سائیڈ اے یا سعیدے
میں گزشتہ چند روز سے یہاں کینڈا میں اپنے بزرگ دوست جناب شمس جیلانی کے ہاں مقیم ہوں اور نصر ملک کے علاوہ سڈنی میں ڈاکٹر نگہت نسیم کو یہ نوید ہو کہ میں نے ابھی تک جیلانی صاحب کی سٹڈی پر قبضہ نہیں کیا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ میں نے جیلانی صاھب کی کتان کی رونماءی کے کالم میں یہ لکھا تھا کہ یہاں مجھے اپنی وہ ماموں زاد ”سعیدہ نثار علی” ملی ہے جس کی دریافت میں نے دو سال قبل کی تھی اور اب وہ اس سے یہاں وینکور میں ملاقات بھی اڑتیس برس کے بعد ہوئی ہے۔ یہ ساری کہانی تو میں واپس لندن پہنچ کر لکھوں گا لیکن یہاں ایک دلچسپ بات یہ بتانی ہے کہ مغرب میں اکثر ہم لوگوں کے ناموں کو بدلا تو نہیں جاتا لیکن یہاں کے لوگ اپنی آسانی کے لیئے ان ناموں کو ایک الگ سا رنگ دئ دیتے ہیں۔ جیسے سید کو ‘‘سیڈ‘‘ اور جعفری کو ‘‘جیف‘‘ کہا جاتا ہے اسی طرح یہاں پر سعیدہ جسے ایرانی ‘‘سعیدے‘‘ کہتے ہیں اسے یہاں کینڈا والے ‘‘سائیڈ اے‘‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ایک جگہ پر جب سعیدہ نے خود کو متعارف کروایا تو جب انکی میزبان کو یہ نام سمجھنے میں کچھ دشواری ہو ئی تو سعیدہ نے انکے لیئے آسانی پیدا کرنے کی غرض سے خود بتایا کہ ‘‘میرا نام اگر آپ سائیڈ بی کی طرح سائیڈ اے کہیں گی تو سمجھ میں آ جائے گا‘‘
واہ رے مغرب تیری کون سی کل سیدھی
سو القمر کے بلاگرز کو نوید ہو کہ اگلا بلاگ یہاں وینکور کی بجائے لندن سے لکھا جائے گا































نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 28, 2008 at 10:08 am
جیسے مجھے یہاں آسٹریلیا میں نگہت بتانے کے لیئے “ نائٹ “ میں “اے “ کے اضافے کا کہنا پڑتا ھے ۔ اور اگر عربی مریض آجائے تو مجھے “ ڈاکٹرنجات “ بھی اپنے نام کے طور پر سننا پڑ جاتا ھے ۔۔۔سو اتنی ساری مشکلات پر قابو پانے کے لیئے میں صرف “ نسیم “ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ھوں۔ اور کہی پر یہ نسیم بھی “ نہ سٍم “ ھو جاتی ھے ۔۔۔۔۔ اب کیا حل ھو اٍس کل کا ؟
خوشی ھوئی کہ اگلا بلاگ وطن ثانی میں لکھا جائے گا ۔ شمس بھائی کی سٹڈی بے شک آپ کے کہنے کے مطابق آپ کی نہیں ھوئی لیکن جو یادیں اورعلم کے خزانے آپ اُس سٹڈی میں چھوڑ آیئنگے وہی کافی ھے اُسے آپ کے نام سے منسوب ھونے کے لیئے ۔۔ آپ کو اتنے یادگار اور کامیاب سفر کی پیشگی مبارک ھو ۔۔۔۔باقی تفصیل کا انتظار ھے جو انشاللہ آپ کے آنے پر سنیں گے بھی اور پڑھیں گے بھی ۔۔
خاور چودھری
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 7:35 am
خوب ہے۔۔۔۔ تلفظ کے مسائل تو ہمیشہ رہیں گے
ڈاکٹرصاحبہ
ویسے “ڈاکٹرنجات“ کہنے والے بھی خوب اپنامدعابیان کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔ یقیناڈاکٹر کاکام بیماریوں سے نجات ہی دلانا تو ہے۔۔۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 8:30 am
خاور جی آپ نے بہت مزے کی بات لکھ دی ۔۔۔ کون جانے کہ میرے مریض مجھے عزرایئل کی رشتے دار بھی سمجھتے ھوں کہ اُن کے کھاتے میں بھی رب کی طرف سے کچھ نجات ھی لکھی ھے ۔
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 2:54 pm
یہ ناموں کا تلفظ بھی بہت دلچسپ ہے۔ ابن انشاء کے نزدیک چو این لائی کا پاکستانی نام چوہدری نور الٰہی تھا۔ اسی طرح ہمارے ایک دوست یہاں ایک ایک ڈاکٹر جان کرسٹی کو جان علی چشتی مانتے ہیں۔ کلڈئیر روڈ انکی نظر میں خالد ڈار روڈ ہے۔۔۔۔۔مشہور ہے کہ تاج برطانیہ کے تعینات ایک انگریز افسر کو اپنے ہندوستانی چوبدار سے بات کرنے میں بہت دقت ہوتی تھی۔ انہوں نے چند مسائل کا حل بہت سوچ بچار کے یوں نکالا کہ جب دروازہ کھلوانا ہوتا تو کہتے دئیر واز اے کول ڈے there was a cool day
اسی طرح بند کروانے کے لئے وہ دئیر واز ا بانکعر کہ کر کام نکلوا لیتے تھے۔ There was a banker
حال ہی میں ہمارے ایک دوست اردو انگریزی الفاظ کی مبتدیات پر تحقیق کر رہے تھے۔ ایک لطیفہ اسی دوران انکی نظر سے گزرا کہ ڈیکوریشن اردو سے مستعار لیا گیا ہے جس کی اصل ہے دیکھو رے شان اور بگڑ کر ڈیکوریشن ہو گیا۔۔۔
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 10:53 am
آپ سب لکھنے والوں کابہت شکریہ۔ ھمارا نام سعیدہ ہے جیسے جیسے ملک بدلے نام بھی بدلتا گیا۔ کبہی کبہی ایسے لگتا ہے کے اب ھماری شناخت ہی نہی رہی۔ سعیدہ سے سعیدے اور پھر سایدہ اور اب سایڈ اے کہا جاتا ہے۔ معلوم نہیں کیا واقعی نام بدلنے سے شناخت بدل جاتی ہے؟ میں کوشش کرؤں گی کہ آپ دوستوں کی محفل میں شریک ہوتی رہوں۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 11:25 am
سیعدہ آپا خوش آمدید ۔ آپ کو یہاں دیکھ کر کتنی خوشی ھو رھی ھے بس بتا نہیں سکتی ۔۔ حیران اٍس بات پر ھو رھی ھوں کہ آپ نے اتنی اچھی اردو ٹائپ کی کیسے ۔۔ سچ بلکل نہیں لگ رھا کہ آپ نے سالوں بعد اردو لکھی ھے ۔ جیتی رھیئے ۔ خوش رہیئے ۔۔ آپ کے مضمون کا جس کو ھم اُس دن مقالہ کہہ رھے تھے بڑی بےچینی سے انتظار ھے ۔ اور آپا اگلی بار کینیڈا سے نام بھی آپ کا ھی ھونا چاھیئے ۔