پاکستانی عوام کا شعور بیدار ہو گیا ہے
ملک کے کونے کونے سے ھر فرد نے بغیر کسی حوالے اور تشخص کے نہ صرف لانگ مارچ میں حصہ لیا ۔بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ھم اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکل کر نہ صرف سڑکوں پر آ سکتے ھیں بلکہ دھرنا بھی مار کر بیٹھ سکتے ھیں اور وہ بھی ایسا پُر امن کہ اس لانگ مارچ کے دشمن بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔http://www.alqamar.info/blog/2008/06/14/long-march/































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
June 15, 2008 at 12:17 am
ڈاکٹر نگہت صاحبہ.
میں خود بھی اس موضوع پر لکھنا چاہتا تھا لیکن آپکی تحریر پڑھ کر یوں لگا کہ”گویا یہ بھی میرے دل میں تھا”. اس سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں اور اتنی طویل مسافت کے دوران ان احتجاج کرنے والوں نے سرکاری املاک یا دیگر عمارتوں وغیرہ کا ایک پیسے کا نقصان نہیں کیا. یہ جھلک تو اکثرترقی یافتہ ممالک کے احتجاجی مظاہروں کی تھی کہ کہاں بڑے سے بڑے مظاہرے میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اسکی ایک بڑی وجہ قیادت ہے اور دوسرے ہمارے ملک کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ شامل نہ ہونا کہ یہ ایجنسیاں حکومت کے اشارے پر ایسی حرکتیں کرتی ہیں. قابل مبارکباد ہیں وکلا انکی قیادت اور احتجاج میں شرکت کرنے والے وہ عوام جنکے ہاتھ میں اس ملک کی تقدیر ہے.
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 15, 2008 at 1:42 am
محترمہ نگہت صاحبہ ۔
پاکستان میں وکلا کے احتجاج کے حوالے سے آپ کی تحریر اور اس پر محترم صفدر ھمٰدانی بھی کی رائے اور آپ دونوں کے ساتھ ساتھ اسی موضوع پر محترم برادرم سید مصباح حسین صاحب کی تحریر اتفاق کرتے ہوئے کئی ایک سوال ذہن میں گردش کررہے ہیںکہ جب لیاری سے خیبر تک “ عوام “ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو موجودہ حکومت اور قصر صدارت لرز کر زمیں بوس کیوں نہیں ہو گئے کہ “ نشستن ‘ برخاستن ‘ بر خاستن نشستن “ کب تک جاری رکھی جائے گی اور کیا وقعی میں اس کے کوئی “ مثبت نتائج “ برآمد ہونگے؟ اس بارے میں ‘ مَیں برادرم مصباح صاحب سے مفتق ہوں کہ “ عوام کا جم غفیر جو اسلام آباد میں دیکھنے کو ملا کاش کہ “ قوم “ کا ا کٹھ ہوتا ۔ تو بات ہوتی ۔ بحیثت قوم ‘ تو پاکستانی عوام اب بھی منتشر ہیں اور نجابے ان کا یہ طرز عمل ختم بھی ہو گا کہ نہیں ۔ اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا کئی اعتزاز انہیں بیوقوف بنانےاور اعزاز پانے میں مصروف رہیں گے اور کئی افتخار‘ ان کے نام پر فخر پانے کی کوششیں تو کرتے رہیں گے لیکن اُن کے مسائل کا حل نہیں نکال سکیں گے ۔
آویز۔برمنگھم ۔ نے لکھا؛
June 15, 2008 at 3:39 am
محترمہ نگہت نسیم۔
اپنی سمجھ سے باہر ہے کہ لانگ مارچ کا آخر آخری منزل پر پہنچ کر دھرنا نہ دینا۔بیرسٹر اعتراز
حسین کا بیان تھا کہ ہم وہاں اڑتالیس گھنٹے رہیں گے؟
پھر ایسے لانگ مارچ کا کیا فائدہ منزل پر پہنچ کرگیلے کارتوس کی طرح پُھس ہو جانا ۔؟
کیا ان کو پہلے معلوم نہیں تھا کہ وہاں منزل پر پہنچ کر وسائل کی کمی ہوجائے گی ؟
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 15, 2008 at 4:20 am
آپ سب کا اعتراض اپنی جگہ لیکن میں نے جس بات پر اپنی تحریر میں توجہ دلانے کی کوشش کی ھے ۔وہ یہ ھے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہر تحریک خون اور آگ سے بھری پڑی ھے ۔اعتزاز احسن نے ھمیشہ اپنی بیانات میں کہا کہ وہ پُر امن طریقے سے اپنی جنگ جاری رکھیں گے جو انہوں نے عوام کے جمٍ غفیر کو اکھٹا کر کے دکھا بھی دیا۔
مجھے ایک بات بتایئے اگر وہ سب سے کہہ دیتا کہ ھاں اڑتالیس گھنٹوں کا دھرنا مار کر بیٹھ جایئں یا صدر ھاؤس تک مارچ کر جایئں اور نکال لایئں اس فساد کی جڑ کو یہاں میدان میں تو کیا واقعی ایسے ھوجاتا ۔ مشرف تو جیسسے ایک عام سا آدمی ھے ، ھماری آپ کی طرح صرف ٹی وی ھی دیکھ رھا ھوتا اُس وقت ۔ جناب وہ اپنے حفظاتی انتظامات اور اپنی سیکیورٹی کے ساتھ ملتا ۔ میرے بھایئوں جوش اور جذبے اپنی جگہ لیکن دور انیشی اپنی جگہ ۔ یقین جانیئے میں آپ سب سے زیادہ یہی ھوتا دیکھنا چاھتی تھی لیکن سوچیے اٍس میں کتناخون خرابہ ھو جانا تھا ۔ اور دو
لاکھ لوگ جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان مرد اور عورتیں شامل تھیں اور پھر ھر طبقہ فکر کے لوگ تھے سب کے سب مرتے نا تو ذخمی تو ضرور ھی ھوتے ۔ اور وہ بھی دھکم پیل میں یا پولیس کے ڈنڈے لاٹھیوں سے ۔
اٍس ساری لانگ مارچ کا نتیجہ اتنا دور رس نکلے گا کہ ھم سب بھی حیران رہ جائے گے ۔ اعتزاز احسن نے بتانا تھا کہ عوام سڑکوں پر آ سکتی ھے اور وہ آ گئی ۔۔وہ یہ بتانا چاھتا تھا کہ اُس کی آواز عوام تک جاتی ھے جس پر لوگ آ بھی سکتے ھیں ، جا بھی سکتے ھیں اور پھر سب نے دیکھا کہ پوری عوام صرف اُس کے کہنے سے بغیر دھرنا دیئے اوربغیر توڑ پھوڑ کیے چلی بھی گئی ۔ وہ حکومت اور اُس کے ایوانوں پر مثبت دباؤ ڈالنا چاھتا تھا کہ ھم پُرامن لوگ ھیں ھنگامہ نہیں چاھتے لیکن اُس کی آواز میں کڑوروں عوام کی آواز شامل ھے اور وہ جب چاھے ھنگامہ آرائی بھی کر سکتے ھیں ۔ اور یہ مثبت پیغام حکومت کو ملا بھی ، اب اپنی ھار ماننے کے لیئے جگر تو چاھیئے نا اور وقت بھی ۔ جب تک یہی لگے گا جیسے لانگ مارچ بس جون میں مل بیٹھنے کاایک مارچ ھی تھا ۔
میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ میں پُر امن ساست کا ایک نیا باب رقم ھوا ھے اور میرا اٍس بات پر یقین ھے کہ ھم پُر امن احتجاج کو جاری رکھتے ھوئے بھی ایوانوں کو ھلا سکتے ھیں اور آیئنی انقلاب لا سکتے ھیں ، ھمیں یہ بات نہیں بھولنی چاھیئے کہ ھمیں پاکستان کا سیاسی اور معاشی ڈھانچہ آمروں سے آزاد کرانا ھے نہ کہ پاکستان کو ۔ پاکستان ھم سب کا ھے اور ھمیشہ رھے گا ۔ وہ ھمارا بھی اتنا ھے جتنا اُن کا ھے ۔ جنگ یہ ھے کہ اب ھم سب یہ بھی چاھتے ھیں کہ پاکستانی نظام میں بھی ھماری شمولیت ھو اور ھمارے حق میں بھی انصاف اور حقوق کی پاسداری حکومتٍ وقت کہ زمہ داری میں شامل ھو ۔ اور یہ حدف حاصل کرنے کے لیئے اپنے ھی لوگوں کو جلد بازی اور جوش میں مروا دینا کہاں کی دانشمندی تھی ۔
مصباح
نے لکھا؛
June 15, 2008 at 11:39 am
محترم نگہت بہن۔
سلام۔ آپکے صادق جذبوں سے بھری تحریر پڑھی۔ آپکی رائے اور تجزئے میں کوئی بات قابل ریب نہیں۔ مضمون زبان اور انداز دونوں کے معیار سے القمر پر ایک خوبصورت ستارے سے کم نہیں۔ لیکن کیا کریں کہ پاکستان کا اونٹ ابھی بیٹھا نہیں اور میں اپنی طوطی لئے سمع خراشی کو حاضر۔ چند معروضات ہیں جو صرف پاکستانی سیاست کا شاہد ہونے کے ناطے لکھ رہا ہوں اور یقینا آپ بھی ان سوالات کو توجہ کا طلب پائیں گی۔
جہاں تک اس لانگ مارچ میں عوام کی شمولیت کا تعلق ہے تو اس میں کوئی کلام نہیں۔ میں خود بھی پاکستان میں ہوتا تو شاید اس العوام کالانعام کے جمگھٹے میں شامل ضرور ہوتا ہے لیکن جس کو الراعی والمسئول عن الرعیتہ کہا جاتا ہے، وہ اس عوامی گلے (ھورڈ) کے ساتھ کیا تماشہ دکھا رہے ہیں؟ اللہ کرے کہ ہمیں نہ رکنے والے حیرانی کا سامنا کرنا پڑے اور اس لانگ مارچ کے نتائیج عوام کو مل سکیں۔ لیکن کیا سچ یہی نہیں کہ اس سارے کھیل میں حکومت وکلاء نامی جتھے کے ساتھ بھر پور تعاون بھی کر رہی تھی۔ جب انہیں منزل مراد تک روکا ہی نہیں گیا تو نقصان کا اندیشہ کیسا؟ پھر یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ اگر دو لاکھ وکیلوں کا جم غفیر ایسی ہی توڑ پھوڑ کرے جو جہلاء کرتے ہیں تو پھر ان میں اور جاہلوں میں کیا فرق؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر کوئی بچہ گلاس نہ توڑے تو اسکو شاباش نہیں ملتی، لیکن توڑنے والے کو پرسش کی جاتی ہے۔ اس جلوس میں توڑ پھوڑ نہ کرنے پر شاباش کیسی؟۔۔۔۔
میری نظر میں اس تحریک کی حقیقت ہر سال پانچ فروری کو پاکستان میں پہیہ جام کشمیر ڈے سے زیادہ کچھ نہیں، جس میں کام چور عوام کو ایک اور چھٹی کا دن مل جاتا ہے اور ہندوستان ہمارے کاروبار ایک اور دن ٹھپ ہونے پر خوش۔ اس احتجاج میں نجانے کتنوں کو مزدوری نہ ملی اور کتنے غریب بھوکے سوئے۔ کاش ان کو اس بھوک اور غربت جھیلنے کا صلہ بھی ملا ہوتا! کیوں نہ ایوان صدر کا محاصرہ کیا گیا جبکہ پنجاب کی حکومت مکمل طور پر ساتھ دے رہی تھی اور مرکزی حکومت بھی اندر کھاتے ساتھ ہی تھی۔ اب جب مشرف کو غیر محفوظ اخراج پر مجبور کیا جا سکتا تھو تو کیوں نہ گیا، جبکہ اکثریت اسکے ساتھ کسی رعایت کے حق میں نہیں؟لیکن کیا ہوتا کہ اگر مشرف گھبرا کر عوام کو ساری ڈیلز کی رام کہانی بتا دیتے۔ شاید اسی لئے صدیوں کا سفر لمحوں میں طے کرنے والوں نے ، لمحوں کا سفر صدیوں میں بدل دیا گیا ۔۔ افتخار صاحب کو تو خبر ہو یا نہ ہو، لیکن مشرف اور مرکزی حکومت اعتزاز صاحب کے اس لئے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بجٹ، غربت اور امریکی حملے سمیت نجانے کتنے مسائل سے عوام کی توجہ مسلسل موڑ رکھی ہے۔ پاکستان پر کئی بار امریکی حملہ ہوچکا ہے، کہاں ہے ہماری حمیت؟ ڈر یہی لگتا ہے کہ یہ سب مشرف کی بچھائی ہوئی بساط ہی نہ ہو! یا پھر جیسا کہ وسائل کی کمی کا کہا گیا۔۔۔اگلی قسط کے اجراء کا انتظار باقی ہے۔
پھر میرا آخری سوال کہ بایں ہمہ اب بھی قائم ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں اور مارکیٹوں میں بم دھماکے کرنے والے نام نہاد دہشت گرد کہاں تھے؟ کہیں اسی جلوس میں شامل تو نہ تھے؟ ۔۔۔۔بہت عجیب صورتحال ہے۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 15, 2008 at 11:55 pm
محترم و محترم مصباح بھائی صاحب ۔ دائم اقبالہ‘
سلام مسنون ۔
وکیلوں کے لانگ مارچ کے حوالے سے اس بلاگ پر لکھی گئیں تحریروں کے مطالعے سے کہیں تو یوں لگا کہ پوری قوم اپنے ہمسایہ “ چینیوں “ کی طرح “ لانگ مارچ “ کر رہی ہے اور اب قصر صدارت کی اینٹ سے انیٹ بجا دی جانے والی ہے اور کہیں یہ تاثر بھی ابھرا کہ پاکستان کا “ مَوزے تُنگ “ اعتزاز احسن اور اس کا ساتھی “ چُو این لائی “ وہ چوھدریوں کا چوھدری “ افتخار حسین “ اب “ فخر پاکستان “ کے طور پر عوام کو ان کے دکھوں سے نجات دلا دیں گے‘ لیکن وائے قسمت ‘ ہماری خواہشیں ‘ آرزوئیں اور تمنائیں سب دھری کی دھری رہ گئیں اور “ کھودا پہاڑ نکلا چوہا “ کے مترادف “ اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے “ چوہوں “ میں سے کوئی ایک بھی “ بلی “ کے گلے میں گھنٹی تو کیاباندھتا اس کے قریب تک نہ جا سکا ۔ یہ ایک معمہ ہی ہے اور آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ “ نام نہاد پُر امنی “ کا یہ پڑاؤ اصل میں کس کی اور کیا سازش تھی ۔ کہ عوام کو اتنے دن تک بیوقوف بنائے رکھا ۔ بہرحال اب “ تماشا دکھا کر مداری گیا۔“ اور دور سرمایہ داری وہیں کا وہیں ہے ۔
میرے محترم مصباح بھائی آپ کا سوال واقعی میں بہت گہرا اور توجہ طلب ہے ۔ اے کاش میں اس کا جواب دے سکتا لیکن کیا کہوں آپ نے سوال کے اندر ہی جواب بھی خود ہی دے دیا ہے۔ کیا خوب بات کہی ہے آپ نے یعنی “ یہ خودکش حملہ آور یہ دہشتگرد اور بمبار “ کہیں اسی جلوس میں شامل تو نہ تھے؟ اور جہاں یہ بات ہو وہاں آپ ہی بتلائیے کہ ہم بتلائیں کیا؟؟
اللہ آپ کو اپنی پناہ میں رکھے اور آپ ہماری ذہنی ‘ و روحانی رہنمائی فرماتے رہیں ۔
آپ کا خاکسار
نصر ۔
خاور کھوکھر
نے لکھا؛
June 18, 2008 at 1:48 am
جناب !ـ
میں نے آپ کو ٹیگ کرنے کی جسارت کردی ہے
امید ہے که آپ کو ناگوار نہیں گزرے گا ـ
تکلیف دهی کے لیے معذرت خواھ
خاور کھوکھر