حضور آپ کیا فرماتے ھیں
دوستوں آپ کی ہلکی پھلکی تحریر جو کہ اشعار کی صورت میں ھونی چاہیے۔اور اگر آپ کی اپنی ھو تو کیا بات ھے۔
ایک حسین نظرخوبصروت خیال چاہیئے
حضور آپ کیا فرماتےھیں۔ اظہار چاہئے
یوں تو لکھنے والے بہت ھیں لیکن
ھمیں زراھٹ کے آپ کا انداز چاہئے































سمجھوتہ
نے لکھا؛
April 30, 2008 at 9:07 pm
سلام مسنون۔ ۔۔۔۔چند تازہ شعر۔۔۔بلکہ جوابِ آں غزل، جن کو اگر یہ کہا جائے کہ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔۔۔۔پر پھر بھی جراء ت پیشکاری کر رہا ہوں۔۔۔۔آداب
بات نئی چاہئے، نہیں تکرار ہمیں چاہئے
لفظ چاہے کم سہی، پہ افکار ہمیں چاہئے
مغربی تہذیب گوکہ خوبصورت ہےمگر
مشرقی تہذیب کی اقدار ہمیں چاہئے۔
دل سے نکال کر ہمیں بانہوں میں لے لیجئے
اب دل نہیں ہم چاہتے، دلدار ہمیں چاہئے
قائم کرنا چاہتے ہو امن دنیا میں اگر
تو پھر حضور پاک کا کردار ہمیں چاہئے
اب سمجھوتہ نہ سہی،پر یہ تو کہتے جائیے
ہم نہیں اب بولتے،انکار ہمیں چاہئے
علیگجراتی
نے لکھا؛
April 30, 2008 at 10:40 pm
سلا م تا نیہ بہن آپنے د ر ست لکھا ہر ایککا اپنا اظہا ر ہو نا چا ہیے ۔
ایکپر حسین و جمیل پر کشش آ نکھ چا ہیے ۔
ھو کیا فر ما ءے ہمیں آپکی حسین ا د ا چا ہیے ۔
یو ں تو لکھنے و ا لے بہت ہیں لیکن
ھمیں صر ف آ پکی ھمیشہ مسکر ا ہٹیں چا ہیے ۔
علی شاہ نے لکھا؛
May 1, 2008 at 10:28 am
جیب ہے بلکل خالی تھوڑا مال چاہئیے
کچھ ذیادہ تو نہیں پونڈ چند ہزار چاہئیے
سوچتا ہوں کرلوں شادی، ملے گا جہیز
مگر اس کیلئے بھی لڑکی مالدار چاہئیے
اک حسینہ کو میں نے پوچھا ملاقات کیلئے
بولی بھیا ڈیٹ کیلئے پہلے ایک کار چاہئیے
مایوس ہو کہ میں نے سوچا خودکشی کرلوں
مگر زہر خریدنےکیلئے بھی تھوڑا ادھار چاہئیے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 1, 2008 at 3:20 pm
علی گجراتی جی کیا خوب کہا. ھم سب کو اس وقت مسکراہٹ کی ضرورت ھے ،
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 1, 2008 at 3:23 pm
سلام مسنون
سمجھوتہ جی کیا تعریف کروں آپ کی غزل کی جو خود میں ایک تعریف ھے اور .بہت ھی ہلکی پھلکی ھے.
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 1, 2008 at 3:27 pm
علی علی یہ کیا ھم نے پوچھا حضور آپ کیا فرماتے ھیں. اور آپ نے وہ کچھ فرما دیا کہ کبھی ھم اپنے بلاگ کو اور کبھی آپ کے فرمانے کو دیکھتے ھیں . بہت خوب
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 1, 2008 at 5:37 pm
زبردست ، واہ واہ سب ھی نے بہت خوبصورت شاعری کی ۔
علیگجراتی
نے لکھا؛
May 1, 2008 at 5:59 pm
سلا م ا و پر کچھ علیصا حب نے عر ض کیا میں بھی آ پکیکلما ت کا ر د و بد ل بیا ن کر و ں گا ۔قبو ل فر ما یں اپنی جنا ب میں ۔
جب ہو گئ آ پکیسو چ جیب بھر ی بھر ی
پھر ہو گی حو ص ھمیشہ بھر ی بھر ی
جبتمنا ہو شا د یکی سا تھ ملے جہیز
تو ہو تی ما لد ا ر کیسو چ بھی ما لد ا ر
پو چھا آ پنے حسین و جمیلہ سیملنے کیلیے
پھر ہو گئ اسکیسو چ بھیا میر ی کر و تا بعد ا ر ی
سو چو کیو ں ما یو سیخو د کشیکی ا گر سو چبھر ی ہو
کیو ں سو چتے ہو زہر کیپھر خر ید و سوچ محلا ت کی ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 1, 2008 at 9:29 pm
دوستوں آپ کی توجہ اور تبصرہ چاہئے
مجھےدوچار خوبصورت بڑے گھر چاہیے
زرداری نواز کے روبروھو تو اور کیا چاہیے
اللہ اس سے ذیادہ میں اور کچھ نہیں مانگتی
امریکہ کےبنکوں میں ٢٥)٪ کا شیئر چاہیے
ذیادہ نہیں نئےماڈل کی دوچار مرسڈیزچاہیے
ھوائی سفر کی لیے بس ایک جہاز چاہئے
اللہ اس سے ذیادہ میں کچھ اور نہیں مانگتی
یہ سب کچھ مل جاہئے تو پھر اورکیا چاہئے
یہ سب کچھ نہیں ایک دعا کو قبولیت چاہئے
پاکستان میں امن وخوشحالی اور انصاف چاہئے
اللہ اس سے ذیادہ میں اور کچھ نہیں مانگتی
اپنے ملک کے بچوں کی اک مسکراہٹ چایئے
اپنی ماوں بہنوں کے انچل کی ٹھنڈی ھوا چاہئے ا
اپنے بھاہیوں کی زندگی کے لیے بس دعا چاہئے
اللہ اس سےذیادہ میں اور کچھ نہیں مانگتی
ھردم تیرا رحم و کرم اورظالموں سےنجات چاہیے
علیگجراتی
نے لکھا؛
May 2, 2008 at 12:11 am
آپ سبنے لکھ کر مجھے حیر ا ن کیا ہمیں آکیخو شیکیعلا و ہ کیا چا ہی
ے
نو ا ز ذ ر د ا ر یکا بینک نہ چیک کر یں
آپکی ا چھی گز ر جا ے او ر کیا چا ہیے
بینک ہو تے ہو تے ہو ے مشکلا ت نہ چھو ڑ ے
تھو ڑ ا ہو تے ہو ے ا اچھیگز ر ے ا و ر کیا چا ہیے
د و سر و ں کا تکبر خو شی د یکھکر اپنی خو شی چھو ڑ دے
اگر پھر بھی خو ش نظر نہ آ ے تو پھر ا ور کیا چا ہیے
د نیا جھو ٹی تقد یر ے ا و ر جھو ٹ بنا نا چھو ڑ دے
اگر کو ئ خد ا کیتقد یر میں اچھا بنجا ے تو او ر کیا چا ہیے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 2, 2008 at 3:04 am
واہ واہ جی بہت اچھے تانیہ ۔ ۔ زبردست ۔۔ اور علیگجراتی جی کیا کہنے آپ کے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 3, 2008 at 12:41 am
نگہت واہ واہ سے کام نہیں چلے گا .جلدی سے کچھ لکھو،
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 3, 2008 at 12:47 am
علی گجراتی جی اگر آپ محسوس نا کریں تو یہ بات کہنا چاہیوں گی ،آپ نے جو کچھ بھی لکھا بہت شکریہ ، جس طرح مجھے پڑھنے میں تھوڑی سی مشکل ھوئی یقیناَ باقی دوستوں کے ساتھ بھی ھوا ھو گا،میرے ساتھ بھی یہی ھے کہ اردو لکھنا مشکل ھوتا ھے،لکھتے کچھ ھیں اور بن جاتا کچھ ھے، اور میں سمجھ سکتی ھوں ، لیکن اگر الفاظ کو ملا دیا کریں تو آپ کی تعریر کو چار چاند لگ جاہیں گے،
سعدیہ سحر نے لکھا؛
May 3, 2008 at 2:03 am
علی دعا کرونگی کوئ مالدار لڑکی القمر کہ بلاگ پہ آئے….تمہاری سب ڈیمانڈ پوری کرنے والی ھو…………
بلاگ لکھنے والے اتنے امیر تو نہیں مگر پھر بھی اتنے پیسے ھیں کہ زہر خریدنے کے لیے ادھار دے سکیں ……
علیگجراتی
نے لکھا؛
May 3, 2008 at 9:39 pm
سلا م عر ض تا نیہ مہیں کبھی محسسو س نہیکر تا ۔ آپنے ر ہنما ئ فر ما ئ ۔ میں تو آپجو گلا ب کے پھو ل جیسے کلما ت لکھتی ہے ۔ ا ن کو د یکھ کر لکھتا ہو ں ۔ د یر ے دیر ے کو شش کر و ں گا ۔ ا چھے کلما تلکھنے کی جو آ پ آ سا نی سے پڑ ھ لے ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 3:51 am
بہت شکریہ علی گجراتی جی. میں نے بھی یہاں آکر تھوڑا بہت سیکھا ھے.ھم ٹہرے روشنی اسکول والے .پانچ بھی پاس نا کر سکے ، پھر بھی دیکھو قلم کیسا چلتا ھے ، بلکہ دوڑتا ھے. جو بلکل ھماری دعایں آپ کے ساتھ ھیں