ترک تعلق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر
ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
گلستان لے جاؤ تھوڑی سی خوشبو رھنے دو
تیرے پاس تیرےاپنے تیرے چاھنے والے بہت
ھم غیر سہی ھمیں اپنا عدو رھنے دو
تو نہیں تو تیری یادیں ھمارے ساتھ ھیں
تم اپنا ذکر ھمارے چار سو رھنے دو
زخمِ دل تازہ رھے نا بھرے تو اچھا ھے
ھماری ھتھلی پہ ارمانوں کا لہو رھنے دو
کبھی ملنا کبھی بچھڑ جانا غیر بن کے
کچھ پانے کچھ کھونے کی یہ جستجو رھنے دو
نہ جگاؤ ھمیں ابھی اس خوابِ حسیں سے
کچھ پل اور ھمیں ان کے روبرو رھنے دو
سعدی دنیا کیا ھے ھمیں اس سے کیا لینا دینا
کون برا کون بھلا ھمیں بس با وضو رھنے دو
——————————————–































تانیہ رحمان نے لکھا؛
June 24, 2008 at 2:35 am
بہت ھی خوب سعدیہ ۔تمھاری نظم اس لحاظ سے بھی اچھی ھے کہ با وضو رہنے سے نمازیں بھی پوری ھوتی رہیں گی
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 2:42 am
بہت عمدہ سعدیہ ۔۔
علی شاہ
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 2:46 pm
واہ واہ کیا کہنے، سعدیہ جی آپ کا اتنے روز بعد اتنی خوبصورت شاعری کے ساتھ لوٹنا اچھا لگا۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
June 24, 2008 at 11:31 pm
شکریہ نگہت ….ھاں نہ تانیہ علی بھی آگیا باجماعت نماز ھوگی ….شکریہ علی اور تم بھی غائب تھے ..تانیہ کہتی ھے ھم دونوں بہن بھائ ایک دم غائب ھو جاتے ھیں …ویسے ٹھیک بھی ھے ھم لوگ نہ ھوں تو القمر بلاگ سونا سونا لگتا ھے ( اب تانیہ یہ نہیں کہنا خوش فہمی )
علی شاہ
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 11:50 pm
اپنا تو مجھے پتا نہیں مگر سعدیہ جی اور تانیا جی کی ثحریروں کے بنا القمر بلاگ واقعی ادھورا لگتا ہے۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
June 25, 2008 at 1:18 am
سعدیہ مجھے خوشی ھوئی کہ تم زندہ ھو ورنہ کالم لگانے لگی تھی۔اور جہاں تک خوش فہمی کا سوال ھے ۔مجھے تو لگا کہ میرے نا ھونے سے القمر سونا سونا ھے ۔اچھا ھوا سعدیہ بتا دیا۔وقت پر ورنہ خواب ھی خواب میں نا جانے کہان پہنچ جاتی۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 25, 2008 at 1:38 am
خدایا ! علی تم ایسے بدلو گے میں نے تو خواب تک میں نہیں سوچا تھا ۔۔۔ میرا زکر تک کہی نہیں کیا ۔
علی شاہ
نے لکھا؛
June 25, 2008 at 6:00 am
نگھت جی
یہاں تزکرہ نا نظر آنے والی شخصیات کا تھا، آپ تو القمر کے زمان ومکان پر چھائ ہوئیں ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ آپ ہی کی کاوشوں ہی سے سب کا کم بیک ہوا ہے۔