اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا
آسٹریلیا کے سب سے بڑی مسجد کے معروف خطیب شیخ خلیل چامی نے حکومت سے درخواست کی کہ “ تمام مسلمان مردوں کو اسلام کی رو سے ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے “ ۔
ان بزعم خویش عالم دین کے اس مطالبے پر نا صرف پورا میڈیا حرکت میں آ گیا بلکہ حکومتی مشینری تو ھکابکا ھی رہ گئی اور انتہائی تمیزداری سے منسٹر کو بھی میڈیا پر آ کر حتمی طور پہ یہ کہنا پڑا کہ ایسا ھونا ناممکن ھے ۔
یہ درخواست اُس خطیب نے دی تھی جو یہاں ھم مسلمانوں کے سربراہ ھیں اور ہم جیسے بیچارے مسلمانوں کی بھی دینی سطح پر نمائندگی کرتے ہیں۔ مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔































آویز۔برمنگھم ۔ نے لکھا؛
June 27, 2008 at 2:31 am
السلام علیکم۔
مولویوں اور خطیبوں کی سوچ اور ان کے اعمال کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں رہی۔ اور نہ ہی یہ کوئی نئی بات ہے ؟
صرف انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں تقریبا دو لاکھ سے زائد مسلمان رہتے ہیں چھ سو کے قریب مساجد ہیں ۔مسلمانوں کے اپنے الگ قبرستان، حلال زبح خانے ۔اسلامیک سکول ہیں ۔ پارلیمنٹ میں کئی مسلمان ایم پی ۔لارڈز ۔ مئیر ۔ججز ، بریسٹرز ۔وکیل۔ سب ہیں۔ عورتوں کو برقعے اور حجاب کی مکمل آزادی ہے۔
مگر حکومت اور قانون نے مسلمانوں کو کبھی بھی مرد کو دو شادیوں کی اجازت نہیں دی۔
مولوی اور خطیبوں کو بھی گورنمنٹ کو الو بنانا آتا ہے ۔اکثریت نے دو دو شادیاں کی ہوئی ہیں ۔
ایک بیوی تو رجسٹرڈ ہے اور دوسری بیوی رجسٹرڈ نہیں اس کے بچے بھی ہیں ۔ایسی عورت اور ایسے بچے خوب عیاشی اور ٹھاٹ بھاٹھ سے رہتے ہیں کیونکہ اس کا سارا خرچہ گورنمنٹ اٹھاتی ہے ۔
آسٹریلیا گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ انگلینڈ کے مولویوں اور خطیبوں سے کچھ سیکھ لے ۔
صفدر ہمدانی نے لکھا؛
June 27, 2008 at 3:51 am
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ.آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے وہ سچ پوچھیں تو اس عہد میں جہاد ہے. اللہ آپ کو ہمت دےاورقلم میں حق گوئی کی مزید طاقت.
برادرم آویز نے جو کچھ تحریر کیا ہے اس سے بھی کُلی اتفاق اس لیئے بھی ہے میں خود لندن میں رہنے کی وجہ سے ان حقائق سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر تحقیقی کام کر چکا ہوں. ریزیڈنٹ عالم اور پیش امام کے نام سے مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب شعبہ ایک صنعت بن چکا ہے اور یہ بالکل سچ ہے کہ کم علم اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت کی وجہ سے ایسے مولوی حضرات جو عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں اسے دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ اس حق گوئی اور سچ لکھنے کے کام کو چھوڑا جائے اور مولوی بن جایا جائے لیکن ایسا اس لیئے بھی نہیں کر سکتے کہ ہمیں ضمیر اور دین فروخت کرنا نہیں آتا.
اس میں قصور خود انفرادی طور پر مسلمانوں کا اپنا بھی ہے کہ انہوں نے اپنی دینی اور دنیاوی زندگی کا ساراانتظام و انصرام ملاں اور مولوی کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اسی وجہ سے علم آشنا اور عالم دین کنج قفس میں مقید ہو گیا ہے. ایسے کمرشل ملاں اور مولوی ایشیائی ٹی وی اسٹیشنوں پر بیٹھ کر سادہ لوح اور علم سے ناآشنا مسلمانوں کو سارا دن تعویز دینے اور استخارہ کر کے مال کمانے کا کاروبار کرتے ہیں. ان کے نزدیک توبہ نعوذ باللہ میرے پاک اور مطہر نبی کی سنت صرف چار بیویوں تک محدود ہے اور علم حاصل کرنے کے لیئے یہ ساتھ والے محلے میں بھی نہیں جائیں گے.ایسے ملاؤں نے اس ملت کو مزید معذور بنا دیا ہے. کاش ہم سب مل کر اس نجاست کے خلاف علم بلند کر سکیں. ہمیں اپنے وقت کے علما کو پہچاننا چاہیئے اور انہیں انکا جائز مقام دینا چاہیئے اور ایسے کمرشل ازم کے مارے ہوئے نام نہاد ملاؤں کو طشت ازبام کرنا چاہیئے جو اسلام کی منفی صورت دنیا کو دکھا رہے ہیں.
مصباح
نے لکھا؛
June 27, 2008 at 4:06 pm
سلام مسنون۔
یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور فکر انگیز بھی۔ یہاں آسٹریلیا میں مسلمان علماء کی یہ عادت اب بہت عام ہو چکی ہے کہ سستی شہرت کی خاطر چونکا دینے والی بات کر دیں۔ تاہم اگر سچ پوچھیں تو جس معاشرے میں گیز، لیسبی اینز اور کتوں بلی کے حقو ق ہوں، وہاں آبادی کی بنیاد پر اگر مسلمان بھی پرسنل لاء کا مطالبہ کر دیں تو کچھ مضحکہ خیز بھی نہیں۔ لیکن اصل بات یہی ہے کہ ڈاکٹر اسرار اور چامی جیسے نا سلف و ناخلف لوگ جو در اصل گندم نما جو فروش ہیں اور اسلامی روایات اور اصول سے اپنی نفسانی تسکین کے لئے نجانے کیا کیا غلغلے و بلبلے چھوڑتے رہتے ہیں۔۔۔اللہ ہمیں انکی روش سے مامون رکھے۔
نا چیز۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
June 27, 2008 at 5:19 pm
نگہت مجھے تو ویسے ھی ملاں سے چڑ ھے۔ کیونکہ سب سے ذیادہ تباہی ان نام نہاد مولاناوں کی وجہ سے ھو رہی ھے۔آج پاکستان کی جو حالت ھے۔اس میں حکمرانوں کے ساتھ علما کا بھی پورا پورا ھاتھ ھے۔اگر آپ کسی بھی پر آمن جگہ پر فساد چاہتے ھو تو وہاں مدرسے کے 2 ملاں بیٹھا دو۔ اور تماشہ دیکھو ۔کہ جس طرح آگ پھلتی ھے۔اوردیکھتے ھی دیکھتے کہی گھروں کو اپنی لپیٹ میں تباہ و برباد کر دیتی ھے ۔ اسی طرح کم علمی کی وجہ سے گھروں کو خراب کرنے میں ملاں اپنا کردار باخوبی نباتا ھے۔
ملاں کا نزلہ بس عورت ذات پر ھی گرتا ھے۔اور ان کی مردانگی ذیادہ سے ذیادہ شادیوں پر ختم ھوتی ھے۔کیا اللہ کو اپنے بندے کا پتہ نہیں تھا۔ کہ وہ انصاف نہیں کر سکتا۔ذیادہ شادیاں کر کے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
علی شاہ
نے لکھا؛
June 27, 2008 at 9:53 pm
نگہت جی
آپ کا بلاگ اور کالم پڑھا ، بقول صفدر صاحب کے آپ حقیقاتاً جہاد بزورِقلم کر رہی ہیں. اللہ پاک مزید ہمت عطا فرمائے۔
علی شاہ
نے لکھا؛
June 27, 2008 at 10:22 pm
مصباح جی
آپ کی رائے پڑھی، آپ نے غالباَ ڈاکٹر اسرار احمد کا ذکر کیا. میں انکے بارے میں کچھ زیادہ واقف نہیں مگر کسی بھی عالمِ دین کے بارے میں اسطرح لکھنا نا صرف اس محفل کے شایانِ شان نہیں بلکہ آپ جیسے سنجیدہ قلم کار کو بھی زیب نہیں دیتا. اگر آپ کو میرے تبصرے سے کوئ ثکلیف پہنچی ہو تو پیشگی معزرت قبول کریں.
افتخار الحق
نے لکھا؛
June 28, 2008 at 5:22 am
نگھت صاحبہ
آپ نے جو کچھ لکھا وہ سچ ہے. مگر کسی بھی عالمِ دین کو اسطرح نام لے کر نا سلف و ناخلف کہنا بجا نہیں.
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
June 28, 2008 at 6:14 am
علی شاہ جی مجھے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ شاید ڈاکٹر نگہت صاحبہ ڈاکٹر اسرا کے بارے میں لکھ نہیں پائیں کہ انہوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیئے کیا کیا ماضی میں کیا اور کیا چند روز قبل کیا۔دیکھئے میں اس بات کا قائل ہوں اور آپ کو اختلاف کا مکمل حق ہے کہ ہمیں ہر ہمہ شُما کو عالم دین نہیں کہنا چاہیئے۔ عالم دین تو بہت بڑی معراج ہوتی ہے اور ساتھ میں بڑا فرض بھی۔ کوئی بھی عالم دین کسی ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے نہیں لڑاتا۔ اور ویسے بھی یہ شیطانی فعل ہے۔ ہمارے دین اسلام میں بہت سے لوگ دین کے نام پر علم کا چوغہ پہن کر وہ کام کر رہے ہیں جو اسلام دشمن بھی نہیں کر پاتے۔ علی جی آپ یقین رکھیں ہم یہاں بلاگ پر کسی قسم کا مناظرہ نہیں چاہتے اور نہ یہ آپکا،میرا اور مصباح کا مزاج ہے لیکن اپنے عہد کے عالم اور عالم نما کے درمیان فرق کرنا بھی ہماری ہی ذمیداری ہے۔ صرف ڈاکٹر اسرار کے بارے میں اتنا عرض کردوں کہ ضیا الحق آمر کے دور میں انہوں نے سات محرم کو اپنی بیٹی کی شادی کی تھی اور اسکا اشتہار روزنامہ مشرق کے پہلے صفحے پر شائع کروایا تھا، پھر انہوں نے ایک تحریک چلائی کہ فوج میں نشان حیدر ختم کر کے نشان معاویہ شروع کیا جائے اور اب تازہ ترین واقعہ یہ ہے کہ اے آر وائی ٹی وی پر جو ان پر پابندی لگی ہے تو اس کی وجہ انکا یہ بیان ہے توبہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نہ باشد کہ حضرت علی علیہ السلام نے نعوذ باللہ شراب پی کر نماز پڑھائی اور الکافرون کا سورہ غلط پڑھ گئے۔ انکی یہ ہرزہ سرائی یو ٹیوب میں انکی آواز میں موجود ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا ایسے شخص کو کیا عالم دین کہیں گے آپ۔میں نے فقط حقیقت بیان کی ہے تا ہم اسکے باوجود اگر میری کسی بات سے کسی بھی فرد کو تکلیف ہوئی ہو تو میں دست بستہ معذرت چاہوں گا