سچ شہدسے میٹھاہے
کچھ کام نہیں ہوتا
عشق تمہارے میں
آرام نہیں ہوتا
ہووقت کبھی ملنا
زخم جدائی کا
مشکل ہے مگرسِلنا
زلفوں کوسنورنے دو
روزاُلجھتے ہو
کچھ کام بھی کرنے دو
ہیں بخت سیہ کالے
صرف تری خاطر
دستورمٹادالے
تم دردہوسینوں کا
حال نہیں پوچھا
ہم خاک نشینوں کا
جس سمت بھی دیکھوگی
یادرُلائے گی
جب بھی مجھے سوچوگی
جاتجھ سے نہیں ملنا
پھول محبت کا
آسان نہیں کِھلنا
رنگوں سے بھراموسم
بیت چکاساون
کیااشک بہائیں ہم
اک بارسُناؤگی
رازمحبت کا
کس کس سے چُھپاؤگی
مجبورجوانی پر
شہرامڈآیا
اک رات کی رانی پر
سجنی کاحسیں گِہنا
روٹھ گئے ہم تو
آوازنہیں دینا
سچ شہدسے میٹھاہے
رس ترے ہونٹوں کا
انعام وفاکاہے































نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 8, 2008 at 9:11 am
خاور بھائی مجھے آپ کا ای میل ایڈریس چاھیئے ۔ پلیز آپ میری راہنمائی کر دیجئے ۔ شکریہ
خاورچودھری
نے لکھا؛
June 11, 2008 at 6:19 am
محترمہ ڈاکٹرصاحبہ
تسلیمات
تعمیل حکم کر رہا ہوں
khawarchaudhari@yahoo.com
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 11, 2008 at 12:19 pm
شکر خاور بھائی آپ دستیاب تو ھوئے ۔ آپ سے یہ کہنا تھا کہ اپنی نظمیں ، غزلیں ،افسانے سبھی کچھ کمپوزڈ کر کے ھمیں جلد از جلد بھجوا دیجیئے ۔ ھم القمر شاعری اور ادبی جگہ پر لگانا چاھتے ھیں ۔ نصر بھائی اور مصباح بھائی نے ایک دن آپ کو بہت یاد کیا تو سوچا آپ کی دریافت کا زمہ اپنے سر لے لوں ۔ آپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے ای میل ایڈریس دیا کہ آپکا جی میل والاایڈریس ادھورا تھا اور کام نہیں کر رھا تھا ۔
خاور چودھری
نے لکھا؛
June 11, 2008 at 2:19 pm
محترمہ ڈاکٹرصاحبہ
تسلیمات
آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔۔جلد ہی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔۔۔۔
محترم ملک صاحب اور مصباح صاحب نے خاکسار کو یاد کیا یہ میری خوش بختی ہے ۔۔۔ اب میں ڈھونڈتا ہوںانھوںنے کہاں یاد کیا