Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

روح اقبال سے معذرت کے ساتھ

دہقان تو مرکھپ گیا، اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشۂ گندم، کہ جلاؤں

شاہیں کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشکِ فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان

قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن

جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن

شاہیں کا جہاں آج ممولے کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملا سے ، مجاہد کی اذاں ہے

مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے؟

کردار کا، گفتار کا، اعمال کا مومن
قائل نہیں، ایسے کسی جنجال کا مومن

سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن

ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے اب بدلتی نہیں تقدیر

توحید کی تلواروں سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے نہیں کٹتی، کوئی زنجیر

دیکھو تو ذرا، محلوں کے پردوں کو اٹھاکر
شمشیر و سِناں رکھی ہیں طاقوں میں سجا کر

آتے ہیں نظر مسندِ شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سوگئی، طاؤس پہ آکر

مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے

کہنے کوہر شخص مسلمان ہے لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ورے ہے

تھامے ہوئے دامن ہے، یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر، جس کی اذاں سے
اس بندۂ مومن کو اب میں لاؤں کہاں سے

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

14 تبصرے »

  1. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 5, 2008 at 6:08 pm

    مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
    اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
    پیدا کبھی ہوتی تھی سحر، جس کی اذاں سے
    اس بندۂ مومن کو اب میں لاؤں کہاں سے

    بہت عمدہ ۔۔ سچا کھرا نقشہ ۔۔

  2. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    June 5, 2008 at 8:23 pm

    یہ پیام دے گئی ہے مجھے جذبوں کی حرارت
    جو عوام کے ہیں دشمن اُنہیں کے لیئے صدارت

    تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
    تیری سات نسل میں ہے ہر اک عہد کی وزارت

    نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تو نے
    میں یہ جانتا ہوں یارو یہ ہے بُش کی ہی شرارت

    مرے حلقہء سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں
    وہ جنہیں سکھانا چاہوں گا میں قوم سے عداوت

    یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر
    مری تو فقط یہ مرضی کہ ججوں کو ہو نہ راحت

    تو ھُما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری
    میں پرانا ہوں کھلاڑی مرا ہے ھدف سفارت

    تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لاَ اِلہَ اِلاَ
    میں جو فوج کا ہوں جنرل مرے خون میں شقاوت

  3. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    June 6, 2008 at 1:05 am

    بہت ھی خوب….. ایک ایک شعر آج کل پہ پورا اترتا ھوا .جو سچ ھے مگر بہت تلکیف دہ ..جو حالات ھیں علامہ اقبال کی روح کے ساتھ قائد اعظم کی روح بھی تڑپتی ھوگی…

    سرحد کا ہے مومن، کوئی بنگال کا مومن
    ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن.

    تھامے ہوئے دامن ہے، یہاں پر جو خودی کا
    مر مر کے جئے ہے، کبھی جی جی کے مرے ہے

  4. علی شاہ نے لکھا؛

    June 6, 2008 at 5:03 am

    بہت خوب

  5. جاوید اقبال UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    June 6, 2008 at 11:01 pm

    ان تبصروں کو اس طرح چھاپا جائے کہ جن کے متعلق لکھا جائے کم از کم اُن کو اس تبصرے کی کاپی ضرور ملنی چاہئے تاکہ اُن کو پتہ چلے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ہاں مشرف تمہں جانا ہوگا۔

    جاوید اقبال

  6. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 6, 2008 at 11:11 pm

    ساتھیو ۔
    خطا معاف۔ شعروں سے ہم حالات کی عکاسی تو کر سکتے ہیں لیکن کیا اشعار قومی ۔مسائل
    اور عوامی مشکلات کا آزالہ کر سکتے ہیں؟ ہمارے ہاں یہ دستور بن چکا ہے کہ ہم ہر کام تلاوت قرآن سے شروع کرتے اور اسے حدیث نبوی (صعلم) پڑھ کر دوآتشہ بناتے اور پھر کہتے ہیں کہ جیسے اقبال نے بھی کہا ہے ۔۔۔۔۔ گویا اگر اقبال نہ فرماتے تو اللہ معاف کرے‘ نبی صعلم اورقرآن کے فرمودات محض بیکار ہوتے ۔ ہم نے اقبال کو نہ اس کی زندگی میں کچھ جانا اور نہ مرنے کے بعد البتہ قوالوں نےطبلےکی تھاپ پر اسے خوب نچایا اور اب یہی وہ اقبال جو باقی رہ گیا ہے ۔ اور اس کی رہی سہی کسر خود پسر اقبال ‘ سابق جسٹس جاوید خود نکال رہے ہیں ۔ بات کو خواہ مخواہ طول دیئے بغیر سیدھا اپنے مطلب پر آتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ کہ یہ کالے کوٹوں والے غنڈے اور ان کا سربراہ جسے وہ بحال کرانا چاہتے ہیں کہا نہیں جانتے کہ ملک کے بنکوں کو کن نے لُوٹا ہے ۔ زرعی و صنعتی قرضے کن کے اور کیوں معاف ہوئے ہیں ۔ بیرونی ممالک میں کس “ زردار “ کا وہ “ زر “ جو قوم سے لوٹا گیا محفوظ ہے اور کس کے محل کھڑے ہیں ؟ یہ سڑکوں پر تماشا کرنے والے بندر ‘ ان جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں ‘ صنعتکاروں ‘ وڈیروں ‘ صاحبزادوں ‘ پیرزادوں ‘ نوابزادوں اور مرکب الحرامین ‘ قومی چوروں کا پیچھا کیوں نہیں کرتے اور روح اقبال کو سکون و اطمینان پہنچانے کے لیے “ کاخ امراء کے در و دیوار ہلا کیوں نہیں دیتے؟‘‘
    یہ مکر و فریب ‘ یہ منافقت ‘ دین و دھرم کے نام پر حرامزدگی کب تک جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کالے کوٹوں والے یا فوجی بوٹوں والے ‘ اخباروں کے صفحات “ خونی سرخیوں سے “ کالے کرنے والے مدیران اور مذہبی پنڈت کچھ بتا سکیں گے؟

  7. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    June 7, 2008 at 1:11 am

    ہر لحظہ ہے جنرل کی نئی شان نئی آن
    گفتار میں کردار میں ہر طرح سے بے ایمان

    زرادری ہو شہباز ہو الطاف یا اسفند
    ان میں سے ہر اک شخص حکومت پہ ہے قربان

    پرویز مشرف سے ہے دست بستہ گزارش
    یہ جان اگر چھوڑ دیں تو قوم پر احسان

    صفدر ہیں مری قوم کے رہبر سبھی قزاق
    دل میں جو کدورت ہے تو فطرت میں ہے نقصان

  8. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 7, 2008 at 2:43 am

    دوستو‘ ساتھیو۔
    اب جب اس حمام میں گرنا ہی ہے تو پیچھے کیوں رہا جائے ۔ لیجئے میری دو نظمیں آپ کی نذر ہیں ۔ قبول کیجئے یا مسترد‘ میرے لیے یہی کیا کم ہے کہ آپ نے انہیں پڑھ لیا ۔ شکریہ ۔

    شاہراہ آئین ۔ (اسلام آباد میں واقع ایک سڑک کے حوالے سے ایک سوال) ۔
    از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔

    اے میرے اسلام آباد
    اے میری شناخت کے نشان
    اے آمین پاکستان‘
    مرگلہ کی وادی میں
    کتنا حسین مقام ہےتیرا‘
    کتنا مقدس نام ہے تیرا‘
    مگر تو یہ تو بتا‘
    کہ یہ جو اک شاہراہ ہے تیری
    نام جس کا “ شاہراہ آئین “
    یہ کس آئین کی ترجماں ٹھہری؟
    کیا یہ وہی “ آئین “ تو نہیں جس کو‘
    فوجی جرنیلوں کے ایک ٹولے نے ‘
    شب کی سیاہی میں ورق ورق کیا‘
    اور برف کی سلوں تلے دفن کیا؟
    گر یہ وہی “ آئین “ ہے تو اے میرے اسلام آباد
    یہ دھوکا کیا‘ تیری یہ شاہراہ‘
    “ شاہراہ آئین “ کیوں کہلاتی ہے ‘
    تیرے چہرے پہ کالک کیوں ٌگاتی ہے ؟
    مطبوعہ ِ ماہنامہ صریر ۔ کراچی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مملکت خداداد
    از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔

    خانقاہوں میں الووں کے گھونسلے
    مسجدوں کی چھتوں کی منڈیروں پر‘
    کووں کی راگنیاں ۔
    معبد خانے ‘
    رسہ گیروں ‘ ڈاکوؤں ‘ قاتلوں کے
    پناہ گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ خدا کے گھر“
    خدا کو اُس کے گھر سے نکال کر کے‘
    کتنے خوش ہیں
    رسہ گیر ‘ ڈاکو ‘ قاتل
    خانقاہوں میں بسیرا کرنے والے ‘ الو
    اور مسجدوں میں خیرات کی روٹیوں پر
    جھپٹنے والے کوے ‘
    الوؤں ‘ رسہ گیروں‘ قاتلوں اور
    کوؤں کی اماجگاہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    “ مملکت خداداد““
    خدا تو خود اب وہاں نہیں ہے ۔
    ( مطبوعہ قطبین ۔ سویڈن ) ۔
    وسلام ۔

  9. علی شاہ نے لکھا؛

    June 7, 2008 at 5:06 am

    صفدر جی اور نصر جی آپ دونوں ہی خوب اشعار کہے، داد وصول کریں

  10. شھزاد حیدر نقوی )لاہور( PAKISTAN نے لکھا؛

    July 13, 2008 at 6:25 pm

    انسان سوچتا کیا ہے اور ہو کیا جاتا ہے …………. ہم عوام نے کتنی بڑی غلطی کی ہے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیکر …………………… ہمارے اس عمل سے جو بھی ہوا اللہ تعالی ہمیں معاف فرمائے.

  11. نورالصباح رحماں(سیمیں برلاس) UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 2:58 am

    محمد ہارون عباس قمر صاضب کی شاعری اور اس پر تبصرے سب ھی بہت خوب، بہت حزب حال ہیں۔

    اگر یہ نفسا نفسی قتل،غارت دیکھ لے اقبال
    کہے گا حیف سب قربانیاں کیں رایگاں میری
    سیمیں برلاس

  12. نورالصباح رحماں(سیمیں برلاس) UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 3:15 am

    صفدر ہمدانی صاحب کے یہ اشعار بہت اچھے لگے

    زرادری ہو شہباز ہو الطاف یا اسفند
    ان میں سے ہر اک شخص حکومت پہ ہے قربان

    یہ پیام دے گئی ہے مجھے جذبوں کی حرارت
    جو عوام کے ہیں دشمن اُنہیں کے لیئے صدارت

  13. الماس منظر نے لکھا؛

    September 9, 2008 at 11:18 pm

    اسلام و علیکم نورالصباح سیمیں برلاس آج آپ کی تحریر پڑھی خوشی ھوئی۔ آپ کی شاعری کی کتاب ندا پڑھی تھی آپ کی شاعری بہت اچھی لگی ۔آپ کے اشغار بہت سچے اور دل کو چھو لیتے ھیں۔کیا ھی اچھا ھوتا اگر آپ اپنے کچھ اشعار بھی لکھ دیتیں ۔

  14. الماس منظر امرییکہ مشیگن نے لکھا؛

    September 10, 2008 at 12:55 am

    اسلام و علیکم میں آج تک آپ کے اس پیج کی خاموش ناظر تھی آج سیمں برلاس کی تحریر پڑھی ۔ میں نے ان کی شاعری کتاب ندا پڑھی تھی بہت ھی پسند آئی۔آپ کے اشعار ذندگی کو چھو لیتے ھیں ۔آپ کی شاعری میں مقصدید ھے۔کیا ھی اچھا ھوتا اگر آپ اپنی اس تحریر کے ساتھ اپنے کچھ اشعار بھی تحریر کر دیتیں۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو