ھم آپ کا احسان زندگی بھر یاد رکھیں گے،سعدیہ سحر
ابھی ٹی وی پہ ایک فلم دیکھی . ایک فمیلی کی کہانی تھی جس کی حکمران ساس ھوتی ھے .گھر کا تمام اختیار اس کے ھاتھ میں ھوتا ھے ..ھر فیصلہ ھر لفظ حرفِ آخر ھوتا ھے . بہو سے کوئ مشورہ نہیں لیتی اس کے خیال میں اس کے پاس زندگی بھر کا تجربہ ھے گھر کیسے چلانا ھے گھر اس نے بنایا ھے وہ گھر سے زیادہ محبت کرتی ھیں بیٹا ان کا ھے وہ اپنی محبت میں بہت سے فیصلے ایسے کرتی ھیں جو سب کے حق میں اچھے نہیں .ھوتے.وہ ھر فیصلہ بہتری کے لیے کرتے ھوئے بہت زیادتی کر جاتی ھیں مگر ساسوماں کو اس کا احساس نہیں ھوتے .بہو.بیٹا خاموش رھتے ھیں مگر دل میں ماں سے خفا ھوتے ھیں ..دلوں میں نفرتیں بھڑتی جاتی ھیںً گھر میدانِ جنگ بن جاتا ھے دلوں میں دوریاں آجاتی ھیں . انھیں اپنی کی ھوئ زیادتیوں کا احساس بہت دیر بعد ھوتا ھے
پتا نہیں کیوں ساس کو دیکھ کر مجھے صدر مشرف کا خیال کیوں آیا ..جنرل صاحب کا خیال ھے اگر وہ صدارت چھوڑیں گے تو پاکستان پہ پتا نہیں کیا کیا آفت نازل ھو جائیں گی ان کا وجود پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت ضرروی ھےچلیں مان لیا جنرل مشرف نے پاکستان پہ بہت احسان کیے ھیں پاکستان کو بہت مشکل وقت سے نکالا آپ کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا آپ نے عوام کی بہت خدمت کی ان کو پتھر کے دور میں جانے سے بچایا ..فوج میں بہت کام کیا اب آپ آرام کریں اور عوام کو موقعہ دیں کہ وہ آپ کے احسانوں کا بدلہ اتار سکیں آپ کی خدمت کر سکیں …وقت کا تقاضہ ھوتا ھے ھر انسان کو اپنی جگہ چھوڑنی ھوتی ھے وقت کے ساتھ اپنا عہدہ دوسرے کو دینا ھوتا ھے ..جو وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا اسے پھر وقت خود سمجھاتا ھے































علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 3:59 am
سعدیہ جی ڈرامے نام بھی لکھ دیتی ” کہانی ساس بہو کی” .
نگہت نسیم
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:24 am
شکر مالک کا کہ علی تم آگئے ، کہاں تھے پہلے یہ تو بتاؤ ۔۔ سمیسٹر کا بہانہ پرانا ھوا اب کچھ اور سوچو ۔۔ ویسے سعدیہ یہ سچ ھے کہ جو وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا اسے پھر وقت خود سمجھاتا ھے ۔
اجمل
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 11:36 am
آمروں کی تو یہ خاص خوبی ہوتی ہی ہے لیکن ہمارے مُلک میں سرکاری افسران کی اکثریت بھی یہی خیال رکھتی ہے ۔
رانی
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 3:24 pm
سحدیہ جی بہت خوب علی شاہ کیا آپ نے سعدیہ جی کے ڈرامے میں کام کرنا تھا۔ رانی پاکستان
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 29, 2008 at 4:00 pm
سعدیہ ساس بھی کبھی بہو تھی .اور مشرف بھی کھبی صدر تھا. تھماری تعریر پڑھنے کے بعد تو لگتا ھے نہیں رہئے گا،ایک بات تو بتاو . مشرف ساس ھے یا بہو
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 7:48 pm
نگہت جی
سچ مییں امتحان کی تیاری میں ہلکان ہو رہا ہوں، ہائے میری اماں بھی تو اتنی دور ہیں وہ پاس ہوتی تو دیسی چوچے کی یخنی ہی بنا دیثی
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 7:56 pm
رانی جی
میرا نام لینے کا شکریہ، القمر کی خواتین لکھاریوں کا پسندیدہ مبصر میں ہی ہوں بہانے بہانے سے مجھے بھائ پکارتی ہیں ، آپ کا اضافہ خوشگوار ہیں. ویسے آپ کہاں کی رانی ہیں؟ ویسے جہاں کی بھی ہیں ہماری دعا ہے اپنی راجدھانی پر راج کرتی رہیں۔
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:33 pm
HARR sHAKHAS K tANKIID Karney ka Haaq hey. ” Musharaf par Ellzam leyghaeyah jahtah hey Tankiid kii jah rahi hey.” Humm keytney Na Samaj hien .Humm Abbi Tak Nien Samaj ceykey key ” Tumam Majburri Tummam Takliefun kii Chabii kiss key Pass hey.” Musharaf key Pass nien. Ajj Musharaf Sahb kii Hallet Eyssi Hey .
“Jeyssey Sadam Hussain kii Ager Hukumm nien Manney ghah too Too Sada m kii Trah Panncii teyahr hey. Pakistan mien Ahwahm kii Hakummet Kahbii bii nien Ahey ghii.. Wohi Efrad Wohi Gennaral Sahmney Aheyien ghey Jo Amrika kii Hann Mien Haan meyllaen ghey. Pakistani Ahwahm Aur Pakistan Kiisii Naffrii mien Shamal nien hien.
Iss Cey Peylley Hoha hey Hohtah rah hey Aur Hohtah rahey ghah.Sub kuch Dollarun kii Majburi hey.
Pakistan mien Tumam Wosahial Mujud hien Magher humm mien Qabliet Mujud nien hey Tahkey Humm Ein Wosahiel ko Eyssteymall mie llah ceykeen.
Hummien Jahmuriet Enssanii Hakuk mien Punssah kar ghallet Rahstey par Llah khah kar key rakh deyah gheyah hey..
Hummien Rasstey Dohndeyney Houn ghey Jeen Cey Humm Ahghey Bahr ceykeen ghey.
Ajj Musharaf Chahllah Gheyah Kohii Dosrah Ah Jahey ghah
Zarrdari And Co aur Shareen Rahman Islam key Dushman Enn cey Musharaf Hazzar Darjey Bahter hey. Shareen Rahman key Bass mien Ahey too Parliment ko ” Disco” mien Tabdeel ker dey. Jiss trah Bahuto Khandan bii chahtah thah.
رانی
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 8:41 pm
علی۔میں آپ کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اُٹھا لیتی ھوں۔مل کر دونوں مبصریںبنتے ھیں۔آپ کا اِس بارے میں کیا خیال ھے۔ویسے تو میں ابھی اپنے گھر کی رانی ھو ں ۔ دُعا کریں کے جلد ہی کسی راجستان کی رانی بن جاوں۔ویلکم کرنے کابہت شکریہ رانی پاکستان
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 9:15 pm
رانی جی
اللہ آپ کو راجستان چھوڑ، چولستان، تھر پارکر بلکہ سارے صحراؤں کی رانی بنا دے۔ کہیں آپ رانی کے بھیس میں صحرا کی آواز ریشماں تو نہیں
رانی
نے لکھا؛
April 29, 2008 at 10:36 pm
علی آپ تو بڑے دریا دل نکلے۔ایک وقت میں انسان ایک ہی ریاست کے بارے میں سُوچ سکتا ھے ۔پافی سپ آپ کو مبارک۔اچھا یہ بتاییں کے آپ اپنا ادھورا افسانہ کب لکھ رھے ییں۔ رانی پاکستان
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 10:57 pm
رانی جی
افسانے تو بہت سے ادھورے ہیں، آپ کس والے کی بات کر رہی ہیں؟
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 29, 2008 at 11:06 pm
تانیہ مشرف اب تک ساس تھے اب عوام چاہ رھی ھے مشرف باقی زندگی بہو بن کر گزاریں ایسا تو ھوتا ھے ایسے کاموں میں …….دنیا میں کبھی دن کبھی رات ….
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 29, 2008 at 11:28 pm
رانی خوش آمدید القمر کے بلاگ پہ ..ایک نئے مبصر کا اضافہ اچھا لگا ..علی سے پوچھ کر بتاؤڈرامے میں کونسا کردار کرنا تھا ساس کا یا بہو کا …… .اور رانی مبارک ھو علی نے آدھے پاکستان کی رانی بننے کی دعا دے دی…اب سے خود کو مہارانی کہنا ….
علی شاہ نے لکھا؛
April 29, 2008 at 11:44 pm
سعدیہ جی
کسی ڈرامے میں دولھے کا کردار ہو تو میں بلا معاوضہ کام کرونگا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
April 30, 2008 at 2:01 am
علی تم اب سچ میں دولھا بن ھی جاو.کیونکہ جب دل کر رہا ھے تو ڈر کیسا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
April 30, 2008 at 6:22 am
میرے مالک بس ایک دن میرا کمپیوٹر کیاخراب ھو ایہاں سب بچے بڑے ھو گئے ۔ ارے تانیہ کیوں علی کی دشمن ھوئی ھو دولہا بننے کی بددعا توبہ — علی مت سننا اس کی بات کو ۔۔ ابھی تھمارے کھیلنے کودنے ،اماں کے ھاتھوں سے چوچے کی یخنی پینے کے دن ھیں ، موجے کر بعد میں کہاں ایسی بات ۔۔ سر پر تلوار کا شوق تمہں کہی کا نہ رکھے گا ۔۔ویسےعلی اب مجھے مستقل خطرہ لگ رھا ھے تھماری باتوں سے ۔۔
رانی جی آپ کو راجدھانی مبارک ھو ۔۔ انشاللہ کبھی ھم سب مل کر آیئنگے دیکھنے ۔۔ بس اب آتی جاتی رہنا اور نہ بنانا کوئی بہانہ ۔۔۔۔۔۔ ارے یہ تو شعر ھو گیا تانیہ اگلا مصرعہ تم زرا بنانا۔
علی شاہ نے لکھا؛
April 30, 2008 at 9:07 am
نگھت جی
آپ نے شاید اپنے کمرے کے دیے میں میری فریاد نہیں سنی ورنہ چوچے کی یخنی اور ٹماٹر کی چٹنی کا مشورہ نہ دیتیں
رانی
نے لکھا؛
April 30, 2008 at 5:16 pm
نگہت جی ویلکم کر نے کا بہت بہت شکریہ ۔۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
April 30, 2008 at 8:06 pm
علی نگہت کا تبصرہ دیکھو …ڈرامے میں دولہا بن سکتے ھو ….ابھی ھنسوکھیلو…..اور علی دیسی چوچے کی یخنی پینے کے لیے دیس جانا پڑتا ھے …پردیس میں یہ سب کہاں ..
علی شاہ نے لکھا؛
April 30, 2008 at 9:34 pm
سچ کہا سععدیہ جی، پردیس کے تو چوچے بھی اتنے نخریلے ہیں، کہتے ہیں اگر ہماری یخنی نکالی تو اینیمل رائٹس میں شکایت کرییں گے
رانی
نے لکھا؛
May 1, 2008 at 12:48 am
علی سحدیہ جی کے ڈرامے میں اچھے اچھے کردار ھوتے ییں۔مثلاً ھیرو ھیروین وغیرہ۔۔مجھے وہ ھیروین کا کردار دیں گی۔ڈرامے کا نام ھو گا۔۔۔رانی بیٹی راج کرے گی ۔۔۔۔آپ کو دولھا کا کردار دے کر اپنا ڈرامہ خراب نہیں کرنا سحدیہ جی نے۔۔