Indoor plant
بہت دن بعد ایک سادہ سی نظم آپ کی بصارتوں کی نذر
ٰٰان ڈور پلانٹ
میں کسی سرمائی پودے کی طرح
تیرے ہی سائے تلے رہتی ہوں
روشنی مجھ سے گریزاں کب سے ہے
کب سے محرومِ صبا ہے تن مرا
کب سے ساون میں نہیں بھیگا بدن
چاند کھڑکی سے بھی تکتا ہی نہیں
تارے آنگن میں اُترتے ہی نہیں
دیکھ اب سانسیں مری رکنے لگیں
اب نہیں باقی مرے تن میں لچک
زرد چہرہ ، ڈھل چکا ہے جوبن
جل رہی ہیں میرے تن کی شاخیں
جھڑ گئے ہیں برگ جتنے تھے ہرے
اپنے سائے کو ہٹا لے اب تو
آخری سانسیں ہوا میں لے لوں
پھول کی خوشبو کودل میںبھر لوں
اک نظر میں آسماں کو چھو لوں
چاند تاروں سے دو باتیں کر لوں
اب مجھے آزاد کرہی دے تُو
زرقامفتی































نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 2:39 am
واہ واہ جی ۔۔۔ کیا بات ھے ۔۔ کیا کہنے ۔۔ کیاخیال کی ندرت ھے اور کیابے ساختگی ھے ۔ بہت خوبصورت پُر معنی نطم زرقا جی ۔۔ جیتی رہیئے ۔
زرقا مفتی نے لکھا؛
June 24, 2008 at 11:12 am
شکریہ نگہت جی
خوش رہئے
والسلام
زرقا
علی شاہ
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 2:38 pm
بہت یی منفرد خیال اور نہایت شگفتہ انداز
خاور چودھری
نے لکھا؛
June 24, 2008 at 5:56 pm
زرقامفتی صاحبہ
بلاشبہ آپ نے قلم لہو میں ڈبو کر لکھا ہے۔۔۔ اس قدر متاثرکرنے والی نظم یوں آسانی سے تخلیق نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
ویسے کتنے تعجب کی بات ہے۔شاعر اپنے درد کا اظہار کر رہا ہوتا ہے اور ہم واہ وا کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔۔۔۔؟
(لیکن یہ بھی ضروری تونہیں کہ ہرتحریرتجربے سے گزر کر تخلیق ہوئی ہو)
تانیہ رحمان نے لکھا؛
June 24, 2008 at 7:09 pm
زرقا جی ھمیشہ کی طرح داد قبول فرمایں۔ بہت خوبصروت انزازِ بیاں
زرقا مفتی
نے لکھا؛
June 25, 2008 at 1:06 am
ّّعلی شاہ صاحب
نظم پڑھنے کے لئے آپ کی ممنوں ہوں
والسلام
زرقا
ملک نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
June 25, 2008 at 2:28 am
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ۔
سب سے پہلے تو اتنے نفیس و حساس خیالات کو نظم میں قلم بند کرنے پر مبارکباد قبول کیجئے ۔ آپ کی نظم کے پہلے ہی دونوں مصرعے چونکا دینے والے ہیں ۔ کیا خوب تصور باندھا ہے آپ نے :
میں کسی سرمائی پودے کی طرح
تیرے ہی سائے تلے رہتی ہوں ۔
“سرمائی پودے “ کی اصطلاح یا استعارہ اور اس کا “ سایہ “ بھئی آپ نےخوب کام کردکھایا ہے۔
پوری نظم ایک خاص روانی سے آگے برھتی اور اپنے قاری کو “ شاعرہ کے شخصی احساس “ میں جکڑے رکھتی ہے اور یہی “ فن “ ہے ۔ جو شاعرہ کی اپنے اظہار پر گرفت کی گواہی دیتا ہے ۔
آپ کی یہ نظم پڑھ کر مجھے انیس ناگی “ زاھد ڈار ‘ فہمیدہ ریاض اور بلراج کومل کی کئی نظموں کے کئی مصرعے یاد کیا آنے لگے کہ میں خود کو ان سب احباب کی محفل میں محسوس کررہا تھا جہاں آپ اپنی یہی نظم خود سنا رہی تھیں اور ہم سبھی بمع خاور چودھری بھائی سب واہ واہ کر رہے تھے ۔ اور اس پر متفق تھے کہ “ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہرتحریر تجربے سے گزر کر تخلیق ہوئی ہو ۔“
اب اس “ خوگر حمد “ کی ایک تجویز بھی سن لیجئے ۔
بہنا اگر آپ کا یہ مصرعہ “ چاند کھڑکی سے بھی تکتا ہی نہیں “ کی بجائے یوں پڑھا جائے کہ:
“ چاند کھڑکی سے “ کبھی “ تکتا ہی نہیں “ تو کیسا رہے گا ؟
اور اسی طرح ایک اور مصرعہ “ زرد چہرہ ‘ ڈھل چکا ہے جوبن “ کو یوں پڑھ کر‘ گنگنائیں تو شاید لطف دوبالا ہو جائے “ زدر چہرہ ‘ ڈھل چکا جوبن “
اور پھر اسی طرح اگر یہ دو مصرے یعنی “ جل رہی ہیں میرے تن کی شاخیں +++ جھڑ گئے ہیں برگ جتنے تھے ہرے “ یوں پڑھے جائیں تو کیسے رہیں گے:
جل رہی ہیں میرے تن کی ڈالیاں
جھڑ گئے پات سب ہرے تھے جو ۔
اور اب آپ کی نظم کے آخری بند کو دو سطریں یعنی :
“ آخری سانسیں ہوا میں لے لوں“ اور “ اب مجھے آزاد کرہی دے تُو “ کو یوں رکھ کر پڑھیں :
“ آخری سانس ہوا میں لے لوں “ اور “ تو اب مجھے آزاد کر “
زرقا بہن یہ میری برادرانہ رائے ہے اور یقیناُُ حرف آخر نہیں ۔ ممکن ہے آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں اور یہ آپ کا حق بھی ہے ۔ لیکن امید کرتا ہوں کہ جس طرح صدق دل سے میں نے اپنی رائے کا اظہار یہاں بہن بھائیوں کی محفل میں کیا ہے آپ بھی کوئی “ پردہ “ نہیں رکھیں گی ۔ اور ہاں بھئی مسکراؤ کہ میں غریب الدیار آپ کی نظم پڑھ کرابھی تک سوچ رہا ہوں کہ اس نظم کا بخدا اگر “ ڈینش زبان “ میں ترجمہ کیا جائے تو یہ “ ہماری“ ایک ایسی نمائندہ نظم ہو سکتی ہے جو یہاں ڈینش حلقوں میں سنائی جا سکتی ہے ۔
خوش رہیں ۔ وسلام ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
June 25, 2008 at 3:29 am
نصر بھائی اٍس میں کوئی شک نہیں کہ بلاشبہ یہ نظم ایک نمایئندہ نظم ھو سکتی ھے ۔اور آپ کی تراکیب سے میں نے بھی بہت کچھ سیکھا ھے ۔ بہت بہت شکریہ اٍس توجہ خاص کا ۔اللہ پاک آپ کو علم بانٹنے والوں میں رکھے ۔ آمین ۔
زرقا مفتی نے لکھا؛
June 25, 2008 at 12:13 pm
خاور صاحب
نظم کی پذیرائی کے لئے آپ کی ممنون ہوں
آپ نے بجا فرمایا ضروری نہیں ہر تخلیق تجربے سے گزر کر وجود میں آئی ہو
لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہر تخلیق ایک حساس مشاہدے کے بعد ہی وجود میں آتی ہے
والسلام
زرقا
زرقا مفتی نے لکھا؛
June 25, 2008 at 12:15 pm
تانیہ جی نظم پڑھنے اور داد کے شکریہ
خوش رہیئے
والسلام
زرقا
زرقا مفتی نے لکھا؛
June 25, 2008 at 12:34 pm
محترم نصر ملک صاحب
تسلیمات
نظم کی پزیرائی اور اس پر آپ کی پُر خلوص تبصرے کے لئے تہہِ دل سے ممنون ہوں
آپ کے سبھی مشورے بہت اچھے ہیں
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں عروض کی طرح نظم کہنے کی تکنیک سے بھی نا واقف ہوں
نیٹ کی ہی کسی محفل میں پڑھا تھا کہ آزاد نظم بھی ایک ہی بحر میں کہی جاتی ہے اس لئے اپنی طرف سے یہ نظم
فاعلاتن۔۔فاعلاتن۔۔۔فاعلن یافعلن
کے وزن پر کہنے کی اپنی سی کوشش کی
تاہم آپ کے مشوروں کو دیکھتے ہوئے نظم میں کچھ تبدیلی کی ہے
ملاحظہ کیجئے
ٰٰان ڈور پلانٹ
میں کسی سرمائی پودے کی طرح
کب سے رہتی ہوں ترے سائے تلے
سُرمئی سا ہے اندھیرا ہر طرف
روشنی کا نہ صبا کا ہے گزر
کب سے ساون میں نہیں بھیگا بدن
چاند کھڑکی سے کبھی تکتا نہیں
تارے آنگن میں اُترتے ہی نہیں
دیکھ اس گوشے میںکتنی ہے گُھٹن
دیکھ لے سانسیں مری رُکنے لگیں
اب نہیں باقی مرے تن میں لچک
دیکھ چہرے کا خزاں رنگ ہوا
دیکھ اب توڈھل چکا جوبن مرا
جل رہی ہیں میرے تن کی ڈالیاں
جھڑ گئے سب پات جتنے تھے ہرے
اپنے سائے کو ہٹا لے اب ذرا
پھول کی خوشبو کودل میں بھرنے دے
اک نظر میں آسماں کو چھونے دے
چاند تاروں سے دو باتیں کرنے دے
آخری سانسیں ہوا میں لینے دے
اے ستم گر،اب مجھے آزاد کر
آپ کی شفقت ہے جو آپ نے اس نظم کو ترجمے کے قابل سمجھا۔
آپ کو زحمت تو ہو گی لیکن اگر نظم گوئی کے حوالے سے میری راہنمائی فرمائیں تو نوازش ہو گی۔
زرقامفتی
خاور چودھری
نے لکھا؛
June 26, 2008 at 6:00 pm
محترمہ زرقا
آداب عرض
“نظم کی پذیرائی کے لئے آپ کی ممنون ہوں
آپ نے بجا فرمایا ضروری نہیں ہر تخلیق تجربے سے گزر کر وجود میں آئی ہو
لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہر تخلیق ایک حساس مشاہدے کے بعد ہی وجود میں آتی ہے“
میںنے بھی یہی عرضکیا تھا۔۔۔ خون میںقلم کو ڈبو کر لکھنے سے کیا مراد ہے؟
یہی کہا تھا ناں
“بلاشبہ آپ نے قلم لہو میں ڈبو کر لکھا ہے۔۔۔ اس قدر متاثرکرنے والی نظم یوں آسانی سے تخلیق نہیں ہو سکتی۔۔۔۔“
آپ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ نے خوش دلی سے اپنی نظم میں محترم نصر ملک صاحب کی نشان دہی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔۔۔
شکریہ
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
نے لکھا؛
June 28, 2008 at 12:00 am
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ۔
بھئی بہت ہی مبارک ہو ۔ آپ کی نظم کو جتنی پذیرائی ملی ہے یہ واقعی میں آپ کا حق ہے ۔ میں توکہوں گا کہ آپ کی پہلی نظم بھی اپنے آپ میں ہر لحاظ اور ہرطرح سے ایک جامع ‘ ٹھوس “ مکمل اور بھرپور نظم تھی لیکن آپ نے کمال کردیا اس پر نظر ثانی کرکے اسے “ دو آتشہ بنا دیا ہے ۔“
سب سسے بڑی بات آپ کا ظرف اور وسعت قلبی ہے کہ آپ نے احباب محفل کی ہر رائے کو وقعت دی اور اس پر اپنا استحقاق کا حق بھی بخوبی نبھایا ۔ اور کسی بھی بہن بھائی کے مشورے کو اُنا کی بھینٹ نہیں چڑھایا ۔اب اس کے باوجود بھی آپ کہتی ہیں کہ “ نظم کے سلسلے میں ہو سکے تو میں آپ کی رہنمائی کرتا رہوں ۔ “ بہنا ‘ اللہ آپ کااعتماد بحال رکھے “ لیکن میں تو خود ابھی تک طالب علم ہوں اور“ باب العلم “ کی دہلیز پہ بیٹھا “ علم کی بھیک مانگ رہا ہوں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو کسی اصلاح وغیرہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ۔ میں آپ کی ہر تحریر کا بغور مطالعہ کرتا ہوں اور اگر مناسب سمجھوں اور ضرورت ہوتواپنی رائے کا اظہار بھی کردیتا ہوں ۔
آپ کی نثر و نظم دونوں آپ کے اندر کی تخلیق کار کی بھر پور نشاندھی کرتی ہیں ۔ اور آپ کو اپنے اظہار پر قدرت حاصل ہے ۔ یہ خدائی عطیہ ہے ۔ محض بسیار نویسی ‘ شاعر یا ادیب ہونے کا ثبوت نہیں ‘ فراز نے اپنی نظم “ جاناں ‘ جاناں “ چھ سات سال کے عرصے میں مکمل کی تھی ۔ ہاں ایک بات عرض کرونگا کہ اپنی کسی بھی تخلیق کو منظر عام پر لانے سے پہلے ‘ ایک دو دن ‘ وقفے وقفے سے خود پڑھیں آپ کو کسی اصلاح کار کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ ثبوت اس کا آپ نے اپنی نظم پر خود ہی نظر ثانی کرکے فراہم کردیا ہے ۔
اب یہ خوشامد نہیں ‘ اور کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ‘ میں آپ کی پہلی ہی نظم سے ابھی تک لطف اندوز ہو رہا تھا کہ آپ کی نظر ثانی شدہ نظم پڑھ کر میرے سرور میں اور بھی اضافہ ہو گیا “ نشے “ کا لفظ اس لیے استعمال نہیں کر رہا کہ ہماری “ اسلامی لغت “ میں یہ ملعون ہے اور آپ ٹھہریں “ مفتی “ اور مجھے اپنی گردن بہت عزیز ہے لیکن جھکی ہوئی کیونکہ میں نے بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ اسی میں سربلندی ہے ۔
اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ آپ کی تحریریں ‘ نطم و نثر‘ دونوں جہاں سکھینے کو بہت کچھ مہیا کرتی ہیں وہ میرے لیے ‘ مادر وطن سے آیا تازہ ہوا کا جھونکا بھی ہوتی ہیں ۔ آپ سے بس یہی التماس ہے کہ ہمارے لیے اپنی اس “ ادبی لائف لائین “ کو جاری رکھئے ۔ اللہ آپ کو مزید ہمت و حوصلہ دے اور اپنی پناہ میں رکھے ۔
وسلام ۔
نصر