Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

اسلام کہاں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ سحر

اسلام کہاں ھے
پچھلے دنوں ھماری جاننے والی ایک فمیلی عرصے کے بعد پاکستان گٰٰئی وہاں ان کی بیٹی نے سوال کر کر کے انھیں پریشان کر دیا وہ کہتی ھیں میں کیا جواب دیتی میرے پاس اس کے کسی بھی سوال کا کوئ جواب نہیں تھا …یہاں انھوں نے اپنی بیٹی کو یہ بتایا ھم پاکستانی ھیں ھم مسلمان ھیں ھماری حیا کیا ھے ھمارا لباس کیا ھونا چاھیے ..جب عرصہ دراز کے بعد پاکستان جانا ھوا تو یہ وہ پاکستان نہیں تھا جس کو وہ چھوڑ کر آئیں تھیں یا وہ پاکستان جو انھوں نے اپنی بیٹی کے دل میں بنایا تھا..پاکستان کے بڑے شہروں میں آزادی مغربی کلچر کی اندھا دھند تقلید …بازاروں میں فل آواز میں فضول گانے …ٹی وی پروگرامز جن میں نہ بولی پاکستانی ھے نا ھی کلچر …وہ کونسا کلچر دیکھا رھے ھیں ..سٹیج شوز میں جگت بازیاں ..بازاروں اور ریسٹورینٹز میں گھومتے ھوئے لوگ ان کے لباس . شلوار قمیض کی شکل کیا سے کیا ھو گئ ڈوپٹہ اب اولڈ فیشن بن گیا ..جن ھوٹلز کے پاس شراب بیچنے کا لائیسنس ھے قہ عید شبراتوں پہ ریکارڈ بزنس کرتے ھیں ..
اسلام کےنام پہ بننے والے ملک میں اسلام ھے کہاں .ھمارے بزرگوں نے قربانیاں کیوں دیں تھیں کیوں ایک الگ اسلامی ملک بننانے کی ضرورت محسوس ھوئ تھی ھندوؤں کااہن سہن کلچر الگ ھے مگر آج کوئ پاکستانی چینل اور انڈین چینل دیکھ کر بتا سکتا ھے کہ کونسا پاکستانی چینل ھے اور کونسا انڈین ھے ..وہ کونسا کلچر دیکھا رھے ھیں
جب سے پاکستان بنا ھے حکمران اسلام نافذکرنے کی باتیں کر رھے ھیں مگر کونسا اسلام نافذ کرنا چاھتے ھیں کیونکہ پاکستان میں بہت سے فرقے ھیں ان کے عقائد میں بہت فرق ھے .اسلام کیا ھے جس کی تعلیم قرآن دیتا ھے جو رسولِ کریم کی سنت سے ھم عملی صورت میں دیکھتے ھیں ..
پاکستان میں ایک طرف لوگ مغربی کلچر کی اندھادھند تقلید کرتے نظر آتے ھیں .ویسا لباس ویسا لب و لہجہ اپنانےمیں مصروف ھیں جن کے لیے اسلام کیا ھے رمضان جیسے بھی گزرے مگر چاند رات کو رت جگا اور ھوٹلنگ ضروری ھے عید کی نماز کے وقت سو جانا. ..دوسری طرف کچھ لوگوں کو زبردتی داڑھی رکھنے پہ مجبور کیا جا رھا ھے داڑھی نہ رکھنے پہ سزائیں دی جا رھی ھیں کچھ لوگوں کی زندگی میوزک ھے .اور کچھ لوگوں کے نزدیک میوزک حرام ھے .گاڑیوں سے سی ڈی پلیئرز توڑے جا رھے ھیں دوکانیں جلائ جا رھی ھیں . اسلام میں مرد اور عورت دونوں پہ تعلیم فرض ھے مگر کچھ علاقوں میں اسلام کے نام پہ عورتوں کے گھر سے نکلنے پہ پابندی لگائ جا رھی ھے ….اگر اسلام کی تاریخ پہ نظر ڈورائیں کیا رسولِ کریم کی زندگی میں اسلام ایسے نافذ ھوا تھا .اسلام میں اگر بے راہروی نہیں تو انتہا پسندی کی بھی کوئ جگہ نہیں اسلام اعتدال کی اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ھے .حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی فرض ھیں . اسلام یہ نہیں کہتا کہ ساری رات سجدے میں پڑے رھو یا دنیا میں اتنے مست ھو جاؤ کے خدا کو ھی بھول جاؤ . مگر زبردستی کرنے سے آپ کسی کے دل میں ایمان نہیں جگا سکتے ….
اسلام نافذ کرنے والے خود کتنااسلام پہ کاربند ھیں. ایک اسلامی ملک میں بھوک اور غربت کے ھاتھوں تنگ آکر کتنے لوگ خودکشی کررھے ھیں ھر انسان اپنے دائرہ کار کا جوابدہ ھے ایک باپ اپنے گھر کا . ایک افیسر اپنے دفتر کا . ایک نمبردار اپنے علاقے کا ایک حکمران اپنے دائرہ اثر کا .. پاکستان میں ھر علاقے میں کیا ھر گلی میں مسجد ھے جہاں امام مسجد بھی ھوتا ھے ھونا تو یہ چاھیے کہ امام مسجد کو لوگوں کے حالات کا علم ھو کون صدقہ زکوت کا مستحق ھے کن لوگوں کی مدد کی ضرورت ھے جمعے کے خطاب لوگوں کو ترغیب دی جا ئے کہ وہ لوگوں کی مدد کریں جو لوگ مستحق ھیں ان کی خاموشی سے مدد کی جائے کوئ بھوکا نہ مرے مگر آجکل مسجدوں سے جہاد کی آوازیں آرھی ھیں جب گھر کے لوگ بھوکے مر رھے ھوں تو کیا جہاد واجب ھے…ایک صاحبِ حثیت انسان ھے مگر اس کے آس پاس لوگ علاج کے بنا مر رھے ھوںتو کیا جہا د واجب ھے میرا خیال ھے ایسے میں حج بھی واجب نہیں .. آجکل ملا کے نزدیک جہاد سب سے افضل ھے دوسروں کی آگ میںکو دنے کا نام جہاد نہیں جب اپنے گھر کی عورتوں کی عزت محفوظ نہ ھو ں بے راہروی عام ھو جائے تو کونسا جہاد افضل ھے کیا کوئ اللہ کا بندہ مجھے بتائے گا اسلام کیا ھے اور ھمارے فرائض کیا ھیں
ھمارا طرزِ زندگی کیا ھونا چاھیے پاکستان ایک اسلامی ملک ھے اسلام ھے کہاں …ایک عام گلی محلے سے لے کر پارلیمنٹ ھاؤس تک آخر اسلام ھے کہا

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

6 تبصرے »

  1. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    May 31, 2008 at 11:32 pm

    سعدیہ بہن‘
    سلام مسنون ۔
    کمال کرتی ہیں آپ بھی ۔ ہم سے پوچھتی ہیں کہ “ اسلام کہاں ہے؟ “ بھئی کیا بھولپن ہے۔ آپ نہیں جانتی کہ دنیا بھر میں مسلمان تو بہتیرے ہیں البتہ اسلام خال خال دکھائی دیتا ہے ۔کعبہ کے متولی ہوں یا خانقاہوں کے پیر و مرشد ‘ انہیں اسلام سے کیا غرض اور غریب لوگ جنہیں اسلام ہی کے نام پر الو بنا کر کبھی جہاد میں جھونک دیا جاتا ہے تو کبھی خود کش حملوں میں مروا دیا جاتا ہے انکی آنکھوں پر تو جہالت کی سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی ہیں ۔ اب ان پٹیوں کو کون کھولے گا؟ اور یہ کھل بھی سکیں گی کہ نہیں ؟ ہمیں اس پر سوچ بچار کرنی چاہیے ۔اسلام کو نہ کبھی کوئی خطرہ رہا ہے اور نہ کبھی ہو گا البتہ اس کے “ نام نہاد نام لیواؤں “ کے لیے عذاب عظیم ہر لمحہ ‘ ہر روز نئی سے نئی صورت میں سامنے آ رہا ہے اور یہی وہ وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور عملی طور پر “ صراط المستقم “ پر چل پڑیں۔ اسی میں ہماری نجات ہے ۔ اللہ ہمیں توفیق دے ۔ آمین ۔

  2. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    June 1, 2008 at 10:49 pm

    سلام نصر بھائ
    نصر بھای میں اسلام کی تعلیم کی بات نہیں کی تھی ..سب کے عمل کی بات کی تھی …
    آپ نے لکھا اسلام کو کوئ خطرہ نہیں ….میں نے وہی پوچھا تھا کون سا اسلام جو کتابوں میں بند ھے ؟؟ دنیا کے لوگ مسلمانوں کے عمل دیکھتے ھیں …قرآن و حدیث کی کتابیں نہیں دیکھتے …
    اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں اسلام کے نام پہ کیا کیا ھو رہا حکمران طاقت کے نشے میں گم ھیں … علما ء جو اسلام نافذکرنا چاھتے ھیں وہ کون سا اسلام نافذ کرنا چاہتے ھیں ..اسلام کے نام پہ کب تک ظلم ھوتا رھے گا …کیا اسلام ھمیں انسانیت کی تعلیم نہیں دیتا ..کیا اسلام اندھے بن کے جینے کا نام ھے یا زور زبردستی کا نام ھے …

  3. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 2, 2008 at 2:07 am

    سعدیہ بہن ۔
    میں نے کب کہا کہ آپ نے “ اسلام کی تعلیم کی بات کی ہے ۔ آپ نے واقعی میں “ عمل “ کی بات کی ہے ۔ تبھی تو میں نے کہا کہ “ اسلام کوکوئی خطرہ نہیں۔“ یہ جو ملا و مفتی ہمیں آج دستار و جبے پہنے یہاں وہاں دکھائی دیتے ہیں انہیں اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ اسی لئے تو میں لکھا ہے کہ “ ۔کعبہ کے متولی ہوں یا خانقاہوں کے پیر و مرشد ‘ انہیں اسلام سے کیا غرض ۔“
    میں آپ سے متفق ہوں کی ہمیں ایک دوسرے پر اسلام تھونپنے کی بجائے اسے خود اپنے اوپر لاگو کرنا چاہیے ۔ قرآن کو تو ہم نے طاق میں رکھ دیا اور مفادر پرست‘ دین فروش ملاؤں کی لکھی تفسیرات بغلوں میں دبائے گلی گلی ہانک لگا رہے ہیں کہ اسلام لے لو‘ لے لو اسلام‘ یہ اسلام نہیں ۔ہم کہنے کو مسلمان سہی لیکن اصل میں سنی ‘ وہابی‘ شیعہ ‘ بریلوی ‘ دیو بندی‘ احمدی اور نجانے کیا کیا ہیں ۔ اقبال بھی تو یہی رونا روتے ہوئے مر گئے کہ “ کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔“
    ملا جس دین کو نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ “ دین مفاد پرستی ہے“ اللہ ہمیں اس سے بچائے اور ہمیں صراط المستقم پر چلنے کی توفیق دے ۔ اُن لوگوں کی راہ پر جو اس کے انعام کے مستحق ٹھہرے نہ کہ ان ضمیر فروش ملاؤں کے پیچھے۔ آمین ۔
    میں آپ کے احساسات کی قدر کرتا ہوں ۔ لکھتی رہیے اور مطالعہ کتاب اللہ کرتی رہیئے ‘ اسلام اور اسلام کا مفہوم اور بھی کھل کر خود بخود آپ کے سامنے آ جائے گا ۔ اللہ کریم آپ کو توفیق دے ۔
    اپنی دعاؤں میں اس بھائی کو یاد رکھیئے گا ۔ وسلام ۔

  4. آویز۔برمنگھم۔ نے لکھا؛

    June 2, 2008 at 5:15 am

    السلام وعلیکم۔
    میں ملک نصر بھائی سے متفق ہوں ۔
    دین اسلام یا فطرت کے قانون کو کوئی خطرہ نہیں ۔
    اسلامی قانون یا فطرت کے قانون دنیا کے ہر ملک ہر کونے میں بڑھ ہی رے ہیں ۔یا لاگو ہورہے ہیں۔ جیسے پورے یورپ میں اسلام نافذ ہے مگر یہاں کسی بھی شخص کانام اسلامی نہیں ۔
    مگر اسلامی ملکوں میں سب ہی کےنام تو اسلامی ہیں مگر قانون اسلامی نہیں ۔
    وسلام۔

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 2, 2008 at 7:37 am

    آہ ۔۔کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک ۔۔ کاش اٍس جزبہ ایمانی سے سرشار انسان کی دکھ بھری فریاد ھم مسلمان سمجھ سکتے ۔

  6. صعرفراز ھئسساین کاےانی GERMANY نے لکھا؛

    June 2, 2008 at 3:17 pm

    Islam Kii Hefazat Karna Hummara Faraz Hey…. Mager Humm Ney Khud Islam Ka Behrah Gharq keyah. Humm Sub Madrann Bunney Pertey hien Hummri Auhlad Rasstey cey Battkitii Ja Rahii hey. Humm Muslim Germney Mien Khassi Toor Par Pareyshan hien .Enn Mumllat kii wahjah Cey Latahdad Larkieyhn Bahg Ghiyhi Hien Llahtahdad Kattel ho Chukii Hien. Islam Ka Qasoor nien Balkey Humm Sub Ka Khud Kasoor hey.

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو