جگ جگ اندر جال ہے سیتلتا بھی آگ
سن ری کوئل باوری ہردے آج سمائی
میٹھے سُر میں کوک تو میں رووں سودائی
باجے سیٹی ریل کی ہردے منہ کو آئے
آشاوں کی گور پر خاور نیر بہائے
ماریں پاتھر بالکے کھویا اپنا ہوش
کڑوے شبد ہیں ساچ کے اور نا کوئے دوش
اجیارے کی آس ماں جیون مورا ماند
دھن والوں کی بھور ہے دھن والوں کا چاند
جگ جگ اندر جال ہے سیتلتا بھی آگ
سُر سچا ہے بھیرویں نا ہی دیپک راگ
درش دکھائے مادھوی من بھیتر ماںاور
اندر جالک مادھری کھویا مورا ٹھور
سن ری چنچل مادھوی میں خاور سودائی
توری میٹھی واسنا روں روں آج سمائی































نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
نے لکھا؛
June 27, 2008 at 3:05 pm
آ دَ رنی اے خاور بھیا جی ۔
آداب و پرنام ۔
پَراچِین بھاشا میں آپ کے دوہوں کا ہراِک شبد‘ اَتنا سندر ہے کہ من کو ہلا رہا ہے اور اَنوبُھوتی کی کرنیں پَردان کرتا ہے ۔
بھاشا کی اس سِہجتا اور احساس کے اظہار نے پَٹھ نیتا کے ستر پر ایک ایسا سَم موھن رچ دیا ہے کہ ہمیں ارمَبھ سے لے کر انت تک باندھے رکھتا ہے ۔ یہ اُدبُہت ہے ۔ ہماری اَنو بھوتیوں کی شانت جھیل میں آپ کے دوہے بھاوناؤں کی ایسی ترنگیں پیدا کرتے ہیں کہ اُس کی اَنو گونج بہت دیر تک سنائی پڑتی ہے ۔ پرماتما آپ کو سدا سکھی رکھے اور “ عالی جی “ کے سنگ آپ کو “ ادب کے تُلسی “ کا درجہ دے ۔
اب ان شعروں کے ساتھ پرنام کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہوں گا:
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے‘ پتا ہی نہیں
کتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
اپنے حصے کا کچھ پتا ہی نہیں ۔
دھنے واد ۔
آپ کا شبھ چنتک
نصر
صفدر ہمدانی نے لکھا؛
June 27, 2008 at 5:42 pm
جناب نصر ملک صاحب
آخری خبریں آنے تک تو ہم آپ کو بھلا چنگا چھوڑ کر آئے تھے.نصیب دشمناں آپ نے یہ اپنی کیا حالت بنا لی ہے کہ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل. پا جی سدھی سدھی گل کرؤ.گھُمر گھیریاں نہ کھاؤ.
خاور چودھری
نے لکھا؛
June 28, 2008 at 11:16 am
ملک صاحب
خلوص بیکراں
کہاں خاورِ بے نوا اور کہاں آپ کی شفقت؟
میںاسے اپنے مولا کا کرم سمجھتا ہوں،جس نے آپ کے دل کو میرے لیے نرم کیا۔۔
اللہ آپ کو خوشیاں دے۔۔
میںاپنے دوہوں کا مجموعہ مرتب کر رہا ہوں،میراخیال ہے اگست تک طباعت کے لیے تیار ہو جائے گا۔۔۔
آپ اگر مناسب سمجھیں (میری خواہش بھی ہے) تواس کتاب کا پیش لفظ(دیباچہ) لکھ کر ممنون کیجیے۔۔۔۔۔۔۔
خداچاہے تومیں سوموار کے دن ڈیڑھ ماہ کے لیے شمالی علاقہ جات کے لیے فیملی کے ساتھ جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں یقینا مجھے موقع ملے گا میں زیادہ آسانی سے مجموعےکی ترتیب مکمل کر لوں گا۔۔۔۔۔۔
آپ لکھ لیںتو ازراہِ نوازش مجھے(اردورسم الخط فائل) ای میل کر دیں۔۔۔ شکریہ
نیازمند
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
نے لکھا؛
June 29, 2008 at 6:21 pm
ًحترم خاور بھائی ۔
آپ اہل و عیال کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیرو سیاحت پر جا رہے ہیں ۔ اللہ آپ کا یہ سفر مبارک کرے اور آپ سب کو اپنی پناہ میں رکھے ۔ اور آپ وہاں کے پہاڑوں چشموں اور سیمی ندیوں سے “ دوہوں “ کے چکمتے ہیرے موتی لے کر آئیں ۔ آمین ۔
انشااللہ آپ کی واپسی کی اطلاع ملتے ہی یا یہیں بلاگ پر آپ کی تحریر پڑھنے کے بعد آپ سے رابطہ کرونگا اور مجھے امید ہے کہ تب تک آپ اپنے دوہوں کی کتاب کا مسودہ بھی مکمل کر لیں گے ۔ آپ مجھے جو ذمے داری سونپنا چاہتے ہیں ‘ انشا اللہ اس پر بھی بات ہو گی اور آپ کی امیدوں پر پورا اترنے کی سعی کرونگا ۔
وسلام ۔
آپ کا خیر اندیش‘ خاکسار
نصر
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
July 3, 2008 at 10:35 am
خاور بھائی آپ کے شعر پڑھ کر ھم بھت روئے۔ جانے کیوں انار کلی کی گلیاں یاد آ گئیں۔ ھم تو بہت بھلانے کی کوشش کرتے ھیں لیکن وہ زمانہ بھولتا ھی نھی۔ میرا خیال ھے کے اب بلاگ پڑھنا چھوڑنا پڑے گا۔ ھمارے دل میں بھت درد ہے نا جگ جانے نا وہ۔ سویرا ہوا تاریکی
چھائی گھنگھور۔ صبح کاذب چلائی اب اٹھو سجدہ کرؤ الہی)