Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں May, 2008

اسلام کہاں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ سحر

اسلام کہاں ھے
پچھلے دنوں ھماری جاننے والی ایک فمیلی عرصے کے بعد پاکستان گٰٰئی وہاں ان کی بیٹی نے سوال کر کر کے انھیں پریشان کر دیا وہ کہتی ھیں میں کیا جواب دیتی میرے پاس اس کے کسی بھی سوال کا کوئ جواب نہیں تھا …یہاں انھوں نے اپنی بیٹی کو یہ بتایا ھم پاکستانی ھیں ھم مسلمان ھیں ھماری حیا کیا ھے ھمارا لباس کیا ھونا چاھیے .. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (6)

نشے میں دھت ‘ برف پر چلتا آدمی ۔

مہرباں عزیز ساتھیو ۔
پچھلے دنوں میں نے برما سے ایک کہانی کا ترجمہ “ کلیجہ چیر کے رکھ دیا “ کے عنوان سے جو یہاں پیش کیا تھا اس پر آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے ممنون و مشکور ہوں ۔ خاور کھوکھر صاحب کا کہنا تھا کہ برما کے حوالے سے وہ کہانی پاکستان کے حا لات کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (9)

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

nighatاسلامی جمہوریہ پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ایک مدرسے کے معلّم نے نابینا طالبِ علم کو سبق یاد نہ ہونے پر پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکا دیا جس سے مبینہ طور پر طالبِ علم کی موت واقع ہوگئی ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (12)

سچ شہدسے میٹھاہے

کچھ کام نہیں ہوتا
عشق تمہارے میں
آرام نہیں ہوتا

ہووقت کبھی ملنا
زخم جدائی کا
مشکل ہے مگرسِلنا

زلفوں کوسنورنے دو
روزاُلجھتے ہو
کچھ کام بھی کرنے دو

ہیں بخت سیہ کالے
صرف تری خاطر
دستورمٹادالے

تم دردہوسینوں کا
حال نہیں پوچھا
ہم خاک نشینوں کا

جس سمت بھی دیکھوگی
یادرُلائے گی
جب بھی مجھے سوچوگی

جاتجھ سے نہیں ملنا
پھول محبت کا
آسان نہیں کِھلنا

رنگوں سے بھراموسم
بیت چکاساون
کیااشک بہائیں ہم

اک بارسُناؤگی
رازمحبت کا
کس کس سے چُھپاؤگی

مجبورجوانی پر
شہرامڈآیا
اک رات کی رانی پر

سجنی کاحسیں گِہنا
روٹھ گئے ہم تو
آوازنہیں دینا

سچ شہدسے میٹھاہے
رس ترے ہونٹوں کا
انعام وفاکاہے

تبصرہ جات (4)

ھر سجدے میں آتا ھے سوال اسی کا سعدیہ سحر

ھواؤں سے پوچھتی ھوں احوال اسی کا
بے خیالی میں بھی رھتا ھے خیال اسی کا

شام و سحر ھو یا زندگی کا کوئ پہر
ھر لمحہ اسی کا ھے ھر سال اسی کا

چاند میں نظر آتا ھے ستارے میں وھی وہ
آنکھوں پہ چھایا رھتا ھے جمال اسی کا

زندگی میں خوشیوں کی برسات ھوئ ھے
مگر دل پہ چھایا رھتا ھے ملال اسی کا

کچھ سوچوں تو سوچوں میں کیسے
سوچوں پہ پھیلا رھتا ھے جال اسی کا

دنیا کو پانے کی تمنا دل میں نہیں ھے
ھر سجدے میں آتا ھے سوال اسی کا
…………………………………………سعدیہ سحر

تبصرہ جات (8)

سائیڈ اے یا سعیدے

میں گزشتہ چند روز سے یہاں کینڈا میں اپنے بزرگ دوست جناب شمس جیلانی کے ہاں مقیم ہوں اور نصر ملک کے علاوہ سڈنی میں ڈاکٹر نگہت نسیم کو یہ نوید ہو کہ میں نے ابھی تک جیلانی صاحب کی سٹڈی پر قبضہ نہیں کیا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (6)

بلا عنوان

عزیز ساتھیو
اپنے مجموعہ ” قطبین ” مطبوعہ سٹاک ھالم ‘ سویڈن ‘ سنہ انیس سو ستاسی سے ایک چھوٹی سی نظم آپ سب کی نذر ہے ۔
بلا عنوان ۔
از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم برہنہ ا ک چھوٹی سی بچی
آنکھوں کی پلکوں پہ آنسو لیے
ہتھیلی پھیلائے
سرِ راہ کھڑی
ہر آنے جانے والے سے کہہ رہی ہے’
” اِ ک روٹی کا سوال ہے ”
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسلام ۔

تبصرہ جات (14)

لیڈر جسے سمجھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ سحر

لیڈر جسے سمجھے تھے وہ لوٹا نکلا
کھرا جسے سمجھا وہ کھوٹا نکلا

منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ھی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا

تبصرہ جات (14)

میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے

غربت سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس ھی کی ھو ۔ اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا کہ پوری دنیا میں 1.2 بلین انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال بھوک سے مرجاتے ھیں اور اٍن مرنے والوں میں 5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔ اُسی بھوک اور فاقے کو محسوس کرتے ھوئے ایک نظم آپ سب اھل ھنر کی نظر ۔۔۔

میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے

بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دکھتا ھے
تُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دکھتا ھے
میری ماں کی مسکان میرے لیئے انمول ھے
اُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھے
وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی
پر آج کہہ گئی ھےابھی ابھی
بھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھے
دنیادار نہیں تیری ماں بابا کہتا ھے
بارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں
آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوں
ماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
چالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتی
سازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتی
ماں یہ جوچاند ھے نا
مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھے
تمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے
سب سنتاھوں تیری خاموشی سے
کیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے
“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کا
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے !

تبصرہ جات (16)

الو اور ویرانہ

مدتیں چاہئے اک شہر کے بس جانے کو
راس آتا ہے الو فقط و یر انے کو
تھوڑا پانی ہی بہت ہے اگر با قی ہے حیا
ایک چلو ہی بہت ڈوب کے مر جانے کو
نوٹ۔ ایوان ِ صدر کی آرائش کی وجہ سے بری امام کی بستیاں اجڑ رہی ہیں

تبصرہ جات (3)