Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ہاتھ سے جنت بھی گئی!

جرمنی میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک معتبر نام اور معروف ادیب عارف نقوی کے تعاون سے ہمیں سید انوار ظہیر رہبر کا یہ خوبصورت افسانہ ملا ہے جس کے لیئے ہم دو حضرات کے ممنون ہیں۔ انوار ظہیر نوجوان قلم کار ہیں اور برلن میں رہائش پزیر اور اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں۔انکی شاعری کا مجموعہ ‘‘تجھے دیکھتا رہوں‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ القمر آن لائن انہیں اس بزم میں خوش آمدید کہتا ہے اور امید ہے تمام ساتھی انکی اس تخلیق پر اظہار خیال کریں گے۔(صفدر ھمدانی۔چیف ایڈیٹر)ہاتھ سے جنت بھی گئی!
اْسکے چیتھڑے اڑ چکے تھے ، سردھڑسے جدا ہوچکا تھا، عجیب سا دھماکا ہوا تھا بہت زور کی آواز ہوئی تھی، اسکے تن کے خون کا رنگ بھی سیاہ ہوگیا تھا جیسے خون میں آکسیجن کی آمیزیش بند ہوگئی ہو، پھر بھی اْسکا جسم کانپ رہا تھا جیسے ابھی کوئی رمق باقی ہو ۔ ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا ایسے میں اْسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اْس سے کچھ پوچھ رہا ہو :
’’ یہ تم نے کیا کیا؟‘‘
’’میں نے ، میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا!‘‘ اْس نے اْس انجانی آواز کو جواب دیا۔ ’’لیکن پہلے یہ تو بتاؤ تم ہو کون اور تم مجھ سے اس قسم کا سوال کیوں کررہے ہو؟ ‘‘
اْسنے اْس انجانی آواز سے پوچھا۔
’’ میں ، میں تو موت کا فرشتہ ہوں اس لیے تم مجھے بالکل صحیح صحیح جواب دو!‘‘
’’کیا تم موت کا فرشتہ ۔۔۔۔۔۔‘‘ ڈر سے اسکا جواب بھی ادھورا ہی رہ گیا۔۔مو ت کے فرشتے نے اپنا سوال دھرایا :
’’ ہاں بتاؤ یہ تم نے کیا کیا؟ تم نے آخران معصوموں کی جان کیوں لی؟کیوں بے قصوروں کو تم نے اس بے دردی سے مار ڈالا، اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بھی جان لے لی، آخر کیوں؟ ‘‘
’’ میں نے۔۔۔ میں نے وہ خوف سے ہکلا رہا تھا۔‘‘ موت کا فرشتہ پھر بولا:
’’ اچھا یہ تم ڈر کیوں رہے ہو؟ ڈرنا تو تم کواْس وقت چاہیے تھا جب تم نے اپنے جسم میں بم باندھا تھا ، اب کیوں؟ اب تو تم مرچکے ہو، اب کیسا ڈرنا؟ ‘‘
’’ میں مر چکا ہوں تو تم مجھ سے اتنے سوال کیوں کررہے ہو؟ مجھے تو میری تنظیم نے بتایا تھا کہ ایسا کرنے سے میں سیدھا جنت میں جاؤں گا، پھر یہ سوال جواب کیوں؟ تم موت کا فرشتہ ہو تو مجھے فوراً جنت میں لے کر چلو۔۔۔‘‘
’’ ہا ہا ہا ۔۔‘‘ موت کے فرشتے نے اْس کی یہ بات سن کر بہت زور سے قہقہ لگایا۔۔۔’’آہا تم جنت میں جانا چاہتے ہو، بہت خوب، معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کو ناحق قتل کرکے تم جنت میں جا نا چاہتے ہو، ارے تم نے تو اپنے جسم کا بھی خیال نہ رکھا جو خدا نے تمھیں امانت کے طور پر دیا تھا اور اس خودکش حملے میں خود کی بھی جان لے لی اور کہتے ہو کہ جنت میں جاؤ گے ۔‘‘
’’ہاں مجھے جنت میں لے چلو۔۔۔۔۔میری تنظیم نے مجھ سے یہی کہا تھا کہ ایسا کرنے پر مجھے فوراً جنت میں داخل کردیا جائے
گا ۔ ‘‘
’’اچھا یہ تم بار بار میری تنظیم میری تنظیم کی رٹ کیوں لگا رہے ہو ، آخر یہ تنظیم ہے کون؟ یہ تو بتاؤ ۔۔‘‘ موت کے فرشتے نے سوال کیا۔
’’ نہیں نہیں میں نہیں بتاسکتا اپنی تنظیم کا نام۔‘‘
’’ اچھا یعنی کہ تم اب بھی اپنی تنظیم کے وفادار ہو؟‘‘
’’ ہاں میں وفادار ہوں، کیونکہ انھوں نے مجھے بہت کچھ بتایا تھا، بہت سارے وعدے کیے تھے انھوں نے مجھ سے۔‘‘
’’ آہا ، اچھا یہ تو بتاؤ کیا وعدے کیے تھے ؟
’’ بتا تو رہا ہوں، تم مجھے جنت میں لے چلو میں تم کو سب کچھ بتادوں گا۔‘‘
’’جنت میں اور تم کو؟‘‘ موت کا فرشتہ پھر عجیب سے انداز میں ہنسا۔ ’’ارے تم تو ایسے گنہگار قاتل ہو جس کا جسم بھی مکمل نہیں، سردھڑسے الگ ہے، بازوں پیروں کا کچھ پتہ نہیں ہے، میں تمھیں کہاں سے اکٹھے کروں، تم تو تم ہو ہی نہیں، اتنی بکھری لاشوں میں تو اب تفریق کرنے کو بھی نہیں ہے، جب تمھارے مکمل وجود کا پتہ ہی نہیں ہے تو تم اس حالت میں جنت میں کہاں جاسکتے ہو ۔ یہ تو تم بھول جاؤ۔‘‘
’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ میرا جس مذہب سے تعلق ہے اْسکے لوگ ایسا کرنے پر بھی جنت میں چلے جاتے ہیں۔‘‘
’’آہ کاش تم نے مذہب کو سمجھا ہوتا۔۔ مذہب ، دنیا میں تو ایسا کوئی مذہب ہے ہی نہیں جو معصوم انسانوں کی جان لینے کی تبلیغ کرتا ہو، چہ جایکہ تمھارا مذہب ، اور کوئی مذہب یہ بھی نہیں کہتا کہ ایسا کرنے والے کو جنت ملے گی۔‘‘
’’لیکن میں کیا کرتا مجھے تو اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا، انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں ایسا کروں گا تو میرے گھر والوں پر سے غریبی کا سایہ اٹھ جایگا اور سب ٹھاٹ کریں گے۔اور دوسری طرف جنت بھی ملے گی، سو میں نے یہ قربانی دے دی۔‘‘
’’اچھا یعنی دنیا کی زندگی اور موت کے بعد کی زندگی ۔۔۔دونوں چیزوں کا وعدہ کیا تھا تمھاری تنظیم نے؟‘‘
’’ ہاں میرا تعلق غریب گھرانے سے ہے ، بڑی محنت کرکے میں اپنے دوسرے بھائی بہنوں کا اور ماں کا پیٹ پالتا تھا، ا نھوں نے وعدہ کیا ہے کہ میرے بعد وہ میرے گھر والوں کا بہت خیال رکھیں گے اور وہ لوگ وہاں ٹھاٹ کریں گے اور میں یہاں جنت میں۔۔۔‘‘
’’آہ کاش ایسا ہی ہوتا۔۔لیکن تم کتنے احمق ہو! محنت مزدوری کرکے خود اور اپنے گھر والوں کو پالتے رہتے تو شائید محنت کرکے تم ایک دن اچھے دن بھی دیکھ لیتے۔لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن کیا ہوا۔۔۔میرے بعد میرے گھر والے تو دیکھ رہے ہوں گے اچھے دن ۔‘‘
’’تمھیں یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کریں گے؟‘‘
’’ ہاںکریں گے وہ تو اْس وقت سے ہی کرنا شروع کردیا تھا جب میں اس حملے کی ٹریننگ لے رہا تھا ۔‘‘
’’اچھا، پر اب وہ ایسا کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ ‘‘
’’ نہیں نہیں وہ ایسا ہی کررہے ہوں گے ، میرے گھر والے اب ٹھاٹ سے زندگی گزاررہے ہوں گے۔‘‘
’’ اچھا اگر تمھارا یہی خیال ہے تو کچھ دن تک یہیں پڑے سڑتے رہو۔۔۔میں پھر بعد میں آؤ ں گا۔‘‘ یہ کہتے ہی اچانک موت کے فرشتے کی آواز آنا بند ہوگئی ۔ ’’ سنو تو ۔۔۔تم سنو تو۔۔۔‘‘ وہ آواز دیتا ہی رہ ۔۔۔۔ گیا۔اْسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی لمبی خاموشی چھا گئی ہو۔۔۔اک لمبا عرصہ تیزی سے گزر گیا ہو۔ ۔۔موت کا فرشتہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آیا۔۔۔۔جس موت کے فرشتے سے اْسے پہلے ڈر لگ رہا تھا وہ اب اْسی کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔۔۔پھر اسے لگا کہ کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔
’’ کوئی ہے یہاں کیا؟‘‘ اْس نے آواز لگائی ۔
’’ہاں میں ہوں ۔۔ میں واپس آگیا ہوں ۔‘‘ موت کے فرشتے نے جواب دیا:
’’ آؤ میرے ساتھ چلو ، میں تم کو لے کر چلتا ہوں تمھارے خاندان کے پاس، تم خود دیکھ لینا کہ تمھارے گھر والے کس طرح ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘
موت کے فرشتے نے بات ختم کی ہی تھی کہ اْسے ایسا لگا جیسے وہ بڑی تیزی سے کسی اونچائی سے نیچے کی جانب جارہا ہو۔
’’ارے ارے یہ تم کہاں لے جارہے ہو۔‘‘
’’ چلو تو میں دکھاؤ ں تم کو۔۔۔‘‘
’’ ارے ارے مجھے یاد آرہا ہے ۔۔یہ تو یہ تو میرے گھر کے قریب کا علاقہ ہے ، میرا ہی محلّہ۔‘‘
’’ ہاں یہ تمھارا ہی محلّہ ہے۔ دیکھو اْس شخص کو پہچانتے ہو؟‘‘
’’ ہاں ہاں یہ تو میرا چھوٹا بھائی ہے جو اسکول میں پڑھتا تھا۔۔۔ہاں دیکھو وہ کیا کررہا ہے۔۔۔ٹریفک سگنل پر کھڑی گاڑیوں کے درمیان چل چل کر ہاتھ پھیلا رہا ہے۔‘‘
’’ارے کیا یہ بھیک مانگ رہا ہے ؟‘‘
’’ ہاں دیکھا تم نے ، اور دیکھو گے۔۔۔آگے چلو۔۔۔وہ دیکھو اْس عورت کو جانتے ہو؟‘‘
’’ ارے ہاں یہ تو میرا ہی گھر ہے اور یہ میری ماں ہے ۔۔۔اس کو کیا ہوا ہے ؟ یہ بستر سے کیوں لگ گئی ہے ؟ اتنی بیمار لگ رہی ہے۔ ارے یہ تو درد سے تڑپ رہی ہے اس کو کوئی دوا کیوں نہیں دیتا؟
’’ ہاں دیکھ لیا تم نے اپنے خاندان کے ٹھاٹ؟
’’ او میرے خدا۔۔۔یہ سب میں کیا دیکھ رہا ہوں، میں جب زندہ تھا تو میری محنت سے گھر تو چل رہا تھا،
روکھی سوکھی میں گزارا تو ہوہی رہا تھا ۔۔۔کم ازکم بھیک مانگنے کی ضرورت تو نہیں آئی تھی ۔۔۔۔یا خدا یہ کیا ہوا یہ میں نے کیا کیا؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چیخ پڑا:
’’ نہیں‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک اْسکے جسم میں حرارت پیدا ہوئی۔۔۔خون کا رنگ پھر سے سرخ ہونے لگا، جیسے کہ آکسیجن کی ملاوٹ پھر سے شروع ہوگئی ہو۔۔لیکن جسم کی کپکپی میں کوئی کمی نہیں آرہی تھی۔۔اْس نے اپنے آپ کو چھونا شروع کیا۔۔ارے میرے ہاتھ پاؤں، سر سبھی سا لم ہیں۔۔۔میں تو شاید سانس بھی لے رہا ہوں۔۔۔او میرے خدا ۔۔۔یہ میں کیا کوئی خواب دیکھ رہا تھا؟ ۔۔۔او ہاں یہ اک خواب ہی تھا کتنا بھیانک خواب۔۔۔ او میرے خدا یہ میں کیا کرنے جارہا تھا۔۔۔؟
پھر عامر جان اپنے خاندان کو لے کر نہ جانے کونسی بستی میں چلا گیا ۔۔۔کسی کو کچھ بتائے بغیر۔۔۔شاید تنظیم کے ڈرسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

14 تبصرے »

  1. سعیدہ نثار علی CANADA نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 12:00 am

    آپ سب کو ھمارا سلام ! ارے صفدر بھائی
    آپ نے یہ کیا موضوع چھیڑ دیا اور بڑی عمدگی سے انوار ظہیر صاحب کی تحریر سچ کہتی رھی ۔ ایسا تو اب بہت عام ھو گیا ھے کہ اسلام کی آڑ میں چھپ کر تو بہت جھوٹ بولے جاتے ہیں ۔ کتنی خوبصورتی سے آپ نے اتنے گہرے اور سادا انداز میں تنطیم کی دھجیاں اڑا دین ۔ مجھے یاد ہے آج سے کچھ تیس برس پھلےایران میں تنظیم کی دھشت سے ماں باپ کو بچوں کے خلاف گواھی دیتےدیکھا ۔ ایران اور عراق کی جنگ میں جام شہات کا وعدہ تنظیموں کا ھی تھا ۔ ایک دوکان میں ایک بچے کو روتے دیکھا ۔ وہ اپنی ماں سے ضد کر رہا تھا کہ اُسے جام شہات خرید کے دیا جائے ۔ جتنا بھی ماں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی اُ س کی ضد بڑھ رھی تھی ۔ ماں نے منت سماجت سے بھی سمجھایا کہ بازار میں جامٍ شہادت نہیں ملتا ۔ بچے نے کہا لیکن امام خمینی نے کہا ہے کہ اس کے پینے سے سب جنت میں جاتے ہیں اور مجھے بھی جنت میں جانا ہے ۔
    اور آج تو رواج سا ہو گیا ہے تنظیم کے نام پر اور منشور پر بم سے لوگوں کو اُڑا دیتے ھیں اور پھر اپنے کیے پر فخر بھی کرتے ہیں ۔ کاش آپ کی لکھی ہوئی کہانی کو ہر اخبار میں چھاپا جا سکتا ھوتا ۔ اتنی اچھی اور سچی تحریر پر ھماری طرف سے مبارک باد قبول کیجئے ۔

  2. خاور کھوکھر JAPAN نے لکھا؛

    June 17, 2008 at 1:20 am

    یه میڈیا سے متاثر یک طرفه سوچ کی تحریر ہے ـ
    ایک لکھاری کو جج کی طرح دونوں طرف کے جذبات کا علم هونا چاهیے ـ
    پرانے لکھاریوں میں ہیر وارث شاھ هی دیکھ لیں که جہاں رانجھے کی روشن خیالی کی بات ہے وهیں مولوی کی منطق بهی
    اقبال کا شکوھ اور جواب شکوھ بهی ایک مثال ہے ـ
    پاکستانی معاشرے پر بھوک اس طرح مسلط کر دی گئی ہے که اب سب لوگوں کی سوچ هی یہی هو گئی ہے که پاکستانی خوشحالی کے لیے کچھ بهی کر سکتے هیں ـ
    آپ نے خود کش حملھ آور کا تو لکھا ـ
    جراثیمی حمله آور کا بهی لکھیں
    کپاس پر سنڈی ، چاول پر کپھرا، بیجوں کی جنیاتی ” نس بندی ” ـ کرنے والے کا بهی لکھیں ـ
    بلی کو بھی کونے میں لگا دیں تو انکھ میں پنجا مارتی ہے ـ
    باقی جی تسی وی سیانے او ـ
    آپنے گھر والوں کی خوش حالی کے لیے کچھ بهی کیا جاسکتا ہے !ـ

  3. خاور کھوکھر JAPAN نے لکھا؛

    June 18, 2008 at 1:48 am

    جناب !ـ
    میں نے آپ کو ٹیگ کرنے کی جسارت کردی ہے
    امید ہے که آپ کو ناگوار نہیں گزرے گا ـ
    تکلیف دهی کے لیے معذرت خواھ
    خاور کھوکھر

  4. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    June 18, 2008 at 4:02 am

    ایک حقیقت جس کو بہت ھی خوبصورتی کے ساتھ افسانی رنگ میں پیش کیا گیا۔اللہ کرے بہت جلد یہ ناسور ھمارے ملک سے ختم ھو جائے۔ جس نے اسلام کے نام پر اور مجبور لوگوں کو پیسے کا لالچ دے کر ان کی زندگیوں تباہ و برباد اور بچوں کو بے سہارا ماوں بہنوں بیٹیوں کو نامرادچھوڑ دیا۔کرنے اور کروانے والے دونوں جہنمی ھیں اللہ کی امانت کو اپنی جان کی صورت میں خیانت کی ۔

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 10:05 am

    کاش یہ افسانہ اپنے مقام پر لگایا جاتا تو اٍس تحریر کاحسن دوبالا ھو جاتا ۔انور ظہیر صاحب کا نام ھماری بلاگ کی محفل کے لیئے کوئی نیا نہیں ھے۔ ھمیشہ ھی جاندار تبصروں اور شاعری کے ساتھ شامل ھوتے رھے ھیں ۔ آپ کی تحریر میں دینا اور دل کے دکھ سکھ سب ھی بول رھے ھیں ۔ اتنی اچھی کاوش پر مبارکباد ۔
    میری خواہش ھے کہ آیئندہ آپ سب اپنے اپنے افسانے مجھے ای میل کر دیا کریں ۔ میں القمر لایبریری میں لگا دونگی یا واقعی اگر یہاں افسانہ لگانا ھے تو صرف ایک پیراگراف لگا دیجیئے اور باقی پڑھنے کے لیئے لنک دے دیجیئے ۔ سب القمر لایبریری میں جا کر پڑھ لیں گے ۔

  6. ملک نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 2:54 pm

    اپنے موضوع اور پلاٹ کے لحاظ سےیہ ایک اچھی کہانی ہے لیکن اس میں “ موت کا فرشتہ“ اپنے اصلی کردار اور فرض اول سے ہٹ کر ایک “ مبلغ “ کیسے بن گیا ؟ یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہاں خواب میں اگر “ نکیرین “ ہوتے تو بات کچھ اور ہوتی ۔ یہ میری رائے ہے ۔ اب اگر فرشتے بھی اپنے اُن فرائض اور ذمہ داریوں سے ہٹ کر‘ جن کے لیے رب نے انہیں متعین کر رکھا ہے ‘ دوسرے کام کرنے لگے ہیں تو ضرور نظام ربوبیت میں کچھ خرابی آ گئی ہوگی ۔
    نعوذ باللہ ۔

  7. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 1:43 pm

    محترم جناب صفدر ھمدانی صاحب
    نوازش کرم مہربانی کہ آپ نے میرے افسانے کواپنی بزم میں جگہ مرحمت فرمائ۔

  8. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 1:48 pm

    سعید نثار علی صاحب
    میرے افسانے پر آپ کا خوبصورت تبصرہ یقین جانیے میری تحریر کو جیسے نئ زندگی مل گئ۔آپ کا شکریہ

  9. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 1:56 pm

    خاور کھوکھر صاحب، آپ کی رائے سر آنکھوں پر، پر کیا کروں کہ پرانےزخم پر جب نئے زخم مزید شدت سے لگیں تو پھر نئ چوٹ ہی زیادھ تکلیف دیتی ہے۔

  10. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 2:03 pm

    محترمہ تانیہ رحمان صاحبہ
    آپ اگر اپنی خوبصورت رائے میری تحریر پر نہ دیتیں تو میرے افسانے کو ادب میں نمائیندگی کیسے ملتی، تہہ دل سے شکریہ قبول کریں۔

  11. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 2:16 pm

    عزت ماب ڈاکڑ نگہت نسیم صاحبہ

    میرے افسانے پر اتنی پذئرای، مجھے سمجھ نہیں آرھا ہے کہ میں آپ کی محبت اور خلوص کا شکریہ ادا کرؤں تو کیسے کروں۔ مجھے بہت خوشی ہوگئ آپکی خدمت میں اپنے افسانے بھیج کر۔ نوازش

  12. انور ظہیر رہیر GERMANY نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 2:32 pm

    ملک نصر صاحب
    آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے اپنی رائے دی۔ نعوذ باللہ میں نے ایسا کچھ تحریر نہیں کیا کہ اسے غلط انداز دیا جائے۔ “ نکیرین “ نکیر کی جمع ہے اور نکیر بھی فرشتہ ہی ہوتا ہے، قبر میں سوال جواب کرنے والا، میرے افسانے میں کردار ابھی وہاں تک پہنچا نہیں ہے۔

  13. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 4:43 pm

    انور ظہیر جی یہ بھی آپ کا کمال ھے کہ آپ نے اپنے افسانے کو آدب کی دنیا میں جگہ کیسے دلائی ۔کتنی خوبصورتی سے ھر ایک کا شکریہ ادا کر کے۔آپ کے افسانوں کا انتظار ریئے گا۔

  14. ملک نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 8:29 pm

    محترم انور ظہیر رہیر
    بھئی آپ نےکیسے جان لیا کہ ہم نے نعوذ باللہ آپ سے کہا کہ آپ نے کچھ غلط لکھا ہے ۔ بھئی ہم تو صرف یہ سوچ رہے تھے کہ موت کا فرشتہ سوال و جواب پہ کیسے اتر آیا؟ اس کا فرض تو خود کسی کی جان لینا اور بھاگنا ہوتا ہے تاکہ کسی دوسرے کی روح قبض کر سکے ۔

    آپ نے لکھا ہے کہ “ نکیرین “ نکیر کی جمع ہے اور نکیر بھی فرشتہ ہوتا ہے‘ قبر میں سوال و جواب کرنے والا ۔“ تو بھئی اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ “ نکیرین “ واقعی میں “ جمع کا صیغہ “ ہے ۔ لیکن معاف کیجئے گا “ قبر میں سوال و جواب کرنے والا “ فرشتہ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ دو ہوتے ہیں جو نکیرین کہلاتے ہیں اور فقہ کی رو سے “ ایمان کی بابت مرنے والے سے سوال کرنے پر مامور بتائے جاتے ہیں “ ان کے ایکساتھ “ دو “ ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ یہ تو معلوم نہیں لیکن گمان غالب ہے کہ شاید باری تعالیٰ کو اس کام پر کسی ایک فرشتے کا متعین کرنا خود منظور نہیں کہ مبادا وہ فرشتہ “مرنے والے کے کھاتے میں اُس کے اُن “ ناکردہ گناہوں “ کو بھی نہ ڈال دے “ جن کی “حسرت لیے “ وہ مر گیا ۔

    بہرحال محترم جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا آپ کی کہانی اچھی ہے اور اب جب اتنے معتبر احباب اس پر اپنی اپنی رائے کا اظہار بھی کر چکے ہیں تو میں کون ہوتا ہوں جو یہ نہ کہوں کہ “ آپ کی کہانی واقعی میں بہت اچھی ہے ۔“
    خوش رہیے اور اپنی تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہیے ۔
    وسلام ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو