میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
غربت سے بھوک ھمیشہ جڑی رھی ھے ۔ اُس کی تکلیف ، درد اور دکھ کا احساس وھی کر سکتے ھیں جنہوں نے کبھی فاقے دیکھے ھو ، بھوک کاٹی ھو یا پھر کبھی محسوس ھی کی ھو ۔ اٍس خبر نے تو جیسے میری روح ھی کو تڑپا کر رکھ دیا تھا کہ پوری دنیا میں 1.2 بلین انسان بھوکے رھتے ھیں ۔ جن میں 9 ملین انسان ھر سال بھوک سے مرجاتے ھیں اور اٍن مرنے والوں میں 5 ملین بچے ھوتے ھیں ۔ اُسی بھوک اور فاقے کو محسوس کرتے ھوئے ایک نظم آپ سب اھل ھنر کی نظر ۔۔۔
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے
بیٹے دیکھ تو آسمان کا چاند کیسا دکھتا ھے
تُو کیا جانے یہ میرے چاند جیسا دکھتا ھے
میری ماں کی مسکان میرے لیئے انمول ھے
اُس کی مدھر ھنسی دنیا کے لیئے بے مول ھے
وہ جھوٹ نہیں بولتی کبھی
پر آج کہہ گئی ھےابھی ابھی
بھولی ھے ! میرا بابا اکثر یہ کہتا ھے
دنیادار نہیں تیری ماں بابا کہتا ھے
بارہ برس کی عمر اور میں کیا کیا سوچتا ھوں
آسمان کو تکتے تکتے یونہی کھو جاتا ھوں
ماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
چالباز دنیا کو بات کبھی یہ سمجھائی ھوتی
سازش جہاں بوئی ھے وہاں روٹی لگائی ھوتی
ماں یہ جوچاند ھے نا
مجھے خوابوں سے بھرا ایک غبارا لگتا ھے
تمھاری آنکھ میں ٹھرا ایک آنسو لگتا ھے
سب سنتاھوں تیری خاموشی سے
کیوں کہہ دیتی ھوھر بار بابا سے
“ بُرا ھو اٍس نگوڑی بھوک کا
میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے !































صفدر ھمدانی
نے لکھا؛
May 25, 2008 at 6:07 pm
نگہت جی۔بہت ہی دلدوز صورت حال ہے اس بے درد دنیا کی۔کہیں پر ایک لقمے کے لیئے انسان ترستا ہے اور کہیں ایسی وافر مقدار میں کھانا ضائع ہوتا ہے کہ کلیجہ منہہ کو آتا ہے۔اس نظم کو تو انگریزی میں ترجمہ کر کے عالمی ادارہ خوراک اور اقوام متحدہ کو بھجوائی جائے۔مگر یہ سارے حکمران ایک ہی جیسے ہیں جنہوں نے جھوٹ اور ریاکاری کے بطن سے جنم لیا ہے۔ہم لکھنے والے تو بس لکھ سکتے ہیں اور اپنے خوابوں کو نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ لیکن یہ لکھنا بھی تو ایک جہاد ہے نا! تو ہم اسے جاری رکھیں گے۔ خالق لوح و قلم آپکی سوچ اور فکر میں مزید نکھار اور اثر پیدا کرے اور قلم کو توانائی دے۔آمین؛صفدر از وینکور،کینڈا
خاورچودھری
نے لکھا؛
May 25, 2008 at 7:27 pm
دل ہلا دینے والے احساسات ہیں۔۔۔۔محترم ہمدانی صاحب نے خوب کہاہے۔۔۔۔
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
May 25, 2008 at 9:39 pm
Ghurbet Aur Buhkh Eiki hii Mukam Raki hien. Issi Bohkh kii wajah cey Humm Sub Magherbi Mumalik mien hien.Bohkh cey Bachney key lieyee Khandan Ko Bohkh cey Beychaney key lieyee. Mager Kaumyabii Hassal naa Kar Cykhey Qeyunkey Maluk mien Ghadar Sahmney Ahtey hien Ein Sub ney Humm Ghariebun ko Lotah kis
CEY SSSSSSSSSSSSSHKET KARENN Humm sub Gurbet mien Peydh huhey aur iss beymrri cey kysseyNEYjaht Hassal karen Allmi Aeydahry hoon Jah Dussrey Sub hii Appnah Matab Chmkaney kii
Kohshash Kar Rahey hien meyssal Sahm,ney hey Kiss Trah Barma Auir Chin mien SUB Kuch keyah ja rah hey
Pakistan ien aarri nd Co Ghurt Khatumm Nien Keen Ghy BAlökey Appney MUffad key Iyee Porrani Harkteen heyruh Ke hien . Wah ay Pakistan WahRe Bbbbbbbuhkh Wah rey pkistani Isam. Humm Sub EinRrastun mien Ghe Gheye hin Kisi k KEYAh Mada Ka ceyktey hien
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:15 pm
محترمہ نگہت بہن۔
سلام مسنون۔ آپکی نظم پڑھی۔۔۔اہل دل کے لئے دل کو سنبھال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جب ایسے ان کہے جذبات کہ دئیے جائیں۔ نجانے کتنے معصوم دلوں کی صدا آپکے ان لفظوں میں محفوظ ہے!!! ایک ایسی صدا جو دلوں سے اٹھ کر زبان تک آتے آتے دب جاتی ہے۔ آخر یہ مصنوعی بھوک کب تک دنیا میں غریبوں کے بچے کھاتی رہے گی؟ کاش اس آواز کو دنیا بھر کے مستضعفین سنیں اور بقول اقبال کاخ امراء کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیں۔
ماں یہ جو آسمان پہ روشن چاند ھے نا
وہ مجھ جیسا نہیں میری بھولی ماں
چاند تو روٹی جیسا ھے
دودھ کی کٹوری جیسا ھے
پچیس پیسے جیسا ھے
چاند تو تم جیسا ھے
بلکل کسی سچ جیسا ھے
دنیا کی ضرورت جیسا ھے
کاش جس بڑھیا کی بات تم بتایا کرتی ھو
پوچھوں کبھی کیوں چرخہ تم کاتا کرتی ھو
تم نے ھی روٹی کبھی کاتی ھوتی
رب نے بارش میں برسائی ھوتی
والسلام
نا چیز
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:34 pm
سمجھوتہ بھائی جی ! بہت شکریہ ! آپ نے مجھے ایک نیا حوصلہ عطا کیا ھے ۔۔ خوش رھیئے اور دعاؤں میں آباد رکھیئے گا ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:52 pm
نظم کی پسندیدگی پر اپنے بابا جی ( جناب محترم صفدر ھمدانی صاحب ) کی قلبی مشکور ھوں ۔جنہوں نے ھر قدم پر میری راھنمائی فرمائی ۔ جزاک اللہ
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:53 pm
جناب خاور چودھری صاحب آپ کی ھمت افزائی کے لیئے ممنون ھوں ، بہت شکریہ ۔
رانی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 9:34 pm
نگہت جی ایک بار پھر خوبصورت نظم کے لیے داد قبول کیجے۔۔ہماری دُعا ھے کہ کاش ساری دُنیا سے بھوک و افلاس مفلسی،غریبی کی یہ لحنت ختم ھو جاے ۔آمین۔رانی پاکستان
صفدر ھمدانی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 10:19 pm
نگہت جی۔آج کل کے باباؤں کے تناظر میں مجھے یہ ‘‘بابا‘‘ عجیب سا لگا ہے۔ یہ اعزاز اور خطاب ہے تو کمال کا لیکن اس اندھی گونگی اور بہری دنیا نے بہت سے دوسرے الفاظ کی طرح اس لفظ کے تقدس کو بھی پامال کیا ہے۔آپ تو دیواروں پر اور اخبارات میں شائع شدہ اشتہارات میں پڑھتے رہتے ہو اور پھر محترم ومکرم نصر ملک صاحب کے محققانہ مضمون میں بھی کئی ‘‘بابوں‘‘ کی بات ہو چکی ہے جیسے اجمیری بابا،جھاڑو مار بابا،کالے جن کا باپ بابا،مشکل کو ایک پل میں دور کرنے والا بابا وغیرہ۔ ویسے یہ سب بابے مشکلات حل کرنے والے نہیں مشکلات میں اضافہ کرنے والے بابے میں۔ ویسے حیرت کی بات ہے کہ یہاں کینڈا کے شہر وینکور میں مجھے کوئی بابا نظر نہیں آیا۔ یہاں تو صرف میں اور شمس جیلانی جی بابا ہیں اور وہ ڈاکٹر نگہت نسیم والے بابا کی صورت،
اب تو جی چاہتا ہے کہ کہا جائے۔
‘‘کاش مل جائے اگر ہم کو بھی بابا کوئی
ہم بھی پھر دیکھیں صدارت ہمیں کیسے نہ ملے‘‘
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 1:50 am
میں نے سوچ رکھا تھا کہ اب کی بار بہن نگہت کی نظم پر احباب کے تبصروں اور خیالات کے اظہار کے بعد ہی کچھ کہوں گا اور یہ سلسلہ اگرچہ ابھی تک جاری ہے لیکن سمجھوتہ بھائی کے خیلات نے یہ چند الفاظ لکھنے پر اس لئے مجبور کردیا ہے کہ اب نگہت بہن کی نظم پر مجھ سا کم علم کہے گا تو کیا کہے گا ۔
برادر محترم سمجھوتہ جی کے فرمودات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے نگہت بہن آپ کے لیے یہی دعا ہے کہ انسانیت کے لیے آپ کا خلوص و احساس برقرار رہے اور آپ کے لکھے ہوئے الفاظ ان ظالموں کے خلاف بجلی کی کڑک بن جائیں کہ اقبال جن ظالموں کے در و دیوار ہلا دینے کے لیے امت کو ترغیب دیتے رہے ۔ آمین ۔
صفدر ھمٰدانی صاحب نے کچھ “ بابوں “ کا ذ کر کرتے ہوئے وینکور میں کسی “ بابا “ کے نہ پائے جانے کی کمی کا اظہار کیا ہے تو میں اُن سے یہی عرض کروں گا کہ محترم قبلہ شمس جیلانی صاحب کی “ سٹڈی “ پر اگر وہ قبضہ کر چکے ہیں تو اس میں قدرت اللہ شہاب کا “ شہاب نامہ “ تو ضرور موجود ہو گا ۔ رات کو سونے سے پہلے “ اشفاق احمد “ کا نام لے کر دو بار درود شریف پڑھیں اور شہاب نامہ کو تکیہ کے نیچے رکھ کر سو جائیں ۔ مجھے امید ہے کہ ایک دو “ بابے “ تو ملاقات کے لیے ان کے خواب میں ضرور حاضر ہو جائیں گے ۔ دعا فقیراں رحم اللہ ۔ آزما کر دیکھئے گا ۔ بابوں کی کمی پوری ہو جائے گی ۔
وینکور میں قبلہ شمس جیلانی کی صحبت میں صفدر بھائی آپ کی سرگرمیوں بارے جان کر خوشی ہو رہی ہے اللہ یہ سنگت بحال رکھے اور اسے مزید مضبوط بنائے ۔
شمس صاحب اور ان کے اہل خانہ کو آداب کیساتھ
آپ کا خاکسار
نصر ملک ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 2:45 am
نصر بھائی بس میں آپ سے خفا ھونے ھی والی تھی کہ آپ نے خود ھی خود کو بچا لیا ۔۔ ۔آپ جانتے بھی ھے کہ میرے لیئے آپ کی رائے کیا ھے پھر بھی اتنی دیر کر دی ۔۔۔۔۔ بس اب بہت اچھا لگ رھا ھے ۔۔۔۔اللہ پاک آپ کو ھمیشہ خوش رکھے ۔۔۔
آپ نے “ باباؤں“ کی کمی اور دستیابی پر جو خوبصورت نقشہ باندھا ھے ، یقین کریں کہ یہی مجھے بھی کہنا تھا ۔رھی بات بابا کی بڑے بابا کی سٹڈی پر قبضے کی تو میرا خیال ھے نصر بھائی ھم دونوں نے اُسے بچانے میں دیر کر دی ھے ۔
سارا قصور آپ کا اور ھماری ھما آپا کا ھے جن کی محبت اور توجہ کے گن بابا اکثر ھی گاتے ھیں کہ آپ ھی کے دیئے ھوئےحوصلے سے وہ ھر سٹڈی کو اپنا سمجھ بیٹھتے ھیں ۔۔ اب شمس بھائی نے انہیں اور بھی جانے کن کن مراعات سے نوازا ھو گا ۔۔۔ خیر ھو اب ھم سب کی ۔۔ دعا کرتی ھوں اللہ پاک ھماری اٍس محفل کو ھمیشہ محبتوں سے آباد رکھے۔آمین
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 3:35 am
رانی جی کہاں غائب ھو جاتی ھیں ۔۔ آپ کا انتظار ھم سب ھی کر رھے تھے ۔۔۔ ایسا مت کیا کریں یہ محفل سونی رھتی ھے سب کے بغیر ۔۔ اب یہ تانیہ اور سعدیہ جانے کہاں ھیں ۔۔
نظم کی پسندیدگی اور دعاؤں کی تہہٍ دل سے شکر گزار ھوں ۔
سید جاوید گیلانی نے لکھا؛
May 29, 2008 at 6:59 pm
نگہت جی ۔ بہت خوب لکھا آپ نے ۔ دونوں آٹیکل بہت عمدہ ۔ میرے چاند سے چاند چھین لیا ھے ، اس پیرا نے رولا دیا ۔ کاش ھمارے اربابِ اختیار کو پھی نظرآے۔
نئ منتخب حکومت، اور نواز شریف بشمول دیگر سیاستدان ججوں کی بحالی کے درپےھیں اس کافائدہ و نقصان کا تو اندازہ نہیں لیکن سب سیاستدانوں کی دکان ضرور چمک جائے گی ۔ ووٹ لینے کیلئے ان لوگوں کو ہرالیکشن پہ کوئی نہ کوئی بہانہ چائیے ہوتا ھے اور قوم ازل سے بیوقوف ھے ہر دفعہ ان کے فریب میں آجاتی ھے ۔
اللہ کرے جنرل مشرف سے جان چھوٹ جائے، جج بھی بحال ھو جائیں پھر دیکھیں گے کہ اس سارے ڈرامے کا فائیدہ غریب عوام کو پہچتا ھے یا نہیں ۔ غریب آدمی چیف جسٹس کی دہلیز پہ پاؤں تک نہیں رکھ سکیےگا
چیف جسٹس شاید کسی ماں کے چاند کے ھاتھ میں ایک چاند دیدے تو بات بنے ۔ نا امیدی اگر حد سے بڑھ گئی تو کئی ماؤں کے چاند کسی ھاتھوں میں چاند تو کیا سب کچھ چھین لیںگے ۔ اللہ تعالٰی اپنا رحم کرے ۔ قانونِ قدرت میں کوئی اسبملی ترمیم نہیں کر سکتی وھاں تو ازل سے لکھ دیا گیا ھے کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔
کاش ھم سب وقت سے پہلے سمجھ جائیں اور اللہ تعالٰی ھمارے ملک اور قوم پر اپنا رحم بدستور جاری و ساری رکھے آمین
علی شاہ
نے لکھا؛
May 29, 2008 at 8:35 pm
نگھت جی
اس نظم کی پزیرائ میں پہلے بھی کرچکا ہوں اور دوبارہ بلکہ بار بار کرنا کرنا چاہتا ہوں۔ اور بات ہوئ بابوں کی تو یہاں مرحوم اشفاق احمد بہت یاد آئے۔ بابوں کی صحیح تعریف تو انہوں نے کی تھی۔ کہتے تھے بابا ہر وہ شخص ہوتا ہے جو آسانیاں تقسیم کرے، خواہ وہ کوئ مفلوک الحال ملنگ بزرگ ہو یا پھر کوئ فیشن ایبل نوجوان۔ ۔ ۔صفدر صاحب کے بارے میں آپ احباب سے جتنا سنا اور انکی تحاریر سے جتنا اندازہ لگایا، وہ مجھے بھی ااشفاق احمد کے بتلا ئے ہوئے ایک بابا لگے۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 2:17 am
گیلانی جی آپ کی رائے کی میں ھمیشہ سے قدردان رھی ھوں ۔ آپ نے کتنا سچ کہا کہ قانونِ قدرت میں کوئی اسبملی ترمیم نہیں کر سکتی وھاں تو ازل سے لکھ دیا گیا ھے کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔
محفل میں رائے کے ساتھ شمولیت کا بہت شکریہ اور خاص طور پر کالم کی پسندیدگی پر تہہٍ دل سے ممنون ھوں ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 2:21 am
علی جتنی بار نظم پسند کرو گے اتنی ھی بار کہونگی خوش رھو ۔۔ بابوں کی تعریف سے متفق ھوں اور خوش ھوں کہ تم ھم خیال ھو ۔