گونگی عورت
بہت دفعہ ایسا ھوتا ھے کہ مجھ سے مشورہ مانگنے والے مجھے اداس کر جاتے ھیں ۔ عورت کا دکھ کئی رنگوں میں اپنا آیئنہ ساتھ لیئے پھرتا ھے ۔۔ ایسے ھی ایک پس منظر میں لکھی گئی نظم آپ دوستو کی نظر ۔
تم کیسی مسیحا ھو
کچھ بھی کہتی نہیں ھو
بس ایک ٹک دیکھے جاتی ھو
سب سنے ھی جاتی ھو
تمہیں بھلا اٍس سے کیا
ھیمن تو میرا ھے نا
الگ تو وہ مجھ سے ھوا ھے نا
ایک ماہ سے گھر نہیں آیا نا
مجھے یاد ھے
میں تب اُس سے ملی تھی
مجھے جب جانتا کوئی نہ تھا
میں گلستان ٍ محبت کی حسین کلی تھی
شہرٍ محبوباں کی ایک چہکتی بلبل تھی
تمہیں کیا بتاؤں میری مسیحا
میرا ھمین کیسا دکھتا تھا
یہ لمبا قد
سرخ ھنستا چہرا
باتوں میں شرارت
آنکھوں میں رمز
ایسے چلتا تھا مانو کہ دل میں اترتا تھا
مجھے یاد ھے ابھی تک
چرچ میں اُس نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا
نیلے اسکارف میں سنہری بالوں کو چھپائے
نیلی آنکھوں کو جھکائے
میں کچھ یسوع مسیح سے مانگ رھی تھی
اور میرا ھمین مجھے دیکھ رھاتھا
وہ مجھے یسوع سے مانگ رھا تھا
تم نہیں جانتی
میرا ھیمن بیس سال سے میرے اندر بستا ھے
میرے لہو میں بولتا ھے
میری روح میں گونجتا ھے
اُس نے مجھے شجر سایہ دار کیا
میرے مکاں کو گھر کیا
میری مسیحا کچھ تو کہو
وہ کیوں لوٹ کر نہیں آیا
کیوں میرے گھر میں بھی کوئی در نکل آیا
کیوں میری ھی محبت کو اجاڑنے کوئی آیا
میرا ھیمن کہتا تھا
وہ یسوع کا بھگت ھے
صرف پیار اور معافی پہ یقین رکھتا ھے
میری مسیحا
میں مسلمان عورت نہیں ھوں
جو خود کو چارحصوں میں بانٹ لوں
اور
اپنے حصے کی چادر اوڑھ کر سو رھوں
پر انتظار پورا کروں
میں تم جیسی نہیں ھوں
میری مسیحا
بس سنتی رھوں
دیکھتی رھوں
اور
گونگی رھوں ۔۔۔۔۔
مزید نظموں کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔http://www.shaairi.net/poetry/articles/41/1/-/Page1.html































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
June 5, 2008 at 5:09 am
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ۔ آپکی نظموں کی خوبصورتی انکا ساحرانہ تاثر ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ آپکی اکثر نظموں میں آپکے پروفیشن کی جھلک نظر آتی ہے جو ایک اور خوبی ہے وگرنہ شعرا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے پروفیشن کو شاعری میں استعمال کرتے ہوں ۔ آپ کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ ایک معالج ہونے کے ناطے آپ کے سامنے اتنی کہانیاں اور موضوعات ہیں جنہیں آپ اپنی شعر گوئی کا موضوع بنا سکتی ہیں۔ اسی ناطے سے آپ ایک کامیاب معالج اور ایک مقبول شاعرہ ہیں۔ اللہ پاک کو دونوں شعبوں میں سرخرو رکھے۔آمین
علی شاہ
نے لکھا؛
June 5, 2008 at 5:34 am
بہت اچھوتی نظم۔ داد قبول کیجیئے
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
June 5, 2008 at 10:43 am
بہت خوب کل اپنے ھی لکھے ھوئے خطوط پڑھ رھی تھی سوچا عورت پر لکھا ہوا مضمون صفدر بھائی کو میل کروں اب آپ کی گفتار کے سامنے ایسا نہیں کرسکتی لیکن یہ کہنا لازمی ہے گونگی چیخ کانوں کو بہرہ کر دیتی ہے سکوت کی چیخ اتنی بلند ہوتی ہے کہ سنائی نہیںٍ دیتی۔ نگہت خانم لاجواب لکھا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 5, 2008 at 5:46 pm
نظم کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 5, 2008 at 6:06 pm
سعیدہ آپا واقعی آپ نے سچ کہا سکوت بھری چیخیں سننے والے کان ھی کام نہیں کر رھے ھوتے ۔۔ ارے یہ کیا آپ اپنا مضمون ضرور بھیجیں پلیز ۔۔ ھم سب کو بہت خوشی ھوگی اُسے پڑھ کر ۔انتظار رھے گا ۔۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 8, 2008 at 3:20 am
ایک اچھوتا خیال اور منفرد طریق اظہار ۔ بہت اچھا لگا ۔ خاص کر یہ سوال اٹھایا جانا کہ
“ میں مسلمان عورت نہیں ھوں
جو خود کو چارحصوں میں بانٹ لو“
میرے خیال میں یہاں لفظ “ لوں “ ہونا چاہیے تھا۔ بہر حال ‘ اب آپ برادرم مکرم سمجھوتہ صاحب سے ذرا بچ کے ر ہیئے گا ۔ ان کی تنقید کا پتھر بہت بھاری ہوتا ہے ۔
“ ایک خاموش چیخ‘ بہرے کان بھی پھاڑ دیتی ہے “ ڈینش زبان کے اس محاورے پر آپ کی نظم پوری اترتی ہے اور “ گونگی عورت “ کو جو“ قوت گویائی “ آپ نے دی ہے وہ واقعی میں آپ کے فن کی گہرائی و گیرائی کی گواہ ہے ۔ مبارک ہو ۔
وسلام ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 8, 2008 at 5:27 am
نصر بھائی آپ نے درست فرمایا کہ “لوں “ ھی ھونا چاھیئے تھا ۔ میں ابھی اور اٍسی وقت اٍسے ٹھیک کرتی ھوں ورنہ بھائی سمجھوتہ کی کلاس کون اٹیند کرے گا ۔۔ آپ نے ڈینیش زبان کے محاورے کی بات کی مجھے خوشی ھے کہ آپ کو لگا کہ ایسی ھی کوئی بات نظم میں تھی ۔ بہت بہت شکریہ ، آپ نہیں جانتے کہ آپ کی قیمتی رائے سنورنے میں کتنی مددگار ھوتی ھے ۔
نادیہ شاہد
نے لکھا؛
June 8, 2008 at 6:45 pm
بہت خوبصورت نظم ، ایک الگ طرح سے لکھی ھوئی مشرقی پکار .
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 8, 2008 at 6:48 pm
بہت شکریہ نادیہ . آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید . اب آتی جاتی رھیئے گا . آیئندہ بھی آپ کی رائے کا انتظار رھے گا .