کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی میں ایک مدرسے کے معلّم نے نابینا طالبِ علم کو سبق یاد نہ ہونے پر پنکھے کے ساتھ الٹا لٹکا دیا جس سے مبینہ طور پر طالبِ علم کی موت واقع ہوگئی ۔
واقعات کے مطابق‘‘ وہاڑی کے ایک غریب گھر کا سات سالہ بچہ عاطف بدھ کی رات اور جمعرات کے دن گھرنہ پہنچا تو اُس کے ھم جماعت چچا زاد بھائی نے اس کے گھر والوں کو اطلاع دی کہ عاطف مدرسے ھی میں ھے ۔ تھانہ سِٹی وہاڑی کے سب انسپکٹر محمد افضل نے بتایا ہے کہ مولوی صاحب نے ڈھائی گھنٹے تک عاطف کو پنکھے سے لٹکائے رکھا جس سے اُس کی آنکھوں میں خون ٹھہر گیا اور منہ سے جھاگ نکلنے لگی ۔ اٍس دوران معلم صاحب مزے سےسوتے رھے اور جب وہ اُٹھ کر آئے تو عاطف کی طبیعت شدید خراب ہو چکی تھی اور پھر بعد میں اُس کی موت واقع ھو گئی‘‘ ۔
کیا کہوں اور اب اور کیا سوچوں کہ ایک تو غریب کے پاس روٹی تک نہیں ھوتی کھانے کو، کجا یہ کہ وہ اپنے بچے کو پڑھائی لکھائی بھی سکھا سکیں ۔اٍن حالات میں کئی والدین اپنے بچوں کو صرف دو وقت کی روٹی کے لیئے بھی مدرسوں میں داخل کرا دیتے ھیں کہ اُن کے بچے کو وقت پر کھانا بھی مل جائے گا اور کچھ اللہ رسول کی باتیں بھی سیکھ جائے گا۔
کیا غریب ھونا ناقابل معافی جرم ھے جس کی سزا یہ ھے یا پھر معلم اور مولویوں کا خدا الگ ھے جو اُن سے نہ اٍس دنیا میں پوچھے گا اور نہ اگلے جہاں میں ۔ اسکی مزید تفصیل القمر آن لائن کے کالم میں پڑھی جا سکتی ہے۔































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 8:45 pm
چار سو ایک دھواں اٹھتا ہے
بے حسی ایسی کہ دم گھُٹتا ہے
علی شاہ
نے لکھا؛
May 30, 2008 at 10:19 pm
بیحد تکلیف دہ واقعہ ہے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
May 31, 2008 at 3:22 am
کاش کے اس طرح کے لوگوں سے پاکستان پاک ھو جائے.
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 11:28 am
علی واقعی بہت افسوس ناک واقعہ ھے اور تانیہ کاش واقعی ھمارا ملک ایسے لوگوں سے پاک ھو جائے ۔۔ آمین
سمجھوتہ
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 11:30 am
جب تک ہم عقل کے اندھوں کے نیچے سے مسند علم کھینچ نہیں لیتے، تب تک ایسے جہلاء کے ہاتھوں بچوں کا علمی، عقلی، جسمانی اور روحانی قتل جاری رہے گا۔ شدت پسند جہلاء صرف منہ پر خود رو فصل بڑھا کر اپنے تئیں دین کے نمائیندے بنے پھرتے ہیں۔ انکی شدت پسندی اور درندگی کی بد ترین مثال عاطف کا قتل ہے۔ ۔۔ایسے لوگوں کا تعلیمی شجرہ نسب عمرو بن حکم سے ملتا ہو تو ہو، لیکن اسلام سے انکی تعلیمات کا کوئی واسطہ نہیں۔ ایسی تعلیم اور اسکے پھیلانے والے محض اسلام سے بے بہرہ بد معاش ہیں۔
عاطف کا المیہ انتہائی سنجیدہ روگ ہے۔ یہ مثلہ اس ایک مقتول عاطف کانہیں، بلکہ ان سینکڑوں بچوں کا ہے جو روزانہ سبق یاد کر کے پورے ملک کو قتل گاہ بنا رہے ہیں۔ شاید اس مقتول عاطف کی روح انتہائی نیک تھی کہ اس بدمعاش استاد کے سبق یاد کرنے کی بجائے اللہ کے ہاں مظلومیت کے روپ میں چلا گیا۔ لیکن جو معصوم ہر نیکی بدی سے بے خبر ان جاہلوں کے دئیےسبق اسلام سمجھ کر یاد کر کے عمل پیرا ہیں، اللہ انکی حفاظت فرمائے اور انکو بد معاشوں کے چنگل سے آزاد کرائے۔
آویز ۔ برمنگھم انگلینڈ۔ نے لکھا؛
May 31, 2008 at 3:24 pm
السلام علیکم ۔
کبھی کبھی تو اس قسم کی باتیں سن کر دل کو اتنی کوفت ہوتی ہے ۔دل کرتا ہے کہ کچھ بھی نہ لکھوں ۔
میں بذات خود بچپن میں اس قسم کے مولویوں اور قاریوں کے تشدد سے گزرچکا ہوں ۔
اس قسم کی باتیں سن کر دل کو نہایت رنج اور دکھ ہوتا ہے ۔
مدرسوں اور مساجد میں بچوں کو مارنا اور ان پر تشدد کرنا ایک روایت بن چکی ہے ۔
آج تک پاکستان کے کسی بھی حکمران ۔ وکیلوں ۔ججز۔ میڈیا اوروزارت تعلیم نے اس تشدد کی طرف توجہ ہی نہیں دی اور نہ ہی کبھی کوئی اہمیت دی ۔جب کہ میرے جیسے لاکھوں لوگ اس قسم کے مولویوں کی تعلیم سے باغی ہو چکے ہوں گے۔
جس طرح عاطف کو باندھ کر مولوی صاحب سو گئے ۔۔۔۔ ؟ یہ بھی کوئی نہیں بات نہیں رہی ۔
اس واقع کے بعد اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ یہ مولوی ہی نہیں سو رہا بلکہ سارا عالم اسلام ہی سو رہا ہے ۔ اب ہماری خود غرضی کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ دو چار دن کے بعد یہ سب باتیں بھو ل کر پھر سو جائیں گے ۔ اس قسم کے واقعات نہ دوبارہ میڈیا میں آئیں گے نہ ہی ٹی وی پر کیونکہ بچہ بھی غریب کا ہے ۔ ( کیونکہ یہ بچہ چیف جسٹس افتخار چودھری کا نہیں ۔۔۔۔ ؟ )
میں دل سے اس نیک بچے کے لئے دعا کرتا ہوں کہ رب العظیم اس بچے کو اپنے فضل و کرم سے اپنے بے انت خزانوں سے اس بچے کی روح کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین
نگہت نسیم
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 4:22 pm
آویز بھائی آپ نے تو سو باتوں کی ایک بات کہہ دی“ اس واقع کے بعد اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ یہ مولوی ہی نہیں سو رہا بلکہ سارا عالم اسلام ہی سو رہا ہے “ ۔ اور یہ بھی کہ “ کیونکہ یہ بچہ چیف جسٹس افتخار چودھری کا نہیں ھے ۔۔۔۔واقعی اب ہماری خود غرضی کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ دو چار دن کے بعد یہ سب باتیں بھو ل کر پھر سو جائیں گے ۔۔آہ ۔۔
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
June 1, 2008 at 8:18 pm
دکھ تو اس بات کا ھے کے اسلام کی آرڑ مین چھپ کر “ اسلام کا پرچم اٹھانے والوں‘ کو یے بھول گیا ھے صدر اسلام مین ایسا نہی ہوتا۔ سن 1978 جب ایران مےانقلاب آیا تو ھماری انکھوں نے کیا کیا نھی دیکھا۔ایسے درد ناک واقیات دیکھنے سنے کو ملے کہ روح بھئ کانپ جایا کرتی تھی۔ جیل کے بہت بڑے آھنی گیٹ پاس ایک بوڑھی عورت کو سر پیٹتے دیکھا اس شانے پر ھات رکھر مینے پوچھا ماں جی کیا ہوا تو وہ بولی کے مینے آج 14 سال بیٹے کو کھو دیا ہے اس کی لاش مجھکو نہی ملےگی۔ کہتے ہں کہ وہ کافر تھا۔بات بڑھانے سے پتا چلا کہ ماں نے سوچا کہ انقلابی کتابیں پڑھتا ھے اس نے خود ہی جا کر تھانے میں رپورٹ درج کروای یہ سوچ کر کہ اسلامی حکومت والے اسے سیدھے راستے پر چلنا سکھا دین گے۔
جب تک ھم ظلم کرنے والوں کے خلاف مل کر آواز نہی اٹھاتے تو ایسےظلم تو ہتے رہین گے اور ھم اس کے بارے لکھتے رہنگے ھم نے جب آواز اوٹھای تو بہت کہچ کہودیا اور اب تو ہمت بہی نہی رہئ
آپ سب کا خدا نگہدار
سعدیہ سحر نے لکھا؛
June 1, 2008 at 9:37 pm
نگہت جب بھی ایسا کوئ واقعہ ھوتا ھے … کسی سیاستدان کا کوئ بیان نہیں آتا …جو بیان دیتے ھیں کہ عوام کی خدمت کے لیے آئے ھیں اسلام کے ٹھکیدار بھی چپ رہتے ھیں .عوام بھی چپ ھے ….شاید اب تک اتنا کچھ ھو چکا ھے سب بے حس ھو گئے ھیں ….
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 2, 2008 at 5:23 am
سعدیہ بس یہی دکھ ھے کہ داد رسی جن کے زمہ ھے وہی سو رھے ھیں ۔ دعاؤں میں یاد رکھنا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 2, 2008 at 5:38 am
سیعدہ آپا بہت شکریہ کینینڈا کے ساتھ اپنا نام لکھنے کا ۔ آپا آج کلل میں ٹارچر اور ٹرامہ سینٹر میں ھوں ۔ ایرانی ، افغانی اور عراقی جنگوں کی باتیں سنتی ھوں تو یقین کریں سانس لینا بھول جاتی ھوں اور سوچتی ھوں کہ ان ھولناکیوں سے یہ سب بچ تو آئے ھیں لیکن اٍن کے ذخم کبھی بھر نہیں پائیں گے ۔۔ کبھی کبھی خود کو اتنا بےبس پاتی ھوں کہ جی چاھتا ھے کہ اپنی ڈگریوں کو ، اپنے اخلاق اور تہزیب کو کہی رکھ دوں اور اینٹ کاجواب پتھر سے دوں ۔۔۔ مجھے کیوں لگتا ھے کہ ھماری تعلیم ھی نے ھمیں بزدل بنا دیا ھے ۔۔ پھر بابا کی بات یاد آ جاتی ھے کہ مالک نے ھمارے لیئے قلم سے ھی جہاد کرنا لکھا ھے کہ آخر یہ بھی تو زمہ داری کسی کی ھے تو پھر ھم ھی کیوں نہ اُٹھا لیں ۔۔۔ پر آپا ھے بہت ھی جان جوکھوں کا کام سو کسی کا بھی ھمت ھار جانا حیران نہیں کرتا ۔۔
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
June 2, 2008 at 10:03 am
ارے نگہت پیاری
زندگی کا دوسرا نام ھی جدوجہد ہے۔ زخم جو لگتے ہین وہ کبھی نہی بھرتے البتا درد زرور کم ھو جاتاھے آپ کو تو اپنے پر فخر ھونا چاہیے کہ لوگوں کا درد کم کرنے مین انکی مدد کر رھی ھین جیتی
رھو