ہ جو ا سلا می تنظیم ہے ۔ کا لجو ں یو نیو ر سٹیو ی میں بند وق کیسا تھ ا جا ر ہ د ا ر ی کر ر ہی ہے ۔ ا و ر اسکیعلا و ہ جو کا لجو ں ا و ر یو نیو ٹی کیگر و پ بنے ہیں ۔ وہ بھی ا یکد و سر ے کیسا تھ لڑ تے نظر آ ءے گے ۔ جبھم ا پنی جو بنیا د ی تعلیم ہے ۔ اس سے نہیں سیکھتے ۔ تو خا ک ز ما نے کیسا تھ تبد یلی د یکھے گے ۔ آ پکیسا منے ا یر ا ن کیمثا ل ہے۔ و ہا ں پر حکو مت سے پہلے طا لبعلم حر کت میں آ تے ہیں ۔ جبتک آ پ ا پنی بنیا د ی تعلیمی سو چ سے ان چیز و ں کو د و ر نہ کر یں گے تو با قی آ پذ ما
    نے کیسا تھ تبد یلی سو ج کیسے لا سکتے ہیں ۔

  5. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    April 29, 2008 at 11:38 pm

    شکیل آداب
    القمر کی دنیا میں خوش آمدید ….میرا قلم کس کی طرح چلتا ھے ؟؟ ھمت کریں آپ اردو لکھ سکتے ھیں ….ویسے بہت سے لوگوں کا دماغ انگلش پڑھتے ھوئے گھوم جاتا ھے….اور ٹھیک کہا آپ نے ھم اپنی زندگی میں بدلاؤ چاھتے ھیں مگر خود کو بدلنے کا نہیں سوچتے ….

  6. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    April 30, 2008 at 8:46 am

    السلام علیکم
    خوش قسمت ہے وہ انسان جس کے چاہنے والے بہت ہوں اور اُن میں سے ایک آپ ہیں ۔ غور کیجئے کہ مجھ جیسا روکھا سوکھا آدمی ۔ نمعلوم ابھی انسان بنا ہوں یا نہیں گو کوشش تو بہت کرتا ہوں ۔ معذرت ۔ ۔ ۔ ہاں میں کہہ رہا تھا کہ مجھ جیسا روکھا سوکھا آدمی بھی آپ کی اس صفت کو پہچان گیا ۔
    محترمہ آپ نے بہت ساری باتیں اس چھوٹے سے مضمون میں کہہ دیں ہیں ۔ میرے مشاہدہ کے مطابق ہماری قوم کی دو خصوصیات اسے اپنے آپ کو بدلنے سے روکتی ہیں ۔
    میں کیوں کروں ؟ وہ کرے
    میں سب جانتا ہوں

    یا شاید ہماری قوم کی اکثریت نے اس گانے کو بہت سنجیدگی سے اپنا لیا ہے
    اے بہارو گواہ رہنا ۔ اے سدتارو گواہ رہنا
    ہم نہ بدلے ہیں اور نہ بدلنے کی قسم کھائی ہے

  7. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    April 30, 2008 at 7:54 pm

    علیگجراتی بھائ سلام
    پاکستان کی بدقسمتی ھے کہ شروع سے صحیح قیادت نصیب ھوئ…. آمریت جمیوریت کا کھیل آج تک جاری ھے ..ملکی رھنما خودار ھوں . تو عوام بھی خودار ھوتی ھے ..جرمنی اور جاپان کی مثال ھمارے سامنے ھے دونوں جنگ ِعظیم میں تباہ ھوئے آج ان کا مقابلہ پاکستان سے کر کے دیکھیں …چین اور انڈیا کی مثال ھمارے سامنے ھے …ھمارے حکمرانوں کو غیر ملکی دروں سے اور قرضے لینے سے ھی فرصت ملتی ..قہ عوام کا کب سوچیں گے کب ان کی تعلیم کا سوچیں گے شعور بنا تعلیم کے کیسے بیدار ھو سکتا ھے ..

  8. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    April 30, 2008 at 8:01 pm

    شکریہ اجمل جی
    کہتے ھیں ضرورت ایجاد کی ماں ھے ..جب انسان کسی مشکل میں ھوتا ھے تو اس کا دماغ زیادہ کام کرتا ھے وہ مشکل سے نیکلنے کا حل سوچتا ھے مگر پاکستان میں ھزار مسائل ھیں
    مگر ان کا حل سوچنے کا کسی کے پاس وقت نہیں
    حکرانوں کو طاقت کا نشہ ھے عوام کسی معجزے کے انتظار میں ھے …..ھم موسیٰ نہیں ھم عیسیٰ نہیں کسی معجزے کا انتظار بیکار ھے …..یہ میری نظم ھے پوری پھر کبھی ….

  9. شکیل UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    April 30, 2008 at 9:18 pm

    Sadia thankz for welcome.Hope saal mai ek do bar aa kar hazarai laga diya karon ga ap logo ki mehfal mai.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو