لیڈر جسے سمجھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ سحر
لیڈر جسے سمجھے تھے وہ لوٹا نکلا
کھرا جسے سمجھا وہ کھوٹا نکلا
منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ھی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
لیڈر جسے سمجھے تھے وہ لوٹا نکلا
کھرا جسے سمجھا وہ کھوٹا نکلا
منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ھی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا
اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک
سائیں رحمت ناتھن شاھی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:13 am
سلام ثانیہ جی اور دیگر خواتین و حضرات!
آپ کا شعر …..لیڈر جسے سمجھا تھا وہ لوٹا نکلا….دیکھیں محترمہ لوٹا بہت ھی اچھی چیز یے. مسجد میں پایا جاتا ہے. اس کا مطلب کہ کوئی متبرک چیز ہے. اسلام کے بعد سے سب نے لوٹے کو استعمال کیا مگر لوٹا بھی صدیوں کا غصہ کھائے بیتھا تھا. 1980 کے بعد سے لوٹے نے بھی پر نکالے اور تمام مساجد کے لوٹون نے ملکر لوٹا یونین کی بنیاد رکھی. اس کے بعد سے آپ دیکھیں کی لوٹوں نے سب کو استعمال کیا. حال ہی میں ایک لوٹا( جسکو ضیا الحق نے اپناے مبارک ہاتھوں سے بنایا تھا) نے کس طرح زرداری کو استعمال کیا ہے. منظور وٹو کو وزیر
سائیں رحمت ناتھن شاھی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 5:22 am
اعظم کا مشیر برائے ساینس اینڈ ٹکنالوجی بنایا گیا ہے. اس کو کہتے ہیں لوٹے کا کمال.
آپ سے گزارش ہے کہ بے پیندی کا لوٹا لکھیں تا کہ شعر میں مزید خوبصورتی پیدا ہو. ویسے میں نے منظور وٹو پہ ایک مکمل مضمون ھمدانی صاحب کی خدمت میں ارسال کیا دیکھیں کب شائع کرتے ہیں. نیک خواہشات کے ساتھ .
سائیں رحمت ناتھن شاھی
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 6:08 am
بہت عمدہ
اجمل
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 7:12 am
ہم تو سجھے تھے اُسے عقلمند
مگر وہ عقل کا بھی موٹا نکلا
رانی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 9:40 pm
تانیہ جی بہت حوب۔۔اسی طرح لکھتی رہیں۔۔رانی پاکستان
صفدر ھمدانی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 10:08 pm
تانیہ نے بھی یہاں تان لگائی ایسی
کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے
ٹوٹے گھنگھرو کی یہ صدا کہ یونہی لکھتی رہو
(جی لندن سے نہیں وینکور کینڈا سے)
صفدر ھمدانی
نے لکھا؛
May 26, 2008 at 10:11 pm
لیجئے یہ مسلہ تو ہوگا جب سعدیہ صاحبہ شیخ سعدی کی بات پر عمل نہیں کریں گی اور اپنا بلاگ خود نہیں لگائیں گی کہ ساری تعریف و تنقید تانیہ کے اکاؤنٹ میں جاتی رہے گی۔اب اس میں بھلا کیا مشکل ہے ہم اسے یوں کر دیتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعدیہ نے بھی یہاں تان لگائی ایسی
کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے
ٹوٹے گھنگھرو کی یہ صدا کہ یونہی لکھتی رہو
علی شاہ
نے لکھا؛
May 28, 2008 at 4:07 pm
بہت خوب سعدیہ جی
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 28, 2008 at 4:50 pm
علی کہاں تھے اتنے دنوں سے ۔۔ تم نے تو کہا تھا کہ اب اور نہیں پڑھو گے اور مجھے بھی یہی مشورہ دیا تھا ۔۔ یاد آیا ۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 28, 2008 at 6:21 pm
سعدیہ تم نے جو لکھا سو لکھا لیکن پڑھنے والے اتنا بڑا بڑا سعدیہ کیوں نہیں پڑھتے.جب مجھے اپنا نام لکھا ھوا ملتا ھے تو دل کرتا ھے .ارے یہ تو شعر بن گیا.
تم لوٹے کھرئے اور کھوٹے کی بات کرتی ھو.یہ تو سب شیطان ھیں انسان کیسے ھو.
ھم نے جیسے اپنا سمجھا وہ بےگانہ نکلا
دل سے جیسے چاہا وہ ھی آنجانہ نکلا
سوچا نام کر دوں اپنی یہ زندگی اسکے
وہ تو کسی اور کی زندگی کا دیوانہ نکلا
سعدیہ سحر نے لکھا؛
May 30, 2008 at 2:12 am
سلام ……..
سائیں جی حکمرانوں کو کچھ بھی کہو اب پہ کوئ اثر نہیں ھوتا
شکریہ نگہت اور رانی
شکریہ ھمدانی جی…جو بھی بلاگ لکھتی ھوں وہ تانیہ لگاتی ھے اس سے ایک نقصان ھوا ھے تانیہ نے اب خود لکھنا چھوڑ دیا ھے صرف میرے بلاگ لگاتی ھے اب میں خود بلاگ لگایا کروں گی تانیہ پھر سے لکھنا شروع کرے گی
تانیہ لوگوں کا کیا کہنا …اور یہ بتاؤ یہ بےگانہ انجانہ کون ھے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 3:40 am
سعدیہ آج تم نے خوش کیا واقعی ۔۔ یقین کرو بلاگ لگانا کچھ مشکل نہیں ۔۔ گُڈ گرل ۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 30, 2008 at 3:16 pm
سعدیہ تم نے جو کہا اس سے ملتا جلتا میں نے بھی کچھ بنا دیا،یہ کیا تھا میری اپنی سمجھ سے باھر ھے.کچھ باتیں بس ایسی ھیں جو ھو جاتیں ھیں.کوئی مطلب یا مقصد نہیں ھوتا
علی شاہ
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 11:55 pm
نگھت جی
آپ سے نا پڑھنے کا عہد نبھا رہا تھا بلاگ نا پڑھ کے. .