لکھو ایک فسانہ
جی نگہت بلاگ سے لیا گیا یہ آپ کا شعر۔جو ویسے ھی بن گیا تھا۔لیکن جو میں نے لکھیے وہ ویسے نہیں ایسے ھیں۔
۔بس اب آتی جاتی رہنا اور نہ بنانا کوئی بہانہ ۔۔۔۔۔۔ ارے یہ تو شعر ھو گیا تانیہ اگلا مصرعہ تم زرا بنانا
تم نے مصرعہ کی بات کی ھے۔ اور ھم نے بنا لیا ھے پورا افسانہ
سارے الٹے کام نگہت تم ھی ربتلانا
جوگتھی ناسلجھے وہ مجھ سےسلجھوانا
علی کے دولھا بن جانے کی خواہش پر
کیوں ھے ھم سب کا یوں مر مر جانا
اگر آپ سب دوستوں کو ھے کچھ فرمانا
جلدی سےقلم اٹھاولکھ دو اپنا قصہ پرانا
اف یہ کیا میں لے بیٹھی ھوں فسانہ
بند کرتی ھوں اب کل مجھے پھرھے آنا































علی شاہ نے لکھا؛
May 5, 2008 at 9:46 am
کل ہی کہ بات ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سفید گھوڑی ہے جس پر میں شیروانی پہنے بیٹھا ہوں،ماتھے پر سہرا اور منہ پر استری شدہ رومال۔ گھوڑی کے پاس ہی نگہت جی اور تانیا جی “ویر میرا گھوڑی چڑھیا” گا رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سے کہیں سے ہماری ریسرچ میتھڈز کی میڈم شونا بیٹانی آکر میرا ریسرچ پروپوزل مجھے دیثی جس پر بڑا بڑا گریڈ سی لکھا ہوتا ہے۔ اور میں گھبرائٹ کے عالم میں گھوڑی سے اور دراصل بستر سے گر گیا۔
کوئ اس خواب کی تعبیر بتائے!!
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 5, 2008 at 5:17 pm
علی تم کو افسانہ لکھنے کو کہا تھا خواب سنانے کو نہیں ، تم تو ھر بات کو فسانہ بنا دیتے ھو ۔۔ رکو مجھے کچھ سوچنے دو اب میں تانیہ کی طرح زہین نہیں ھوں کہ فوراً غزل کہہ دوں ۔۔ تھوڑی مہلت ملے گی تانیہ جی سوچنے کی ۔۔۔۔۔عرض کیا ھے ۔۔۔ لو سب بھلا دیا ۔۔ کچھ یاد نہیں اب ۔۔ چلو پھر سہی ۔۔۔۔۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
May 5, 2008 at 6:49 pm
سلام تانیہ ..نگہت اور علی
ابھی میں بلاگ پڑھ رھی تھی ..ایک دم سے ایک آئیڈٰیا سوچا ….پاکستان میں بہت پیر بابا جادو کا توڑ کرنے والے ھیں مگر کوئ پیر بابی نہیں کیوں نہ میں یہ کام شروع کردوں …کوئ محنت نہیں ..ھاتھ پاؤں ھلائے بنا پیسہ ھی پیسہ تبھی تو تھوک کے حساب سے یہ لوگ پھیلے ھوئے ھیں ..
علی برے خواب کی نیک تعبیر ….ھر آرزو پوری ھوگی…فون پہ پھونک مارنے سے جادو ٹوٹ جائے گا…ھر پریشانی کا حل ….اب کوئ مسلہ مسلہ نہیں رھے گا ..دنیا میں پہلی بار آن لائین پیر بابی
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 5, 2008 at 8:05 pm
علی جی آداب۔ آپ سے پہلی بار براہ راست رابطہ ہو رہا ہے، وہ بھی آپ کے کواب کے صدقے۔۔۔۔ تعبیر تو آپکو پیر بابی ہی بتائیں گی، ہم آپکو چند احتیاطی تدابیر بتائے دیتے ہیں۔
1۔ سویا مت کریں تا کہ ایسے خواب نہ آئیں۔
2۔ اگر مجبورا سونا ہی پڑے تو اس بستر پر مت سوئیں جس سے آپ گر پڑے، بلکہ گھوڑی پر سوئیں، جلد ہی جگا دیا کرے گی۔
باقی پیر بابی آپ کو اللہ توبہ کر دیں گی۔ا نکا اشتہار میں لکھے دیتا ہوں ( امید ہے وہ یہ مفت کی سروس قبول فرمائیں گی): ہر مشکل آسان ہوگی، اور ہر آسانی مشکل میں تبدیل۔ دوست دشمن کی خبر نہیں رہے گی اور آپ چندد نوں میں محبوب کی جوتیوں میں ہونگے۔ والدین آپکی مرضی معلوم کر کے اسکا توڑ کریں گے اور امتحان ہی امتحان اور ناکامی مسلسل۔ روزگار جلد چھوٹ جائے گا اور عاقل و دیوانہ برابرہونگے۔مایوسی گناہ ہے، مگر اب یہ آپ پر مسلط ہم کر کے رہیں گے۔ آزمائیش شرط نہیں ہے۔ پاگل ہونے کو اشتہار ہی کافی ہے۔ اور۔۔۔۔نجانے کیا کچھ ہو جائے۔۔۔ملنے کے لئے لاری اڈہ کی بجائے جی ٹی روڈ کے عین بیچ تشریف لائیں۔ پیسے فارن کرنسی اکاوؤنٹ مین پشگی جمع کرانا ضروری ہے۔
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 5, 2008 at 8:07 pm
علی جی آداب۔ آپ سے پہلی بار براہ راست رابطہ ہو رہا ہے، وہ بھی آپ کے خواب کے صدقے۔۔۔۔ تعبیر تو آپکو پیر بابی ہی بتائیں گی، ہم آپکو چند احتیاطی تدابیر بتائے دیتے ہیں۔
۔ سویا مت کریں تا کہ ایسے خواب نہ آئیں۔
۔اگر مجبورا سونا ہی پڑے تو اس بستر پر مت سوئیں جس سے آپ گر پڑے، بلکہ گھوڑی پر سوئیں، جلد ہی جگا دیا کرے گی۔
باقی پیر بابی آپ کو اللہ توبہ کر دیں گی۔ا نکا اشتہار میں لکھے دیتا ہوں ( امید ہے وہ یہ مفت کی سروس قبول فرمائیں گی): ہر مشکل آسان ہوگی، اور ہر آسانی مشکل میں تبدیل۔ دوست دشمن کی خبر نہیں رہے گی اور آپ چندد نوں میں محبوب کی جوتیوں میں ہونگے۔ والدین آپکی مرضی معلوم کر کے اسکا توڑ کریں گے اور امتحان ہی امتحان اور ناکامی مسلسل۔ روزگار جلد چھوٹ جائے گا اور عاقل و دیوانہ برابرہونگے۔مایوسی گناہ ہے، مگر اب یہ آپ پر مسلط ہم کر کے رہیں گے۔ آزمائیش شرط نہیں ہے۔ پاگل ہونے کو اشتہار ہی کافی ہے۔ اور۔۔۔۔نجانے کیا کچھ ہو جائے۔۔۔ملنے کے لئے لاری اڈہ کی بجائے جی ٹی روڈ کے عین بیچ تشریف لائیں۔ پیسے فارن کرنسی اکاوؤنٹ میں پشگی جمع کرانا ضروری ہے۔
علی شاہ نے لکھا؛
May 5, 2008 at 8:31 pm
سمجھوتہ جی
کیا کہا میں سوؤں ہی نا؟ پھر میں پاکستانی کیسے لگوں گآ؟ کیونکہ پاکستانی شہریت کی پہلی شرط ہی خواب ِغفلت میں مبتلا ہونا ہے۔
رانی
نے لکھا؛
May 5, 2008 at 10:02 pm
علی آپ کب سے دن میں خواب دیکھنے لگے ۔جب دن میں خواب دیکھؤ گے تو گھوڑی سے اس طرح گرتے رھو گے اس لیے دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دو ویسے آپنے یہ کیسے سوچ لیا ک ہم تحپیر پتاتے ھیں یہاں تو سب مبص ھیں ہاں آپ نے آکر تحپیر پُو چھنی ھے تو آپ کو خود چل کر پاکستان آنا ھو گا ۔پھر کسی نجومی سے رجوع کرنا ھوگا کچھ رقم کے عوض وہ آپ کو ایسی تحبیر بتاےگا تہیں دوبارہ پوچھنے کی ضرروت پیش نہیں آے گی رانی پاکستان
علی شاہ نے لکھا؛
May 5, 2008 at 10:20 pm
رانی جی
یہاں ڈی ایم ڈیجیٹل پر ایک انگوٹھیوں والے بابا جی آتے ہیں۔ ان سے آن ائیر پوچھی تھی انہوں نے تعبیر یہ بتائ ہے کہ میری تعلیم میری شادی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اسلئے اسے جلد از جلد مکمل کروں پلس بابا جی نے بتایا ہے کہ میری شادی میں نگہت جی اور تانیا جی بھرپور حصہ لیں گی۔ آپ اور سعدیہ جی بھی اگر اس کارِخیر میں حصہ لینا چاہیں تو موسٹ ویلکم۔ ویسے تو سعدیہ جی آجکل افسانہ لکھ رہی ہیں دلِ بیقرار کا، وہ الگ بات ہے کہ ان کا دل صرف معاشرے کے مسائل پر بیقرار ہوتا ہے.
سعدیہ سحر نے لکھا؛
May 5, 2008 at 11:27 pm
سلام سمجھوتا جی آپ نے تو ایسا اشتہار دیا کام شروع ھونے سے پہلے بھی ٹھپ ھوگیا…اچھی دشمنی کی ھے
علی شادی پہ کھانا اچھا ھونا چاھیے تو میں ضرور آؤنگی …..علی تم اپنی کہانی سناؤ میں تم پہ بھی افسانہ لکھونگی …اب کوئ دکھی کہانی نہیں لکھونگی مگر کیا کروں ھر طرف دکھ ھی دکھ نظر آتے ھیں آج ایک افسانہ لکھا ” کہیں سایا نہیں ” لکھ کر خود ھی روتی رھی ..سائیٹ پہ نہیں دونگی ایسے ھی لوگ بھی روئینگے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 1:45 am
علی تم کو میرا یہ قیمتی مشورہ ھے ، کہ ایک بان کی چارپائی لو چارپائی کے اگر تین پاے ھیں تو بھی ٹھیک ھے بلکہ ذیادہ بہتر ھے ،اس چارپائی کے اندر ڈوغل ھونا ضروری ھے، اس لیے کہ تم ذیادہ دیر کو سو نہیں پاو گے ،تین پاے کی وجہ سے کروٹ نہیں بدل سکو گے .اور ڈوغل کی وجہ سے کمر دکھے گی ،جب ذیادہ نیند نہیں آے گی تو خواب بھی نہیں آنے کے . اور نا تو تعبیر کے لیے کسی باجی اللہ والی کی یا باجی غلام فاطیمہ یا بابا درویشی بابا جن والا وغیرہ وغیرہ
علی شاہ نے لکھا؛
May 6, 2008 at 2:40 am
تین پاؤں والی چارپائ پر سونے کے بعد تو پھر میرا اللہ ہی حافظ ہے. پھر آپ لوگ میرا سہرا گانے کے بجائے کہہ رہے ہونگے
وے علی
تو کتھے چلا گیا
جتھے بتی نا ڈیوا
جتھے منجی نا پیڑا
……………………
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 3:10 am
علی وہ بڑے کہتے ھیں نا اور خاص کر میرے ابا جی کہ شکل اچھی نہیں تو بات اچھی کر لیا کرو. خدا کا خوف کرو،اللہ تم کو اتنی زندگی دے جیتی تمھاری خواہش ھو ،ابھی تو تم نے بہت کچھ دیکھنا ھے،سہرا گھوڑی
علی شاہ نے لکھا؛
May 6, 2008 at 7:56 am
دعاؤں کا شکریہ، ویسے میں اتنی جلدی القمر کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں وہ اور بات ہے کہ سعدیہ جی کہ درد بھرے افسانے سننے کی تاب نہیں…
اور سعدیہ جی کے دل میں کیا رکھا ھے
پاکستانیوں کا ھی درد چھپا رکھا ھے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 4:29 pm
سعدیہ اگر تم چاہتی ھو کہ علی کی خوشی تو زرا سوچنا.کہ بچہ کیا کہہ رہا ھے .کیونکہ کافی نازک دل ھے علی کا.
سعدیہ سحر نے لکھا؛
May 6, 2008 at 8:37 pm
اھوں علی ….سننے کی تاب نہیں تو کیا ھوا …سننا تو میں نے پھر بھی ھے …
اور تانیہ نازک دل علی اس دن خوش ھوگا جس دن اس کے سر پہ سہرا ھوگا اور بچہ اپنی بتیسی استری کیے ھوئے رومال میں چھپا رھا ھوگا……
علی شاہ نے لکھا؛
May 6, 2008 at 9:15 pm
صرف تیسی کہیں دو دانت تو میرے پہلے ہی ایک حادثے میں شہید ہو چکے ہیں
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 11:28 pm
علی چلو اچھا ھے تھمارے دانت میں نے نہیں توڑے. اور سعدیہ تم بلکل پیر بابی نا بنو باجی اللہ والی اور باجی غلام فاطیمہ ھیں ،ورنہ پھر لوگ تم کو کہیں گے باجی جنوں والی .اور یہ مجھے ھرگز ھرگز گوارہ نہیں ھے .اور میرا خیال ھے نگہت اور علی بھی اتفاق کریں گے