Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ضمیر کا سوال ۔

دوستو’ ساتھیو! آپ سب کی نذر ایک بہت ہی مختصر کہانی جس پر آپ سب کی بے تکلفانہ رائے کا منظر ہوں۔ دیر نہیں کیجئے گا۔
وسلام ۔ نصر ملک ۔
ضمیر کا سوال ۔
از ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نامور سیاستدان کو ریڈیو کے سلسلہ وار پروگرام “ ضمیر کا سوال “ میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا ۔ میزبان صحافی کے لیے سیاسی بحث مباحثوں کے دوران سیاستدانوں سے ٹکر لینا اور اُن سے اپنے سوال کا جواب لینا ایک طرح سے معمول بن چکا تھا۔ اُس نے چھوٹتے ہی پہلا سوال کیا ؛

سیاست میں تو یہ بہت بڑی دھوکا بازی ہی کہی جا سکتی ہے کہ نعرے کچھ لگائے جا رہے ہوں اور حقیقت و سچ کو چھپایا جا رہا ہو؟

ہاہاہا! سیاست دان کھسیانی ہنسی ہنسا۔ “ کیا یہ ایک سوال ہے؟ “

صحافی نے مسکراتے ہوئے اپنی گردن کو نیچے اوپر جھکایا اٹھایا۔ اشارہ یہی تھا کہ “ ہاں ‘ یہ سوال ہی تو ہے!“
“ ہاں!“ سیاستدان بولا ۔ “ میں اسے مسترد نہیں کروں گا کہ بعض پیشہ وارانہ صورتوں میں ایسا ہو سکتا ہے جہاں کوئی اپنی ہی پارٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ صرف پارٹی ہی کو نہیں اپنے ملک کو بھی اور وہ یوں کہ اگر کوئی کسی اہم ترین بات کو قبل از وقت منظر عام پر لے آئے ۔“

“ اچھا!“ صحافی نے مداخلت کی ۔ “ لیکن سیاستدان عوام سے کچھ نہ کچھ تو ہمیشہ ہی پوشیدہ رکھتے ہیں ‘ ہے نا ایسا ہی ؟ “

“ ہاں ‘ ہمیں اس کے بارے میں کچھ تو کرنا ہی ہو گا ۔ “ سیاستدان پہلو بدلتے ہوئے بولا ۔ اس کی آنکھیں صحافی کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں ۔

“ کوئی یہ بھی تو تاثر لے سکتا ہے کہ “ سیاست میں جھوٹ اور سچ کے درمیاں حدیں مستقل ہوتی ہیں نہ ٹھوس ۔“ صحافی بولا ۔

“ صرف یہی نہیں !“ ابھی سیاستدان کچھ آ گے بولنے ہی والا تھا کہ صحافی نے پھر مداخلت کی اور ضمیر کی خلش بارے ایک سوال داغ دیا ۔

“ ایک سیاستدان کی حیثیت میں کیا کسی کو کبھی اس کا ضمیر ملامت نہیں کرتا کہ وہ اپنی انتخابی تحریک کے دوران لوگوں سے وعدے تو کرتا ہے لیکن انہیں کبھی پورا نہیں کرتا ؟ “

سیاستدان نے تعجب آمیز نگاہوں سے صحافی کو یوں دیکھا جیسے اسے اس سوال کے پوچھے جانے کی بالکل توقع ہی نہیں تھی ۔

“ ہاں “ وہ بولا ۔ “ انتخابی تحریک کے دوران تو سیاستدان رائے دھندگان کا منڈیٹ حاصل کرنے کے لیے ان سے درخواست کرتا ہے تاکہ وہ اُس سیاسی عمل کو پورا کر سکے جس کے لیے وہ میدان میں آیا ہے ۔“

صحافی نے یہاں فوری مداخلت کرتے ہوئے سیاستدان کو پھر ٹوکا ۔ “ تو جب سیاستدان عملدرآمد نہیں کرتا تو کیا یہ رائے دھندگان کا ہی قصور ہوتا ہے ؟ ۔

“ ہیلو!“ سیاستدان نے قدرے اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی ۔“ تمھیں سیاسی زندگی کےاتار چڑھاؤ اورضروریات کو سمجھنا چاہیے ۔۔۔۔ کچھ سیاستدانوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوپاتا کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنی سیاست کو “ قوت کے بل بوتے پر “ لاگو کر دیتی ہیں ۔ ہم کسی آمرانہ حالات میں تو رہتے نہیں !“

لیکن ایک سیاستدان کے طور پر کیا کوئی اِدھر اُدھر‘ یہاں وہاں ‘ اپنی غیر معمولی ذہانت استعمال کرتے ہوئے ہاتھ پاؤں نہیں مارتا کہ اپنی سیاسی قوت کا تحفظ کر کسے اور حکومت کو قائم رکھ سکے آخر جب تک وہ کوئی نیا لائحہ ء عمل نہیں اپنا لیتا اس کے پاس ایک “ معیاری نعرہ تو ہوتا ہی نا !“ صحافی بولا ۔

“ یہ ضرب المثل میں پہلے بھی سن چکا ہوا ہوں ۔“ سیاستدان نے مائیکروفون کی ایک جانب سے صحافی کو دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی۔ “ قوت بلکہ اقتدار کے بغیر یا پھر یوں کہا جا سکتاہے کہ پارلیمان میں اکژیت کے بغیر ‘ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔ اور سیاست میں تو صرف نتائج ہی سامنے رکھے جا سکتے ہیں ۔ وہاں اپنے مطالبات کو غیر مشروط بھی تو پیش کیا جا سکتا ہے بدیگر الفاظ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں کسی اثر و رسوخ کے بغیر مطالبات پیش کر دیئے جائیں یا پھر کسی اور کے حق میں ان کے مطالبات کے پیش نظر اپنے نظریئے سے دست بردار ہو جایا جائے اور یوں وہ کچھ حاصل کر لیا جائے جو بالکل ہی اپنے نظریئے سے مختلف ہو لیکن اس “ کچھ “ کا حصول بھی تو تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب وہاں “ کچھ “ موجود ہو۔ اور پھر “ توازن “ کا سوال تو ہمیشہ ہی ہوتا ہے ۔ کچھ لو اور کچھ دو کے بغیر تو جمہوریت کچھ بھی نہیں !“

“ لیکن کچھ لو اور کچھ دو پر اتفاق کرنے والے اِس پر متفق کیوں نہیں ہوتے کہ انہیں اقتدار صرف حکومت کرنے کی خاطر نہیں چاہیے ؟ “ صحافی نے پوچھا۔ “ یہاں اکژیت برائے اکثریت کیا معنی رکھتی ہے؟ اور اسی کے ساتھ ہی کیا یہ ممکن نہیں کہ پوری پارلیمان“ یک مٹھ‘ اکژیت “ میں اکثریت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس سیاسی لائحہء عمل کو پورا کرے جس کے لیے وہ وعدے کر چکی ہوتی ہے ؟ “

“ ہاں ! میں اس کے متعلق مسائل کو مسترد تو نہیں کرسکتا ۔ یہ حکومت ہی تو ہے جو اتنے طویل عرصے سے قائم چلی آ رہی ہے ۔ لیکن میں محسوس کر چکا ہوں کہ مجھے حکومت کی پالیسیوں پر ہی عمل کرنا ہے کیونکہ تم ‘ صحافی بھی تو قوت کو اس کے استعمال کئے جانے کی ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہو ۔ سیاست تو بس یوں پیش کی جاتی ہے جیسے “ سیاسی کھیل “ ہو ۔ یوں نہیں کہ یہ نتائج خیز کام ہے ۔ یہ سب کچھ تو بعد کی باتیں ہوتی ہیں ۔ “ سیاستدان ابھی مزید کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنے ہی والا تھا کہ صحافی بول پڑا ۔

“ لیکن کبھی تھمیں یہ احساس نہیں ہوا ‘ تم نے کبھی کسی سے یہ نہیں سنا کہ سیاست میں تمھیں بصارت و بصیرت کی بھی ضرورت ہے؟“

“ تو کیا ایسا نہیں ہے؟ “ سیاستدان چونک کر بولا ۔

“ یہ باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ تم نے جو وعدے انتخابی تحریک کے دوران کر رکھے ہوتے ہیں تم انہیں پورے کردو گے ۔ دراصل وہی لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ تم اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکو گے ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں بصارت و بصیرت کی ضرورت ہے لیکن یہ سیاسی بصیرت و بصارت کوئی انتخابی وعدے تو ہیں نہیں ‘ لیکن چلو ہم مان جاتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔“ سیاستدان اپنے کاندھوں کو اچک رہا تھا ۔

“ رائے عامہ کے سروے تو یہی تاثر دیتے ہیں کہ عوام الناس کی بہت بھاری اکژیت کی جانب سے کچھ ایسے مطالبات بھی پیش کئے جا رہے ہیں جنہیں سیاسی لحاظ سے پورا ہی نہیں کیا جا سکتا یا یوں کہہ لیں کہ سیاست میں اُن کے پورا کئے جانے کی گنجائش ہی نہیں؟“ صحافی اپنا سوال داغ چکا تھا ۔

“ مثلاََ َ ؟ “ سیاستدان نے صحافی کے چہرے پر نظریں جما رکھی تھیں ۔

“ یہی کہ عوام “ حاکم اعلیٰ “ کا “ احتساب چاہتے ہیں اور وہ ملک میں “ انصاف “ چاہتے ہیں ۔“ صحافی نے اپنے قلم سے سیاستدان کی طرف اشارہ کیا جو سٹوڈیو کی دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھ رہا تھا ۔

“ یہی تو ایک سازش ہے ۔ یہ ایک عالمی سازش ہے۔“ سیاستدان ‘ سٹوڈیو کے مائیکروفون کی میز پر پڑی ہوئی تار کو انگلیوں میں مسلتے ہوئے بولا ۔ “ وہ تو اور بھی لا یعنی قسم کے مطالبے کر رہے ہیں ‘ ہم جانتے ہیں لیکں ہم اس سے بھی آگاہ ہیں کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں یہ ایک سازش ہے ‘ سازش!“

“ سازش ہے تو اسے دبا کیوں نہیں جاتا ‘ قوت و اقتدار تو حکومت ہی کے پاس ہے نا؟ “ صحافی بھی پہلو بدل چکا تھا ۔

“ نہیں ‘ ایسی بات نہیں ۔“ سیاستدان نے میز پررکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک گھونٹ پانی پی کر اپنا گلا تر کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی “ در اصل ہم سیاستدان سب کا بھلا چاہتے ہیں ۔ ہم انہیں ضرور “ بامراد “ دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی بھلائی ہی ہمارا نصب العین ہے لیکن انہیں اپنے مطالبات کے پیچھے اپنی “ نیک نیتی “ بھی تو ظاہر کرنی چاہیے ۔ وہ بھی اس سلسلے میں بٹے ہوئے ہیں کوئی کسی طرح سے چاہتا ہے کہ یوں ہو اور کوئی اپنی ہی راگنی الاپ رہا ہے کہ یوں ہو اور ان کی اس “ یوں “ اور یوں “ کے درمیان ‘ اب تم ہی بتاؤ کہ ہم سیاستدان کیا کریں ۔ ہم تو وہی کر سکتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں ‘ اور جو ہم کر سکتے ہیں وہی تو ہم کر رہے ہیں ‘ اور اب یہ نہ سمجھیں تو ہم کیا کریں؟ سیاستدان نے اب اپنی مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں اوراس کی نگاہیں کبھی صحافی کے چہرے پر اور کبھی سٹوڈیو کی گھڑی پر پڑ رہی تھیں ۔

“ لیکن تمھارا اپنا ضمیر کا کہتا ہے َ کیا اسے کوئی کچکولے لگتے ہیں ؟ “ صحافی کے ہونٹوں پرتمسخرانہ مسکراہٹ ابھری ۔

“ مجھے اُن لوگوں کی رائے کا بھی تو احترام کرنا ہے جنہوں نے مجھے چھوڑ ‘ کسی بھی انتخابی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا اور یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ ہمیں اقتدار میں لانے والوں یعنی میرا مطلب ہے ہمیں ہمارے انتخابی وعدوں کی بنا پر ووٹ دینے والوں کے مقابلے میں اُن کی تعداد کہیں زیادہ ہے تو پھر یہاں تم بار بار ضمیر کا سوال بیچ میں کیوں لے آتے ہو ۔ میں کسی سے کوئی دھوکا تو نہیں کر رہا میں تو ایک ایسی “ سیاسی اکژیت “ کی بات کر رہا ہوں جس کی نمائندگی کرنے والا کوئی ہے ہی نہیں ۔ اب اگر میں ان کا ساتھ دیتا ہوں تو اس میں ضمیر کا کیا سوال ہے اور اس میں برائی کیا ہے؟“ سیاستدان ایک لمحے کے لیے رکا اور سٹوڈیو کے مائیکروفون کو چھوتے ہوئے پھر بولا ۔“ میں اکثریتی رائے کو تو کبھی نظر انداز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔“ صحافی ابھی بحث کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن سٹوڈیو کی “ سرخ بتی “ نے وقت ختم ہونے کا اشارہ دے دیا ۔ اب اشتہارات کے نشر ہونے کا وقت تھا ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

8 تبصرے »

  1. خاور کھوکھر JAPAN نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 1:24 am

    تحریر کچھ خشک سی ہے ـ
    لیکن ہے اچھی !ـ

  2. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 2:27 am

    محترم خاور کھوکھر صاحب
    آپ کے نزدیک “ تحریر خشک سی ہے ‘ لیکن ہے اچھی ۔ “
    اب آپ کی اس رائے کو کس خانے میں رکھا جائے ۔ آیا “ تحریر خشک سی ہے “ یا “ ہے اچھی؟ “
    یہ خشک کے ساتھ “ سی “ کا اضافہ اور پھر “ ہے اچھی “ بھئی بات سمجھ نہیں آتی ۔ اب میں اسے “ تر “ کیسے کر کے پیش کرتا ۔ موضوع ہی ایسا ہے ۔ آپ اس کہانی کے آخری پیرا گراف پر اگر غور کرتے تو آپ صرف “ تر“ نہیں بلکہ “ تر بتر “ ہوجاتے ۔ بہرحال آپ نے اس کہانی کو پڑھا اور جتنا بھی پڑھا اور جیسے بھی پڑھا اس کے شکریہ ۔ آگر آپ کچھ کھل کر لکھتے تو شاید میں کچھ کہہ پاتا اب اس مہمل سی بات کہ “ تحریر خشک سی ہے ‘ لیکن ہے اچھی پر میں کیا کہوں ۔“
    بھئی ہم کہانیوں میں تیل لگا کر تر کرنے کے قائل نہیں ہم تو سیدھی وہی بات لکھتے ہیں جو اپنی سمجھ میں آتی ہو اور جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے بھی اسے سمجھ جائیں گے ۔سوچ اپنی اپنی ‘ سمجھ اپنی اپنی۔
    وسلام ۔

  3. آویز۔برمنگھم ۔ نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 4:10 am

    پاکستان بننے کے بعد عرصہ دراز تک جب بھی معاشرے میں بگاڑ اور برائی پیدا ہوئی وہیں پر ہم نے کفار کی سازش اور انگریزوں کے پیدا کئے ہوئے فتنوں کا نام دے دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آج کل اس کا نیا نام عالمی سازشیں ہیں ۔ جس کا سر ہے نہ پیر ۔
    سڑک پر پولیس والا سرے عام رشوت لیتا ہے ۔ تھانے والے منہ مانگے رشوتیں مانگتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات جعلی شناختی کارڈ جعلی پاسپورٹ ۔نقلی ویزے مہیا کررہے ہیں ۔
    تاجر لوگ اپنے ہر کام میں ملاوٹیں کررے ہیں ۔ بڑا تاجر آٹے تیل کا خود ساختہ بحران پیدا کرتا ہے ۔ڈاکہ زانی اور ریپ عام ہے ۔دن کی روشنی میں سرے عام چور لیٹرے ہاتھوں سے موبائل چھین لیتے ہیں ۔ ڈاکڑحضرات کو فیس سے غرض ۔کوئی مرئے یا جئے ۔ملاوٹ والی اور جعلی ادویات سر عام بک رہی ہیں ۔ وکیل حضرات نقلی گواہوں سے بے قصور کو مجرم اور مجرم کو بے قصور۔
    لوگوں کی اکثریت بجلی کابل کم دینے کےلئے بجلی چوری کرتے ہیں ۔ٹیل فون اور بجلی کی چوری عام ہے ۔ پاکستان میں جدھر بھی نگاہ ماریں رشوت ملاوٹ ہیرا پیری اور بے ضمیری ہی بے ضمیری نظر آتی ہے ۔سیاست دان ان سےبھی دو ہاتھ آگے ۔
    ابھی ابھی ہارون عباس کا مضمون پڑھا ہے جس میں لکھا ہے ۔
    ُُ،،گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹرشمشاد اختر نے کہا ہے کہ سیاستدان اور ارکان اسمبلی غیر قانونی کام کرنے کیلئے دھمکیاں دیتے ہیں،،
    پاکستان کے سیاستدانوں کا ضمیر دیکھ لیں ابھی حکومت میں آئے تین مہینے بھی نہیں ہوئے ۔؟ ضمیر کی اتنی بے صبری ؟
    ان سب سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ خطرناک اور مردہ ضمیر ۔ جس کے آگے سارے ضمیر جھک گئے ہیں وہ ہے ۔
    ۔دہشت گردی ۔
    اپنے آپ کو بم دھماکے سے اڑا لینا اور ساتھ ہی بے گناہ معصوم لوگوں کی جان بھی لے لینا۔ اور ایسے بے ضمیر اسلام کے دعویدار مساجد اور نمازیوں کو بھی نہیں بخشتے۔
    دہشت گرد کو تیار کرنے والے اور اپنے آپ کو بم سے اڑانے والے ۔۔۔؟
    یہ بھی ایک ضمیر ہے یا عالمی سازش ؟
    کیا یہ سب عالمی سازشوں کی وجہ سے ہر ایک نے اپنا اپنا ضمیر فروخت کردیا ہے ۔ ؟ ؟

  4. نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 1:19 pm

    آویز بھائی ۔ سلام مسنون ۔
    واہ‘ کیا کمال کردیاہے آپ نے ۔ پوری “ چارج شیٹ “ نہیں “ پاکستانی قوم کا “ وایٹ پیپر “ جاری کردیا ۔ میری کہانی میں صحافی ‘ وقت کی کمی کی وجہ سے “ سیاستدان “ سے جو سوال پوچھنے سے رہ گیا وہ سبھی آپ نے کر دیئے ۔ قوم‘ خود اپنے اعمال و کردار کو اپنے خلاف “ عالمی سازشیں “ قرار دے کر خود بری الذمہ ہو جانے کا ڈھونگ رچاتی ہے اور سیاستدانوں کا تو وطیرہ ہی یہی ہے ۔ اور جہاں یہ صورت حال ہو وہاں “ ضمیر “ کا سوال چہ معنی دارد۔
    میں آپ کے احساس ملت و وطن کو سمجھ سکتا ہوں ۔ اور آپ سے متفق ہوں کہ ضمیر فروشی ہی ہماری اصل بیماری ہے اور یہ صرف سیاستدانوں ہی کو نہیں پوری قوم میں “ ایڈز “ کی طرح پھیلی ہوئی ہے ۔
    آپ کی توجہ کے لیے مشکور ہوں ۔
    آپ کا خاکسار
    نصر ۔

  5. خاور چودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 5:51 pm

    ملک صاحب
    آداب عرض
    خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آویز جی کے بھر پور تبصرے سے مزید لطف آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ جزائے خیرے دے

    نیاز مند
    خاور

  6. خاور کھوکھر JAPAN نے لکھا؛

    June 18, 2008 at 1:48 am

    جناب !ـ
    میں نے آپ کو ٹیگ کرنے کی جسارت کردی ہے
    امید ہے که آپ کو ناگوار نہیں گزرے گا ـ
    تکلیف دهی کے لیے معذرت خواھ
    خاور کھوکھر

  7. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 9:55 am

    سوچ رھی تھی کہ کیا کہوں آپ سب کی اتنی اچھی آرا کے بعد ۔ بس یہی کہوں گی کہ جتنا ضمیر زندہ ھوتا ھے اتنے ھی زیادہ سوال نکلتے ھہیں سو ھمارے سیاست دانوں نے ضمیر نام کا روگ ھی نہیں پالا ۔۔ پھر بھلا کیسا سوال اور کس کا سوال ۔

  8. ملک نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 20, 2008 at 6:32 am

    محترم خاور کھوکھر ‘ بھئی آپ ہمیں ٹیگ کرنے کی کوشش کیوں کرنے لگے اور اگر آپ نے ایسا کر ہی لیا تو ہمیں اس سے کوئی عار مہیں ۔ محفل یاراں میں ایسی اونچ نیچ ہو ہی جاتی ہے لیکن اسے برداشت کیا جانا چاہیے ۔ چلئیے آپ کی خطا معاف ‘ اب ہماری طرف سے آپ ٹوکیو میں کہیں “ جا “ کر ایک “ پان “ کھایئے اور دل بہلائیے ۔ خوش رہیں ۔
    وسلام۔
    نصر ملک ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو