Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں June, 2008

”صمد خرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل ہیں“

اسلام آباد کے مہمندنیشنل آرٹ کالج میں منعقد نجی ایوارڈ تقریب کے دوران ہال اس وقت تالیوں سے گونج اٹھا جب ہاورڈ یونیورسٹی سے اسکالر شپ لینے والے پاکستانی طالبعلم صمد خرم سرٹیفکٹ لینے اسٹیج پر آئے تو صمد خرم نے مہمند ایجنسی پر امریکی فورسز کے حملے کے خلاف احتجاجاً پاکستان میں متعین امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹر سن سے سرٹیفکٹ لینے سے انکار کردی »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (10)

باتیں ہی با تیں

الصبح جو شر وع ہو کر کہ شب بھر بات ہو تی ہے
کبھی تنہا بھی ملتے ہیں کبھی با ر ات ہو تی ہے
یہ عقدہ ہی نہیں کھلتا کہاں پر وہ اٹکتے ہیں
کہ بس لفظوں کی بارش ہے سدا بر سات ہو تی ہے

تبصرہ جات (2)

اس معصومیت کے قربان جایئے

ایک خبر آپا مشرف ، اُف یہ میری ذاتی آپا نہیں ھے ۔پاکستان کی عوام کی آپا کے حوالے سے یہ خبر سُننے کو ملی ھے کہ جب آپا سے سوال کیا گیا ۔ کہ ملک میں آٹے کا بحران ھے ۔اب تو غریب کو کھانے کے لیے روٹی بھی نہیں ملتی تو آپا نے نہایت ھی سادگی سے جواب دیا ۔اگر آٹا نہیں تو کوئی بات نہیں مرغی سستے داموں مل رہی ھے ضروری ھے کہ روٹی کھائی جائے ۔ اگر بھلے مرغی کتنی ھی ستی سہی ۔ایک گھر میں اگر پانچ بچے ھیں اور مرغی ٹھہری دوٹانگوں والی ۔ ھمارے صدر کو چاہیئے کہ پہلے پانچ ٹانگوں والی مرغی کی پیدا کر وائے تاکہ ھر بچے کے حصے میں کم از کم ایک روٹی کے بدلے ایک ٹانگ تو آئے ۔ ھماری اور آپ سب کی آپا مشرف بھی فرانس کی اس بیوقوف ملکہ والی بات کر گئی ۔جب فرانس میں کھانے کو بریڈ نہیں تھی ۔تو ملکہ نے اپنی عوام سے کہا کیا ھوا جو بریڈ نہیں ھے تو اُس کی جگہ کیک کھا لو۔

تبصرہ جات (14)

ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا

آج جب میں اپنی ڈیوٹی پر تھی تو ایک ایسی عورت مجھ سے ملنے آئی جو اپنے شوہر سے خفا تھی اور وہ بھی اتنی زیادہ کہ ایک ھی گھر میں رھتے ھوئے وہ دونوں کئی سالوں سے الگ الگ کمروں میں رہ رھے تھے اور اُن کے بچے بھی اٍس ماحول کے عادی ھوچکے تھے ۔ آج میرے پاس جب وہ بیٹھی اپنے دکھ مجھے سنا رھی تھی تو ایسے لگا جیسے کئی لوگوں کا دکھ ڈھو رھی ھو ۔ وہ پوچھ رھی تھی کہ لوگ اتنے بے حس کیوں ھوتے ھیں ۔ ھر وقت تنقید کر کے خود کو سب سے اھم کیوں سمجھتے ھیں ۔ ھر وقت حکم دینے والے کتنے نا قابلٍ برداشت ھوتے ھیں ۔ وہ مجھے بتا رھی تھی کہ تیس برس کے اٍس رشتے میں تیس منٹ بھی ایسے نہیں تھے جس کی بنا پر وہ اپنے شوہر کو معاف کر سکتی ۔ میں بس اُسے روتا دیکھتی رھی اور سوچتی رھی کہ ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا یہی تنقیدی بے حسی ھی تو ھے جس کی وجہ سے ھم کسی کو برداشت تو کجا تحمل سے سنتے بھی نہیں ھیں ۔

تبصرہ جات (6)

ہاتھ سے جنت بھی گئی!

جرمنی میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک معتبر نام اور معروف ادیب عارف نقوی کے تعاون سے ہمیں سید انوار ظہیر رہبر کا یہ خوبصورت افسانہ ملا ہے جس کے لیئے ہم دو حضرات کے ممنون ہیں۔ انوار ظہیر نوجوان قلم کار ہیں اور برلن میں رہائش پزیر اور اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں۔انکی شاعری کا مجموعہ ‘‘تجھے دیکھتا رہوں‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ القمر آن لائن انہیں اس بزم میں خوش آمدید کہتا ہے اور امید ہے تمام ساتھی انکی اس تخلیق پر اظہار خیال کریں گے۔(صفدر ھمدانی۔چیف ایڈیٹر) »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (14)

ضمیر کا سوال ۔

دوستو’ ساتھیو! آپ سب کی نذر ایک بہت ہی مختصر کہانی جس پر آپ سب کی بے تکلفانہ رائے کا منظر ہوں۔ دیر نہیں کیجئے گا۔
وسلام ۔ نصر ملک ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (8)

تم مجھے صلیب پر چڑھا دو

محترمہ نگہت بہن ۔
پاکستان میں وکلاء کے لانگ مارچ کے حوالے سے آپ کا آج کا کالم پڑھ رہا تھا اور اس میں خلیل جبران کی ایک تحریر ” کی “تختہ دار “ کا حوالہ جو آپ نے دیا ہے بہت ہی اچھا لگا ۔ خلیل جبران نے اپنی اس تحریر “تختہ دار “میں لکھا تھا کہ “ میں نے چیخ چیخ کر کہا کہ “ میں چاھتا ھوں کہ تم مجھے صلیب پر چڑھا دو “ ۔ لوگوں نے جواب دیا “ ھم تیرا خون اپنے سر کیوں لیں ؟ ۔ میں نے اُن سے کہا کہ “ اگر تم نے دیوانوں کو صلیب پر نہ چڑھایا تو تم اپنے اوپر فخر کیسے کر سکو گے ؟ ۔ انہوں نے میری بات مان لی اور مجھے سولی پر چڑھا دیا ۔”
خلیل جبران کے اسی تخیل کو آگے بڑھاتے ہوئے لیجئے ایک نہایت ہی مختصر کہانی اس بلاگ کے سبھی ساتھیوں اور خاص کر آپ کے ” ادبی ذوق لطیف ” کی نذر کرتا ہوں ‘ قبول کیجئے ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

پاکستانی عوام کا شعور بیدار ہو گیا ہے

nighatملک کے کونے کونے سے ھر فرد نے بغیر کسی حوالے اور تشخص کے نہ صرف لانگ مارچ میں حصہ لیا ۔بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ھم اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکل کر نہ صرف سڑکوں پر آ سکتے ھیں بلکہ دھرنا بھی مار کر بیٹھ سکتے ھیں اور وہ بھی ایسا پُر امن کہ اس لانگ مارچ کے دشمن بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔http://www.alqamar.info/blog/2008/06/14/long-march/

تبصرہ جات (7)

سعدیہ سحر۔۔عوام نے اب فیصلہ کرنا ھے

خوش فہمیاں اور خوش گمانیاں کچھ پل کی ھوتی ھیں پھر تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ھے جو بہت تکلیف دہ ھوتی ھیں اور جان لیوا بھی ….. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (7)

آج کا دن

اپنے محترم اور سب کے مہرباں بزرگوارم شمس جیلانی صاحب اور آپ سب کی نذر ۔ آج کے اس خاص یوم کے حوالے سے ۔ اردو شاعری کے رموز اصول اور قافیہ بندی سے ہٹ کر ؛

دیکو تو آج پھر آباد ‘ اسلام ہو گیا
اسلام میں آباد ہجومِ عوام ہو گیا
کہنے کو وہ اک شہر ہے‘ شہر بے ضمیر
وللہ وہ بھی آج “ مشرف“ با سلام ہو گیا

تبصرہ جات (2)