May 31, 2008 at 8:43 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
اسلام کہاں ھے
پچھلے دنوں ھماری جاننے والی ایک فمیلی عرصے کے بعد پاکستان گٰٰئی وہاں ان کی بیٹی نے سوال کر کر کے انھیں پریشان کر دیا وہ کہتی ھیں میں کیا جواب دیتی میرے پاس اس کے کسی بھی سوال کا کوئ جواب نہیں تھا …یہاں انھوں نے اپنی بیٹی کو یہ بتایا ھم پاکستانی ھیں ھم مسلمان ھیں ھماری حیا کیا ھے ھمارا لباس کیا ھونا چاھیے .. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 31, 2008 at 3:12 am |
راقم : نصر ملک |
علم و ادب میں شائع کیا گیا
مہرباں عزیز ساتھیو ۔
پچھلے دنوں میں نے برما سے ایک کہانی کا ترجمہ “ کلیجہ چیر کے رکھ دیا “ کے عنوان سے جو یہاں پیش کیا تھا اس پر آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے ممنون و مشکور ہوں ۔ خاور کھوکھر صاحب کا کہنا تھا کہ برما کے حوالے سے وہ کہانی پاکستان کے حا لات کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 30, 2008 at 5:48 pm |
راقم : نگہت نسیم |
دین, سماج میں شائع کیا گیا
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ایک مدرسے کے معلّم نے نابینا طالبِ علم کو سبق یاد نہ ہونے پر پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکا دیا جس سے مبینہ طور پر طالبِ علم کی موت واقع ہوگئی ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 30, 2008 at 7:04 am |
راقم : خاور چودھری |
شاعری میں شائع کیا گیا
کچھ کام نہیں ہوتا
عشق تمہارے میں
آرام نہیں ہوتا
ہووقت کبھی ملنا
زخم جدائی کا
مشکل ہے مگرسِلنا
زلفوں کوسنورنے دو
روزاُلجھتے ہو
کچھ کام بھی کرنے دو
ہیں بخت سیہ کالے
صرف تری خاطر
دستورمٹادالے
تم دردہوسینوں کا
حال نہیں پوچھا
ہم خاک نشینوں کا
جس سمت بھی دیکھوگی
یادرُلائے گی
جب بھی مجھے سوچوگی
جاتجھ سے نہیں ملنا
پھول محبت کا
آسان نہیں کِھلنا
رنگوں سے بھراموسم
بیت چکاساون
کیااشک بہائیں ہم
اک بارسُناؤگی
رازمحبت کا
کس کس سے چُھپاؤگی
مجبورجوانی پر
شہرامڈآیا
اک رات کی رانی پر
سجنی کاحسیں گِہنا
روٹھ گئے ہم تو
آوازنہیں دینا
سچ شہدسے میٹھاہے
رس ترے ہونٹوں کا
انعام وفاکاہے
مستقل لنک
May 29, 2008 at 2:37 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
ھواؤں سے پوچھتی ھوں احوال اسی کا
بے خیالی میں بھی رھتا ھے خیال اسی کا
شام و سحر ھو یا زندگی کا کوئ پہر
ھر لمحہ اسی کا ھے ھر سال اسی کا
چاند میں نظر آتا ھے ستارے میں وھی وہ
آنکھوں پہ چھایا رھتا ھے جمال اسی کا
زندگی میں خوشیوں کی برسات ھوئ ھے
مگر دل پہ چھایا رھتا ھے ملال اسی کا
کچھ سوچوں تو سوچوں میں کیسے
سوچوں پہ پھیلا رھتا ھے جال اسی کا
دنیا کو پانے کی تمنا دل میں نہیں ھے
ھر سجدے میں آتا ھے سوال اسی کا
…………………………………………سعدیہ سحر
مستقل لنک
May 28, 2008 at 5:25 am |
راقم : صفدر ہمدانی |
بلاگنگ, گپ شپ میں شائع کیا گیا
میں گزشتہ چند روز سے یہاں کینڈا میں اپنے بزرگ دوست جناب شمس جیلانی کے ہاں مقیم ہوں اور نصر ملک کے علاوہ سڈنی میں ڈاکٹر نگہت نسیم کو یہ نوید ہو کہ میں نے ابھی تک جیلانی صاحب کی سٹڈی پر قبضہ نہیں کیا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 27, 2008 at 3:30 am |
راقم : نصر ملک |
شاعری میں شائع کیا گیا
عزیز ساتھیو
اپنے مجموعہ ” قطبین ” مطبوعہ سٹاک ھالم ‘ سویڈن ‘ سنہ انیس سو ستاسی سے ایک چھوٹی سی نظم آپ سب کی نذر ہے ۔
بلا عنوان ۔
از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم برہنہ ا ک چھوٹی سی بچی
آنکھوں کی پلکوں پہ آنسو لیے
ہتھیلی پھیلائے
سرِ راہ کھڑی
ہر آنے جانے والے سے کہہ رہی ہے’
” اِ ک روٹی کا سوال ہے ”
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسلام ۔
مستقل لنک
May 26, 2008 at 2:40 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
لیڈر جسے سمجھے تھے وہ لوٹا نکلا
کھرا جسے سمجھا وہ کھوٹا نکلا
منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ھی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا
مستقل لنک
May 25, 2008 at 4:20 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
غربت سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس ھی کی ھو ۔ اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا کہ پوری دنیا میں 1.2 بلین انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال بھوک سے مرجاتے ھیں اور اٍن مرنے والوں میں 5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔ اُسی بھوک اور فاقے کو محسوس کرتے ھوئے ایک نظم آپ سب اھل ھنر کی نظر ۔۔۔
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دکھتا ھے
تُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دکھتا ھے
میری ماں کی مسکان میرے لیئے انمول ھے
اُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھے
وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی
پر آج کہہ گئی ھےابھی ابھی
بھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھے
دنیادار نہیں تیری ماں بابا کہتا ھے
بارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں
آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوں
ماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
چالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتی
سازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتی
ماں یہ جوچاند ھے نا
مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھے
تمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے
سب سنتاھوں تیری خاموشی سے
کیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے
“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کا
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے !
مستقل لنک
May 25, 2008 at 5:25 am |
راقم : شمس جیلانی |
شاعری میں شائع کیا گیا
مدتیں چاہئے اک شہر کے بس جانے کو
راس آتا ہے الو فقط و یر انے کو
تھوڑا پانی ہی بہت ہے اگر با قی ہے حیا
ایک چلو ہی بہت ڈوب کے مر جانے کو
نوٹ۔ ایوان ِ صدر کی آرائش کی وجہ سے بری امام کی بستیاں اجڑ رہی ہیں
مستقل لنک