Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

الو کیا سوچتا ہے؟

الو کیا سوچتا ہے؟
ایک ڈینش نظم ۔
بہن نگہت نسیم صاحبہ ۔ لیجیئے اب آپ کے لیے بطور خاص اور اس بلاگ کے سبھی بہین بھائیوں کے لیے وہ نظم حاضر ہے جس کا آپ سے وعدہ تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اردو داں ‘ دوسری زبانوں کے ادب سے ترجمے کے ذریعے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہی تہذیبوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ شاید اسی لیے میں گاہے بگاہے یہاں اس پلیٹ فورم پر ڈینش ادب سے کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہتا ہوں ۔ اب آپ احباب اور نگہت بہن خصوصی طور پر آپ زیر نظر نظم ملاحظہ کریں اور بتایئے کہ “ الو کیا سوچتا ہے؟ مجھے آپ کی سوچ کا انتظار رہے گا ۔ وسلام ۔ آپ سب کا خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر ؛ کلاؤس رفبجرگ ۔
الو کیا سوچتا ہے؟
الو وہاں سے اڑتا ہے
اور پرانے درختوں پر بسیرا کرتا ہے
اور گھورتا ہے

کوئی اسے انسانی صفات سے متصف کیے بغیر
یہ یقین کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے
کہ یہ کیا سوچتا ہے؟

یہ سوچتا ہے شاید کسی چوہے
یا اپنے منقش سائے
یا گھر کے وسینکوں کے بارے میں

پہلے یہ ایک کھولتا ہے
پھر دوسری‘ تھوڑی دیر بعد یہ اپنی آنکھیں
موند لیتا ہے‘ اور اپنے سر کو ایک جانب ڈھلکا لیتا ہے
الو کیا سوچتا ہے؟
کوئی بھی نہیں جانتاْ
لیکن اپنی لمبی بے آواز اُڑان پر
کھلی اور بند آنکھوں کے ساتھ
اس نے بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے
وہ دور پار کے
کلیسائی میناروں سے آتا ہے

یہاں اس کہنہ مکان کے قریب
جہاں بہت کچھ رونما ہو چکا ہے
پرانے درختوں پر اترتا ہے

الو کیا سوچتا ہے
اپنے ننھے سے دماغ میں گرداں لہو کے بارے میں
یا اس کھیت کے بارے میں
کہ جو ابھی ابھی سرخی ٔ شفق میں
پکی فصل کے زرد رنگ سے خاکستری ہو رہا ہے
اس گودی کے بارے میں جو بہاؤ سے کنارہ کش ہوتی ہے۔
اور منہ کھولے
احتجاج کرتی گونگی بہری لڑکی کے بارے میں؟
وہ عقل مند ہے کہ میرے بارے میں سوچتا ہے
پردے کے پیچھے اپنے بستر پر لیٹا تنہا آدمی
بے وقوف جاگتا ہے اور حیرت ہے کہ خوش ہے
میں سنتا ہوں‘ یہ بہت جلد آئے گا
اور الو جانتا ہے
اور یہ چیختا ہے اور شاید
کوئی مر جاتا ہے۔
…………………………………………………………………………..
کلاؤس رفبجرگ ١٩٣١ء میں کوپن ہیگن میں پیدا ہوئے۔ وہ معروف ادبی اصناف پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ مشہور زمانہ ڈینش فلاسفر‘ شاعر و ادیب اور نقاد وَلّی سؤرنسن کے ساتھ ڈینش ادبی جریدے ’’باد گلاب‘‘ کی ادارت کرتے رہے۔ انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے انگریزی زبان و ادب کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’اپنی شدھ بدھ‘‘ ١٩٥٦ ء میں شائع ہوا جبکہ ان کا پہلا ناول ’’موروثی معصوم‘‘ ١٩٥٨ء میں منظر عام پر آیا ۔ اب تک ان کی کوئی پچانوے کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ ان کی ادبی شہرت میں ان کے متنازع فیہ موضوعات اور خیالات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فکشن‘ شاعری‘ مضمون و مقالہ نویسی‘ صحافت‘ فلمی و ریڈیائی ڈرامے‘ ادبی تبصرے اور ٹی وی سکرپٹ لکھنے میں انہیں خاص مہارت حاصل ہے۔
ان کی تخلیقات گیارہ یورپی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نارڈک کونسل کے اہم ترین ادبی انعام کے علاوہ متعدد قومی اہم ایوارڈ بھی حاصل کئے ہیں۔

’’آدمی جو گناہگار ہونا چاہتا تھا‘‘ نامی اُن کے ایک ناول پر ڈینش فلم بھی بن چکی ہے ۔ اردو قارئین کے لیے‘ اس ناول کا اردو ترجمہ بھی عنقریب ہی پیش کردیا جائے گا۔ ( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ) ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

12 تبصرے »

  1. خاور چودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 6:19 am

    شکریہ ملک صاحب
    حقیقتا فکرانگیزاورتجسس سے مملو نظم ہے۔۔۔ میرے سیکھنے کے لیے اس میں‌بہت کچھ ہے۔۔ میں دیہاتی تو موصوف شاعر کے نام سے ہی واقف نہیں تھا۔۔۔ اس اعتبار سے آپ کا یہ احسان ہوا مجھ پر۔۔۔۔۔۔۔ موصوف کے ناول کے اردو ترجمے کا انتظار رہے گا۔۔۔

    اب میں‌بھی سوچتا ہوں کہ الو کیا سوچتا ہے

    جب کوئی سرا ہاتھ لگا تو خدمت میں حاضر ہو جاوں گا۔۔
    نیازمند
    خاور

  2. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 4:41 pm

    الو کیا سوچتا ہے؟
    الو صرف یہ سوچتا ہے کہ
    یہ لوگ کسی بھی بے وقوف اور کسی بھی بے مقصد انسان کو
    الو کیوں کہتے ہیں؟
    اُلو تو ان جیسے کروڑوں سے بہتر ہے
    کہ
    کم از کم اسکی مثال تو دی جا سکتی ہے
    ان میں سے کتنے ہیں جو مثال کے قابل ہیں.
    اُلو تویہ بھی سوچتا ہے کہ اسکی خوش قسمتی ہے کہ وہ
    سیاستدان نہیں
    ورنہ ”الوؤں” کے خاندان میں بدنام ہو جاتا
    اور الو شکر کرتا ہے کہ ”اہل قلم” میں سے نہیں
    ورنہ
    بہت سوں کی طرح ضمیر بیچنا پڑتا

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 5:01 pm

    خاور بھائی میرا خیال ھے کہ ھم دونوں اب ایک دوسرے کو فون کرتے ھیں اور مل کر سوچتے ھیں کہ الو اتنا کچھ کیسے سوچتا ھے ۔ نصر بھائی میرے پاس الفاط نہیں جس سے میں آپ کا شکریہ ادا کروں ۔ الو سے جس قدر میں متاثر ھوں، اب اُس سے کہی زیادہ اٍس نظم سے ھو رھی ھوں ۔اور سوچ یہ رھی ھوں کہ اُس دن اگر میں باتوں باتوں میں آپ سے اپنے پسنیدیدہ پرندے کا زکر نہ کرتی تو اتنی شاہکار نظم کبھی پڑھنے کو نہ ملتی ۔ ویسے آپ نے یہ بات سو فیصد درست کہی ھے کہ اٍس طرح کے خوبصورت ترجموں سے ھم سیکھ سکتے ھیں اور اٍس طرح سے کئی تہذیبوں کو جاننے کا موقعہ بھی ملتا ھے ۔ جیسے اٍس نظم کے آخری مصرعے میں لبنانی تہذیب اور کہاوت بول رھی ھے
    میں سنتا ہوں‘ یہ بہت جلد آئے گا
    اور الو جانتا ہے
    اور یہ چیختا ہے اور شاید
    کوئی مر جاتا ہے۔
    اور کتنے سلیقے سے بات بڑھا ئی گئی ھے
    کہ
    “ منہ کھولے
    احتجاج کرتی گونگی بہری لڑکی کے بارے میں؟
    وہ عقل مند ہے کہ میرے بارے میں سوچتا ہے
    بھلا کون جان سکتا ھے ایسی گونگی چیخیں سوائے ایسے انسان کے جو پردے کے پیچھے اپنے بستر پر لیٹا ھے ، تنہا بھی ھے اور سُن بھی رھا ھے اور بلکل ایسے ھی جیسے الو تھوڑی دیر بعد اپنی آنکھیں
    موند لیتا ہے‘ اور اپنے سر کو ایک جانب ڈھلکا لیتا ہے
    بے وقوف جاگتا ہے
    اور
    حیرت ہے
    کہ
    خوش ھے
    جی خوش ھو گیا پڑھ کے ۔۔

  4. شمس جیلانی CANADA نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 8:45 pm

    نصر بھا ئی اسلام علیکم۔ آپ نے الو کے سلسلہ میں بہت ہی اچھی نظم کا ترجمہ کیا ہے کہ الو کیا سوچتا ہے؟ میں نے الو کے بارے میں کا فی ریسرچ کی ہے ۔ در اصل ہر جگہ کے الو کی سو چ مختلف ہے امریکن الو کی سو چ اور ہے، ایرا نی الو کی سوچ اور توپاکستانی الو کی سو چ اور۔ اور اسی طر ح وہاں کے با شندے اپنے یہا ں کے الو ؤ کے با رے میں قیاس کر تے ہیں ۔اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے ذ کر کے ساتھ اپنے کالم میں اسی مضمو ن پرروشنی ڈالنے جا رہا ہوں ۔اجازت ہے ؟ یہ با لکل ویسی ہی اجا زت ہے جیسے ضیا الحق نے کہا تھا کہ کہ بھا ئیوں اسلام چا ہیئے ہے تومجھے قبول کر نا پڑے گا قبول ہے ؟
    آپکا بھائی
    شمس جیلانی

  5. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    June 25, 2008 at 9:52 pm

    محترم نصر ملک صاحب بہت اچھی نظم کا ترجمہ ھے۔ الو تو بہت ھی معصوم اور بے ضرر پرندہ ھے۔ ٹہنی پر بیٹھا بہت ھی خوبصورت لگتا ھے ۔وہ یہ سوچ رہا ھوتا ھے ۔اور ساتھ میں افسوس بھی کر رہا ھوتا ھے۔کہ انسان جیسے درندے کو تشبہیہ بھی کس سے دی جارہی ھے۔اسی ڈر سے وہ ساری رات جگتا ھے۔ اور دن کو سوتا ھے۔ کہ رات کے اندھیرے میں کوئی اس کی گردن ھی نا کاٹ لے۔ یا پھر کوئی خودکش حملہ آور درخت کے نیچھے اس کی تاک میں نا بیٹھا ھو۔

  6. ملک نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک DENMARK نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 1:50 am

    دوستو
    اس تحریر کو خالص ادبی رخ سے دیکھیئے اور پڑھیئے گا ۔

    اب سنبھل کر بیٹھو کہ باری ہماری ہے ۔

    ایک “ الو “ کا ذکر کیا ہوا کہ “ الووں کے کان کھڑے ہوگئے ۔“ اب یہ سب کچھ کیا دھرا ‘ بہنا نگہت نسیم کے سر تھونپ کر میں اپنا دامن تو بچا سکتا ہوں لیکن ‘ میرا خیال ہے کہ ایک ماہر نفسیات کی حیثیت میں ‘ نگہت ہماری نبض جان چکی ہیں کہ ہمیں کس طرح “ الو بنایا جائے “ مطلب متحرک رکھا جائے ۔ تبھی تو وہ ایک چھوٹا سا اشارہ کردیتی ہیں اور ہم بقول مصباح بھائی ‘ چل پڑتے ہیں ادب کا پہاڑ کھودنے ۔

    اب واقعی میں نگہت بہن الو کا ذ کر نہ کرتیں تو یہ سب کچھ جو الو کے حوالے سے ہمارے سامنے آ رہا ہے کیسے ممکن تھا۔ اور تو اور وہ اپنے برزگوارم اور جان محفل محترم شمس جیلانی صاحب ‘ اور ہر ایک کے لیے دل صاف رکھنے والے صفدر ھمٰدانی بھی پیچھے نہیں رہے۔ خاور چوھدری تو ٹھہرے ہماری طرح کے ویسے ہی دیہاتی کہ ہوش سنبھالتے ہی ایک کان میں فاختاؤں کی تو دوسرے کان میں الووں کی آزاویں سنتے ہیں ۔ اور جن کے سروں پر کووں کی کائیں کائیں کبھی ختم ہی نہیں ہوتی ۔ اب منڈ کوں کی ٹر ٹر کا ذکر ہی کیا۔

    ہاں تو صاحبو ذ کر ہو رہا تھا “ الو “ کا۔
    نگہت بہن اب تو خوش ہونا‘ آپ نے تو الو کے حوالے سے صرف لبنانی اور عرب تہذیب کا ذ کر کیا تھا‘ دیکھا ہمارے بزرگ “ شمس تاباں “ ہاں وہی وینکور والے ‘ انہوں نے تو کمال کر دکھایا ملک ملک کے الووں کی عادات و اطوار ار اور خصلتوں کا ایسا ذ کر کیا ہے کہ بھئی ہم پر بھی چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں ۔ اور اب ہم سوچ رہے ہیں کہ “ الو “ کی وہ کونسی خوبی ہے جو بیاں سے باقی رہ گئی ہو ۔

    اس سلسلے میں ہماری نگاہ جب اپنے اسلاف کے ادبی سرمائے پر پڑی تو اقبال ہاتھ میں حُقے کی نے لیے ‘ سرپر دستار پہنے سب سے سربلند‘ مسکراتے دکھائی دیے ۔ عرض کی بابا “ الو “ کے بارے میں کچھ فرمایئے ۔

    ارشاد ہوا ‘ عزیزم

    پوشیدہ رکھو “ الو “ کے احوال و مقالات
    موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

    اب ہم کیا عرض کرتے اور کیسے ضد کرتے کہ نہیں حضور کچھ تو بتایئے ۔ ہم چپ رہے ۔ اور سوچتے رہے کہ ہمارے اردو ادب میں یہ جو‘ الو کا پٹھا ‘ الو کا کان ‘ الو بنانا ‘ الو بننا ‘ الو بولنا ‘ الو ہونا ‘ الو پھنسنا ‘ الو کا گوشت کھلانا اور ‘ الو کی دم فاختہ یا پھر الو پن ‘ وغیرہ جیسے محاورے ایک “ شریف النفس پرندے “ سے منسوب کر دیئے گئے ہوئے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ اور کیوں انسانوں نے اپنی ان خصلتوں کو‘ جو ان محاوروں سے عیاں ہیں ‘ انہیں ایک “ معصوم پرندے “ سے کیوں منسوب کردیا ہے ؟

    ابھی ہم یہی سوچ رہے تھے کہ حکیم الامت کی کھنکھناتی ہوئی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔ سنو ‘ تم نے “ الو “ کے متعلق کچھ پوچھا تھا ۔

    عرض کیا جی حضور‘

    فرمایا ‘ سنو

    “ معلوم نہیں ‘ ہے یہ خوشامد کہ حقیقت
    کہہ دے کوئی الو کو اگر “ رات کا شہباز “

    ہم اس “ رات کے شہباز “ کے کچھ اور بھی راز جاننا چاہتے تھے کہ اقبال نے اپنے حقے کی نے سنبھالی اور حقہ گڑ گڑانے لگے اور ہم نے اُن کے اسی “ فرمودہ “ کو پلے باندھا اور انہیں مزید تنگ نہ کرنا چاہا ۔ اب دوستو تمھی بتاؤ کہ “ الو “ کو رات کا شہباز “ کیوں نہ کہا جائے ؟

  7. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 3:41 am

    بھئی واہ۔۔۔ اٍس طرح سے الو کو نہیں بلکہ لگتا ھے مجھے ھی پزیرائی مل رھی ھے ۔۔ یہ بات آپ نے سچ کہی کہ ماھر نفسیات کا کام واقعی اٍس کے علاوہ کچھ نہیں ھوتا کہ ایک اشارہ کر دینا اور پھر سننا جیسے الو سنتا ھے ۔۔ ارے ارے میں خود کو کس شہباز سے ملانے بیٹھ گئی ۔۔ سچ پوچھیں تو مجھے بھائی مصباح کی تحریر کا دل سے انتظار ھے کہ انہیں آخر الو کیسا لگتا ھے اور وہ سارے راز جو ھمیں شمس بھائی نے بتائے ھیں اُس میں اور کتنا اضافہ وہ کر پایئں گے ۔۔ دیکھئے جی ھم نے پھر ایک انتہائی ادب نواز کو ادب کا پہاڑ کھودنے پر لگا دیا ھے ۔۔ یعنی الو بنا دیا ھے ۔۔۔۔
    نصر بھائی یہ مت بھولیں کہ آپ نے بھی یہی سازش ھمارے ساتھ کی ھے ۔۔ بہانے بہانے سے پہلے ھمیں ڈینش کے ادب کا بتایا ۔۔ شسمس بھائی سے کالم تک لکھوا لیا ۔۔ اور تو اور کمال بھی ھوا کہ ھمدانی صاحب بھی چپ نہ رہ سکے ۔۔ خاور کو سوچنے پر بٹھا دیا اور مصباح کو پکار لیا اور وھی تانیہ نے تو الو پر معلوماتی مقالہ بھی لکھ ڈالا ۔۔۔ یہ سب کیا ھے نصر بھائی ۔۔۔ کیا ھے یہ سب ۔۔۔اب آپ ھی بتایئے کہ کون کس کو کیا بنا رھا ھے ۔۔۔
    اب آپ سب یہی کہے گے کہ صرف شریف النفس شہباز کی وجہ سے سب جاگ پڑے ھیں ۔ اجازت ھو تو ایک بات میں بھی کہنے کی جسارت کر لوں کہ الو ھی وہ واحد شہباز ھے جس میں سب کو اپنا کوئی نہ کوئی رخ مل جاتا ھے اور سب جاگ پڑتے ھیں ۔
    ویسے مجھے الو میں ہمیشہ سے جو سب سے اھم اور اچھی بات لگتی ھے وہ اُس کی وہ عادت ھے جس کی وجہ سے نہ وہ خود سوتا ھے اور نہ کسی کو سونے دیتا ھے ۔۔۔الو ایک انتہائی وضع دار ، اپنے کام سے کام رکھنے والا اور ایسا بے لوث شہباز ھے کہ دوسروں کے حصے کا بھی خود ھی جاگتا ھے اور اُسی جاگنے میں وہ کئی کام دوسروں کو ایسے سپرد کر جاتا ھے کہ پھر باقی عمر وہ جاگتے رھتے ھیں ۔۔۔ دوستو آخری بات یہ کہ بات یہاں صرف ایک شریف النفس شہباز کی ھو رھی ھے جو فی زمانہ کمیاب ھی نہیں بلکہ نایاب بھی ھے ۔
    اور سعد مشورہ یہ ھے کہ جس کو جہاں بھی ملے اُس کو اللہ پاک کا انعام سمجھ کر اپنے پاس رکھ لے ۔۔۔۔

  8. زرقا مفتی نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 11:32 am

    محترم نصر ملک صاحب
    تسلیمات
    ڈینش نظم کا ترجمہ پیش کرنے کے لئے شکریہ
    میں نے یہ نظم دو تین بار پڑھی اور نظم کاآخری بند ہی زیادہ پسند آیا
    الو کیا سوچتا ہے
    اپنے ننھے سے دماغ میں گرداں لہو کے بارے میں
    یا اس کھیت کے بارے میں
    کہ جو ابھی ابھی سرخی ٔ شفق میں
    پکی فصل کے زرد رنگ سے خاکستری ہو رہا ہے
    اس گودی کے بارے میں جو بہاؤ سے کنارہ کش ہوتی ہے۔
    اور منہ کھولے
    احتجاج کرتی گونگی بہری لڑکی کے بارے میں؟
    وہ عقل مند ہے کہ میرے بارے میں سوچتا ہے
    پردے کے پیچھے اپنے بستر پر لیٹا تنہا آدمی
    بے وقوف جاگتا ہے اور حیرت ہے کہ خوش ہے
    میں سنتا ہوں‘ یہ بہت جلد آئے گا
    اور الو جانتا ہے
    اور یہ چیختا ہے اور شاید
    کوئی مر جاتا ہے۔

    ساتھ ہی آپ کا درج کردہ یہ شعر

    معلوم نہیں ‘ ہے یہ خوشامد کہ حقیقت
    کہہ دے کوئی الو کو اگر “ رات کا شہباز”
    والسلام
    آپ کی طرف سے مزید عنایات کی منتظر
    زرقا

  9. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 1:47 pm

    کاش وطن عزیز کے سیاسی قائدین اس ”اُلو” سے ہی سبق سیکھ لیتے کہ اگر کوئی ”اُلو” بھی خالص ہو تو محققین اسکی کیسی کیسی خصوصیات ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر لاتے ہیں اور اہل قلم اور اہل فکر کی جنرل اسمبلی میں اُس پر بات ہوتی ہے. مگر وائے رے شومئی قسمت کہ اس خطہ ارضی کے سیاسی قائدین و اکابرین ”اُلو” بھی تو نہیں ہیں اور اسمیں بھی ”اُلو” ہی کی خوش قسمتی کا راز مضمر ہے.
    اُلو کو آپ کتے ہیں اُلو یہ ٹھیک ہے
    انسان کو تو بھولے سے اُلو نہیں کہو

  10. آویز ۔برمنگھم۔ نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 6:45 pm

    کائنات میں سب سے پہلے اور پہلے انسان کو ابلیس ہی نے الو بنایا ۔ اُس کے سبق پر آج تک انسان دوسرے انسان کو اُلو بنانے میں عمل پیرا ہے۔اور شاید یہ رات کا شہباز اُسی درخت میں بیٹھا انسان کو اُلو بنتا دیکھ رہا تھا ؟ دنیا کے کسی ملک شہر کونے میں چلے جائیں یہ الو کے محاورے سب جگہ ایک جیسے ہی ہیں ۔شاید انسان اپنی حماقت کا غصہ اس رات کے شہباز پر نکالتا ہے ۔؟
    رات کا شہباز وہ ہی سوچتا ہے کہ انسان کتنا احمق ہے کہ ایک سیب کے لئے اُلو بن گیا ۔

  11. شمس جیلانی CANADA نے لکھا؛

    June 26, 2008 at 9:55 pm

    بھا ئیوں اور بہنوں ! آپ لوگ اس خاکسار سے جس محبت کا اظہار کرتے ہیں بہت، بہت شکریہ۔ سفدر ھمدانی صاحب نے اس کا رخ مو ڑدیا ہے اور فکر کی دعوت دی ہے ۔لہذا مذاق بر طرف۔ اب آپکی فکرو نظر کے لیئے یہ قطعہ پیش کر کے تو جہ مبذو ل کرا نا چا ہتا ہوں ِ
    ایسی دنیا کو توہر حال ہے ویراں ہو نا
    فخر سمجھا ہے جو انسان نے شیطاں ہو نا
    طو ر تمثیل تو کہتے ہیں کہ الو ہے بہت
    جبکہ الو کو ہے آ تا نہیں انساں ہو نا

  12. خاور چودھری PAKISTAN نے لکھا؛

    June 27, 2008 at 9:12 am

    جی نگہت بہن
    فون پر بات کرنے کی بات بھی خوب رہی۔۔۔۔۔

    مجھے آج صبح نماز کے وقت الو کی آواز سنائی دی تو مجھے اپنے بچپن کے دن یاد آگئے۔۔۔
    ساون کا مہینہ تھا۔۔۔ رات کو بارش زوروں کی ہوئی۔۔۔ ہمارے گھروں کے چاروں اور پھیلے ہوئے شیشم کے درختوں میں‌موجود پرندوں کے گھونسلوں میں سے اکثر زمین پر آپڑے تھے اور فاختائیں،لٹورے، کالی کات،نیلک شا(مقامی زبان میں) اور الووں کی کثیرتعداد طوفان بادوباراں کی نذر ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی میں سے مجھے ایک ٹھٹھرتا ہوا خوبصورت روشن آنکھوں والا معصوم پرندہ مجھے ملاتھا۔۔
    میں اسے اٹھا کر گھر لے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں بی مرحومہ نے بتایا یہ تو اناکہوگو(الو) ہے ۔ الوکا بچہ(پٹھا) پنجرے میں بند کردیا۔۔دن اس سے کھیلتے ہویے بیتا اور رات اپنی چارپائی کے ساتھ اس کا پنجرہ رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
    ساری رات وہ مختلف آوازیں نکالتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں حیران ہوتا رہا کہ اس ایک پرندے کے کتنے لہجے ہیں اور اب بھی حیران ہوں۔۔۔۔
    دو روز پہلے گاوں کے حجرے میں بیٹھا دوستوں کے ساتھ تاش کھیل رہا تھا کہ شیشم کے پرانے درخت پر الو کاوں کے نرغے میں‌تھا مگرخاموش۔۔۔۔۔ بے آواز۔۔۔۔۔ شاید کچھ سوچ رہا تھا،،، مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں‌نہیں‌جانتا ہوں۔۔ نہ ہی بچپن میں جان پایا تھا۔۔۔۔۔

    نصر ملک صاحب خوش رہیے کہ مجھے میرا بچپن یاد دلا کر کئی خوبصورت لوگوں کی یاد دلا دی ہے انھی میں‌سے ایک اماں بی ہیں۔۔

    نیازمند
    خاور

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو