May 23, 2008 at 7:28 pm |
راقم : صفدر ہمدانی |
بلاگنگ, سماج, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو میں اسوقت کینڈا کے بہت خوبصورت شہر وینکور میں ہوں اور القمر کے مستقل لکھاری اور ہم سب کے محترم اور بزرگ ساتھ جناب شمس جیلانی کی دعوت پر خلاق ارض و سما نے مجھے یہ خطہ ء زمین دیکھنے کی مہلت اور عزت عطا کی ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 23, 2008 at 7:27 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, سماج میں شائع کیا گیا
دوستو میں کافی دنوں سے آپ سب کے ساتھ رابطہ نہ رکھ سکی جس کی یاد دہانی مجھے بڑی محبت اور عزت سے جناب سید مصباح حسین بھائی نے کرائی جو ھم سب کے لیئے آسٹریلیا سے بہت خوبصورت کالم لے کر آتے ھیں ۔ جب بھی انہیں یا نصر بھائی کو کالم لکھنے میں یا بلاگ لکھنے میں دیر ھو جاتی ھے تو مجھے واقعی حول اُٹھنے لگتے ھیں ۔ یوں لگتا ھے جیسے آج کا دن برباد ھو گیا ھو ۔ مصباح بھائی ، میں خود کو اٍس توجہ کا اھل تو نہیں سمجھتی لیکن دنیا آپ جیسے ھی توجہ کرنے والوں سے قائم ھے ۔ بات کچھ یوں تھی کہ میں اپنی مصروفیت میں بہت الجھی ھوئی تھی ۔ ھمارے یونٹ میں یکے بعد دیگرے تین مریضوں نے کچھ دنوں کے وقفے سے خودکشی کر لی ۔ ایک نے ٹرین کے سامنے آ کر اور دو نے گلے میں پھندہ ڈال کر ۔ سارے مریض چونکہ اپنا زہنی توازن صیحع نہ ھونے کی وجہ سے کئی سالوں تک ھمارے زیرٍ علاج رھتے ھیں اور پھر انہیں ھم سے اور ھمیں اُن سے اُنس ھو جاتا ھے ۔ جب ایسے کوئی جاتا ھے تو بہت دکھ ھوتا ھے ۔ ابھی میں اسی غم سے گزر ھی رھی تھی کہ میری بہن دلشاد نسیم جو خود ایک بہت مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار ھونے کے ساتھ ساتھ جیو ٹی وی پر ڈرامہ رائٹر اور پروڈکشن منیجر بھی ھے ۔ اُس کا فون لاھور سے آیا کہ دانش گل بہت بیمار ھے ۔ اور اُسے ڈاکٹروں نے بون کینسر یعنی ھڈیوں کا کینسر بتایا ھے ۔ میری تو جیسے کسی نے جان ھی نکال لی ھو ۔ دانش گل مجھے اپنے بھایئوں جیسا عزیز ھے ۔ پچیس سالہ دانش اپنے گھر کا واحد کفیل ھے ۔ پڑھا لکھا ھے سو پبلشنگ کا کاروبار کرتا ھے ۔ اور اٍسی ناطے میری دوسری کتاب بھی اُسی نے چھاپنی تھی ۔ اشاعت کے دوران میری کتاب کئی بار تعطل کاشکار ھوئی جو مجھے بہت ھی ناگوار گزری تھی اور میں کئی بار اُس سے خفا بھی ھوئی تھی ۔ جس پر وہ ھمیشہ مجھے کہتا ” آپا میں ٹھیک نہیں تھا ۔ کبھی بخار کا کہتا تو کبھی کہتا کہ اُس سے کھڑے ھو کر کام نہیں ھو پا رھا ، اور بھی بہت کچھ جو میں ھمیشہ بہانوں کے کھاتے میں لکھتی رھی ۔ لیکن نہ اُسے پتہ تھا اور نہ مجھے کہ اصل بات کیاتھی ۔ جب اُس سے بات ھوئی تو اُس نے بتایا کہ شوکت میموریل والے اُس کی ٹانگ کاٹنا چاھتے ھیں کہ کینسر پھیل رھا ھے اور واقعی کینسر پھیل چکا ھے اوراُس کے پاس وقت کم رہ گیا ھے ۔ سوچتی ھوں کہ ھمیں جو ھر وقت یہی گلہ رھتا ھے کہ ھماری ناک اچھی نہیں ھے تو ھاتھ پیر خوبصورت نہیں ھیں ۔ رنگ ایسا ھے تو ھیًت ایسی ھے ۔ شاید ھمیں یقین ھوتا ھے کہ ھم نے بس جینا ھی ھے ۔۔ اور وہی دانش کہہ رھا تھا ” آپا پیر میلے بھی ھو تو چلتے ھیں ، کھڑے ھو کر عبادت کر سکتے ھیں ، دوڑ کر کسی کا کام کر سکتے ھیں ۔ زمین پر توازن رکھ سکتے ھیں” ۔۔ میرے پاس اپنے بھائی کے لیئے تسلی کے سارے لفط بس خالی لفظ ھی کی طرح رہ گئے ھیں کہ ھر آنے والا دن منفی ھورھا ھے ۔ پر دوستو یہ ادراک بھی تو جان لیوا ھے کہ نہ صرف اُس کی زندگی سے بلکہ ھم سب کی زندگی سے ایک ایک کر کے سارے دن منفی ھو رھے ھیں ۔۔۔۔۔ بس دانش کو پتہ چل گیا ھے کہ ایسا کبھی بھی ھو سکتا ھے اور ھم جیسوں کو ابھی بھی گمان ھے کہ ایسا کبھی۔۔۔ ھوگا ۔۔۔
مستقل لنک
May 23, 2008 at 1:21 am |
راقم : نصر ملک |
علم و ادب میں شائع کیا گیا
بہت ہی عزیز و مہربان ساتھیو
برما میں جو قیامت ٹوٹی ہے اور اس کے باوجود وہاں کی فوجی جنتا جو کچھ ظلم ڈھا رہی ہے اس پر پوری انسانیت مذمت کا اظہار کر رہی ہے ۔ رنگون سے ہم برصغیر والوں کو اس لیے خاص عقیدت ہے کہ کشور ہندوستان کے آخری تاجدار ‘ بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ بھی وہیں ہے ۔
برما سے ایک کہانی آپ سب کی خدمت میں پیش ہے ۔ جسے آپ اپنے ملک کے سیاسی پس منظر میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل برمی کہانی کے اصل مصنف رنگون کے معروف لکھاری آنجہانی “ ھیئن پی مائینٹ “ ہیں اور برمی زبان سے اس کہانی کا انگریزی میں ترجمہ شریمتی اُوشا نرائین نے کیا ہے جو جمہوریہ ہند کے سابق صدر ‘ شری ‘ کے ۔ آر ۔ نرائین کی اہلیہ ہیں۔ آپ سب کے لیے اردو میں یہ کہانی ان کے شکریے کے ساتھ حاضر ہے‘ گر قبول افتد ———–!۔ مترجم۔ نصر ملک ۔کو پن ہیگن ۔ ڈنمارک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلیجہ چیر کے رکھ دیا ۔
مصنف ؛ ھیئن پی مائینٹ
مترجم ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
ایک دن میرے ایک پرانے دوست نے‘ جو ایک اخبار کا مدیر تھا‘ اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے اخبار کے لئے کو ئی ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضمون لکھوں ۔ اس نے جب لفظ ’’خالصتاً‘‘ پربطور خاص زور دیا تو میں سمجھ گیا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ میں کسی سیاسی مسئلے کو موضوع بناؤں ۔
میں خوب آگاہ تھا کہ جب ہم پر استعماری رؤسا ‘بے شرم حریص حکومت کرتے تھے اور جب پرانی نسل نے ہم نوجوانوں کی پرورش کی اور ہمیں تربیت دیکر بڑا کیا‘ میں اپنے آپ کو محض ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضامین لکھنے کی جانب کبھی بھی راغب نہ کر سکا تھا۔میں کبوتروں کی مسحور کر دینے والی غٹر غوں‘ غٹر غوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا تھاکیونکہ اُن استعماریوں کی بندوقوں کی فائرنگ سے آنیوالی آوازیں میرے کانوں میں زبردستی گھسی رہتی تھیں۔ اس پس منظر میں مَیں ایک معیاری ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضمون کیسے لکھ سکتا تھا؟
میں چونکہ اپنے مدیر دوست سے وعدہ کر چکا تھا کہ اس کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرونگا میں اس کے بارے میں کافی سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے لکھنا کیا ہے۔ میں نے گھر سے باہر نکلنے‘ ادھر اُدھر چکر لگانے اور کچھ دیکھنے کا ارادہ کیا۔
برسات کا موسم تھا اور شہر پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ہرے درختوں میں گھرا ہوا ہائی کورٹ کی سرخ عمارت کا ’’ کلاک ٹاور‘‘ سر اُٹھائے ‘ بلندی کو چھو رہاتھا۔ اپنی پشت پرکالے بادلوں میں سراُٹھائے ’’کلاک ٹاور‘‘ کے سفید کلاک پر میری نگاہ پڑی تو اس وقت شام کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ کوئینز گارڈن میں لوگوں کا ہجوم کم ہو چکا تھا۔ میں تازہ ہوا میں سانس لیتااپنے ارد گرد کے ماحول اور فضا سے لطف اندوز ہورہاتھا ۔ میرے سامنے کا سبزہ زار ایک قالین کی مانند بچھا دکھائی دے رہا تھا۔اس موقع پر مہا مندر کاسنہری گنبد‘ جو تھوڑے سے فاصلے پردکھائی دے رہا تھا‘ میں اس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔
اس طرح سیر پر نکلنے کا میرا مقصد محض‘ ایک ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضمون کی تیاری کے لئے کچھ سوچنا اور تحریک حاصل کرنا تھا اور میرا خیال تھا کہ کوئینز گارڈن کا خوشگوار ماحول میرے ذہین میں کوئی نہ کوئی سوچ و خیال لانے میں میری مدد کرے گا۔
اچانک میرے کانوں میں ایک کلاسیکل گیت کی آواز سنائی دینے لگی۔ یہ آواز گارڈن سے باہر کہیں قریب ہی سے آرہی تھی۔ کانوں میں رس گھولتی‘ سریلی آواز مسلسل میرے کانوں میں آرہی تھی۔ہو ا میں کسی کی خوش الحانی جادو جگا رہی تھی۔ یہ کسی بڑے بوڑھے یا جوان کی آواز نہیں تھی بلکہ خود اپنے آپ میں یہ ایک نوجوان آواز تھی۔ کسی نوخیز کی آواز۔ باکل اُن کم عمر چرواہوں کی آواز کی طرح جو اپنے مویشیوں پر نگاہ رکھے‘ خود گھنے مخروطی درختوں کے ٹہنوں پر بیٹھے گا رہے ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ آواز آ کہاں سے رہی ہے جونہی میں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو مجھے کچھ فاصلے پر پارک سے باہر سڑک کی پٹڑی پر لوگوں کا ایک چھوٹا سا ہجوم دکھائی دیا۔ میں نے وہاں تک جانے اور اُس سریلی آواز کے مالک کو دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ادھر کی طرف قدم اُٹھا لئے۔ میں نے سوچا کہ اس سے مجھے ایک ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضمون لکھنے کی تحریک ضرور ملے گی۔
بھیڑ کو دونوں بازوؤں سے دائیں بائیں پرے ہٹا ہوا میں اس گانے والے تک پہنچنے کے لئے اپنا رستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بمشکل کوئی بار ہ سال کی عمرکا ایک لڑکا‘ ایک رقاص کی طرح کا لباس پہنے‘ بن سنور کر کھڑا تماشائیوں کو متوجہ کر رہا تھا۔ وہ اپنے سر پر کاغذوں کا تاج سجائے اور تنگ بلاؤز پہنے ہوئے تھا جو بائیں جانب سے پھٹا ہوا تھا۔ زردی مائل اصل رنگت والا یہ لڑکا سٹیج پرایک کلاسیکل ڈانسر کی طرح ملبوس تھا۔ اس کے چہرے پر سفید پوڈر کے میک اپ کی تہہ یہاں تک جمی ہوئی تھی کہ اس کی بھویں تک سفید تھیں۔ اس نے اپنے ایک پیر کے پنجے پر کھڑے ہو کر دوسرے پاؤں کو اوپر اُٹھایا اور ایک تھالی نماساز کوا پنے ایک ہاتھ میں لے کرہوا میں بلند کیا۔ اس ساز کے کونوں کے ساتھ گنگھرو بندھے ہوئے تھے اب وہ بڑی ہوشیاری سے اپنی ایک ایڑھی پر چکر لیتا‘ دائرے کی صورت میں رقص کرتا اور ساتھ ساتھ گا بھی رہا تھا۔ وہ ایک ساتھ رقص کرتا اور گیت گاتا مسلسل گھوم رہا تھا ۔ رقص اور گیت یا پھر گیت اور رقص‘ ایک ساتھ۔ وہ ایک ایسا کلاسیکل رقص کر رہا تھا جو اکثر و بیشتر وقتی طور پر بنائے گئے سٹیجوں پر ساری ساری رات جاری رہتا تھا۔
اس کے قریب ہی کوئی نو دس سال کی عمر والی لڑکی ایک رقاصہ کی طرح پوری رسموں کے ساتھ سج دھج کر کھڑی تھی۔ اس نے اپنے بال اوپر کی جانب بڑے خوبصورت انداز میں باندھ رکھے تھے جن کے اوپر ایک کنگھی بھی سجی ہوئی تھی۔ اور اس کے ماتھے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک سنہری جھالر سجی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ پوڈر سے سفید ہو رہا تھا لیکن اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں سرخ تھیں۔ اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیالہ لئے وہ تماشائیوں کے سامنے چکر لگاتی پیسے مانگ رہی تھی۔ اس کے چہرے سے تھکن اور سستی ظاہر ہو رہی تھی۔ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے اور ان کے خدوخال کو آپس میں ملاتے ہوئے میں نے جب اُن کی عمروں کے فرق کا اندازہ لگایا تو مجھے وہ دونوں آپس میں بہن بھائی لگے۔
نو جوان لڑکامسلسل ناچتا ‘ گیت گا رہا تھا۔ وہ مجمعے کے سامنے گھومتے ہوئے چکر لے رہا تھا۔ اس کا سارا بدن پسینے سے شرابور تھا۔ بلند آواز میں گانے کی وجہ سے ہر کوئی اُس کے گلے کی موٹی رگیں دیکھ سکتا تھا۔ اس دوران وہ چھوٹی لڑکی ہر ایک کے سامنے پیالہ کرتے ہوئے بھیک میں پیسے مانگ رہی تھی۔ ’’ ہم پر رحم کریں‘ پیارے بھائی بہنو ہمیں ایک دو سکّے دے دو۔‘‘ وہ آوازیں لگا رہی تھی۔ اس کا چہرہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ لڑکے کے چہرے سے تھکاوٹ ہی نہیں بلکہ بے مسرتی بھی ٹپک رہی تھی۔ وہ خوش نہیں تھا۔ بالکل جیسے کسی ما فوق الفطرت پرندے کے گلے سے نکلنے والی دلنواز موسیقی کی آواز کی مانند اس کے گلے سے نکلنے والی موسیقی‘ اب بے جان اور کھوکھلی سنائی دینے لگی تھی۔
میں نہ گیت سے لطف اندوز ہو سکتا تھا اور نہ ہی مجھ سے ان نو عمر لڑکے لڑکی کو دیکھا جا سکتا تھا۔ میں اس رقعت آمیز منظر کو دیکھ کر سخت کوفت محسوس کر رہا تھا۔ اچانک مجمعے میں سے ایک شخص نے اُن دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے آوازہ لگایا ’’ اگر تم دونوں ملکر کوئی ایک ’’محبتی دوگانا ‘‘ گاؤ تو میں تمھیں کچھ پیسے دونگا۔‘‘ وہ ایک طرح سے چلا رہا تھا۔ دوسرے تماشائی بھی اس کا ساتھ دینے لگے تھے۔ ’’ہاں‘ ہاں! گاؤ ‘ گاؤ‘ تمھیں خوب پیسے ملیں گے!!‘‘ وہ اُن سے عاشق و معشوق کے دوگانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
میں نے اس ہجوم سے بھاگ جانا چاہا۔ یہ ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ میں ارد گرد حرکت بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ اس سے پہلے اس طرح کے کسی مجمع میں میں نے اتنی بھیڑ کبھی نہیں دیکھی تھی۔ سچ تو یہ ہے ’’مرغوں کی لڑائی‘‘ دیکھنے والے تماشائیوں کا مجمع بھی اتنا بے سرا اور اتنابڑا میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل ڈوبنے لگا۔
وہ دونوں‘ بھائی اور چھوٹی بہن‘ تماشائیوں کے آگے انکار نہ کر سکے۔ انہیں ناچنا اور گانا ہی تھا سو وہ ناچنے اور گانے لگے۔ لڑکے نے ایک ہاتھ اپنے کولھے پر رکھا اور دوسرا ہاتھ سر کے اوپر لیجاتے ہوئے لہرایا اور رقص کے انداز میں اپنے بائیں پاؤں کی ایڑھی کو آہستہ آہستہ زمین پر مارنا شروع کیا اور ایک لے کے رنگ میں آواز لگائی ’’ آ‘ آ‘میری پیاری بہنا‘ آہم ایکبار پھر قسمت آزمائیں‘ آ‘ بہنا ہم کوشش کر دیکھیں!‘‘ چھوٹی بہن نے مانگنے والا پیالہ بوسیدہ سے کپڑوں کی ایک میلی کچیلی گٹھڑی کے پاس رکھا اور رقص کے انداز میں اپنا ایک ہاتھ اپنے کولھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک چھوٹاسا کاغذی پنکھا لے کر گانے کی لے میں آواز لگائی ’’ او میرے محبوب‘ تمھاری یہ چھوٹی سی کنیزیہاں تمھارے لئے تیار کھڑی ہے۔‘‘ اب ان دونوں نے ایکدوسرے کی لے میں لے ملانا شروع کر دی تھی۔ چھوٹا لڑکا تان لگاتا ’’ آ میری پیاری آ‘ تو ہی تو ہے جسے میں ان سب شہر والوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں‘ آ‘ آ بھی جا او میری عظیم رقاصہ‘آ میرے پاس ادھر آمیری محبوبہ!‘‘
میں اس سوانگ سے اس قدر اکتا گیا تھا کہ میرا سر خود بخود ہی جھک گیا تھا۔ محض چند پیسے کمانے کی خاطر بچوں کو یہ سوانگ رچائے میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ان بچوں کے پاس پیسے کمانے اور پیٹ پالنے کا دوسرا کوئی رستہ نہیں تھا۔ اپنے جیسے بھکاریوں کی دنیا میں اب انھیں بھیک مانگنے کے نئے طریقے اپنانے تھے۔ گانے اور ناچنے کے ذریعے ہی شائد کچھ اضافی پیسے کما بھی سکتے تھے اور شائد اپنا پیٹ بھی بھر سکتے تھے۔ لیکن غریب اور بھوک کے مارے ہوئے کو تو بھیک مانگنے کے لئے آہ و زاری کرنا‘ رونا اور منت سماجت کرنی پڑتی ہے لیکن ان کے پاس ایسا کرنے کیلئے کوئی وقت نہیں تھا۔ ان کی آہیں اور رونا بھی اُن کا نہیں رہا تھا۔ اب انھیں اپنی غربت و بھوک بھلا دینے کیلئے گانے اور ناچنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ’’اگر کوئی بیمار مرتا ہوا شخص صرف اس لئے تھوڑی سی زیادہ افیون کھا لے کہ وہ کسی خوف کے بغیر موت کا سامنا کر سکے تو ——— !‘‘ ان دونوں کو ناچتے دیکھ کر میرے ذہن میں نجانے کیا کیا سوال ابھرنے لگے تھے۔
لڑکا اپنی لے میں ابھی تک گا رہا تھا ۔ ’’ او ہاں! تو ہی توہے میری محبوب بیوی جسے میں دل و جاں سے پیار کرتا ہوں‘ میں تم پر اپنا سب کچھ نثار کرتا ہوں ۔ اور میری سجنیا! میں مہا دیوتا کی قسم کھاتا ہوں‘ میں کبھی تجھ سے بے وفائی نہیں کرونگا۔ بھگوان مجھے بھون کر رکھ دے اگر میں ایسا کروں‘ او میری محبوبہ!!‘‘ گانے کے بول کی لے ختم کرتے ہی وہ ناچنے لگتا تھا اورپھر فوراً ہی اس کی چھوٹی بہن آگے بڑھ کر اُس کے چہرے پر اپنا پنکھا جھلانے اور گانے کے جواب میں وہیں سے گانا شروع کر دیتی جہاں اس کے بھائی نے چھوڑا ہوتا ——– وہ پنکھاجھلاتی‘ ناچتی‘ بڑی خوبصورتی سے گانے کی لے اُٹھاتی——— ’’ جب تک ہماری قسمت ہمیں اکٹھا رکھے‘ یاد رکھو میں تمھاری ہی ہوں۔ صرف تمھاری‘ ہمیشہ کیلئے!‘‘ وہ مسحور کن لے میں گیت کے بول آگے بڑھاتی۔ دونوں بچے یہ غمناک دوگانہ کچھ اس طرح سے گا رہے تھے کہ جیسے انہوں نے اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہو۔ میں اب وہاںمزید نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔ اور جونہی میں نے پلٹنے کے لئے موڑ لیا میرے پیچھے کھڑا ہوا ایک آدمی اونچی آواز میں بولا ’’ یہ بچے کتنی مسحور کن آواز رکھتے اور کتنی غمناک و درد آمیز لے میں گاتے ہیں! انھیں بس تھوڑی سی تربیت دیئے جانے کی ضرورت ہے یہ بہت ہی اعلیٰ موسیقار بن سکتے ہیں۔‘‘
ایک اور آدمی جو قریب ہی کھڑا تھا اس نے بھی پہلے کی ہاں میں ہاں ملائی ’’ ہاں‘ ہاں! یہ بہت ہی اچھا خیال ہے ۔ کیوں نہ ہم انہیں کمپنی کے پاس لے چلیں؟ تمھیں یاد ہے جب ہم فلمبندی کر رہے تھے کمپنی نے ہڑتال کر دی تھی۔ تمھیں یاد نہیں ہمیں ’’پلے بیک سنگرز‘‘ کی ضرورت ہے؟‘‘
’’ کتنا اچھا خیال ہے تمھارا اور با لکل ٹھیک سمے پر تمھاری سوچ کا جواب نہیں‘ بابوجی تو ہم سے بہت ہی خوش ہونگے۔‘‘ پہلا بچوں پر نگاہ جمائے ہوئے بولا۔’’اور ان بچوں کو جو محض بھکاری ہیںانہیں تو زیادہ معاوضہ ادا کرنا بھی کوئی ضروری نہیں ہو گا۔‘‘ان دنوں شہر میں واقع ملک کے سب سے بڑے فلمی سٹوڈیو میں ہڑتال چل رہی تھی ۔
میں نے ان دونوں آدمیوں کی گفتگو سنی تو مجھے یو ں لگا گویا میں اچانک آئے زلزلے میں گر جانے والی کسی عمارت کے ملبے کے نیچے دبا ہوا ہوں۔ جونہی میں بھیڑ میں سے اپنے لئے رستہ بناتاآگے بڑھنے لگا ان کی گفتگو کا آخری جملہ میرے کانوں میں سنائی دیا’’ ہاں! لیکن ہمیں بابو جی سے اچھی رقم وصول کرنی ہوگی!‘‘
ان کا یہ آخری جملہ سنتے ہی میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ میں اتنا تیز دوڑ رہا تھا کہ جیسے میں کسی جلتی ہوئی عمارت سے چھلانگ لگا کر باہر کود آیا تھا اور اب اس آگ سے بچنے کیلئے سر پٹ بھاگ رہا تھا۔ سانس لینے کے لئے جونہی میری رفتار قدرے کم ہوئی مجھے ایک بس کنڈیکٹر کی آواز سنائی دی ’’ آئیے! آئیے جناب!! بس پر سوار ہونے کےلئے ادھر سے آئیے جناب!!! ——— اوہو‘ بس روکو‘ بس روکو!‘‘ بس کنڈیکٹر ڈرائیور کو متوجہ کرتا ہوا مجھے بھی آوازیں دے رہا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں بس میں سوار کیسے ہوا اور نہ ہی میں یہ جان سکا کہ میں کس طرف جا رہا ہوں۔ میرے ذہن میں اس وقت صرف یہی ایک خیال تھا کہ میں کوئی ’’خالصتاً ادبی‘‘ مضمون کبھی بھی نہیں لکھ سکوں گا۔
###
مستقل لنک
May 22, 2008 at 12:09 am |
راقم : شمس جیلانی |
شاعری میں شائع کیا گیا
بنانے ملک کو جو کہ گلِ گزار بیٹھے ہیں
زبانی ہیں کلا می ہیں پئے گفتار بیٹھے ہیں
اُدھر بجلی گرانے کو نئے ہتھیار بیٹھے ہیں
ادھر کرسی کا مسئلہ ہے جمے سر کار بیٹھے ہیں
مستقل لنک
May 19, 2008 at 9:40 pm |
راقم : خاور چودھری |
سیاست میں شائع کیا گیا
کسی صاحب نے ای میل ارسال کی ہے۔۔۔۔صدرمشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیزاور ان کی بیگمات محفل میں شریک ہیں اور عبداللہ یوسف صاحب محو رقص ہیں۔۔۔۔۔۔ بغیرتبصرے کے متعلقہ لنک حاضر ہے۔۔۔۔
عبد اللہ یوسف محو رقص، کلک کیجئے
مستقل لنک
May 19, 2008 at 1:26 pm |
راقم : خاور چودھری |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
اک درخت آسیبی
ہائیکوجاپانی صنف سخن ہے اور اردو میں پچیس تیس برس سے برتی جارہی ہے۔۔۔ اپنے چندہائیکوآپ کے ذوق کی نذرکرتاہوں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 19, 2008 at 3:47 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
دوستوں کچھ دن پہلے مجھے ھوم آفس جانا پڑ گیا ، ابھی میں ایک کام ختم کر کے اپنی باری کا انتظار کرنے لگی ۔کہ میری نظر دیوار پر لگے پوسٹر پر پڑہ گیی۔اور اس خبر کو پڑھنے کے بعد جیسے کسی نے میرے بدن سے سارا خون نچوڑ لیا ھو »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 19, 2008 at 2:03 am |
راقم : نصر ملک |
بین الاقوامی تعلقات میں شائع کیا گیا
خیال اپنا اپنا :
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات!
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
عزیز دوستو‘
میرام دم گھٹ رہا ہے اور میں مغموم و رنجیدہ ہوں اُس ساری بحرانی صورت حال سے جو ایک ڈینش اخبار یولینڈز پوسٹن میں شائع کئے گئے حضرت محمد کے کارٹونوں کی وجہ سے پیدا ہوئی اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
May 17, 2008 at 12:26 pm |
راقم : شمس جیلانی |
بحثو مباحثہ, شاعری میں شائع کیا گیا
قافلہ پھر سر ِ بازار ہی لٹ جا ئے گا؟
اور مرا ملکِ حسیں کربلا بن جا ئے گا؟
یہ تو نکلے ہیں سبھی چور جو پر کھا ان کو؟
اُ ف مسلمان ، ہر اک بار ڈسا جا ئے گا؟
مستقل لنک
May 17, 2008 at 2:32 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, مزاح میں شائع کیا گیا
کچھ دنوں سے ھم سب ایک عجیب کشمش میں ھیں ۔
گرمی نے اور بھوک دونوں نے برا حال کیا ھوا ھے۔نا بجلی اور نا آٹا ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک