Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا

آج جب میں اپنی ڈیوٹی پر تھی تو ایک ایسی عورت مجھ سے ملنے آئی جو اپنے شوہر سے خفا تھی اور وہ بھی اتنی زیادہ کہ ایک ھی گھر میں رھتے ھوئے وہ دونوں کئی سالوں سے الگ الگ کمروں میں رہ رھے تھے اور اُن کے بچے بھی اٍس ماحول کے عادی ھوچکے تھے ۔ آج میرے پاس جب وہ بیٹھی اپنے دکھ مجھے سنا رھی تھی تو ایسے لگا جیسے کئی لوگوں کا دکھ ڈھو رھی ھو ۔ وہ پوچھ رھی تھی کہ لوگ اتنے بے حس کیوں ھوتے ھیں ۔ ھر وقت تنقید کر کے خود کو سب سے اھم کیوں سمجھتے ھیں ۔ ھر وقت حکم دینے والے کتنے نا قابلٍ برداشت ھوتے ھیں ۔ وہ مجھے بتا رھی تھی کہ تیس برس کے اٍس رشتے میں تیس منٹ بھی ایسے نہیں تھے جس کی بنا پر وہ اپنے شوہر کو معاف کر سکتی ۔ میں بس اُسے روتا دیکھتی رھی اور سوچتی رھی کہ ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا یہی تنقیدی بے حسی ھی تو ھے جس کی وجہ سے ھم کسی کو برداشت تو کجا تحمل سے سنتے بھی نہیں ھیں ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

6 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 4:00 pm

    ڈاکٹر نگہت صاحبہ جس طرف آپ نے اشارہ کیا ہے یہ ہی زندگی کے حُسن کی دیمک ہے. زندگی تو ویسے بھی ایک جہد مسلسل اور ہر قدم پر ایک نئے امتحان سے عبارت ہے لیکن یہ رویہ واقعی سوہان روح ہے. کبھی ہم اپنے سمیت ارد گرد نظر ڈالیں تو اس رویے کے ہاتھوں روز قتل ہوتے کتنے ہی لوگ نظر آئیں گے. لیکن ہمارا مسلہ تو یہ ہے کہ ہم اپنی ناک سے آگے تو دیکھ ہی نہیں سکتے.
    بہت اچھا ذاتی تاثر لکھا آپ نے،اور آپ کی تحریروں کی یہی خوبی ہے کہ ان میں آپ کی ذات اور آپ کا پروفیشن دونوں شامل ہوتےہیں.

  2. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 5:31 pm

    حیرت ھوتی ھے۔ کہ ایک گھر میں رہ کر لوگ کیسے ایک دوسرے سے وہ بھی میاں بیوی اور بچے ایک دوسرے سے انجان ھوتے ھیں ۔یہاں ماں اور باپ دونوں کا فرض ھے کہ وہ اپنی غلطی کی سزا بچوں کو کیوں دے رہے ھیں ۔اب ان دونوں میں بے حس کون ھے یہ کہنا زرا مشکل لگتا ھے۔بعض دفعہ ھمیں عورت کا قصور دکھائی نہیں دیتا ۔

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 19, 2008 at 5:55 pm

    تانیہ میرا خیال ھے کہ ھر وقت کی لڑائی سے کہی بہتر ھے کہ خاموشی سے اپنا رستہ الگ کر لیا جائے کیونکہ ایسے حالات میں معاملہ کبھی نہیں سدھرتا بلکہ بگڑتا ھی ھے ۔ میرج کونسلنگ ھونی چاہیئے اصولی طور پر ایسے کپلز کی ۔یہ بات تھماری بلکل سچ ھے کہ کئی دفعہ ھمیں عورت کا قصور دیکھائی نہیں دیتا ۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ھے ۔ ایک میاں بیوی میں علیحدگی صرف اٍس بات پر ھوئی تھی کہ عورت کی حاکمیت سے شوہر کو اختلاف تھا اور چھبیس برس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ اب اور نہیں ۔ میرا خیال ھے کہ یہی تنقیدی بے حسی ھے جو کسی طرف بھی ھو سکتی ھے اور اٍس کا انجام کم و بیش یہی ھوتا ھے کہ کوئی ایک دوسرے کہ نہیں سنتا اور اور نہ ھی برداشت کرتا ھے حالانکہ ھر رشتہ کی خوبصورتی اُس کی آزادیٍ رائے ھے اور ساتھ ھی اُس کی رائے کا احترام ھوتا ھے ۔

  4. سعیدہ نثار علی CANADA نے لکھا؛

    June 20, 2008 at 7:09 am

    یہ فرق عورت مرد کا نہی ہے بلکہ زمانے کی گردش کا ہے۔ آج تک سماج میں عورت کو وہ مقام نہی ملا جو
    اسکا انسانی حق ہے۔ ھر رشتا سیاسی ہوتا ہے۔ دنیا کا کوی بندھن ایسا نہی جس کا تعلق کسی دوسرے کے
    ساتھ نا ہو۔ خدا نے حضرتِ آدم کو پہلے اس دنیآ میں بھیجا پھر تخلقیق کو مکمل کرنے کے لیے حوا کو بنایا۔
    اب یہ کوی مزاق تو نہی۔ یہ ہے عورت کا مقام ھر رشتے کو کامل کرنا۔ عورت اکیلے ھی بارداری کی تکلیف
    سہتی ہے۔ ٩مہینے تک بچے کی پرورش اپنے جسم کے اندر کرتی ہے۔ مرد اس دنیا پہلے ضرور آیا لیکن ماں
    کبھی نہی بن سکا۔ اسی لیے اس رشتے میں دونوں ھی قصوروار ھیں۔ شاید وہ آنسوں ھمیں دیکھای ھی نہی
    دیتے جو مرد بہاتاہو۔ اس میں کوی شک نہی کہ مرد عورت پہ بہت ظلم ڈھاتا ہے عورت کی تایخ پڑھیں
    مصلا آسان ھو جاےگا ۔ہماری انگلیاں ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں۔ خدا آپ سب کا حافظ ہو۔

  5. آویز۔برمنگھم ۔ نے لکھا؛

    June 20, 2008 at 4:43 pm

    محترمہ ڈاکڑ نگہت نسیم۔
    پاکستانی معاشرے میں ۔یہاں کے حالات ، قانون ،سسٹم ، غربت بیروز گاری۔تعلیم کی کمی۔ زات برادری۔ اور بے شمار وجوہات کی وجہ سے ہمارے کرداروں پر بہت گہرا اثر ہے ۔یہ مسائل امیر گھرانوں میں نہیں ہیں ۔اگر ہوں گے بھی تونہایت کم ۔یہ مسائل یورپ میں تو ہے ہی نہیں ۔جب کے یہ بھی مخلوق خدا ہی ہے ۔
    یورپ میں اگر بیوی یا مرد کا موڈ کسی بھی وجہ سے خراب رہتا ہے تو یہ گاڑی زیادہ دیر نہیں چلتی جلد ہی ان کو کوئی فیصلہ کرنا پڑتا ہے ۔اور قانونی طور پر عورت کو اور اس کے بچوں کو پورا پورا تحفظ ملتا ہے ۔
    مگر پاکستانی معاشرے میں مرد کی نسبت عورت بہت ہی زیادہ مجبور ہے ۔اس کی زندگی اس کا قانون اس کا سسٹم اس کا تحفظ صرف اس کا مرد ہی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جابر مرد، موڈی مرد ، شرابی جواری زانی مرد سے عورت آزاد بھی ہونا چاہے توعورت کے لئے ایسا قدم اٹھانا پہاڑ کو اٹھانے والی بات ہوگی۔ پھر ایسی عورت چار بچوں کو لےکر جائے کدھر ؟
    نہ ہی اس کو قانون تحفظ دیتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس وسائل ہیں۔اس حالت میں بہن بھائی رشتے دار بھی منہ موڑ لیتے ہیں ؟ معاشرے کے تعنے اور لعنتیں الگ سننے کو ملیں گی؟
    ایک عورت سے سارا گاؤں بدنام ۔
    جب کہ مرد زات کو اس قسم کے اقدامات سے کوئی بدنام نہیں کرتا۔
    پاکستان میں یہ مسائل اُس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک ملک میں ۔غربت ،بیروزگاری، جاہلیت ۔ برادری ازم ۔ اونچ نیچ، زات پات ۔بناوٹی رسمیں۔ خود غرضیوں کی چودھراٹ ۔ختم نہیں ہوں گی۔
    یہ وہ وائرس ہیں جو کسی دوائی انجیکیشن یا مولویوں سے دور نہیں ہوں گے۔اس کو ختم کرنے کےلئے ہمیں خود ہی اس پر توجہ دینی ہوگی ۔

  6. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 20, 2008 at 4:58 pm

    آویز بھائی ! بے شک درست فرمایا آپ نے ۔ مسائل کا حل یہی ھے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئیے گا ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو