آج کل حیرانگیوں کا موسم ھے
آج بہت دنوں کے بعد کوئی بلاگ لکھ رھی ھوں ۔ وجہ یہی رھی کہ سب اتنا خوب اور خوبصورت لکھ رھے ھیں کہ مجھ جیسے تو جگر اور دل دونوں ھی تھام کر رہ گئے ھیں ۔ دوستو قصد لکھنے کا یوں ھوا کہ آج کل چونکہ حیرانگیوں کا موسم ھے جیسے کہ کبھی تانیہ اور سعدیہ افسانے لکھ کر حیران کر رھی ھیں تو کبھی نصر ملک جی بولتی دیواروں کے ساتھ سب کچھ اُُگلوا لیتے ھیں ۔ اب اجمل بھائی کیوں پیچھے رھتے انہوں نے اپنی ذنبیل سے خزانے نکالے اور ایسے بانٹ دیئے کہ سمجھوتہ جی اور اکمل جی بھی عش عش کر اٹھے ۔ صاحبواسی دوران رانی جی اور علی کی نوک جھونک بھی چل نکلی تو وہی علی گجراتی جی کی پاکستان جیسی انتشار زدہ اردو ھم سب کی اردو ٹھیک کروانے میں کامیاب رھی تو وھی سرفراز جی کی رومنوں کی انگریزی میں اردو بھی مزہ دیتی رھی ۔اور تو اور خاور جی بھی اپنے ماھیوں کے ساتھ اور شمس جیلانی بھائی اپنی شاعرانہ پہلیوں سے مجھ سمیت زرقا جی کو بھی متاثر کر گئے لیکن ساتھیو آج کل مجھے اپنے آویز بھائی اور نرگس جمال بہت یاد آ رھے ھیں اور اُس کے ساتھ ھی اپنی من موھنی سی ایک ھی جھلک دکھا کر غائب ھونے والی ھما آپی بھی اور اُس کے ساتھ ھی بے پناہ مصروف صفدر ھمدانی صاحب کی ایک نگاہ کرم کی کمی بھی محسوس ھوتی رھی ھے اور وہیں ھارون عباس کے لاپتہ ھونے کا بھی قلق ھے ۔
دوستو ،بہنو، بھایئوآپ میرا یقین کرلیں کہ آج کل حیرانگیوں کاموسم ھے ۔اوراسی لیئے آپ سب سے ایک حیرانگی بانٹنا چاھتی ھوں اور وہ یہ ھے کہ جیسا کہ مجھے جاننے والے سب جانتے ھیں کہ مجھ سے ایسے کوئی کام نہیں ھوتے جس میں ” کچھ کرنے ” کا لاحقہ لگا ھو ۔ سو کوئی پانچ ، چھ ماہ سے کامن ویلتھ بینک کا سٹیٹمنٹ آ رھا تھا کہ آپ کے ” پانچ سینٹ ” ھماری طرف نکلتے ھیں ، براہ مہربانی اُسے ھم سے لے کر ھمیں اس زمہ داری سے بری کردیں۔ اب چونکہ اس سارے کام میں بینک جانا پڑتا تھا یعنی ” کچھ کرنے ” کا سندیسہ تھا سو سنُی ان سنُی کرتی رھی ۔ آج پھر سٹیٹمنٹ سامنے تھا ۔ سوچا چلو آج یہ کام بھی نپٹا ھی لیں ۔ بینک والی خوش کلام خاتون نے مجھے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا کہ آج اُن کے سر سے قرض کا بوجھ اترنے والا تھا ۔ میں نے اپنے لہجے کی شگفتگی کو برقرار رکھتے ھوئے کہا اتنی بڑی رقم کا میں کیاکرونگی ۔ صاحبو اُس نے مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ اچھا اگر آپ کو نہیں چاھیئے تو ھم ایڈمن کو رسید بھیج دیتے ھیں کہ “پانچ سینٹ” ڈونیشن میں جمع کر دیں ۔ میری حیرانگی میں کھلی آنکھیں اُس خوش کلام سے چُھپی نہ رہ سکی ۔۔تو مسکرا کر بولی ، اٍس طرح کے چھوڑے ھوئےکم مایہ کئی پانچ سینٹوں سے ھر سال کے آخر میں کئی ھزار ڈالر بن جاتے ھیں جو چیرٹی میں دے دیئے جاتے ھیں ۔۔۔ دوستو جب سے بس یہی سوچ رھی ھوں کہ کاش کوئی میری ارضٍ پاک کی کسی دیوار پر یہ چاکنگ بھی کرا دے کہ پانچ پانچ کے پانچ پیسوں کو ھزاروں روپے میں بدلنے کے لیئے کس عامل اور کامل سے رابطہ کرنا چاھیئے ۔۔































خاور چودھری
نے لکھا؛
May 6, 2008 at 6:42 pm
!آداب عرض بہنا
اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔۔ پانچ سینٹ واقعتا بڑی رقم ہے لیکن سرے محل،رائے ونڈ محل اور منی لانڈرنگ میں ہضم کی جانے والی رقوم اس سے بہت کم ہیں اسی لیے تو معاف کر ددی گئی ہیں۔۔۔۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 6, 2008 at 8:42 pm
سچ کہا نگہت ، جہاں پیسے والے ھیں تو ان کو کوئی پرواہ ھی نہیں لاکھوں اپنی ذات پر ایک مہینے میں خرچ کر دیتے ھیں .جہاں چند سکے دینے کی بات آتی ھے تو وہاں جان نکل جاتی ھے ،
ھر وہ کام جو اسلام کے مطابق ھم لوگوں کو کرنا چاہیے وہ کام دوسرے مزاہب کے لوگ کر رہئے ھیں اس لیے کہ یہ لوگ اپنے ملک سے سچا پیار کرتے ھیں ،اور جہاں سچائی ھو وہاں 5 سینٹ بھی بہت ھیں .
safdar Hamadani نے لکھا؛
May 6, 2008 at 9:32 pm
نگہت نسیم صاحبہ بات ویسے کوئی اتنی حیرانگی کی نہیں ہے! وجہ اسی یہ کہ 1965 کی جنگ کے دوران اسوقت کے صدر ایوب خان نے ”ایک پیسہ ٹینک” سکیم شروع کی تھی اور اسکا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر پوری قوم ایک دن میں ایک پیسہ دے تو ایک ٹینک خریدا جا سکتا ہے.اسوقت یہ سکیم سکولوں میں بہت مقبول ہوئی تھی.
ایک اور اہم بات یہ کہ یہاں کی ہوائی کمپنی ”برٹش ایر ویز” کا چیرٹی کا بہت اچھا سسٹم ہے کہ یورپ کی پروازوں کے دوران میں وہ یونیسف کے لیئے”خالی لفافے” مسافروں کی نشستوں پر رکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس جو ”ریزگاری” بچی ہے وہ اسمیں ڈال دیں.اس طرح گزشتہ برس ایک سال میں یونیسف کو ڈیڈھ ملین ڈالر اکٹھے ہوئے تھے.
پنس،پیسے اور پینی کا یہی تو کمال ہے.
آویزجرمنی نے لکھا؛
May 7, 2008 at 2:19 am
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم۔
بہت عمدہ لکھا ہے ۔
پانچ سینٹ جس کی کوئی قدر قیمت نہیں جمع کرنے سے ہزاروں ڈالر بن جاتے ہیں ۔
ترقی یافتہ قوموں کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ یہ قومیں دنیا جہاں کی کسی بھی بیکار چیز کو بیکار نہیں سمجھتیں۔
یاد کرنے کا شکریہ ۔
عنبرین
نے لکھا؛
May 7, 2008 at 6:34 am
آپ کا بلاگ پڑھ کر اسکول کے زمانے کی ایک بات یاد آ گئ۔ کبھی کسی سلسلے سے اسکول میں چندہ کیا جاتا تھا تو اساتذہ کہا کرتے تھے کہ چند روپوں کی کنجوسی نہ کرو اس سے محل کھڑے نہیں کر لو گے۔ اور واقعتاً بچیوں کی جیب خرچ سے اچھی خاصی رقم ہو جایا کرتی تھی۔ شاید اسی طرح ایک پیسہ ٹینک اسکیم کامیاب ھوئ ھو گی۔ جو چھوٹے چھوٹے بچوں نے آدھی چھٹی میں بھوکا رہ کر ممکن کیا ھو گا۔ لیکن یونہی دل میں ایک خیال آرہا ہے کہ کیا کبھی اس پاک سرزمین مین کوئ “ایک پیسہ اسکول اسکیم“ نکالی جاءے گی جس میں ساری قوم ان چھوٹے چھوٹے بچوں کے لءے آدھا دن ہی بھوکا رہ لے جو سڑکوں، فٹ پاتھوں، ٹھیلوں اور ورکشاپوں میں کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 7, 2008 at 10:38 am
خاور جی آپ نے درست کہا کہ وہ پیسے تھے ھی کم جبھی تو معاف ھو گئے پر پانچ پانچ کے پانچ پیسے بہت زیادہ ھیں جبھی تو ابھی تک جمع ھی نہیں ھو پا رھے ۔
تانیہ واقعی اچھا کہا کہ جہاں سچا پیار اور حب الوطنی ھو وہاں پانچ سینٹ بھی بہت ھوتے ھیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے لیئے ۔
محمد علی جی آپ کو ھماری بلاگ کی بزم میں قلبی خوش آمدید ۔ آپ کی معلومات بہت ھی عمدہ تھیں ۔ مجھے یورپ کی پروازوں کا بلکل پتہ نہیں تھا کہ اُن کی چیرٹی انہیں کی طرح مختلف اور دلکش بھی ھے ۔ اور ٹینک والی بات بھی دل کو لگی ۔۔ کاش اب بھی ھم امریکہ سے لینے کی بجائے خود اپنی ھی اسکیم “ ایک پیسہ ٹینک “ سے کچھ ٹینک خرید سکیں۔
آویز جی وقت نکالنے کا بہت شکریہ ۔ یقین جانیئے آپ کی کمی کو ھم سب نے ھی محسوس کیا تھا ۔آپ نے کتنی عمدہ بات کی کہ ترقی یافتہ قوموں کے لیئے کچھ بھی بیکار نہیں ھوتا ۔
آپ سب احباب کی دل سوزی کا شکریہ ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 7, 2008 at 3:14 pm
عنبریں بلاگ کی بزم میں قلبی خوش آمدید ۔۔ انشاللہ کیوں نہیں جب تک ھم سب میں ایک بھی ایسا سوچنے والا موجود رھے گا تب تب ضرور ھی کوئی نہ کوئی ایک پیسہ اسکول اسکیم نکلتی رھے گی اور یہ بھی سب دیکھیں گے کہ ھمارے ملک کے بچے ھی اپنے مستقبل کے خود محافظ ھونگے کہ اُن کے بڑوں کو تو لُوٹنے کی اسکیموں سے فرصت نہیں ھے وہ لُوٹانے کی اسکیم کیا جانیں ۔ توجہ کا شکریہ ۔ آپ کی رائے کا آیئندہ بھی ھمیں انتظار رھے گا ۔
اجمل
نے لکھا؛
May 7, 2008 at 4:10 pm
ہم پڑھا اور سُنا کرتے تھے ۔ قطرہ قطرہ دریا می شوَد ۔ جب پہلی بار اُستاذ صاحب نے آٹھویں جماعت میں پڑھایا تھا تو میرے منہ سے نکل گیا ۔ اور دریا دریا ؟ اُستاذ صاحب نے سُن لیا اور کہنے لگے ۔ ہاں ہاں دریا دریا ؟ ؟ ؟ اللہ نے میری مدد فرمائی اور میرے ذہن میں ڈال دیا ۔ دریا دریا بحرِ بیکراں می شوَد ۔
لیکن ہم ٹھہرے پرانے لوگ ۔ آج ترقی شدہ زمانہ ہے ۔ اُستاذ کی کون مانتا ہے ۔
قارئین تعلیم اور ذہانت مین تو مجھ سے بہت زیادہ بلند ہیں لیکن سب عمر میں مجھ سے بہت چھوٹے ہیں اسلئے تصحیح کرنا میرا فرض بن جاتا ہے ۔ جنگِ 1965ء کے بعد ایوب خان نے نہیں کسی اور نے نعرہ دیا تھا ۔ ایک ٹیڈی پیسے کے دو ٹینک ۔ پھر کیا تھا جگہ جگہ ڈبے لگا دئیے گئے اور وہ پیسوں سے بھرنے لگے ۔ ایوب خان کے دور میں اعشاری نظام نافذ ہوا اور روپے کے 64 کی بجائے 100 پیسے ہو گئے ۔ نئے پیسہ کا نام لوگوں نے ٹیڈی پیسہ رکھ دیا تھا ۔ اُس وقت پاکستان کی آبادی دس کروڑ تھی اور ایک ٹینک کی قیمت پانچ لاکھ تھی ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 7, 2008 at 4:28 pm
واہ اجمل بھائی واہ ، ھم ایسے ھی نہیں آپ کے معترف ۔۔ بہت بہت شکریہ اتنی قیمتی معلومات دینے کا ۔ اللہ پاک آپ کو خوش رکھے ۔ آمین
زرقا مفتی نے لکھا؛
May 8, 2008 at 1:09 am
نگہت جی
دینے والوں نے قرض اتارو ملک سنوارو مہم میں کتنے ہی پیسے روپے اور ڈالر دئیے ہو نگے مگر جب حاکم ہی دیانت دار نہ ہوں تو ایسی سکیموں کا کیا فائدہ