باتیں ہی با تیں
الصبح جو شر وع ہو کر کہ شب بھر بات ہو تی ہے
کبھی تنہا بھی ملتے ہیں کبھی با ر ات ہو تی ہے
یہ عقدہ ہی نہیں کھلتا کہاں پر وہ اٹکتے ہیں
کہ بس لفظوں کی بارش ہے سدا بر سات ہو تی ہے
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
الصبح جو شر وع ہو کر کہ شب بھر بات ہو تی ہے
کبھی تنہا بھی ملتے ہیں کبھی با ر ات ہو تی ہے
یہ عقدہ ہی نہیں کھلتا کہاں پر وہ اٹکتے ہیں
کہ بس لفظوں کی بارش ہے سدا بر سات ہو تی ہے
اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 23, 2008 at 9:56 am
شمس بھائی اٍس دفعہ میں جیت گئی ھوں ۔ آپ نے زرداری کو پوچھا ھے ۔ اٍس لیئے کہ آج کل وہی اتنا بول رھا ھے ۔ جواب میں تاخیر کی وجہ ہمیشہ کی طرح میری انتہائی غیر انسانی ھوسپٹل کی ڈیوٹیاں ھہیں جو مجھے کبھی سکون نہیں لینے دیتی ۔
شمس جیلانی
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 5:50 am
بہن نگہت شکریہ ہم تویہ سمجھے تھے کہ آپ روٹھ گئیں ۔ رہی مصروفیت وہ تو اچھی بات ہے آپ پھر بھی ادب کے لیئے انتنا وقت نکال لیتی ہیں بہت ہے ۔ہا ئیں ، ہا ئیں باتونی با تونی نہیں ، بسیا رگو کہاکریں کہ بات جہالت کی وجہ سے اس کے سر پر سے گزر جا ئے گی اور اسے یاد بھی نہیں رہے گی۔ کیو نکہ یہ بھی کہا وت ہے کہ جھوٹےکا حا فظہ نہیں ہو تا۔شمس جیلانی