آج تحریر نہیں تصویر
آج اپنے احباب کی خدمت میں تحریر کی بجائے صرف ایک تصویر۔ تحریر آپ کریں گے اپنے اپنے خیالات »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
آج اپنے احباب کی خدمت میں تحریر کی بجائے صرف ایک تصویر۔ تحریر آپ کریں گے اپنے اپنے خیالات »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
کاروباریِ زندگی میں مکمل گھاٹا ھے
کاروباریِ زندگی میں مکمل گھاٹا ھے
سمبھالا جاتا نہیں تم سے فاٹا ھے
روٹی کپڑا مکان کے نعرے چھوڑوں
عوام پوچھتی ھے کہاں آٹا ھے
برداشت رواداری ھے کہاں
سرِعام اب تو چلتا باٹا ھے
لیڈر ھو تو پھر لیڈر بنو
ورنہ عوام تمہیں کرتی ٹاٹا ھے
ابھی تو پیٹ کو روٹی ہر ایک بیکار چاہے، ہے
ہے اسکو خود نہیں معلوم کیا سر کار چاہے ، ہے
وہاں چلتی نہ جنتا کی نہ کٹھ پتلی کی چلتی ہے
وہی ہو تا وہاں دیکھا جو ساہوکا ر چاہے چاہے
دوستو
ڈنمارک سے ایک اور مختصر کہانی آپ سب کے مطالعہ کے لیے پیش خدمت ہے۔ امید ہے پسند آئے گی اور ممکن ہے سوچ کی نئی راہیں بھی کھول دے ۔ اپنی رائے سے مطلع کیجئے گا ۔ وسلام ۔
امشب دوبارہ ۔
مصنف : وَلی سؤرنسن
مترجم : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
آج رات نجانے کب‘ لیکن میں اچانک پھر وہاں جا نکلا اور میرے ساتھ جو کچھ پہلے ہو چکا تھا اس کے بارے میں نئے سرے سے غور کرنے لگا۔
یہ عجیب و غریب پارک‘ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں‘ شہر سے باہر واقع تھا۔ میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا‘ تنگ سڑکوں‘ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے گزرتا جا رہا تھا کہ یکایک مجھے اپنا آپ بہت ہی ہلکا محسوس ہونے لگا اور میں خود کو نوجوان سمجھنے لگا ۔ مجھے اس بات پر بہت حیرانگی محسوس ہو رہی تھی کی تمام لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے غائب ہو رہے تھے۔ جوں جوں میں پارک کے قریب پہنچ رہا تھا‘ لوگ غائب ہوتے جا رہے تھے۔ کیا میں دوسروں کی نسبت زیادہ قوی الجثہ یا مضبوط حواس رکھتا تھا؟ اچانک میرے ذہن میں سوال آیا۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیوقوف ہوں ۔ یہ ایک بہت ہی غیر معمولی پارک تھا۔ میں اگرچہ اپنے ذہن میں اس کی کوئی واضح تصویر لانے سے قاصر تھا لیکن یہ بات میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ پارک واقعی میں بہت ہی غیر معمولی تھا۔ اور تو اور‘ کوشش کے باوجود میں اس پارک کے کسی ایک کونے ‘ کیاری یا گوشے کو اپنے تصور میں عین اُس طرح اجاگر کرنے اور اپنے ذہن میں نہیں لا سکتا تھا جس طرح میں اُسے اپنی آنکھوں سے پہلے دیکھ چکا تھا۔
نا قابلِ یقین حد تک مختلف انواع و اقسام کے پھول‘ اُن کی پتیوں کی ساخت اور رنگ وروپ‘ میرے لئے نہ صرف عجیب اور بالکل نئے تھے بلکہ میں ان میں سے کسی کو پہچانتا یا جانتا تک نہیں تھا ۔ اُن کے ناموں سے میری واقفیت کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پارک میں قدرتی چشموں سے پھوٹنے والے سیمی آب کی بلند پھواریں اور چھوٹی چھوٹی کھالیوں میں بہتے ہوئے پانی سے غر غر کی سریلی آوازیں‘ ابھی تک میرے کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ سب کچھ ایک عجیب سماں تھالیکن‘ میں اسے کسی بھی صورت میں اپنے تصور و بیاں میں نہیں لا سکتا تھا ۔ وہاں چہچہانے والے قوس قزاح کے رنگوں والے مختلف اقسام کے پرندے اور کانوں میں رس گھولتی ہوئی اُن کی آوازیں‘ میری اُن سے کوئی جان پہچان نہیں تھی‘ لیکن وہاں پائے جانے والے ………. عجیب الجثہ دیو …….’’ کالے کتے‘‘ مجھے اچھی طرح یاد تھے ۔ ماحولیاتی منظر کو سنوارے اور بحال رکھنے کے لئے اس عجیب الجثہ مخلوق کو اسی نام سے جانا اور پکارا جا تا تھا اور بے شک اُن کا رنگ کالا ہی تھا لیکن وہ ’’ کتے‘‘ ہر گز نہ تھے۔ میں اس عجیب الجثہ مخلوق کا حلیہ اپنے ذہن کے پردے پر اجاگر نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ مجھ میں اُن کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔
میں جب پہلی بار اس پارک میں گیا تھا تو یہ عجیب الجثہ دیو میرے راستے میں خود بخود زبردستی آگئے تھے۔ میں ان کو اپنے روبرو دیکھنے کی تاب و طاقت اور حوصلہ نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں سے واپس لوٹ آیا تھا‘ لیکن کیسے؟ یہ مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ میرے ذہن پر ابھی تک دھند چھائی ہوئی تھی اور کسی بھی چیز کا تصور واضح نہیں تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ میں ہر چیز سے آگاہی اور واقفیت حاصل کرنے کے لئے اپنی لڑ کھڑاتی کانپتی ٹانگوں اور بھاری قدموں کے ساتھ اب پھر پارک کی طرف جا رہا تھا۔
میرے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال بھی ابھر رہا تھا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں‘ کہیں خواب میں تو نہیں‘ اور میرے سامنے چمک دمک والے یہ عجیب الجثہ دیو کیا واقعی میں وہی ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں؟
میں نے پھولوں‘ ان کے رنگ وروپ‘ خوشبو اور قطار در قطار‘ کیاریوں کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ میں نے پرندوں اور فضا میں مدھر سریلی تانیں بکھیرتی ہوئی اُن کی آوازوں کو ذہن کے خانوں میں محفوظ کر نا شروع کر دیا تاکہ جب میں بیدار ہوں تو یہ سب کچھ مجھے یاد رہے۔ میں نے پھر جب گھوم پھر کر دیکھا تو وہ عجیب الجثہ دیو‘ پیٹ کے بل رینگتے ہوئے‘ پھسلتے پھسلتے‘ آہستہ آہستہ‘ پارک کے نگران کے گھر سے میری جانب بڑھ رہے تھے۔ میں نے اب مدد کے لئے ادھر اُدھر دیکھا۔ میں اُن کے بارے میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کے لئے ذہن پر زور دے سکتا ہوں کیونکہ میری یادداشت ان کی وجہ سے ہی کمزور ہو چکی تھی ۔ میری طرح پہلے بھی کئی لوگ اُن کی وجہ سے ہی اپنی اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔ یہ ’’ دیو ‘‘ جو بظاہر’’ عجیب الجثہ ‘‘ دکھائی دیتے تھے کسی نئی طرز یا وضع کے نہیں تھے لیکن‘ علم حیوانات‘ جہاں تک میں نے پڑھ رکھا تھا اور لوگوں سے اس بارے میں سن رکھا تھا اس میں اُن کے متعلق کوئی شہادت یا ذ کر موجود نہیں تھا۔ انمیں سے ایک نے مجھ پر اپنا ہُک دار پنجہ آزمایا جسے میں نے بری طرح محسوس کیا۔ میں نے سوچا کہ یہ بات تو کسی بھی طرح اچھائی یا بھلائی کے زمرے میں نہیں آسکتی تھی اور پھر یہ معاہدے میں بھی تو شامل نہیں تھی‘—— معاہدہ ‘ میں نے تو کسی سے بھی کوئی معاہدہ نہیں کر رکھا تھا——- مجھے یہ خیال کیسے آ گیا؟ شاید وہ اپنی دیوقامتی‘ شوریدہ سری اور ریچھ کے پنجوں کی طرح کے اپنے پنجوں سے مجھے خوفزدہ کرنے کا مجاز ہو سکتا ہے ‘ ہوں‘ لیکن‘ خالصتاً انسانی طریق سے انہیں مجھ پر غلبہ پانے اور مجھ پر محض غالب ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہر قسم کے ربط و تعلق استوار رکھنے کااختیار انہیں ہر گز نہیں ہو سکتا تھا ۔
اب کی بار وہاں پارک میں اور لوگ بھی موجود تھے اورجونہی زہر میرے پاؤں سے میرے سر کی طرف چڑھنے لگا‘ وہ اشارے کرتے ہوئے بولے ——- ’’دیکھو —— دیکھو تو ——- وہ —— ’’ وہ کتے ‘‘ ——– وہ کچھ بھی تو نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ شاید میں خود ہی ہکلارہا تھا ——– ہاں‘ میں ہکلارہا تھا۔ ‘‘ اُن کے کچھ نہ کرنے کا بھی شاید کوئی مقصد ہو ——- شاید وہ اب اس لئے بھی کچھ نہیں کر رہے تھے کہ اُن کے کچھ نہ کرنے کا ضرور کوئی مقصد تھا۔ میں ہکلارہا تھا اور میری اس طرح کی ہکلاہٹ پر وہاں موجود لوگ ہنس رہے تھے۔ ’’ہاں‘ ہاں! ضرورایسا ہی ہو گا—— یقیناً ۔
اب میں نے خود اپنے آپ سے پوچھا کہ کل رات‘ پارک کی طرف جاتے ہوئے‘ مجھے پارک‘ اس کی خوبصورتی ‘ وہاں پر موجود پھولوں ‘ پرندوں اور فواروں وغیرہ کے بارے میں سب کچھ شاید اس لئے یاد تھا کہ میں پہلے بھی اپنے خواب میں وہاں جا چکا ہوا تھا۔ میں اپنے اس خواب سے پہلے بھی اپنے پہلے کئی خوابو ں میں اس پارک کو دیکھ چکاہوا تھا اور وہاں ہو آیا ہوا تھا —— لیکن‘ کیا خواب بذات خود انسانی یادداشتوں کا ہی مرکب نہیں ہوتے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خواب‘ محض خواب کیونکر ہوتے ہیں؟ کوئی بھی تو خواب اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتا—— ہر خواب ایک مسلسل جاری رہنے والے لا متناہی عمل یا ایک سلسلے کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مسلسل عمل جو زندگی بھر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ایک زندگی‘ ایک خواب‘ یعنی ’’ اک خوابی زندگی ‘‘ اور اس کے باوجود ہم اس میں حصہ لیتے ہیں اور پھر ’’ حصہ در حصہ ‘‘ ہم خود اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں اور محض ایک حصہ ہی رہتے ہیں مکمل نہیں ہو پاتے ——- محض ایک چوہا! ——- چوہا جو ’’ خوابی زندگی ‘‘ کا کپہّ ہوتا ہے ۔ کیا ہماری روزمرہ کی زندگی صرف کسی ساحرانہ پہاڑ کی چوٹی ہے ۔ اور کیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے اپنے خیالات کو اکٹھاکرنا دشوار ہو جاتا ہے اور ہم اپنے واضح مدعا کی وضاحت تک نہیں کر سکتے؟ کیا یہ سب کچھ ممکن بنانے اور کر جانے کے لئے ہمارا راتوں کو پارک میں گھومنا پھرنا ضروری ہے؟ ہمارا ایسا گھومنا پھرنا جو ہمیں متوجہ بھی کرتا ہو اور خوفزدہ بھی ——— کیا ایسے جنت نظیر پارک‘ جہاں عجیب الجثہ‘ دیو ہیکل‘ دوزخی مخلوق ہو‘ وہاں ہمارا رات کا گھومنا پھرنا ضروری ہو تا ہے؟ اور کیا واقعی ہمیں وہاں گھومنا پھرنا چایئے؟ اور اگر ہم ایسا کرنے کی خواہش کر ہی لیں تو کیا ہم حقیقتاً وہاں گھوم پھر بھی سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وِلی سؤرنسن ڈنمارک کے دارلحکومت کوپن ہیگن کے نواح میں سنہ انیس سو انتیس میں پیدا ہوئے ۔ وہ اپنی فلسیانہ کہانیوں کی وجہ سے اسکینڈےنیویا ‘ مغربی و مشرقی یورپ اور امریکہ و کینیڈا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ڈنمارک میں انہیں “ کافکا “ کی تخلیقات کو عام فہم ڈینش زبان میں ترجمہ کرنے اور اس کے بین السطور مفہوم و پیغام کو اجاگر کرنے کی وجہ سے ایک خاص ادبی مقام حاصل ہے ۔ ان کی کتابیں کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔ اور قطب شمالی کی اساطیر پر ولی سؤرنسن کی مشہور زمانہ کتاب “ ارگناروک “ کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کا اعزاز راقم الحروف نے حاصل کیا ہے ۔ اردو میں یہ کتاب مندرجہ ذیل “ لنک “ پر پڑھی جا سکتی ہے ۔
http://www.urduhamasr.dk/devta/index.htm
وسلام ۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
سن ری کوئل باوری ہردے آج سمائی
میٹھے سُر میں کوک تو میں رووں سودائی
باجے سیٹی ریل کی ہردے منہ کو آئے
آشاوں کی گور پر خاور نیر بہائے
ماریں پاتھر بالکے کھویا اپنا ہوش
کڑوے شبد ہیں ساچ کے اور نا کوئے دوش
اجیارے کی آس ماں جیون مورا ماند
دھن والوں کی بھور ہے دھن والوں کا چاند
جگ جگ اندر جال ہے سیتلتا بھی آگ
سُر سچا ہے بھیرویں نا ہی دیپک راگ
درش دکھائے مادھوی من بھیتر ماںاور
اندر جالک مادھری کھویا مورا ٹھور
سن ری چنچل مادھوی میں خاور سودائی
توری میٹھی واسنا روں روں آج سمائی
آسٹریلیا کے سب سے بڑی مسجد کے معروف خطیب شیخ خلیل چامی نے حکومت سے درخواست کی کہ “ تمام مسلمان مردوں کو اسلام کی رو سے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
الو کیا سوچتا ہے؟
ایک ڈینش نظم ۔
بہن نگہت نسیم صاحبہ ۔ لیجیئے اب آپ کے لیے بطور خاص اور اس بلاگ کے سبھی بہین بھائیوں کے لیے وہ نظم حاضر ہے جس کا آپ سے وعدہ تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اردو داں ‘ دوسری زبانوں کے ادب سے ترجمے کے ذریعے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہی تہذیبوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ شاید اسی لیے میں گاہے بگاہے یہاں اس پلیٹ فورم پر ڈینش ادب سے کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہتا ہوں ۔ اب آپ احباب اور نگہت بہن خصوصی طور پر آپ زیر نظر نظم ملاحظہ کریں اور بتایئے کہ “ الو کیا سوچتا ہے؟ مجھے آپ کی سوچ کا انتظار رہے گا ۔ وسلام ۔ آپ سب کا خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر ؛ کلاؤس رفبجرگ ۔
الو کیا سوچتا ہے؟
الو وہاں سے اڑتا ہے
اور پرانے درختوں پر بسیرا کرتا ہے
اور گھورتا ہے
کوئی اسے انسانی صفات سے متصف کیے بغیر
یہ یقین کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے
کہ یہ کیا سوچتا ہے؟
یہ سوچتا ہے شاید کسی چوہے
یا اپنے منقش سائے
یا گھر کے وسینکوں کے بارے میں
پہلے یہ ایک کھولتا ہے
پھر دوسری‘ تھوڑی دیر بعد یہ اپنی آنکھیں
موند لیتا ہے‘ اور اپنے سر کو ایک جانب ڈھلکا لیتا ہے
الو کیا سوچتا ہے؟
کوئی بھی نہیں جانتاْ
لیکن اپنی لمبی بے آواز اُڑان پر
کھلی اور بند آنکھوں کے ساتھ
اس نے بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے
وہ دور پار کے
کلیسائی میناروں سے آتا ہے
یہاں اس کہنہ مکان کے قریب
جہاں بہت کچھ رونما ہو چکا ہے
پرانے درختوں پر اترتا ہے
الو کیا سوچتا ہے
اپنے ننھے سے دماغ میں گرداں لہو کے بارے میں
یا اس کھیت کے بارے میں
کہ جو ابھی ابھی سرخی ٔ شفق میں
پکی فصل کے زرد رنگ سے خاکستری ہو رہا ہے
اس گودی کے بارے میں جو بہاؤ سے کنارہ کش ہوتی ہے۔
اور منہ کھولے
احتجاج کرتی گونگی بہری لڑکی کے بارے میں؟
وہ عقل مند ہے کہ میرے بارے میں سوچتا ہے
پردے کے پیچھے اپنے بستر پر لیٹا تنہا آدمی
بے وقوف جاگتا ہے اور حیرت ہے کہ خوش ہے
میں سنتا ہوں‘ یہ بہت جلد آئے گا
اور الو جانتا ہے
اور یہ چیختا ہے اور شاید
کوئی مر جاتا ہے۔
…………………………………………………………………………..
کلاؤس رفبجرگ ١٩٣١ء میں کوپن ہیگن میں پیدا ہوئے۔ وہ معروف ادبی اصناف پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ مشہور زمانہ ڈینش فلاسفر‘ شاعر و ادیب اور نقاد وَلّی سؤرنسن کے ساتھ ڈینش ادبی جریدے ’’باد گلاب‘‘ کی ادارت کرتے رہے۔ انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے انگریزی زبان و ادب کی ڈگریاں حاصل کیں۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’اپنی شدھ بدھ‘‘ ١٩٥٦ ء میں شائع ہوا جبکہ ان کا پہلا ناول ’’موروثی معصوم‘‘ ١٩٥٨ء میں منظر عام پر آیا ۔ اب تک ان کی کوئی پچانوے کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ ان کی ادبی شہرت میں ان کے متنازع فیہ موضوعات اور خیالات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فکشن‘ شاعری‘ مضمون و مقالہ نویسی‘ صحافت‘ فلمی و ریڈیائی ڈرامے‘ ادبی تبصرے اور ٹی وی سکرپٹ لکھنے میں انہیں خاص مہارت حاصل ہے۔
ان کی تخلیقات گیارہ یورپی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نارڈک کونسل کے اہم ترین ادبی انعام کے علاوہ متعدد قومی اہم ایوارڈ بھی حاصل کئے ہیں۔
’’آدمی جو گناہگار ہونا چاہتا تھا‘‘ نامی اُن کے ایک ناول پر ڈینش فلم بھی بن چکی ہے ۔ اردو قارئین کے لیے‘ اس ناول کا اردو ترجمہ بھی عنقریب ہی پیش کردیا جائے گا۔ ( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ) ۔
ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
گلستان لے جاؤ تھوڑی سی خوشبو رھنے دو
تیرے پاس تیرےاپنے تیرے چاھنے والے بہت
ھم غیر سہی ھمیں اپنا عدو رھنے دو
تو نہیں تو تیری یادیں ھمارے ساتھ ھیں
تم اپنا ذکر ھمارے چار سو رھنے دو
زخمِ دل تازہ رھے نا بھرے تو اچھا ھے
ھماری ھتھلی پہ ارمانوں کا لہو رھنے دو
کبھی ملنا کبھی بچھڑ جانا غیر بن کے
کچھ پانے کچھ کھونے کی یہ جستجو رھنے دو
نہ جگاؤ ھمیں ابھی اس خوابِ حسیں سے
کچھ پل اور ھمیں ان کے روبرو رھنے دو
سعدی دنیا کیا ھے ھمیں اس سے کیا لینا دینا
کون برا کون بھلا ھمیں بس با وضو رھنے دو
——————————————–
بہت دن بعد ایک سادہ سی نظم آپ کی بصارتوں کی نذر
ٰٰان ڈور پلانٹ
میں کسی سرمائی پودے کی طرح
تیرے ہی سائے تلے رہتی ہوں
روشنی مجھ سے گریزاں کب سے ہے
کب سے محرومِ صبا ہے تن مرا
کب سے ساون میں نہیں بھیگا بدن
چاند کھڑکی سے بھی تکتا ہی نہیں
تارے آنگن میں اُترتے ہی نہیں
دیکھ اب سانسیں مری رکنے لگیں
اب نہیں باقی مرے تن میں لچک
زرد چہرہ ، ڈھل چکا ہے جوبن
جل رہی ہیں میرے تن کی شاخیں
جھڑ گئے ہیں برگ جتنے تھے ہرے
اپنے سائے کو ہٹا لے اب تو
آخری سانسیں ہوا میں لے لوں
پھول کی خوشبو کودل میںبھر لوں
اک نظر میں آسماں کو چھو لوں
چاند تاروں سے دو باتیں کر لوں
اب مجھے آزاد کرہی دے تُو
زرقامفتی
دوہے
خاور چودھری
آشاوٴں کی ہاٹ پر تن بکتا ہے آج
من بھیتر ماں ساچ ہو آوے جگ کو لاج
اوگُن دھو دے گات کے ٹوٹا من کا ماد
دونوں پاوٴں بیڑیاں سیاں کر آزاد
باہر کڑکے دامِنی بھیتر آگ لگائے
اَگنی جیسی کامنی شیتل ہوتی جائے
رُوپ رسیلا بھور ہے آنکھ ہوئی سیراب
مُکھڑا تیرا آد سے کرتا ہے بے تاب
حسن کی مالا جاپنا ہر پل اپنا کام
تورے عشق کا اوگُنی بھولا اپنا نام