نشے میں دھت ‘ برف پر چلتا آدمی ۔
مہرباں عزیز ساتھیو ۔
پچھلے دنوں میں نے برما سے ایک کہانی کا ترجمہ “ کلیجہ چیر کے رکھ دیا “ کے عنوان سے جو یہاں پیش کیا تھا اس پر آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے ممنون و مشکور ہوں ۔ خاور کھوکھر صاحب کا کہنا تھا کہ برما کے حوالے سے وہ کہانی پاکستان کے حا لات کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔ ان کا مشورہ تھا کہ برما کی کہانیوں کے بجائے کیوں نہ اپنے ہی وطن سے متعلق کہانیاں پیش کی جائیں ۔۔۔۔۔ تو بہنو اور بھائیو ‘ لیجیے اب ایک کہانی بعنوان “ نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی “ حاضر ہے ۔ امید رکھتا ہوں کہ آپ چند منٹ صرف کرکے اس کہانی کا مطالعہ کرنے کے بعد اسی فورم پر اپنے خیالات و تبصرے کا اظہار ضرور کریں گے ۔ یہ کہانی ‘ میری کہانیوں کے مجموعہ “ قسط در قسط زندگی “ مطبوعہ ‘ ایم پبلیکیشنگ ‘ گوجرانوالہ ‘ سنہ دوہزار چار میں شامل ہے اور ہند و پاکستان کے کئی اردو جریدوں میں بھی شائع ہو چکی ہے ۔ مجھے آپ کی آراء کا انتطار ہے ۔ اللہ آپ سب کو توفیق دے ۔ وسلام ۔ خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نشے میں دھت ‘ برف پر چلتا آدمی ۔
از ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
’’تم لکھتے ہو؟‘‘ اس نے زور دیتے ہوئے پوچھا۔
’’تم کیچڑ اچھالتے ہو!‘‘ لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد اُس نے خود ہی جواب بھی دے دیا۔
’’ کیا میں کیچڑ اُچھالتا ہوں؟‘‘ میں نے خود سے پوچھا اور اس کے سوال کو گول کر گیا۔
میرا ساتھی میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے‘ یوں ڈگ بھرنے لگا تھا جیسے نشے میں دھت آدمی برف پر چل رہا ہو۔ ’’یہ سچ ہے !‘‘ مجھے اُس کی سرگوشی صاف سنائی دی۔ ہجرت کے عمل کے اثرات‘ جو تم لکھتے ہو‘ وہ ماحول کے منصفانہ تجزیئے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تم بے کار میں پریشان ہو رہے ہو۔ میں محض تمھاری بات نہیں کر رہا۔ تم تو گبھرا رہے ہو۔‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ میں چلتے چلتے رک گیا اور ایک پتھر پر بیٹھ گیا ۔ چہرے سے پسینہ پونچھا۔ وہ بھی میرے سامنے بیٹھ چکا تھا۔ میرے جی میں آئی کہ جس پتھر پر بیٹھا ہوں وہی اُٹھا کر اُس کے سر پہ دے ماروں‘ لیکن یہ محض میرا خیال ہی رہا۔
’’کاش تم جانتے ہوتے کہ غیر ملکی ماحول میں مہاجروں یا وہ جنہیں تم تارکینِ وطن کہتے ہو‘ اُن کی الجھنوں اور روزگار کی مصیبتوں کے علاوہ اُن کی خانگی زندگیوں اور دوثقافتوں کے پڑوں میں پستی ہوئی اولادوں کے حالات کا پس منظر کیا ہے؟‘‘ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا۔ ’’ کاش تم واقعی میں جان سکتے ہوتے کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے رونما ہوتا ہے؟ تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں تم لکھتے ہو‘اُن کے لئے اِن سماجوں میں کس خاص قسم کے حالات پیدا کئے جانے چاہئیں؟‘‘
میں خاموش بیٹھا اُس کی باتیں سُن رہا تھا۔ میں نے تہیہ کر لیا ہوا تھا کہ آج اُس سے بحث نہیں کروں گا۔ ایک تو وہ بڑی مدت کے بعد آج خود مجھ سے ملنے آیا تھا۔ اور پھر مجھے یہ بھی احساس تھا کہ اس طرح کی بحث یا بات چیت کے دوران جب بھی میں اُسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا یااپنی صفائی میں کچھ کہتا‘ بعد میں وہ میری بات کو اُلٹا میرے ہی خلاف ہتھیار بنا لیا کرتا تھا۔ اسی لئے میں محض ہوں‘ ہاں سے کام چلاتے ہوئے‘ اس سے ہمکلام تھا۔
’’چلو اگر ان مغربی یورپی سماجوں میں نہیں تو کم از کم اُس سماج ہی میں جسے یہ چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں‘ وہاں کچھ ایسے حا لات تو پیدا ہونے چاہئیں کہ ان کے باقی ماندہ‘ وہاں رہ جانے والے رشتہ دار تو ادھر کی خواہش نہ کریں۔ اور وہاں ہی ان کی گزر ہو سکے۔ تم چپ کیوں ہو؟‘‘ اُس نے سوال کی کیل ٹھونکی اور پھر بولنے لگا۔
’’ یہ تم جو اِن لوگوں کو ’’تارکینِ وطن‘‘ لکھتے ہو‘ اور یوں اُن ہی میں سے ہوتے ہوئے‘ خود کو اُن سے فاصلے پر رکھ لیتے ہو اور سمجھتے ہو کہ مقامی سماج میں یہ تم ہی ہو‘ جو آگے بڑھ پائے ہو‘ کیا تم نے کبھی ان کی ہجرت کی وجوہات پر غور کیا ہے؟ انہوں نے یہ خود ساختہ جلاوطنی کیوں اختیار کی ہے؟‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔ ’’تم نے کبھی اُن دیہاتوں کو قصبوں کو دیکھا ہے‘ جہاں سے یہ لوگ آئے ہیں؟ کاش تم کو معلوم ہوتا کہ جس ملک کے گاؤں میں ایک پرائمری سکول کھولے جانے کے محض زیرغور منصوبے ہی کو وہاں کے جاگیردار اپنی جاگیرداری اور حکام اپنے آمرانہ تسلط کے لئے زبردست خطرہ تصور کرتے ہوں‘ یہ لوگ وہاں تہذیب سیکھ سکتے تھے؟ کیا یہ علم حاصل کر سکتے تھے؟ استاد جو دنیا بھر میں ایسا فنکار مانا جاتا ہے جو قوم کا معمار ہوتا ہے‘ تم جانتے ہو ہمارے ملک میں وہ کیا ہوتا ہے؟ محض مزدور! وہ بھوکا رہتا ہے۔ دبا ہوا ‘ کچلا ہوا ‘ مسلسل اس خوف میں مبتلا کہ کہیں دو وقت کی روٹی سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ حویلیوں اورکوٹھیوں والے اُسے ڈانتے پھٹکارتے رہتے ہیں۔ وہ تو ’’ کمّی‘‘ سے بھی ’’ کمترین‘‘ سمجھا جاتا ہے‘ ——- ہے نا!‘‘ شاید وہ اپنی بات کی مجھ سے تصدیق چاہتا تھا۔ مجھے سگریٹ سلگاتے دیکھ کر وہ خاموش ہو کرکچھ سوچنے لگا اور پھر یکدم بولا۔
’’تم نے کبھی اُس ملک کی سل زدہ تنگ کوٹھریوں میں گزر بسر کرنے ‘ اور زندگی کو محض آگے دھکا دینے کے لئے پتھر کوٹنے والے لوگوں کو دیکھا ہے؟ وہ تیس بتیس سال کی عمر ہی میں‘ ورم‘ حنجرہ‘ گٹھیا اور تپ دق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ وہاں کا نوجوان طبقہ کیسی کیسی تنہائیوں کا شکار ہے۔ تم اور تمھارے جیسے کئی دوسرے اپنی کہانیوں اور عشقیہ شاعری سے محض اِن نوجوانوں کے جذبات بھڑکاتے ہو۔ اُن کے اندر جنسی حِسوں کو بیدار کرکے اُن میں آگ تو لگا دیتے ہو لیکن اس کے ٹھنڈا کرنے کا مداوا نہیں کرتے ہو۔ یہ آگ ان معصوموں کو راکھ بنا دیتی ہے۔ کتنا گھناؤنا ہے یہ سب کھیل‘ جس میں تم سب لکھاری اور وہاں کی ساری ریاستی مشینری‘ کانسٹیبل سے لے کر دربار سرکار تک اور ‘ ملّاؤں سے لیکر ادیب و شعراء سبھی سماج کو سدھارنے‘ طبقاتی اونچ نیچ ختم کرنے اور فرقہ وارانہ یکجہتی پیدا کرنے کے نام پر مذہب و سیاست اور ادب کی آڑ میں سب کچھ تیس نہس کر رہے ہیں۔‘‘ اس نے تھوڑا سا وقفہ لیتے ہوئے مجھے یوں دیکھا جیسے اندازہ لگانا چاہتا ہو کہ میں واقعی میں اس کے سامنے ہی بیٹھا ہوا ہوں۔
اب وہ پھر گویا ہوا۔
’’ میں تو جب بھی ملک جاتا ہوں اور یہ سب کچھ ہوتا دیکھتا ہوں توکسی حد تک اپنے آپ کو بھی اس کے لئے قصوروار سمجھنے لگتا ہوں۔‘‘ میں نے دیکھا کہ وہ اب چوکڑی دے کر گھاس پر بیٹھ گیا تھا اور مجھے گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ گویا جیسے اُس نے اب خم ٹھونک لیا ہو۔
’’ کتنا نا معقول اور بد سلیقہ ہے ہمارا ملک‘ ——- ’’مملکتِ خداداد!‘‘ جس کے لئے خدانے لاکھوں انسانوں کی جانیں بطور نذرانہ وصول کیں۔‘‘ وہ ہلکا سا قہقہہ لگانے کے بعد پھر بولا۔
’’ تم نہیں جانتے ہو کہ وہاں چودہ پندرہ برس کی عمرمیں ہی لڑکیوں کی پیاری پیاری آنکھوں پر حسرت و یاس اور غم کی سیاہ بدلیاں چھا جاتی ہیں۔ ان کی گالوں پر سیاہ شکنیں اُبھر آتی ہیں‘ ان کا جوبن لڑھک جاتا ہے۔ وہ نسوانیت سے محروم بس بچے پیدا کرنے والی مشینیں بنادی جاتی ہیں۔ تم لوگ جو لفظوں کے ’’آمین‘‘ ہو تم اُن کے خوابوں کی قدروقیمت کے شناسا ہو۔ تم ان کی تقدیر بدلنے اور پاؤں میں پڑی رہنے والی سماجی زنجیروں سے اُن کو آزاد کرانے کے لئے عملاً کیا کرتے ہو؟‘‘ اس کا لہجہ اب اداس اور زیرِ لب طنزیہ ہنسی تھی۔
’’ یہ تمھاری دیدہ دانستہ خاموشی یا پھر کیا کہوں‘ تمھارا یہ صبرو تحمل‘ یہ تو آج انعام کا مستحق ہے ۔‘‘ وہ پھر بولا۔ ‘‘آج تو تم یوں خاموش ہو جیسے پتھر‘—— ‘ پتھر !‘ جس پر تم بیٹھے ہوئے ہو۔ میں بھی کتنی منحوس باتیں کئے جا رہا ہوں۔‘‘
اُس کی باتیں مجھے بدحواس بنا رہی تھیں۔ اور اس کے الفاظ تیروں کی طرح مجھے زخمی کر رہے تھے۔لیکن میں واقعی خاموش تھا۔ نہ سی‘ نہ ہاں نہ ہوں‘ بس خاموش! ‘ پتھر۔
’’تم ایک کہانی ‘ غزل یا نظم لکھ کر سمجھ لیتے ہو کہ تم نے اُن کے حالات سدھارنے کا اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔ دراصل تم لوگ دادوتحسین کے لئے ‘ سرکاری مشینری‘ اجارہ داروں‘ جاگیرداروں کے ہاتھوں پسے ہوئے اِن مظلوموں کی تضحیک اُڑاتے ہو۔ یہ تم ہی ہو جو انعام و اکرام اور حسن کارکردگی کے تمغوں کے لئے اجارہ داروں اور سرکار کے قصیدہ خواں بن جاتے ہو۔ وہ غریب مسکین‘ لاچار لوگ تو تمھاری ’’ادبی تخلیقی بھٹیوں‘‘ کا ایندھن اور خام مال ہیں ——- خام مال! ——- ہیں نا؟‘‘ وہ ہاتھ کی انگلی سے زمین پر یوں ایک لکیر کھینچتے ہوئے بولا گویا اپنے اور میرے درمیان ’’حدِ فاصل‘‘ کھینچ رہا ہو۔
’’تمہیںاپنی سوچ‘ اپنی فکر اور اپنی زبان میںبات کرنی چاہیئے۔ تم کو خود اپنا تشخص بحال اور مضبوط رکھ کر قدم اُٹھانا چاہیئے‘ لیکن تم تواُسی بحرہ شمالی میں مدغم ہوتے جا رہے ہو‘ جس کا پانی یہ مغربی اقوام ہمارے لوگوں کی رگوں میں بظاہر نئی زندگی پیدا کرنے کے لئے امرت کے طور پر انڈیل رہی ہیں۔ تم جانتے ہو! یہ دراصل اُن کےبچے کھچے خون میں زہر ملایا جا رہا ہے—— تمھاری اپنی انفرادیت کہاں ہے؟ تم اپنے سماج کو‘ یہاں پر اپنے لوگوں کو یہ ضمانت کیسے دے سکتے ہو کہ تم اُن سے ہمدردی رکھتے ہو؟ کیا تم واقعی میں کہہ سکتے ہو کہ تم جو لکھتے ہو وہ اُن کی تضحیک یا تمسخر نہیںب لکہ اُن کے مسائل کی نشاندھی ہے اور اُن کے مسائل کو حل کرنے کی ممکنہ راہ بھی! ——- کیا تم یہ ضمانت دے سکتے ہو؟ تم تو اپنے بارے میں بھی شاید یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ تم جو لکھتے ہو وہ اپنے لوگوں کے حق میں لکھتے ہو! ——- انسانیت کے لئے لکھتے ہو!!‘‘ وہ شاید جذباتی ہورہا تھا‘ لیکن میں یہ ضرور سوچنے لگا تھا کہ اُسے آج یہ کیا ہو گیا تھا؟ اُ س کا یہ مبلّغانہ انداز اس سے پہلے تو کبھی اتنا سخت نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ پہلے تو اس نے کبھی ایسا رویہ اختیار ہی نہیں کیا تھا۔ ’’ کیا اس کو پتا چل گیا ہے کہ کہانیوں کی میری نئی کتاب بازار میں آگئی ہے؟‘‘ میں نے اپنی بغل کے نیچے اپنے تھیلے کو مضبوطی سے دبا لیا۔
’’ سنو! میں تم پر محض تنقید نہیں کر رہا ہوں۔ تم اور تمھارے ساتھیوں کا مقصد نیک ہی سہی‘ لیکن اُن لوگوں کی بھی تو خبر لینا چاہیئے جو ہمارے ملکی سماج میں‘ سرکار دربار میں اعلیٰ عہدوں پر جمے بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اپنی ناک سے آگے تو کبھی دیکھا نہیں اور وہ ملّاپیر‘ وہ حجروں میں عصمتیں لوٹنے والے بھیڑیئے اور وہ سرکاری گرانٹوں پر پلنے والے دانشمند چوہے! ‘ وہ دعوے کرتے ہیں سماج سُدھارنے کے‘ یہی انصاف کے وہ ناسور میں جو لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے کرتے ہیں اور جن کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہم جیسے نقلِ مکانی کرنے اور دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے اپنی دھرتی‘ اپنے لوگوں اور اپنی ہر راحت کو قربان کر دینے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ادیبوں کو شاعروں‘ دانشمندوں کو‘ آج بھی ایسے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمدردی کے چوغے پہنے‘ بڑی منافقت و بے رحمی کے جابرانہ ہاتھوں سے قوم کے ذہن و شعور کی فکری و روحانی متاع تباہ کر رہے ہیں‘ لیکن ہو کیا رہا ہے؟ ائیر کنڈیشن کوٹھیوں میں سمگلنگ کے ولایتی سازوسامان سے آراستہ ڈرائینگ روموں میں سازشیں ہو رہی ہیں۔ قوم کو قابو میں کیسے رکھا جائے؟ سیاستدان‘ ملّا‘ وہ دین کے اجارہ دار‘ جاگیردار ——- یہ سب لوگوں کے احساسات و خیالات کو اپنی مرضی کے تابع رکھنے کی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں۔ منصوبے بناتے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ ادیب و دانشمند یہ کھیل نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ ان کی اکثریت‘ سرکار دربار کی آشیرواد کے لئے‘ بے وقعت‘ معمولی سی‘ وقتی شہرت کے لئے‘ اس کھیل میں شامل بھی ہے۔ کتنی شرمناک بات ہے یہ۔‘‘ وہ بولا۔
پچھلے کئی دنوں سے میں ایک مضمون لکھنے کے لئے سوچ رہا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ آج فارغ ہونے کی وجہ سے یہ مضمون قلم بند کر لوں گا۔’’ میں کیوں لکھتا ہوں!‘‘ عنوا ن بھی میرے ذہن میں تھا اور مضمون کا خاکہ بھی۔ لیکن یہ کم بخت آج صبح ہی آن نکلا اور زبردستی ضد کرکے مجھے گھر سے باہر لے جاکر پارک میں ادھر ادھر گھماتا رہا اور پھر میں تھک کر ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گیا تھا۔ اب شام ہونے والی تھی اور میں واپس گھر جانے کے لئے اُس سے اجازت لینے کے لئے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ بول پڑا۔
’’جس معاشرے میں تین چوتھائی افراد کم عمری ہی میں روزی روٹی کی جد جہد شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں اور انہیں اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کا پیٹ بھرنے کے لئے بھی محنت مشقت کرنی پڑے‘ تم بتاؤ وہ تعلیم کہاں سے سیکھیں گے‘ وہ علم کیا سیکھیں گے‘ تہذیب کہاں سے لائیں گے؟ بولو!‘ شعور کے دروازے اُن پر کیسے کھلیں گے؟ آئے دن روٹی روزی کی جد وجہد میں مصروف رہنے سے زیادہ اُکتا دینے والا کام اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ تو زندگی کی ساری مسرتیں‘ راحتیں‘ وہ خوشیاں‘ جو تم ان لوگوں میں دیکھنے کے متمنی ہو‘ انہیں چھین کرآدمی کو بالکل ہی بے امنگ کر دیتا ہے۔‘‘ وہ بولے جا رہا تھا۔
’’جس معاشرے میں ڈاکٹر کا اپنا مرض اُس کے مریضوں کی نسبت کہیں زیادہ ہو‘ کہیں بڑھ کر اذیت دہ ہو‘ وہاں عوامی صحت کا معیار تو درکنار‘ عام حال کیا ہوگا؟ جہاں ادیبوں کی کتابیں‘ شعراء کے مجموعہ ہائے کلیات کے اوراق‘ پان کی گلوریاں باندھنے کے لئے استعمال ہوں اور وہ پان کھانے والے بھی وہی ادیب ‘ شعراء اور مصنف ہوں جن کی کہانیوں اور فکری احساس کے مجموعے اور کلیات کی کتابوں کے اوراق پنساریوں کی دکانوں اور پکوڑے بیچنے والوں کے ٹھیلوں پر ورق ورق کردیئے جاتے ہوں‘ تو پھر ایسے ماحول میں ان دانشوروں‘ ادیبوں‘ شاعروں سے کیاتوقع کی جا سکتی ہے‘ جو اپنی ہی روح کے قتل پر خاموش رہتے ہیں۔ تم اور تمھارے ساتھی‘ اچھے موسم‘ اچھی فصل اور پر مسرت رومانس کی امید صرف امید میں ہی جینے کے عادی ہو‘ امید کا تم تو محض خواب دیکھنے والے ہو‘ خواب! اور یہی حال تم نے قوم کا کر رکھا ہے‘ جس کا ہر فرد راتوں رات امیر بننے‘ کوٹھی‘ بنگلہ‘ کار اور بنک کھاتوں کا مالک بن جانے کے خواب دیکھ رہا ہے!!‘‘ اب اس کی آواز میں کرختگی کے ساتھ قدرے دھیما پن آگیا تھا۔ اس نے لمحہ بھر کے وقفے سے میری طرف دیکھا اور پھربولا۔
’’ میں نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا جو عقل مند ہو جانے کی آرزو رکھتا ہو‘ علم کا متلاشی ہو!‘ اور پھر علم و عقل کے ساتھ زندگی میں نئی امنگ پیدا کرنے کی جستجو کرنے والا ہو‘ ہے کوئی تمھارے سمیت ایسا تمھارے حلقے میں؟ اُس نے میری جانب اپنے سوال کا تیر پھینکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
’’میں جانتا ہوں تم خاموش رہ کر بھی خاموش نہیں ہو۔ تمھاری یہ خاموشی مجھے بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ آج جب میں تم سے ملاقات کے لئے آیا تھاتو لگتا تھا جیسے میں کسی ادیب کے پاس آیاہوں‘ دل میں جھجک تھی اور ذہن پر تمھاری کہانیوں کا اثربھی۔ ایک طرح کا کچھ خوف بھی تھا کہ تم سے بات کیسے کروں گا۔ دراصل میں تم کو کچھ بتانا چاہتا تھا۔ میں بتانا چاہتا تھا کہ میں بھی کچھ ہوں!‘ میں‘ میں ہوں! میں!! ——- میں محض ایسا کردار نہیں ہوں جسے تم اپنی ہر کہانی میں در لاتے ہو‘….. میں‘ میں ہوں! میں!!‘ میری انفرادیت و حیثیت کا مجھے اب خوب احساس ہے۔میں اپنی یہ شعوری انفرادیت‘ اجتماعیت کے اندر رہ کر صرف اُسی کے لئے وقف کر چکا ہوں!‘‘ میں نے دیکھاکہ وہ اب میری طرف پشت موڑے‘ سامنے پارک میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اپنا مدعا کہہ چکا تھا۔ ’’تمہیں تو شاید ابھی یہیں بیٹھنا ہو ——- ‘ میں چلتاہوں—— ‘‘ میں نے کھڑے ہو کر اپنے بغل والے ٹھیلے سے اپنی کہانیوں کا نیا مجموعہ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پتھر پر رکھ دیا۔ ’’ چاہو تو اسے پڑھ لینا —— کتابت وطباعت کی کچھ غلطیاں ہیں‘ لیکن ——- ‘‘ میں اس سے آگے کچھ بھی نہ کہہ پایا اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ میرے قدم یوں پڑ رہے تھے جیسے نشے میں دھت آدمی برف پر چل رہا ہو ۔
# # #































خاور کھوکھر
نے لکھا؛
May 31, 2008 at 5:46 pm
زندھ باد ـ یه آپ کے ضمیر کی آواز هے ؟ نہیں یه میرے ضمیر کی آواز ہے !ـ
هاں اپ کو اللّه نے قلم دیا ہے اور لفظوں پر گرفت بھی ـ آپ نے جو لکھا میرے احساسات بهی ایسے هی هیں مگر آپ نے ان کو لفظوں کا پہناوا دے دیا ـ
میں کئی دفعه جلاوطن (راند درگاھ)لوگوں کو یه بات بتانے کی کوشش کی ہے مگر اپ جیسے الفاظ نہیں تهے که کسی کواس بات کی سمجھ هی نہیں لگتی که هم پر کیا واردات گذر گئی ہے
که ہم سے همارا وطن هی نهیں چھینا گیا وطن کی چاهت بهی چھین لی گئی ہے ـ
هم میں سے کوئی بهی واپس نهین جانا چاهتا اور وهاں والے بهی بھاگنے کے چکر میں هیں ـ
کس کس بات کا رونا رؤں که همارا معاشرھ هی تباھ هی چکا هے اور اکثریت کو احساس هی نهیں ہے ـ
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 1, 2008 at 9:20 pm
محترم برادر خاور کھوکھر صاحب ۔
سلام مسنون ۔
ممنوں ہوں کہ آپ نے میری کہاینی پڑھی اس پت توجہ دے اور خوشی سب سے زیادہ اس بات کی ہے کہ آپ نے اس کہانی کو اپنے ہی دل کی آواز پایا - شاید اسی لیے غالب فرما گئے تھے کہ :
“ دیکھئے تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا وہ بھی میرے دل میں ہے۔“
یہ کہانی ایک لحاظ سے مجھ جیسے لکھاری کی طرف سے “ خود احتسابی “ بھی ہے ۔اور میں خود اپنا احتساب کرتا ہی رہتا ہوں کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو سمجھوتہ بھائی صاحب کا “ سوٹا “ سر پر آن پڑنے کا خطرہ ہی رہتا ہے ۔ اور ان کا یہی“ سوٹا “ تو ہے کہ جب سے ہمارے سامنے رہتا ہے ہمیں راہ سے بھٹکنے نہیں دیتا اور ذراسا ادھر اُدھر ہو بھی جائیں تو ہمیں “ راہ راست “ پر لے آتا ہے ۔
ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے کہانی پر توجہ دی اور خاکسار کا حوصلہ بڑھایا ۔
وسلام
دعاؤں کا طالب
نصر ملک ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 2, 2008 at 7:29 am
نصر بھائی اتنا سارا سچ کیسے لکھ لیتے ھیں ، وہ بھی ایک ساتھ اور پھر وہ بھی ایسا کہ سب کی آواز کا روپ دھار لیتے ھیں ۔ خود احتسابی کی انتہا کرد ی آپ نے یہ کہہ کر کہ “ میں محض ایسا کردار نہیں ہوں جسے تم اپنی ہر کہانی میں در لاتے ہو‘….. میں‘ میں ہوں! میں!!‘“ ۔بہت اچھا لگا پڑھتے ھوئے ۔ بھائی سمجھوتہ جانے کہاں ھے ۔۔انہیں بس ھر بار ڈھونڈنا پڑتا ھے ، کہی بیٹھے سوچ رھے ھونگے مشکل مشکل سے لفظ ۔ ویسے نصر بھائی آپس کی بات ھے آپ دونوں نے ھماری لغت کی کتابیں کھلوا دی ھیں ۔
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
June 2, 2008 at 3:29 pm
Wah rey Humm Sub Ko Sochna Chahieyee Humm Sub Magerbi Muhmalik mien Keyah Kar Rahey hien. Behter Mustahkbul Key Wastey.Agher Appney Mulkun mien Veyssiel Muhjud Hutey Too Humm Sub Kahbii bii Amrika Aur Magherbii Mumalik mien Na Huhtey. Sub Kuch Bardasht Karney key Bawajud Humm Nien Samaj Cey Assal Bemari Kahan cey Sheyru hohi.
Enn Magherbii Mumalik ney Humien Ghallat Aeyteymall keyah ” Aur Aeystamall kar rahey hien. Burma Burma Burma Talief dey Hallat Kiss ney Peydah Keyee Pakistan Mien Taklief Dey Hallat Kiss ney Peydah keyee.
Hummien Appis mien Kohn Larrah rah hey.Aur Qeyun Larrah rah hey.Aur Akher Kub Tak.
Humm Sub Abbi Tak Samaj nien ceykey.
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 3, 2008 at 2:12 am
نگہت بہن ۔
یہ آپ بہنوں کی دعاؤں کا اثر اور اللہ کا کرم ہے کہ “ میرا قلم ‘ عدالت میرے ضمیر کی ہے “ آپ کو کہانی پسند آئی۔ اس کے لیے شکریہ ۔ برادرم سمجھوتہ صاحب جی بھی آ ہی جائیں گے “ بس زرا “ نالوں میں اثر ہونے دو “ کہاں جائیں گے ہم بھیڑوں کو چھوڑ کر اکیلے “ صحرائے ادب “ میں۔
پچھلے دنوں آپ کی ایک نظم اور ایک دو دوسری تحریریں پڑھنے کو یہاں ملی تھیں ۔ نظم کا اثر ابھی تک قائم ہے ۔ سوچ و خیال پر آپ کی گرفت اور اس کے اظہار کا اپنا منفرد طریق اب آپ کی ادبی شناخت بنتا جا رہا ہے ۔ اسے قائم رکھیں اور قدم بڑھاتی رہیں ۔ کامیابیاں انشااللہ آپ ہی کا مقدر ہیں ۔
میرے پاس خوش قسمتی سے اگر کبھی تھوڑا سا بھی فارغ وقت ہو تو میں خود بھی کسی اردو ‘ فارسی ‘ ڈینش انگریزی ‘ انگریزی اردو ‘ بابائے اردو مولوی عبدالحق والی ‘ اور اسی طرح کی دوسری لغت کی کتابیں پڑھتا رہتا ہوں ۔ آپ بھی عادت ڈال لیں ۔ کہیں سے ایک بھی نیا لفظ مل جائے تو اس سے بڑا احسان خداوندی اور کیا ہو سکتا ہے ۔ اور خاص کر ہم جیسے ان لوگوں کے لیے جنہیں حا لات نے “ کچی روٹی “ اور “ پکی روٹی “ سے آگے ہی نہیں بڑھنے دیا ہو اور اگر بڑھ بھی گئے اور بڑا تیر مارا تو “ بہشتی زیور “ کو ہاتھ ڈال لیا ۔
اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو سدا خوش رکھے ۔ آمین ۔
وسلام ۔
ھمانصر
نے لکھا؛
June 3, 2008 at 2:16 am
بہیت اچھی کہانی ے مبارک ھو
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 3, 2008 at 12:01 pm
شکر ھما آپا آپ آئی تو ۔۔ ھم تو ترس گئے تھے آپ کو دیکھنے کو ۔۔ اللہ خیر رکھے اب آتی جاتی رہیئے گا ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 3, 2008 at 12:06 pm
ارے نصر بھائی کیا آپ نے بھی بہشتی زیور پڑھی ھے ۔۔ یقین کیجئے میں تو کافی عرصہ یہی سمجھتی رھی کہ یہ کتاب صرف خواتین کے لیئے لکھی گئی ھے ۔۔۔اور جہیز کا لازمی جز ھے ۔۔ توبہ ! خواندگی کی شرح کا اندازہ لگانا اب کیا مشکل ھے ۔۔؟
ھمانصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 10, 2008 at 1:15 am
القمر کے بلاگ میں لکھنے والوں کے نام ۔۔۔۔۔۔
میں نے بہت پہلے اس بلاگ میں ایک بار شرکت کی تھی اور سوچا تھا کہ یہ سلسلہ جاری رکھونگی لیکن پھر ایسا نہ کر سکی ۔ کیونکہ میں نے محسوس کیا تھا کہ یہاں اس بلاگ میں ہر کوئی بس ایک دوسرے کی تعریف ہی کرتا ہے یعنی یہ بلاگ “ انجمن ستائش باہمی “ بن کر رہ گیا ہے ۔ ایک دو کوچھوڑ کر جو واقعی میں بلاگ کے اصولوں کی پیروی کرتے اورلکھے جانے والے مظامین پر بے لاگ تبصرہ کرتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی ایک کو تو صف اول کا لکھاری قرار دے کر دوسروں کو منکر و نکیر قرار دے دیا جاتا ہے۔ میںسمجھتی ہوں کہ یہاں بلاگ میں سبھی بہنیں ایک دوسری سے بڑھ کر لکھتی ہیں لیکن اُن کے لکھے کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ان کا حق ہوتایے اور صرف ایک ہی کو داد و تحیین کے پھول پیچ کئے جاتے ہیں‘ کیوں؟ بلاگ میں لکھاریوں کی تحریروں پر صرف دادو تحسین دینا اور جائز تنقید سے دانستہ کنی کترا جانا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اور میں خاموشی اختیار کر لیتی ہوں ۔ لیکن اب بولنا ہی پڑا ہے۔ جی میں توآتا ہے کہ ایک ایک کی بے تکی نظموں اور مزاح کے نام پر بے ڈھنگی شاعری کا پوسٹ ماٹم کروں لیکن پھر سوچتی ہوں کہ سچ کون برداشت کر سکتا ہے؟
اس بلاگ کو کئی ایک نے ذاتی “ چیٹنگ “ کی جگہ بھی سمجھ رکھا ہے جو میرے نزدیک غلط ہے ۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ “ لائیو میسنجر “ پرایک دوسرے سے عورت و مرد یوں ہمکلام ہو رہے ہوتے ہیں کہ تمام اسلامی ‘ تہذیبی اور روایتی دستور کو پس پشت ڈال کر بے تلکفی کی جو فضا قائم کردی جاتی ہے وہ کیسی تیسرے کے لیے روحانی و سماجی تکلیف کا باعث بن جاتی ہے ۔ میں سوچتی رہتی ہوں کہ اس طرح کی “ چیٹنگ “ جہاں غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو غلط اشاروں میں مبتلا کردے‘ کیا یہ درست ہے؟
میں سوچتی ہوں کہ کیا اس طرح کی “ چیٹنگ “ جو ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں ‘ ایسے مرد اور عورت کے درمیان جائز قرار دی جا سکتی ہے ؟ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟ اور کیا ہماری معاشرت اس کی اجازت دیتی ہے؟؟
اس طرح کی “ چیٹنگ “ کتنے جوڑوں کی ازدواجی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے کیا ہم اس کا اندازہ کر سکتے ہیں ؟ خاص طور پر جہاں کوئی غیر مرد کسی غیر عورت سے چیٹنگ کرتا رہے۔
ممکن ہے آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ میں بھی کیا دقیانوسی باتیں کر رہی ہوں اور کتنی نیرو نائنڈڈ ہوں ۔ مجھے آپ کی اس سوچ پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میں جو سمجھتی ہوں وہ کہہ دیتی ہوںاور یہی وجہ ہے کہ میں اب تک خاموش رہی ہوں ۔کیوں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے اور میری یہ عادت نہیں کہ اسے “ کیپسول “ میں رکھ کر دیا جائے ۔ میرے خیال میں اس بلاگ پر ایک دوسرے کی تخلیقات کا تجزیہ کرنا اور لکھاری کو داد یا مشورہ دینا تو جائز ہے لیکن چیٹنگ کے نام پر جو کچھ بین السطور اشارے کئے جاتے ہیں ان کی وجہ سے اشارے کرنے والوں کی خدمت میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ:
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی ۔