Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

بات نکلے گی تو پھر ۔۔۔۔۔

محترمہ نگہت نسیم صاحبہ ۔ سلام مسنون ۔
ابھی ایک دو روز پہلے آپ کا ایک کالم بعنوان ” بات نکلے گی تو ۔۔۔۔۔ “” پڑھا ۔ واقعی آپ کو بات سے بات نکالنے ‘ بات کا بھتنگڑ بنانے اور آگے بڑھانے کا گُر آتا ہے ۔ کئی دونوں بعد ایک اچھی پُرلطف تحریر پڑھنے کو ملی۔ بات سے بات نکالتے ہوئے آپ ایک ایسا انکشاف کر گئی ہیں جو میرے لیے ” کوہ گراں ” ثابت ہو رہا ہے اور میں اسے اپنے کندھوں سے اتارنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے صفدر ھمٰدانی صاحب کی ” اسٹڈی ” کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اس سے میں کافی حیران اور پرشیان بھی ہوں اور آپ کے اس انکشاف پر آپ کے لیے بزبان میر پہلے یہی کہوں گا کہ :
نہ چھیڑ اے نکہت باری ‘ چل راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ‘ ہم بیزار بیٹھے ہیں ۔
لیکن سنیئے ‘ جایئے گا نہیں ‘ ہمیں بات آپ ہی سے کرنی ہے ۔
قصہ یوں ہے کہ صفدر ھمٰدانی رہتے تو بھلے لندن میں ہیں لیکن ان کی ” اسٹڈی ” یہاں ہمارے گھر میں ہے ۔ کوئی چار پانچ برس پہلے انہوں نے ” میری اسٹڈی ” کو اپنا ” بیڈ روم ” بنا لیا تھا جو اب تک ان کے نام ہی سے منسوب ہے ۔ اب جس کمرے میں’ مَیں بیٹھتا ‘ لکھتا پڑھتا اور اپنا کام کرتا ہوں وہ میری ” اسٹڈی” نہیں بلکہ صفدر بھائی کا ” کمرہ ” ہے ۔ اب ایسی صورت میں آپ نے لکھا ہے کہ صفدر ھمٰدانی اپنے گھر میں اپنی ” اسٹڈی ” بنوا رہے ہیں ۔ انھیں اس کی حاجت کیوں پیش آئی کیونکہ ان کا رہنا لندن میں اور سونا یہاں کوپن ہیگن میں میرے گھر’ میں’ معاف کیجئے گا ‘ ” اپنے کمرے ” میں ہوتا ہے تو پھر اس ” اسٹڈی ” کا کیا بنے گا جواب ” صفدر بھائی کا کمرہ ” کے نام سے ہمارے گھر میں ہے ۔ میں صفدر کی چالاکی پر بھی حیران ہوں کہ بتائے بغیر دو دو ” اسٹڈیاں ” رکھی ہوئی ہیں ۔ اور اب تو یہ بھی عیاں ہے کہ وہ امریکہ ‘ بلجیم ‘ فرانس ‘ ہالینڈ ‘ یونان نجانے کہاں کہاں آتے جاتے رہتے ہیں ‘ ہمیں کھوج لگانی پڑے گی کہ ان کی ” اسٹڈیاں ” کہاں کہاں ہیں ۔ اس سوال پر ہم اپنے تحفظات محفوظ رکھتے ہیں کہ ” ایک فرد واحد ” کو اتنی اسٹڈیز کا حق کیوں کر ہو سکتا ہے جبکہ فی زمانہ کوئی ایک ” اسٹڈی ” بھی رکھنا گوارا نہیں کرتا ۔
نگہت جی ‘ خدا را صفدر جی کو سمجھائیں اور کوپن ہیگن سے اُن کے لیے سنائی دینے والی آواز اُن تک ضرور پہنچائیں کہ اے صفدر ‘ آجا تینیوں ” اسٹڈی ” پکار دی اے ۔
اور نگہت جی ‘ آپ سے تو جو کہنا تھا وہ کہہ دیا اور جو نہیں کہنا چاہتا وہ صرف اتنا ہے کہ اس بلاگ پر آپ ہم سب پر حاوی ہی نہیں بلکہہمیں آگے بڑھنے کی تحریک بھی دے رہی ہیں ۔ اللہ آپ کے حوصلے بلند رکھے اور آپ کا قلم ہمیشہ رواں دواں رہے ۔ آمین ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

5 تبصرے »

  1. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    May 4, 2008 at 3:23 am

    بہت ھی محترم جناب نصر صاحب سب سے پہلے تو آپ کی سمندر دلی کی قائل ھوتے ھوئے کہ دریا دلی آپ کے لیئے انتہائی چھوٹا سا لفظ ھے، اور شکریہ جیسا انتہائی قلاش سا لفظ کہہ دوں ۔ آپ کا “ اسٹڈی “ پر یہ تحقیقی مقالہ میری مزید آنکھ اور عقل کے کھلنے کا باعث ھوا ۔ بات صرف کوپن ھیگن کی نہیں رھی جی بلکہ آج زرا سا سورج اور باھر آئے تو یہاں آسٹریلیا میں بھی پتہ کرتی ھوں کہ پچھلے سال جب صفدر ھمدانی صاحب تشریف لائے تھے تو ھماری انتہائی محترم جناب ڈاکٹر شبیر حیدر اور سڈنی کے بابائے صحافت جناب سید ظفر حسین کا ھاں قیام پذیر تھے ۔ نصر جی خدا جانے اُن کی “اسٹڈیوں “ پر کیا گزری سحر ھونے تک کہ دونوں حضرات اتنی مروتی اور دریا دل ھیں کہ گھر تک دان میں دے سکتے ھیں ۔

    اور یہ جو آپ نے اور ملکوں میں ھمدانی صاحب کی آمدو رفت کی بات کی ھے تو ھالینڈ کے واقعے کے تو ھم سب بھی الیکٹرانک گواہ ھیں کہ وہاں کے مشاعرے کی تصاویر میں ایک تصویر صاحب خانہ کی “اسٹڈٰ‌ی “ کی بھی تھی اور جناب ھمدانی صاحب یہ بتاتے ھوئے اسقدر خوش تھے جیسے بچے ھوائی جہاز میں کھڑکھی والی سیٹ لے کر ھوتے ھیں کہ اُن کی ‘ اسٹڈی “ کی کھڑکھی سمندر کی طرف کُھلتی ھے ۔ اب آپ اور ھم بھی یہ جانتے ھیں کہ ھالینڈ کے ھر گھر کی ھر کھڑکھی مجبوراً سمندر کی طرف کھُلتی ھے ناکہ صرف لندن سے آئے ھوئے مہمانوں کے لیئے ۔

    خیر نصر جی یہ بات طے ھے کہ اگر ھمدانی صاحب کا قبضہ لاتعداد “اسٹڈیوں “ پرایسے ھی رھا تو ھم آپ اٍسے پنجابی زبان میں “ مُل مارنا “ کہینگے یا اردو زبان میں “ھوکا “ کہینگے ۔ ویسے یہ بات اپنی جگہ مسلم ھے کہ مجھ جیسے کئی اور لوگ فی زمانہ ایک “اسٹڈٰ ی“ بھی نہیں رکھتے کہ کہی شرما حضوری میں پڑھنا ھی نہ پڑھ جائے اور کجا تو یہ کہ ھر جگہ “ اسٹڈی “‌ ھو ۔ یہ بات مجھے ماہرٍ نفسیات ھونے کے ناطے کچھ تشخیص کرنے کو اُکسا رھی ھے لیکن چونکہ میں القمر سے بے دخل ھو کر آپ سب کا ساتھ کھونا نہیں چاھتی کہ ھماری اتنی پیاری محفل اب “ میرے “ بغیر کیا خاک سجے گی تو اپنا تشخیصی مقالہ محفوظ رکھتی ھوں ۔

    اور نصر جی یہ بھی سوچیئے کہ اگر آپ کی “اسٹڈی “ کی پکار انہوں نے سُن لی اور عمل درآمد بھی کر لیا تو باقی “اسٹڈیوں “ کا کیا قصور ھو گا اور وہ بھی اگر انہیں “واج“ مار بیٹھی تو ھمدانی صاحب کی فوٹواسٹیٹ نکلوانی پڑ جائے گی ، اٍس موقعے پر اپنے رب کی انتہائی شکر گزار ھوں کہ مجھے “محرومٍ اسٹڈی “ رکھا ۔ورنہ آپ کی طرح “ نصرت فتح علی خان “ کیسے بنتی ۔۔۔۔ بس جی اللہ کی حکمت وہی جانے ۔۔۔

    چلتے چلتے ایک اور بات نصر جی اور وہ بھی بڑی ایمانداری کے ساتھ آپ سے کرنی ھے کہ میں آپ سے بہت کچھ سیکھتی ھوں ۔ القمر پر آپ کا ھونا میرے لیئے ناصرف ایک ھمت ھیں بلکہ مانندٍ روشن چراغ ھے جس میں بیٹھ کر صرف سیکھا اور سنورا جا سکتا ھے ۔ اللہ پاک آپ کو عمرٍ دراز اور اپنی اماں میں رکھے ۔ آمین

  2. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    May 4, 2008 at 3:46 am

    قصہ ایک اسٹڈی کا
    سچ کہا جی کہ اسٹڈی نہ ہوئی ججوں کی بحالی ہو گئی. لیکن لگتا ہے کہ اب دونوں مسلے حل ہو ہی گئے ہیں. ڈاکٹر نگہت صاحبہ کو بات لکھنے کا خوب ڈھنگ آتا ہے اور نصر جی تو ہمارے استاد ہیں ہی.نشریات میں بھی اور شاعری میں بھی. ہاں یہ سچ ہے کہ وہ کوپن ہیگن میں میرے کرائے دار ہیں کہ میرے کمرے میں رہتے ہیں مگر یہ سب تو ہُما بھابھی کی عنایت ہیں جو ہمہ صفت موصوف ہیں. ایک کمال کی خاتون اور نہایت محبت کرنے والی فرد. ویسے نگہت جی اور نصر جی آپس کی بات ہے کہ اس دور میں لوگ سوچتے ہوں گے صفدر بھی واقعی کنفرم پاگل ہیں ایک بیڈ روم مزید بنانے کی بجائے اسٹڈی بنا رہے ہیں. مگر بہنو،بھائیو یہ میرا نہیں میری اہلیہ ماہ پارہ بیٹی زہرا اور بیٹے محمد کا کمال ہے کہ انہوں نے اس فقیر کے لیئے اتنی محنت کی. اللہ ان سب کو کامیاب و کامران رکھے اوت ہم سب آپس میں بھی سب کے لیئے آسانیاں پیدا کریں.آمین

  3. سمجھوتہ AUSTRALIA نے لکھا؛

    May 4, 2008 at 6:45 am

    بات سے بات نکلتی ہے۔ اب بات یہاں ان پہنچی کہ مجھ سا کم مایہ بھی کچھ کہنا چاہتا ہے۔

    صفدر جی سے باقاعدہ ملاقات تو نہیں رہی ( گو کہ اپنے اصلی نام کے ساتھ سلام عقیدت پیش کیا لیکن وہ میرے تعارف سے واقف نہ تھے اور حقیقتا کچھ تعارف تھا بھی نہیں)، لیکن جب یہاں سڈنی تشریف لائے اور جن دو اصحاب کے یہاں ٹھہرے، ان سے میرا ربط مسلسل رہا کرتا ہے۔ بلکہ یوں کہیئے کہ جن دنوں وہ یہاں تشریف فرما تھے، انکی رپورٹ انکے گھروں سے ہمیں براہ راست ملتی رہتی تھی۔ جو اہم بات انکے متعلق معلوم ہوئی وہ یہی تھی کہ انکو زندگی میں بیڈ روم کی ضرورت شاید کسی میزبان کے کہنے پر، ان کا دل رکھنے کے لئے پڑ گئی ہو تو ممکن ہے ( وہاں بھی جاگ جاگ کر اگر کتب نہ ہوں تو سوچ سوچ کر کئی مکاشفے کئے ہونگے)، ورنہ جہاں وہ ٹھہرتے ہیں، وہی کمرہ اسٹڈی بن جایا کرتا ہے۔ برادر گراں قدر نصر ملک صاحب کا انکشاف کہ انکا کمرہ استراحت اب بھی صفدر جی کی اسٹڈی کی صورت میں محفوظ ہے، اس امر پر گواہ ہے کہ ان کو سونے کی طلب رہی ہی نہیں۔ مجھے نگہت صاحبہ کا مضمون بھی یاد ہے جس میں جاگنے والی آنکھوں کا ذکر اور صفدر صاحب کی طرف کنائے موجود تھے۔ سونا انہوں نے اس لئے بھی چھوڑ دیا کہ بہر کیف اسکا نام بھی سونا ہے اور ان جیسے شرفاء مردوں پر سونے کا استعمال حرام ہے۔ یہاں جن دوستوں کے یہاں یہ ٹھہرے، انکا ذکر بھی سن لیں کہ ڈاکٹر شبیر حیدر صاحب میرے مستقل مہربان ہیں اور میں انہیں چچا کہتا ہوں اور میرے بچے انکو نانا جانتے ۔جب کبھی وہ میرے یہاں خوش قسمتی سے تشریف لاتے ہیں تو دیر تلک ہم ان سے باتیں کر کے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں رات کے تین بجے سونے کا بہانہ کر کے ہم سے دور اپنے شعور بیدار سے نجانے کیا کچھ کرنا شروع کر یتے ہیں۔ پھر نماز فجر سے ذرا پہلے اٹھ کر تہجد پرھیں گے اور ہمارے لئے اعلان صبح فرما دیتے ہیں۔ یعنی ہم بھی سو نہیں پاتے، لیکن وہ ترو تازہ۔ ہمدانی صاحب کی نہ سونے کی عادت پر ڈاکٹر صاحب بہت خوش تھے۔ خوب گزری ہوگی انکی اور صفدر ہمدانی صاحب کی۔ نگہت بہن میں مانتا ہوں کہ صفدر صاحب جیسے فقراء فوٹواسٹیٹ کے لئے کسی ماشین کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ جب چاہا اپنا اک پرتو جہاں چاہا پہنچا دیا۔ اللہ ان سے مہربانوں کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہ چھڑوائے۔خود مطالعے کرتے ہیں، خون دل جلاتے ہیں، اور ان کے بچے کچھے لفظوں کا سہارا لے کر لوگ عالم بن جایا کرتے ہیں۔

    پھر یہاں میرے مہربان نصر ملک صاحب کا شکریہ بھی تو مجھے کہنا ہے، کہ بہت کچھ کہنے کا موقع انہی کے توسل سے عطا ہوا۔ لیکن ان سے گلہ ہے کہ انکی کہانی کا انتظار رہتا ہے اور وہ ہے کہ جلد آتی ہی نہیں۔ ایک چند سطروں میں نجانے کیا کچھ کہ جاتے ہین،اور مجھ جیسے دیوانے کئی بار پڑھ کر، ہر بار نئے مطالب سے آشنا ہوتے رہتے ہیں۔ بھئی اب کچھ لکھ دیجئے نا۔ اللہ ہم سب کا حامی و مدد گار ہو۔
    والسلام۔

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    May 4, 2008 at 8:57 am

    سمجھوتہ جی کیا عمدہ کہا آپ نے کہ “صفدر صاحب جیسے فقراء فوٹواسٹیٹ کے لئے کسی ماشین کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ جب چاہا اپنا اک پرتو جہاں چاہا پہنچا دیا۔ اللہ ان سے مہربانوں کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہ چھڑوائے۔خود مطالعے کرتے ہیں، خون دل جلاتے ہیں، اور ان کے بچے کچھے لفظوں کا سہارا لے کر لوگ عالم بن جایا کرتے ہیں “ ۔۔۔ بے شک سچ کہا اور رب سوہنا ھم سب کو خونٍ دل جلانے کی مہلت دے ۔
    ڈاکٹر شبیر حیدر صاحب تو سرمایہ سڈنی ھے جن کی جان پہچان سے ھی ھم جیسے کوتاہ قد بھی نظر آنے لگتے ھیں ۔ سمجھوتہ جی آپ سے بات کرنا ھمیشہ ھی اچھا لگتا ھے ۔ اب تو اور بھی کہ شائد نصر صاحب آپ کی ھی سن لیں کہ میں تو کہہ کہہ کر تھک گئی ھوں لیکن نتیجہ آپ کے سامنے ھی ھے ۔۔۔ واقعی وہ کمال کا مشاہدہ رکھتے ھیں ، اللہ پاک اُن کے قلم کی عمر دراز کرے ۔ آمین

  5. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    May 4, 2008 at 11:01 pm

    محترم و مکرم جناب سمجھوتہ صاحب دائم اقبالہ‘
    محترمہ نگہت نسیم صاحبہ ۔
    سلام مسنون ۔
    آپ کی محبتوں اور کلمات خیر کے لیے ممنون و مشکور ہوں ۔ اللہ اس سلسہء سخن کو جاری رکھے اور ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی توفیق دے ۔ آمین ۔
    محترم سمجھوتہ صاحب ‘ آپ نے خاکسار سے کسی نئی کہانی کا مطالبہ کیا ہے ۔ آپ کا حکم سر انکھوں پر ۔ بندہ کی کیا مجال کہ تعمیل نہ ہو ۔ بس ایک دو دن عطا کردیں ۔ انشا اللہ حکم کی تعمیل ہو گی ۔ فی الحال ایک شعر اسی حوالے سے آپ کی نذر کرتا ہوں اور آپ سے راہمنائی کی گزارش بھی :
    کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا
    نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا

    وسلام ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو