خوشخبری کب ملے گی
کچھ دنوں سے ھم سب ایک عجیب کشمش میں ھیں ۔
گرمی نے اور بھوک دونوں نے برا حال کیا ھوا ھے۔نا بجلی اور نا آٹا ۔
الیکش کے ایک ماہ بعد ایک نیا رولا،ججیز کی بدحالی ۔نہیں بحالی ۔ ایک نقطے کا فرق ھے ۔اس سے کیا فرق پڑتا ھے۔ عوام کون سا پڑھی لکھی ھے جو سمجھ سکے گی اور اگر ھے بھی تو گرمی کی وجہ سے مت ماری ھوئی ھے۔ ۔پاکستانی عوام بھی منہ کھولے آسمان کی طرف دیکھ رہی ھے ۔اور سوچ میں ھے کہ یہ کیا ھو رہا ھے ۔کب یہ خوشخبری ملے گی،ایک نرس کچھ ٹائم بعد آتی ھے لیبر روم سے اور بہت ھی شرین لہجے میں بتاتی ھے ،کچھ دنوں بعد آپ سب کو ایک خوشخبری ملنے والی ھے۔بہت جلد آپ سب کو پتہ چل جائے گا کیا ھوا۔ڈاکڑز کا کہنا ھے تبدیلی آب وھوا ضروری ھے۔۔اس لیے مری میں چند دن رہنا ھے۔ اس لیے ھم پوری ٹیم کے ساتھ مری میں ھیں ،نرس نے ایک بار پھر شیرین مسکرا ہٹ کے ساتھ صبر اور حوصلے سے انتظار کرنے کو کہا۔ایک بڑا سرجن امریکہ سے بھی بلوایا گیا ۔ کہ ھوسکتا ھے ۔کہ کیس کی خرابی کی صورت میں ماہر سرجن کا ھونا بھی ضروری ھے ۔اگرآپریشن کرنا پڑ گیا تو ۔ لیکن ابھی تک کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی ۔ھم سب جو ابھی تک منہ کھولے آسمان کی طرف دیکھ رہے ھیں ،ایک دم پتہ چلتا ھے پاکستانی ڈاکڑز ٹھیک نہیں ھیں ،اسلیے اب خوشخبری دبئی سے ملے گی ۔لیکن یہ کیا وہاں بھی ابھی تک کچھ نہیں ھوا۔یکدم دونوں نے سوچا چلو دبئی سے لندن وہاں ہسپتال بھی اور ڈاکڑز دونوں ٹھیک ھیں ۔٤٥ دن گرز گے ٩٠ دن میں خوشخبری آنی تھی۔کیونکہ کچھ ماھرنجومیوں کا کہنا ھے ۔کہ ٩٠ دن تک کچھ ھو جائے گا ۔اب ھو جانا چایئے ۔کب تک غریب آسمان پر نظریں جمائے منہ کھولے یوں خوشخبری کے لیے بیٹھے رہین گیے۔































شکاری
نے لکھا؛
May 18, 2008 at 12:02 am
غریب کا خوشخبری پر کوئی حق نہیں اس لیے اسے انتظار ختم کرکے دال روٹی کا انتظام کرنا چاہے.
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 18, 2008 at 1:30 am
شکاری جی ھم بھی تو یہی کہتے ھیں وہ نرس جو بار بار ھم کو خوشخبری کا کہتی ھے .اگر آٹا اور بجلی کی ھوتی تو بات تھی.اب کب تک اس کے شیری لہجے کو برداشت کریں . جب پیٹ خالی اور دماغ گرم ھو گرمی کی وجہ سے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 18, 2008 at 3:47 am
تانیہ کہی تم نے شیری رحمان کی خوشخبری والی بات تو نہیں سُن لی جو آ ھی نہیں چکتی ۔اُن کے شیری لہجے نے تو سب کی بولتی بند کر رکھی ھے ، اب کون پوچھے گا کہ خوشخبری کہاں گئی ۔
علی شاہ نے لکھا؛
May 18, 2008 at 5:32 am
اور تو کسی خوشخبری کا ہمیں پتا نہیں میرا امتحان ختم ہوگیا، اللہ سے دعا ہے کہ ہمای قوم کے صبر کا امتحان بھی جلد ختم ہوجائے
صعرفراز ھئسساین کاےانی نے لکھا؛
May 19, 2008 at 12:17 am
Sonnah Thah ” Khodah kii Lathii Bey Ahwaz hohtzi hey..” Sub kii Nazreen Assman kii taraf Laghii Hohii hien. ” Na mahlum Kub Atta Kub Biighlii Kub Panni Meylley gha.” Ghaltieyaan Hummarii hien.
Kaffi Arssah Pehley Tumam Programm Bu7nney they. Ager Tummam Prgramm Makammel Ho Jahtey Too Ajj Iss Trah Mushklatt mien na Puncey Hohtey.
Ghillani PM Zahrdari and Co Pakistan Keylieyee kuch na Kar ceykeeghey Na hii Karney key Qabal hien.
Jettni Jalldi Ho ceykey Mujudah Efrad Ghar challery Jahien
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 19, 2008 at 1:30 am
نگہت جو تم نے سوچا اسی بات کا انتظار ھے .اب ھم شیری کا لہجہ نہیں عمل چاہتے ھیں .خالی پیٹ پر یہ لہجہ بھی زہر لگتا ھے، علی بس دعا ھے کہ تمھارے امتحان اچھے سے گزر گے. اسی طرح عوام، بھی سکون میں آجائے .اور ان کی بھی مشکل جلدازجلد ختم ھو. سرفراز جی ھم بھی یہی چاہتے ھیں .جن کو لوگ اپنے لیے کچھ بہتر کرنے کو لائے ھیں .ان کی اپنی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کیا جائے اور کیسے.بڑے بڑے دعوے کرنے والے لگتا ھے بہت جلد اپنے گھر کا راستہ لیں گے