بلا عنوان
عزیز ساتھیو
اپنے مجموعہ ” قطبین ” مطبوعہ سٹاک ھالم ‘ سویڈن ‘ سنہ انیس سو ستاسی سے ایک چھوٹی سی نظم آپ سب کی نذر ہے ۔
بلا عنوان ۔
از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم برہنہ ا ک چھوٹی سی بچی
آنکھوں کی پلکوں پہ آنسو لیے
ہتھیلی پھیلائے
سرِ راہ کھڑی
ہر آنے جانے والے سے کہہ رہی ہے’
” اِ ک روٹی کا سوال ہے ”
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسلام ۔































سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 4:11 am
میرے محترم مِرے نبض شناص نصر ملک صاحب۔
تسلیمات۔
آپکی نظم پڑھی۔ اتنی جلد کوئی تبصرہ کرنا میری بساط میں نہیں ہے۔ میں عموما آزاد نظموں پر تبصرے کر بھی نہیں پاتا۔۔اسی لئے کہ اتنی بساط نہیں ہے۔ لیکن کیا ہے کہ اس صدیوں پرانے پر نہ ختم ہونے والے مضمون کا جو پہلو آپ نے دکھلایا ہے وہ نیا ہے اور مجھ سے رہا نہ گیا کہ اپنی قلمکی صدائے گریہ کو روک پاؤں۔۔۔۔کہ
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے ۔
گویا کہ جن کو اس مصیبت کا ادراک ہے، ان کے لئے یہی لمحہ قیامت ہے۔ مانگنے سے مرنا بھلا لگتا ہے، لیکن کیا مجبوری ہے کہ قیامت میں اور اسکے بعد تو مرنے پہ پابندی ہے۔ اس لئے مانگے جا رہے ہیں اور جئے بھی جا رہے ہیں۔ اک مصیبت ہے کہ کٹتی ہی نہیں۔ اگر یہ دعرد ایک بچے یا ایک خاندان کا ہوتا تو بھی بہت بھاری تھا، لیکن یہاں تو ایک نفس اگر اس عالم فنا سے چلا بھی جائے تو سینکڑوں اس قطار میں کاسہء سوال لئے کھڑے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ انسان کا منہ یا مرتے وقت ٹیڑھا ہوتا ہے یا مانگتے وقت۔
کل نگہت بہن کی نظم بھی اسی موضوع پر تھی اور آج نے ہمارے وجدان کو پھر جھنجھوڑ ڈالا۔ گویا کہ غربت کا ادراک اب ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ بقول محترم و مکرمی صفدر ہمدانی صاحب کہ (مگر یہ سارے حکمران ایک ہی جیسے ہیں جنہوں نے جھوٹ اور ریاکاری کے بطن سے جنم لیا ہے۔ہم لکھنے والے تو بس لکھ سکتے ہیں اور اپنے خوابوں کو نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔)
سچ یہ ہے کہ نظموں اور غزلیات میں پیش کئے گئے لفظ قلم سے اتنی آسانی سے تھوڑی نکلتے ہیں۔ نجانے خون جگر کو کتنا کشید کرنے کے بعد کسی کے احساس کو شاعر خود پر مسلط کرتا ہے اور اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کی حقیقت میں فنا ہوتا ہے، تب جا کر قطرہ گہر ہوتا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا کہ یہ عالمی غربت ہمیں اب کھائے جا رہی ہے۔
اللہ کریم (ج) سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے حصے کا سچ کہنے، سننے، ماننے اور منوانے کی توفیق دئیے رکھے۔۔۔۔اور آپ کے قلم کا جہاد یوں ہی جاری رہے۔
والسلام
نا چیز
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 4:14 am
میرے محترم مِرے نبض شناص نصر ملک صاحب۔
تسلیمات۔
آپکی نظم پڑھی۔ اتنی جلد کوئی تبصرہ کرنا میری بساط میں نہیں ہے۔ میں عموما آزاد نظموں پر تبصرے کر بھی نہیں پاتا۔۔اسی لئے کہ اتنی بساط نہیں ہے۔ لیکن کیا ہے کہ اس صدیوں پرانے پر نہ ختم ہونے والے مضمون کا جو پہلو آپ نے دکھلایا ہے وہ نیا ہے اور مجھ سے رہا نہ گیا کہ اپنی قلمکی صدائے گریہ کو روک پاؤں۔۔۔۔کہ
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے ۔
گویا کہ جن کو اس مصیبت کا ادراک ہے، ان کے لئے یہی لمحہ قیامت ہے۔ مانگنے سے مرنا بھلا لگتا ہے، لیکن کیا مجبوری ہے کہ قیامت میں اور اسکے بعد تو مرنے پہ پابندی ہے۔ اس لئے مانگے جا رہے ہیں اور جئے بھی جا رہے ہیں۔ اک مصیبت ہے کہ کٹتی ہی نہیں۔ اگر یہ درد ایک بچے یا ایک خاندان کا ہوتا تو بھی بہت بھاری تھا، لیکن یہاں تو ایک نفس اگر اس عالم فنا سے چلا بھی جائے تو سینکڑوں اس قطار میں کاسہء سوال لئے کھڑے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ انسان کا منہ یا مرتے وقت ٹیڑھا ہوتا ہے یا مانگتے وقت۔
کل نگہت بہن کی نظم بھی اسی موضوع پر تھی اور آج آپ نے ہمارے وجدان کو پھر سے جھنجھوڑ ڈالا۔ گویا کہ غربت کا ادراک اب ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ بقول محترم و مکرمی صفدر ہمدانی صاحب کہ (مگر یہ سارے حکمران ایک ہی جیسے ہیں جنہوں نے جھوٹ اور ریاکاری کے بطن سے جنم لیا ہے۔ہم لکھنے والے تو بس لکھ سکتے ہیں اور اپنے خوابوں کو نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔)
سچ یہ ہے کہ نظموں اور غزلیات میں پیش کئے گئے لفظ قلم سے اتنی آسانی سے نہیں نکلتے -نجانے خون جگر کو کتنا کشید کرنے کے بعد کسی کے احساس کو شاعر خود پر مسلط کرتا ہے اور اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کی حقیقت میں فنا ہوتا ہے، تب جا کر قطرہ کہیں گہر ہوتا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا کہ یہ عالمی غربت ہمیں اب کھائے جا رہی ہے۔
اللہ کریم (ج) سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے حصے کا سچ کہنے، سننے، ماننے اور منوانے کی توفیق دئیے رکھے۔۔۔۔اور آپ کے قلم کا جہاد یوں ہی جاری رہے۔
والسلام
نا چیز
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 27, 2008 at 5:19 pm
میرے مالک دل ھلا دیا اٍس نظم نے ۔۔ سوا نیزے نے تو دل ھی میں ایک قیامت کا نقشہ کھینچ دیا ۔۔اور یہ بھوک ایک قیامت ھی تو ھے ۔۔کتنی سنگین حقیقت کا ادراک ھے یہ نظم ۔۔
علی
نے لکھا؛
May 28, 2008 at 5:50 am
تعلق سےلاتعلقی تعلق کی نوعیت کے انکار، احتراز یا چشم پوشی سے ہوتی ہے۔ تعلق غرض بھی ہوتا ہے اور بےغرض بھی۔ تعلق ایک ربط ہوتا ہے۔ جو کبھی بڑا مضبوط ہو جاتا ہے اور اکثر اُوقات ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ بعض اُوقات ٹوٹ کر جُڑ بھی جاتا ہے مگر جوڑ اُس میں بھی لگ جاتا ہے۔ خونی تعلق کا دوبارہ جوڑ اور ہوتا ہے اور لوگوں سے نئے تعلق کا دوبارہ ملاپ اور طرح کی گنڈ ہوتا ہے۔ یہ ایسا ربط ہے جسکا وجود ہمیشہ کسی نہ کسی نام سے باقی رہتا ہے۔ گمنام خطوط، گمنام رابطہ، خون کا رشتہ، دِل کی کشش کیا ہے؟ بےربط رابطوں کی مربوط صورتیں ہیں۔ تعلق کی انواع بے شمار ہے۔ انسان کا قدرت کے حسن سے بھی ایک تعلق تھا۔ جو آج صرف تعلق ہے، تعلق قائم نہیں رہا۔ وسائل والا آج صرف قدرت کے حسن کو اپنی مرضی سے قابو کر لینا جانتا ہے۔ جبکہ تعلق قائم کرنا یہ ہے کہ قدرت کےحسن کو اُسکےقدرتی جلوہ میں باقی رہنے دینا۔ آج انسان نے ترقی بھرپور کرلی ہے۔ مگر وُہ قانون قدرت سے اپنا ناطہ مسلسل توڑنے میں مصروف ہے۔ نہ صرف ناطہ بلکہ قدرت کے مقابل اپنا قانون نافذ کرنے پر تُل چکاہے۔ کوئی ایک فرد دُنیا کو سمت دیتا ہے۔ مگر آج ہر کوئی اپنے آپکو برتر سمجھ کر سمت مہیا کر رہا ہے جبکہ آج اُسکو اپنی سمت کا خود علم نہیں۔ بس یونہی ہمارا تعلق ہے کہ ” دماغوں میں فرعون لیئے چلتے ہیں ہم، دُنیا کو بتلاتے ہیں مسیحا ہیں اس دنیا کے ہم۔ “تعلق اخلاق سے رہتا ہے، جوآج خلق خدا کے لیئے افلاق نعمت ہے۔
کچھ تعلق باتوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق لوگوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق چیزوں سے رہتے ہیں، کچھ تعلق غائبانہ بھی ہوتے ہیں؛ یہی عجائبانہ بات ہے۔ کچھ افراد کی نیند کا تعلق اُنکے بستر سے بھی ہوتا ہے۔ یونہی مانوسیت اپنے وطن اور شہر سے ہوتی ہے۔ بےشمار معاملات کا تعلق ہمارے ساتھ ہر لمحہ ہے جیسےخوشی و غمی کا تعلق، یادوں اور تنہائیوں کا تعلق، پودے سےوابستگی، جانور سے وابسطہ تعلق، گھر سے تعلق، ملک سےتعلق، رنگ سے تعلق، رشتوں سے تعلق، مفاد سے تعلق، خواب کی تعبیر سے تعلق، مذہب سے تعلق، عہدے و مرتبے سے تعلق، قبیلہ سے تعلق، چوری سے تعلق۔ آج گھروں میں تعلق برائے نام ہوتے جا رہے ہیں وجوہات بے شمار ہیں مگر مسئلہ ایک ہی ہے۔ ہر ایک اپنی بھرپور آزادی جائز وناجائز بلا روک ٹوک چاہتا ہے۔ اِن خونی رشتوں میں الفت کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ قبائل اپنے آباؤاجداد کے تاریخی کارناموں کو صرف فخر سےسناتے ہیں۔ اپنے آباؤاجداد کےمثبت اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ مغل قبیلہ کے ہاں تعلیم کی اہمیت پر بڑا زور دیا جاتا تھا کیا آج اُنکے ہاں علم برائےعلم ہے؟ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کی خودنوشت تزک بابری ترک زبان میں تھی جو علمی اعتبار سےدنیا کی بہترین سوانح عمریوں میں شمار ہوتی ہے، نورالدین جہانگیر کی آپ بیتی تزک جہانگیری فارسی زبان میں ایک اور شاندار تحریری شاہکار ہے۔ جبکہ محی الدین اورنگ زیب عالمگیر کی فتاوٰی عالمگیری آج بھی ایسےقانون کی اہمیت رکھتی ہے کہ آزاد کشمیر میں قانونی فیصلوں میں یہ بنیادی سرکاری قانون کی حیثیت رکھتے ہوئےافادیت واضح کر رہی ہے۔ دیکھیئے سائبیریا کا اُجڈ قبیلہ برصغیر میں ایک تہذیب یافتہ معاشرہ کا علمبردار بنا۔ اسلامی معاشرت اس میں ایک نیا رنگ لائی۔
ایک تعلق ہمارا تاریخ، تہذیب، ثقافت اور تمدن سے بھی ہوتا ہے یہی کسی قوم کی انفرادی شناخت ہوتی ہے۔ مگر آج یہ کوئی نہیں جانتا کہ اسلامی آرٹ کا کیا مطلب ہے؟ تاریخی عمارات پر بیل بوٹے کیا معنٰی رکھتے ہیں؟ آسمانی رنگ کس حکمران خاندان یا کس علاقہ کی شناخت ہے؟ ہماری اقدار اور روایات کیا تھیں؟ افسوس ہمارا علاقائی لباس کی ثقافت مفقود ہوتی جا رہی ہے زبانیں تیزی سے اپنا حقیقی وجود کھو رہی ہیں۔ سب سے بڑی افسوس کی بات معاشرہ زندگی کے ہر شعبہ میں کرپٹ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلق صرف نام کے باقی رہنے لگے ہیں۔ وجود مٹ رہے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے پرانے کا خاتمہ نئے کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی ارتقاء ہے مگر یہ ارتقاء کوئی قابل ستائش محسوس نہیں ہوتا۔ اس سےفاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اُردو کا ارتقاء اقوام کو قریب لانے سے تھا۔ مگر آج جو ارتقاء ہو رہا ہے۔ وُہ پریشانیاں پیدا کر رہا ہے۔ خام خیال پیدا ہو رہے ہیں۔
انسان کا ایک تعلق اپنی زبان سے ہوتا ہے۔ زبان انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان زبان سےتعلق پیدا کرتا ہے۔ کسی زبان سےانسان اپنا ناطہ توڑ لےتو رفتہ رفتہ زبان ناپید ہوجاتی ہے۔ تو پھر اُس خطہ اور انسان کی ثقافت، تمدن، تاریخ، رواج، رسم ناپید ہو جاتے ہیں۔ مذہب دیومالائی کہانی بن جاتا ہے۔ ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط ناپید ہونے لگا۔ تو اُسکو اُنیسویں صدی میں ایک انگریز بنگال کے کمشنر لارڈ شیکسپئیر نے دوبارہ کوشش کر کے زندہ کر ڈالا۔ آج یہ دیوناگری رسم الخط ہندوستان کی منفرد تاریخ کی پہچان ہے۔ تعلق رکھنا انسان کی ضرورت ہے، زبان کی نہیں۔ زبان کا ہم پر احسان ہے کہ وُہ ایک وسیلہ ہے رابطے کا، احساسات کی ترجمانی کا، پہچان کا اور اشاروں کا۔ آج ہمارا تعلق کیوں لاتعلق ہے؟ برصغیر کی زبان فارسی تھی، علم فارسی زبان میں تھا۔ تو انگریز نے یہاں نومولود زبان اُردو کو سرکاری حیثیت سے ایک پہچان دلوائی۔ اور ہم فارسی اور انگریزی کے بیچ الجھاؤ کا شکار ہوگئے۔ ہمارا تمام ماضی، علمی خدمات اور سرمایا، مذہبی تحقیقات و تخلیقات حتٰی کہ برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے فارسی زبان میں کیا۔ پھر اُنکے بیٹوں شاہ رفیع االدین نے قرآن مجید کا پہلا لفظی ترجمہ اُردو زبان میں کیا اور شاہ عبدالقادر نے پہلا بامحاورہ اُردو ترجمہ کیا۔ جبکہ شاہ اسمعٰیل شہید شاہ ولی اللہ ہی کے پوتے تھے۔ پہلا ترجمہ ہمیشہ کافی دقت طلب کام ہوتا ہے۔ جو ان بزرگ ہستیوں نے کیا۔ برصغیر میں کسی بھی زبان میں ترجمہ ہو، کسی بھی مکاتب فکر کی بزرگ ہستیاں جب بھی کرےگی ہمیشہ اُنکی رہنمائی شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر کےتراجم سے ہوگی ۔ یوں زبان کا ہی وُہ تعلق ہے جو ہم میں اختلافات کو کم کر کےختم کرسکتا ہے۔ یوں ان جیسی تمام بزرگ ہستیوں کا احترام ہر مکتبہ فکر کے افراد کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب جدید تراجم اور علم انگریزی زبان میں تھی۔ بس ہم زبان پر ہی الجھ گئے۔ ملک میں دو متضاد طبقوں کا آغاز تو دو صدیوں پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ہمارے ملک کا آج بھی بیشمار طبقہ تعلیم سے راہ فرار زبان کےمسائل کی وجہ سےاختیار کرتا ہے۔ پھر نیا مسئلہ علاقائی سیاستدانوں نے شروع کر ڈالا۔ علاقائی زبانوں کا۔ آج ایک مسئلہ زبان کےنام پر لڑنےکا ہے۔ پاکستان میں ایک انداز کےمطابق تئیس زبانیں بولی جاتی ہیں تو کیا پھر ملک کے زبان کی بنیاد پرتئیس حصےکر دیے جائیں۔ اتنی توجہ زبان سیکھنے پر دے ڈالےتو الجھاؤ رہے ہی نہ۔ واصف صاحب نے غالباً کرن کرن سورج میں اسی بات پر روشنی ڈالی جسکا مفہوم یوں ہے ”کیا عجیب بات ہےکہ ہم اپنے ملک میں غیر ہیں۔ اپنےعلاقہ سے نکل کر اپنے ہی ملک کے کسی دوسرا علاقہ میں چلے جائیں تو وہ صوبہ علاقہ ہمارے لیے انجان ہے، زبان سے ناواقفیت ہے۔ لہذا ہر پاکستانی کو بلوچی، پشتو، پنجابی، سندھی سیکھنا چاہیے۔ تو زبان کا مسئلہ ہی نہیں رہےگا اور اپنے ملک میں غیر نہیں رہیں گے۔“ (مجھے انکے الفاظ بالکل اُسی طرح یاد نہیں، اپنی سمجھ کےمطابق مفہوم لکھنےکی کوشش کی) ہمیں زبان کی ان غیر ضروری الجھنوں، بحثوں سے باہر نکل کر انکی افادیت اور اہمیت سےخود کو روشناس کروانا ہے۔ اپنی ثقافت کو اُجاگر کرنا ہے۔ تہذیب کو دُنیا کی اک منفرد تہذیب بنانا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس وُہ سب کچھ موجود ہے جو ہمیں دنیا کا سب سے امیر ملک بنا دیں گی۔
لیجیئے! ایک کہانی سن لیں۔ چند صدیوں قبل کا واقعہ ہے۔ اللہ کا ایک نیک بندہ یہ چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا عالم بنے۔ باپ نے بڑی محنت کی اور بیٹا عالم بن گیا۔ وُہ اُس مدرسہ کا معلم اور پھرمہتمم (نگران) بھی بن گیا۔ بیٹا گھر آتا تو اپنے اباجان کو اپنی وجاہت، شان و شوکت، عزت، مرتبت اور منزلت سے آگاہ کرتا۔ باپ کے دِل میں بڑی تمنا تھی ہر باپ کی طرح کہ وُہ اپنے بیٹے کےاِس عروج کو دیکھ کر خوشی محسوس کرسکے۔دو برس تک وُہ اپنے بیٹے کے واقعات زبانی سنتے رہے۔ بیٹے کو اکثر مدرسہ لیجانے کا کہتے تو وُہ ٹال جاتا ۔ آخر ایک روز تمنا اتنی جاگی کہ وُہ بیٹے کےمدرسہ جا پہنچے۔ بیٹا درس و تدریس میں مصروف تھا۔ اُسکے والد محترم آخری نشست کےایک کونےمیں بیٹھ گئے اور بیٹےکو خاموشی سےسنتے رہے۔ جب درس ختم ہوا تو تمام افراد عالم صاحب سےمصافحہ کرنے لگے؛ باپ نےبھی آکر ایک عام حیثیت سےمصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھائے مگر بیٹا نے بڑی مشکل سے ہاتھ ملائے۔ باپ نےچہرے کےتاثرات جان لیئے کہ بیٹا کو اُسکی آمد کی خوشی نہیں ہوئی بلکہ وُہ اِسکو اپنی ہتک سمجھ رہا ہے لوگوں سے اپنے باپ کا تعارف کروانے سے بھی گریز کیا۔ بیٹا کی اس حرکت پر والد صاحب اسقدر نالاں ہوئے کہ وُہ گھر آ کر روتے رہے اور خیال کرتے رہے کہ میں نے اِسکو کیا دینی تعلیم دلوائی۔ جو اپنے باپ کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ خدا کی لاٹھی بڑی بےآواز ہوتی ہے۔ بیٹا اُسی وقت ٨٢ برسوں سے حاصل کیا گیا عِلم بھول گیا۔ اُس نےبڑی کوشش کی کہ یاد آجائے مگر بیکار رہا۔ اُس نے اپنےابا جان سے معافی طلب کی تو اُنھوں نےانکار کر دیا اور عالم صاحب تمام عمر علم سے بیگانہ ہی رہا۔ یاد رکھیئے!! والدین چاہے جیسے بھی ہیں وُہ ہماری پہچان ہیں اور ہمیں ہمیشہ اُن پر فخر کرنا چاہیے۔ اپنےدوستوں سے اپنےوالدین کا تعارف کروانا چاہیے۔ یہی اُنکی خوشی ہوتی ہے۔ کہ وُہ اپنی اُولاد کا سُکھ دیکھیں۔ پنجابی میں کہتےہیں ”ساریاں دے ماں پیؤ اِکوں جئے ہوندے نے، ساڈھی طرح ہی گنوار، پینڈوں ہوندے نے، ساڈھے بچےکی لکاؤندے نے“
ایک تعلق شفقت اور محبت کا ہوتا ہے۔ ایک پڑدادی اپنے پڑپوتے کے لیئے اُون سے سویٹر بنتی ہے اُسکی نگاہ کام نہیں کرتی ؛ رات کو جاگ کر بنتی ہے۔صرف دِل میں تمنا لیئے کہ جلد از جلد اُسکا پڑپوتا سویٹر پہن سکے خود چل نہیں سکتی تو کسی کےہاتھ بجھواتی ہیں۔ اُسکی زبانی تاثرات جانتی ہے۔ بڑا ہو کر وُہ پڑپوتا اگر کہے میرے لیئے سویٹر کیوں بُنا، نہ بنتی تو سوچئیے اُس پڑدادی کے دِل پر کیا بیتےگی، کیونکہ اُس سویٹر کی وُہ بیش بہا قیمت ہے جو کوئی سوچ نہیں سکتا۔ اسی طرح ایک بھائی اپنے جذبات کے تحت اپنی جیب خرچ سے اپنی چھوٹی بہن کے لیئےگڑیا روپیہ روپیہ اکٹھا کر کےتحفہ میں دے اور بہن بڑی ہوکر کہہ دے میرے لیئےگڑیا کیوں لائے تھے۔ میں نےکہا تھا کہ میرے لیئےگڑیا لاؤ؟ یہ جملے لازوال پرخلوص جذبات کا قتل کردیتے ہیں۔ اس بات کا جو دُکھ ہوگا وُہ علیحدہ ہے۔ اسکےساتھ جو خاموشی اختیار کریں گے وُہ اس طرح ہوگی کہ کوئی کسی عالم صاحب سے مناظرہ کرتے ہوئےغیر مستند کتاب مثلا پکی روٹی وغیرہ کا حوالہ دے ڈالےتو عالم صاحب خاموشی اختیار کرلیں گے کہ بحث کا کوئی فائدہ نہیں جب کوئی بات حاصل نہیں ہونی۔ یہ تمام واقعات ہمارے خاندانوں، گھروں کے روزمرہ زندگی سے متعلق ہے۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں تعلق تھا ہی نہیں تو ختم کرنے کی بات ہی دور ہے۔ تعلق ایک بات ہوتی ہے۔ تعلق سے لاتعلق ہو جانا ایک خاص بات ہوتی ہے یہ معاملہ ثبات کا ہوتا ہے۔ اثبات میں نہ سہی ثبت تو ہے۔ ضروری نہیں تعلق دو جوانب سے ہو۔ تعلق ایک جانب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر دو ہو، تین ہو یا بےشمار کوئی مشترکہ نقطہ مل جائے تو تعلق ایک ہو کر مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ جب وُہ نقطہ اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ تو تعلق بھی کمزور ہونا شروع جاتا ہے۔ جب کوئی مشترکہ نقطہ نہ ملےتو بھی ایک مشترکہ نقطہ مل جاتا ہے۔ مضبوط تعلق کا اور وُہ خاص نقطہ اختلاف کا؛ جس میں تعلق قربت کا نہیں نفرت کا ہوسکتا ہے۔ اعتراف کا نہیں تو اختلاف ہی سہی۔ آج کی مادی دُنیا میں وقتی پوائنٹ کا نام تعلق، رشتہ، تعلق، دوستی، جان پہچان وغیرہ ہیں۔ ہر معاملہ کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ بات مفاد کی حد تک رہےگی تو یہ کمزور بات ہے۔ جاندار معاملہ مفاد سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ تو پھر تعلق کی بنیاد ایک ہوئی خالص نیت اور خالص نیت کے لیے کوئی خاص مقصد یا خالص مقصد ہونا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنی ذات کے مفاد سے ہٹ کر انسانیت کی فلاح کو مدنظر رکھے۔ بلا تمیز و تفریق انسانیت کی بہبود ہی ہر فرد کی کامیابی ہے۔
تعلق کے لیئے نیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ وُہ اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ محبت بھی ہو سکتی ہے اور نفرت بھی۔ مگر جو بھی ہوتی ہے۔ اُس میں بھرپور خلوص ہوتا ہے۔ تعلق سےخلوص ہوتا ہے۔ تعلق خلوص سے بنا کرتے ہیں۔ خلوص سے ہی ٹوٹا کرتے ہیں (یہاں دوسروں کی ذات کی بجائے اپنی ذات مقدم ہوتی ہے۔ اپنےمفاد سے خلوص رکھنا) ۔ خلوص سے ہی ٹوٹ کر پھر خلوص سے ہی جڑ جاتے ہیں۔ تعلق سے یہ مراد ہی نہیں کہ تعلق رکھا ہی نہیں گیا تو تعلق کیا ہوا؟ یہ بات کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ تخلیق کار کے بیشمار مداح ہوتے ہیں۔ مداح تخلیق کار سےتعلق رکھتے ہیں؛ تخلیق کار ہر مداح سے نہیں۔ وُہ تعلق اُسکی تخلیق بھی ہوسکتی ہے۔، اُسکی کارکردگی بھی، اُسکا فن بھی، اُسکی ذات کا کوئی پہلو بھی۔ یہ بھی ممکن ہے صرف وُہ نام، شخصیت سے ہی تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ اکثر ہمیں ایک بچہ بڑا ہی معصوم، پیارا لگتا ہے تو اُس سے ہمارا شفقت اور الفت کےمعاملہ سے ایک انجان خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے ارد گرد کسی خاص شخص کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرنے مسلسل نظرانداز کرتے ہیں بات کا جواب دینا پسند نہیں کرتے تو یہ نظرانداز کرنا بھی ایک تعلق ہوا۔ کیونکہ اُس شخصیت پر ہماری ایک منفی رائے بھی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی کے لیئے ہماری رائے مثبت ہی رہتی ہے۔ اکثر اوقات رائے تبدیل بھی ہو جاتی ہے۔ تعلق صرف انسان تو پیدا ہی نہیں کرتے بلکہ پیدا ہو بھی جاتے ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک شخص محفل میں آتا ہے۔ انجان ہوتا ہے اور میزبان کا دِل فوراً احساس دِلا دیتا ہے یہی ہے وُہ جسکی تلاش تھی۔ یو ں انجان کو دیکھتے ہیں ایک خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ تعلق دو جانب سے ہوتا ہے یا ایک جانب سے۔
مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے بہت بڑے مستند عالم دین تھے۔ مدرسہ کے متعلم و مہتمم تھے۔ شمس تبریزی اُنکی زندگی میں ایک عام ملازم کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اِک روز مولانا نے کہا یہ کتابیں تمہارے کام کی نہیں تو شمس تبریزی نے کتابیں پانی میں ڈال دی اور ہمیشہ کے لیئے چلےگئے۔ مولانا پر غوروفکر کا ایک نیا دروازہ کھلا۔ شمس تبریزی کی تلاش شروع کر دی مگر وُہ اپنا تعلق مکمل کر کے جا چکے تھے اور وہی تعلق درحقیقت مثنوی مولانا روم کی تخلیق کا سبب بنا۔ ذرا اس واقعہ کو مختلف زاویوں سےدیکھیئے تو ایک تعلق کتنے ہی معاملات کےلیئے درس رکھتا ہے۔
کتاب سے انسان کا ایک تعلق ہوتا ہے ایک کتاب انسان سے تعلق رکھتی ہے یا انسان کتاب سے۔ یہ تعلق فکر اور سوچ کا اثر رکھ کر کئی نئی صورتیں واضح کرتا ہے۔ دولت انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان دولت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دولت خوف سے متعلق ہے۔ خوف کھو جانے کا اندیشہ یہی سندیسہ ہے کہ انسان اگر یہ سمجھے کہ اُسکا خوف سے تعلق نہیں تو پھر یہ بات نہیں۔ ٹرانسٹیوِٹی کے اُصول کے تحت تو انسان کا دولت سے براہ راست تعلق ہوا تو پھر انسان کا خوف اور کھو جانے کے احساس سے بھی تعلق ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارا اللہ سے تعلق ہے۔ اور اللہ کا ہر انسان سے انفرادی مساوی تعلق ہے اب یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان اللہ سےتعلق رکھے۔ کچھ بےدین بھی ہے تو کچھ دین والے ہوکر بھی بےدینی رکھتے ہیں۔ مگر اللہ کا تعلق تو سب سے ہی ہے۔ اللہ کا انسان سے خوراک کا وعدہ ہے۔ تو بنیادی ضرورت تک ہر انسان کو خوراک مہیا ہو جانا ایک تعلق کا ہی نتیجہ ہے۔
بندے کا اللہ سےتعلق ہے۔ مگر اُمید غیر اللہ سے لگا دینا کہ وہی دے گا۔ شرک ہے اور شرک کا تعلق غیر اللہ سے ہے۔ روحانیت اور عاملیت میں بڑا واضح فرق ہے۔ روحانیت اللہ سےتعلق جوڑتی ہے۔ عاملیت وظائف، منتروں اور تعویذ و گنڈا کےذریعہ اللہ سےتعلق کی قربت کو بگاڑتی ہے۔ اور شرک کا مؤجب بھی بن جاتی ہے۔ بیشتر اُوقات ہاتھ کی لکیروں کا تعلق انسان کو اللہ کے معاملات سے دور لیجاتا ہے۔ اور بعض اوقات اللہ کی واحدانیت نمایاں نظر آ جاتی ہے۔ تعلق لکیر کو سمجھنے کا ہے۔ اعداد کے علم کے تحت ایک خاص عدد سے تعلق جوڑ لینا اپنے آپکو وقت سے پہلے قید کر دینا ہے۔ اللہ کی پابندی کو برداشت کر نہیں سکتے مگر وقتی مفاد کے لیئے انجانے عدد کی قید بخوشی منظور کر لیتے ہیں۔ مگر جب اسی معاملہ کو وسیع نظری سے دیکھتے ہیں تو پھر خدا کی خدائی نظر آتی ہے۔ اور بندے کی خدا کے نظام سے لڑائی نظر آتی ہے۔ ذرا یہ سوچئیے اختلاف کا تعلق ہم کس سے رکھ رہے ہیں؟ یقینا اللہ کی ذات سے۔ اللہ کی ذات سے اختلاف کرنا کیا معنی دیتا ہے؟ یہ غور طلب بات ہے۔ قرآن میں اللہ سے اختلاف کا تعلق رکھنے کے سنگین ترین نتائج بیان ہوئے ہیں۔
تعلق کے لیئے دیکھ لینا ضروری نہیں نسبت رکھ لینا ضروری ہے۔ احترام کرنا معنی رکھتا ہے۔ نظر انداز کر دینا بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ انجان ہونا بھی ایک تعلق ہے۔ تعلق مزاج سے بھی ہوتا ہے۔ حکایت سے بھی، بات سے بھی، نام سے بھی، چہرہ سے بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تعلق ایک جملہ کا بھی ہوسکتا ہے، ایک نصحیت کا بھی، ایک تھپڑ بھی، ایک ڈانٹ بھی، تعلق شناسی سے نہیں ناشناسی سے شروع ہوتا ہے۔ شناسی سے تعلق بگڑ بھی سکتا ہے۔ اور ناشناسی سے بن بھی سکتا ہے اور رُک بھی۔ بیچ کا فرق صرف یقین اور اعتماد کا ہے۔
ہم زندگی میں بے شمار تعلقات بناتے ہیں۔ کچھ رشتے بناتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار ایسے لمحات آتے ہیں جب لوگ تعلق توڑ جاتے ہیں کچھ چھوڑ جاتے ہیں، چند تو بھول جاتے ہیں اور کچھ کےساتھ ہم ہی ایسا برتاؤ کرتے ہیں۔ مراد ہم زندگی بھر لوگ کھوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اختلافات کھولتے ہی رہتے ہیں۔ ہماری زندگی کا وُہ لمحہ بڑا ہی یادگار و خوشگوار ہوتا ہے جب ہم اپنے بے شمار پھیلے ہوئے اختلافات کو اَحسن طریقہ سے ختم کر لیتے ہیں اور متنازعہ سےغیرمتنازعہ ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہ اللہ کی طرف سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی بات ہے۔ وُہ لمحہ خدا کی رحمت ہوتا ہے کہ کھوئی ہوئی بیشمار، بےبہا قیمتی جواہر (پہلا درجہ کی٩ اقسام کےپتھر) کی دولت پھر مل جاتی ہے۔
تعلق کیسے قائم رہتا ہے؟ تعلق یہ نہیں کہ سابقین کو بھولتے چلے جائیں بلکہ تعلق یہ ہے کہ سابقین کے ساتھ ساتھ موجودہ ہم عصروں، ہم نواؤں اور نئے آنے والوں سب کے ساتھ اُنکی نوعیت جیسا تعلق برقرار رہے!!! یہ بات قانون قدرت سے مطابقت رکھتی ہے متصادم نہیں۔ اللہ کا تمام انسانوں سے رابطہ، والدین کا تمام بچوں کے ساتھ شفیق رہنا تعلق ہی ہے۔ یہ نہیں بڑے بچےکو چھوٹے بچوں کی وجہ سے لاتعلق کردیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جائے تو گھر اور معاشرے کا توازن بگڑتا ہے۔ آپس کے تعلق میں بگاڑ کشیدگی کےانجام کا انتباہ دے دیتے ہیں۔ تعلق نہ تو خود انسان بناتا ہے اور نہ ہی توڑ سکتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بنتا ہے۔ انسان رد ضرور کرتا ہے۔ مگر اس میں ہی خدا کی مصلحت و مشیت ہوتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک کہانی عام سننے کو ملتی ہے۔ کہ ایک شخص کہتا ہے کہ اُس نے پورے خاندان کی ذمہ داریاں اُٹھائی اپنے رشتہ داروں، بہنوں اور بھائیوں کی بے لوث امداد کی۔ اُنکے بچے بیاہے، وُہ اُنکی اکثر مشکل لمحات میں مدد کرتا تھا۔ مگر جب اُسکو ضرورت پیش آئی تو اُن تمام افراد نے مجھ سے معذرت کر لی یا انکار کر دیا جبکہ وُہ میری مدد کر سکتے تھے۔ یوں وُہ دلبرداشتہ ہو کر دُنیا کو تمام قصہ سناتا رہتا ہے۔ کہ اُسکے اپنوں نے اُسکے ساتھ برا کیا۔ دراصل غلطی اسکی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُنکے اذہان کی تربیت یوں کی کہ وُہ شخص اُنکو دینے والا ہے اور وُہ اُس سے لینے والے ہیں۔ انھوں نے اُس سے لینا ہی سیکھا؛ دینا نہیں۔ اس لیئے اُنھوں نے کبھی خیال ہی نہ کیا کہ کبھی اُنکو مدد کی صورت میں دینا پڑے گا۔ اگر وُہ شخص اُنکے اذہان کی تربیت اس انداز میں کرتا کہ وُہ بھی کسی نہ کسی صورت میں اُس کو دیتے رہتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچ پاتے کہ ناراضگیاں بول کر مول لی جاتیں۔
تعلق جیسا بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے لیئے نیک تمنائیں رکھنی چاہیں۔ دشمن کے لیئے بھی دعا کرنی چاہیے۔ بددعا نہیں۔ بداعمال کی اصلاح کے لیئے اللہ سے درخواست کرنی چاہیے۔ نیک اعمال والے کے لیئے نظربد سے تحفظ کی بھی گزارش کرنی چاہیے۔ اس بات کی کبھی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیےکہ کوئی ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ رائے رکھنا دوسرے کی بات ہے ہماری بات تو یہ ہے کہ ہماری توجہ صرف اور صرف اپنے مثبت عمل کی جانب ہونی چاہیے۔ لوگ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں تعلقات اکثر وبال جان بھی بن جایا کرتے ہیں اور اکثر پناہ بھی۔ یہ معاملہ اللہ پر چھوڑنا چاہیے۔ بس تعلقات میں ہمیں اپنی سوچ کو اچھا اور صحتمند رکھنا چاہیے۔
کا لم نفیس فر خ ا نو ر ا نسا نیت کا در س ا چھے ا ند ا ز الفا ظ کیسا تھ پا کستا ن ا خبا ر سے نکل کیا گیا ۔ د نیا و ی با تیں ذیا د ہ ذ ھنیت ھے ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 28, 2008 at 10:15 am
علی جی میرا خیال ھے کہ آپ نے اپنے خیالات اور تبصرے کو غلط جگہ پر لکھ دیا ھے ۔ یہاں پر ھم صرف بھوک اور غریبی کو رو رھے تھے کہ کیسے چند امیر ملکوں نے ھمارے ملکوں پر مصنوعی طور پر ایک تلخ حقیقت کی طرح مسلط کر رکھا ھے ۔ ہمیں آپ کی رائے کا حسبٍ مضمون انتظار رھے گا ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 28, 2008 at 6:26 pm
بہت خوب نصر جی .بہت ھی خوبصورت نظم.حقیقت سے قریب ترین.
علی
نے لکھا؛
May 29, 2008 at 7:55 pm
سلا م ڈ ا کٹر ا محتر مہ مجھے معلو م ہے ۔ یہا ں مضمو ن غر بت کیر و نے پر ہے ۔ لیکن اس بلا ک میں ز یا د ہ ا سلا م پر لکھا جا تا ہے ۔ ا ور جہا ں پر با ت اسلا م کیلیکھی جا ئے ۔ میں نے یہا ں ا یکسو ا ل کیا تھا ا سکا جو ا ب نہں ملا ۔ یہ فر خ ا نو ر کا لکھا آ پکیلئے یہا ں لگا یا ہے ۔ یہ بھی بغیر تکبر حسد عو ا م کیر ھنما ئ ہے ۔ آپبی کا لم نو یس ہے ۔ ا سطر ح لکھا کر یں ۔ یا ں تمہا ر یبہن نسیم ز ھر ہ لکھتی ہے ۔ ا سکو پڑ ھ لیا کر یں ۔ ا ب غر بت پر آ تے ہیں ۔ تو ا گر غر یب لڑ کی محتا ج ہے ۔ تو بتا ئے ا سکا کا ؤ نٹ مجھے بتا ئے ۔ ا و ر آ پ بلا ک میں لکھنے و ا لے بھی مد د کر یں اسکی محتا جی د و ر ہو جا ئے گی ۔ صر ف لکھنے محد و د نہ ر ہے ۔
علی شاہ
نے لکھا؛
May 29, 2008 at 8:39 pm
نصر جی
بہت عمدہ اور مؤثر
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
May 29, 2008 at 11:31 pm
قبلہ گاہی سمجھوتہ صاحب ۔ دائم اقبالہ‘
آپ نے میری نظم پر اپنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان کےبعد اپنی ہی اس نظم کو ایکبار پھر پڑھنے سے مجھ پر اس کے کئی اور بھی پرت عیاں ہوئے اور یہ سب آپ کے اس جذبہ صادق اور نگاہ خورد بینی کا اثر ہے جو اس بلاگ پر لکھنے والوں کی تحریروں کا کچھ یوں پوسٹ مارٹم کرتی ہےکہ الفاظ بولنے لگتے اور مفہوم کے کھڑکیاں کھلنے لگتی ہیں ۔ اس نظم کے حوالے سے میں آپ کی دعا میں باکل آپ کے ساتھ شامل ہوں کہ:
اللہ کریم (ج) ہمیں ہمارے حصے کا سچ کہنے، سننے، ماننے اور منوانے کی توفیق دئیے رکھے۔۔۔۔اور “ ہمارے “ قلم کا جہاد یوں ہی جاری رہے۔آمین ۔
نگہت بہن ۔ حقیقتوں کا ادراک اور اعتراف ہی ہمیں کچھ کرنے کی ہمت و حوصلہ دلاتا ہے اور الحمد اللہ کہ ہمارے اس فورم پر اب یہ سب کچھ ایک نئے اور پھر پور انداز میں سامنے آرہا ہے اور یاران محفل اپنی اپنی بساط کے مطابق اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔ان میں آپ یقیناََ صف اول میں ہیں ۔ اور تاتنہ بہن اور سعدیہ سحر بہن‘ آپ کے دائیں بائیں‘ منکر و نکیر۔ اور بہن زرقا مفتی ‘ بے خطر آگ میں کود پڑنے کی منتظر ۔ اللہ آپ چاروں کے چراغ جلتے رکھے ۔ اک بھائی کی یہی دعا ہے آپ بہنوں کے لیے ۔
محترم علی شاہ جی ۔
آپ کے “ دو بول “ میرے لیے بڑے حوصلہ افزا ہیں ۔ شکریہ ۔
بھائی علی ۔ آپ شاید غلطی سے بلاگ کے اس حصے میں در آئے ہیں لیکن کوئی بات نہیں ۔ بس ذرا عجیب سا لگتا ہے کہ بات کسی اور موضوع پر ہو رہی ہو اور کوئی وعظ کسی اور موضوع پر شروع کردے ۔ آئیندہ اس بات کا خاص خیال رکھئیے گا ۔
آپ سب کے لیے انتہائی عجز و انکسار اور محبتوں کے ساتھ
آپ کا خاکسار
نصر ملک ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 3:23 am
ٌّعلی جی آپ کیابہت شکریہ کہ آپ نے خصوصاً مجھ پر توجہ دی اور چاھتے ھہیں کہ میں اسلامی اور اپنی بہن نسیم زھرہ کی طرح لکھوں ۔ علی جی نسیم زہرہ میری بہن نہیں ھے لیکن بہنوں جسی ھی عزیز ھیں کہ وہ اور میں ایک ھی قبیلے سے ھیں ۔ باوجود اس کے کہ اگر وہ میری بہن بھی ھوتی تو میں پھر بھی کبھی اُن جیسا نہیں لکھ سکتی تھی اور نہ ھی پسند کرتی کہ اُن جیسا لکھوں کہ میں زھنی انفرادیت کی قائل ھوں اور اللہ پاک نے ھم سب کو صاحب رائے ھماری زہنی اٍسطاعت کے مطابق بنایا ھے تو کیوں نہ وہ عقل استعمال کی جائے ۔
دوسری بات جہاں تک اسلام اور اُس کے مطابق لکھنے کی ھے وہ جب جہاں ضرورت ھوتی ھے ضرور لکھی جاتی ھے لیکن میں زبردستی اسلامیات نہ تو پڑھنے کی قائل ھوں اور نہ پڑھانے کی کہ اٍس طرح سے بات ضائع ھوجاتی ھے ۔۔ سو بات کو مناسب وقت پر ھی ھونا چاھیئے ۔۔ اب یہی دیکھیئے کہ آپ کی اتنی قیمتی اور اسلامیات سے بھرپور تحریر کے ساتھ کیا ھوا ۔۔ کیونکہ بات موضوع اور وقت کے حساب سے یہاں مناسب نہیں تھی سو ضائع ھو گئی ۔۔
بحر کیف اگر آپ کو میری کسی بات سے اتفاق نہ ھو یا میری کسی بات سے کوئی تکلیف پہنچے ۔ اُس کے لیئے میں پیشگی معذرت کر لیتی ھوں اور گزارش کرتی ھوں کہ اگر آپ آیئندہ کے لیئے اگر بلاگ کے موضوع تک ھی محدود رھیں تو ھم سب کو آپ سے کچھ سیکھنے کا موقعہ مل سکے گا ۔
جہاں تک کسی غریب کی مدد آپ کرنا چاھتے ھیں ۔۔ بس ایک دفعہ صاحبٍ نظر ھو کر اپنے اطراف نظر دوڑا لیجئے ایک نہیں ھزار ایسی بچیاں مل جائینگی جو سوا نیزے جتنی دور سورج کے نیچے کھڑی ھیں اور ابھی بھی اللہ کی مدد پر یقین رکھتی ھیں ۔۔اک دفعہ پھر آپ کی خصوصی توجہ کابہت بہت شکریہ ۔۔۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 3:35 am
نصر بھائی آج کل آپ بہت کم کم لکھ رھے ھیں ۔۔ دیکھیئے یہ صٰیحع نہیں ھے ھم جیسے طالب علموں کے ساتھ ۔۔ اور یہ آویز اور سمجھوتہ بھائی بھی غائب ھیں ۔۔ یہ آپ نے اچھا کہا تانیہ اور سعدیہ کے لیئے ۔۔ لیکن ماشاللہ دونوں بہت اچھا لکھ رھی ھیں اور زرقہ بہن کے کیا کہنے ۔۔ اُن کے فکری کالم تو سوچ میں ڈال جاتے ھیں پر اُن سے مجھے شکایت ھے کہ اٍتنی کم کم آتی ھیں بلاگ کے سیکشن میں کہ کیا بتاؤں ۔۔ سب دوستو سے قلبی گزارش کہ اپنی آمد کو بڑھایئں اور نہ صرف خود آیئں بلکہ اپنے احباب کو بھی بتایئں اور یوں ھم سب ایک دوسرے سے سیکھتے رھیں اور سنورتے رھیں ۔
آُپ کی دعاؤں کے لیئے ممنون ھوں ۔۔ سلامت رھے ۔۔ آمین ۔
خاور چودھری
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 9:49 am
انتہائی محترم ملک صاحب
“نیم برہنہ ا ک چھوٹی سی بچی
آنکھوں کی پلکوں پہ آنسو لیے
ہتھیلی پھیلائے
سرِ راہ کھڑی
ہر آنے جانے والے سے کہہ رہی ہے’
” اِ ک روٹی کا سوال ہے ”
سورج سوا نیزے پہ کھڑا
کب سے اُ سے دیکھ رہا ہے“
اس مختصر سی نظم میں آپ نے خالق اور مخلوق کے تعلق اور معاشروں کی بے حسی کی وہ منظر کشی کی ہے جوپہلی نظر میں ہی سینے کے اندر تک اتر کر نسوں میں تحلیل ہو جانے کی قدرت رکھتی ہے۔۔۔
میں بہت دیر تک اس نظم کو پڑھ کر دکھ اٹھاتا رہا۔۔۔۔۔۔ اب اپنے احساسات آپ تک پہنچانے کے قابل ہوا ہوں۔۔۔
اللہ آپ کو درد محسوس کرنے کے بدلے میں خوشیاں اور راحت سے نوازے
نیازمند
خاور
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 4:10 pm
ان احباب کے لیئے جو تبصرے کی بجائے مقالے لکھتے ہیں
لقمر آن لائن کی انتظامیہ کی جانب سے ہم اپنے تمام لکھنے والوں کے ممنون ہیں لیکن ایک جانب توجہ دلوانی ضروری ہے کہ بلاگ کو بلاگ اور تبصرے کو تبصرہ ہی رہنے دیا جائے تو اس بلاگ سیکشن کا حُسن قائم رہے گا. یہ کیسا عجیب لگتا ہے کہ ایک پیراگراف کے بلاگ کے جواب میں 5 صفحات کا مضمون لکھا جائے.از راہ کرم بلاگ میں طوالت سے اجتناب کیجئے اور اگر آپ کوئی طویل چیز لکھنا ہی چاہتے ہیں تو اسے ہمیں روانہ کر دیں ہم اسے کسی مناسب جگہ پر شائع کر دیں گے کہ ہر تحریر کی اشاعت کا ایک الگ مقام اور الگ شعبہ ہوتا ہے.
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 5:27 pm
زیادہ تو نہیں کہ پاؤں گا لیکن علی صاحب کا تعلق پر مضمون پڑھا۔ گو کہ نا مناسب جگہ پر تھا، لیکن اس کے دلچسپ ہونے میں کوئی ریب نہیں چونکہ مضمون لکھا یہاں گیا، اس لئے مجبورً تبصرہ بھی یہیں حاضر ہے۔احباب سے معذرت کے ساتھ۔
واقعی نا شناسی بھی تعلق ہے اور شناسائی بسا اوقات لا تعلقی بن جایا کرتی ہے۔ ۔۔۔بہر کیف ساری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی کسی سے بھی تعلق وسیلے کے بناء نہیں بنا سکتا۔ یہی قانون قدرت ہے۔ اللہ انبیاء سے روح القدس کے توسط سے بات کرتا ہے اور عام آدمی سے انبیاء کے وسیلے سے۔ ہم آپس میں القمر کے توسط سے مربوط ہیں اور القمر بین الاقامی انٹر نیٹ سروس کے توسط سے جہاں بھر میں موجود۔ اسی طرح تعویذ گنڈے اگر کلام الٰہی سے ہی عبارت ہیں تو شرک کیسا؟ کیا ہم اس بات سے انکاری ہیں کہ جو کلمات قلب انسان کو موم کر کے دولت ایمان سے سرفراز کرتے ہیں، انکی برکت مؤمنین کی زندگی میں رحمت الٰہی لاسکتی ہے؟ قرآن تو اللہ کی طرف وسیلہ پکڑنے کا سبق دیتا ہے (سورہ المائدہ آیت 35 ) سورہ اسریٰ میںآیت 82 میں قرآن کے اندر شفاء و رحمت کا ذکر ہے۔ تاہم جن اذکار و اوراد کا تعلق کلام الٰہی سے نہیں، وہ یقیقناً عبث ہیں۔
والسلام