June 21, 2008 at 3:29 pm |
راقم : صفدر ہمدانی |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
اسلام آباد کے مہمندنیشنل آرٹ کالج میں منعقد نجی ایوارڈ تقریب کے دوران ہال اس وقت تالیوں سے گونج اٹھا جب ہاورڈ یونیورسٹی سے اسکالر شپ لینے والے پاکستانی طالبعلم صمد خرم سرٹیفکٹ لینے اسٹیج پر آئے تو صمد خرم نے مہمند ایجنسی پر امریکی فورسز کے حملے کے خلاف احتجاجاً پاکستان میں متعین امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹر سن سے سرٹیفکٹ لینے سے انکار کردی »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 21, 2008 at 12:24 am |
راقم : شمس جیلانی |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
الصبح جو شر وع ہو کر کہ شب بھر بات ہو تی ہے
کبھی تنہا بھی ملتے ہیں کبھی با ر ات ہو تی ہے
یہ عقدہ ہی نہیں کھلتا کہاں پر وہ اٹکتے ہیں
کہ بس لفظوں کی بارش ہے سدا بر سات ہو تی ہے
مستقل لنک
June 19, 2008 at 4:54 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
ایک خبر آپا مشرف ، اُف یہ میری ذاتی آپا نہیں ھے ۔پاکستان کی عوام کی آپا کے حوالے سے یہ خبر سُننے کو ملی ھے کہ جب آپا سے سوال کیا گیا ۔ کہ ملک میں آٹے کا بحران ھے ۔اب تو غریب کو کھانے کے لیے روٹی بھی نہیں ملتی تو آپا نے نہایت ھی سادگی سے جواب دیا ۔اگر آٹا نہیں تو کوئی بات نہیں مرغی سستے داموں مل رہی ھے ضروری ھے کہ روٹی کھائی جائے ۔ اگر بھلے مرغی کتنی ھی ستی سہی ۔ایک گھر میں اگر پانچ بچے ھیں اور مرغی ٹھہری دوٹانگوں والی ۔ ھمارے صدر کو چاہیئے کہ پہلے پانچ ٹانگوں والی مرغی کی پیدا کر وائے تاکہ ھر بچے کے حصے میں کم از کم ایک روٹی کے بدلے ایک ٹانگ تو آئے ۔ ھماری اور آپ سب کی آپا مشرف بھی فرانس کی اس بیوقوف ملکہ والی بات کر گئی ۔جب فرانس میں کھانے کو بریڈ نہیں تھی ۔تو ملکہ نے اپنی عوام سے کہا کیا ھوا جو بریڈ نہیں ھے تو اُس کی جگہ کیک کھا لو۔
مستقل لنک
June 19, 2008 at 3:53 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
آج جب میں اپنی ڈیوٹی پر تھی تو ایک ایسی عورت مجھ سے ملنے آئی جو اپنے شوہر سے خفا تھی اور وہ بھی اتنی زیادہ کہ ایک ھی گھر میں رھتے ھوئے وہ دونوں کئی سالوں سے الگ الگ کمروں میں رہ رھے تھے اور اُن کے بچے بھی اٍس ماحول کے عادی ھوچکے تھے ۔ آج میرے پاس جب وہ بیٹھی اپنے دکھ مجھے سنا رھی تھی تو ایسے لگا جیسے کئی لوگوں کا دکھ ڈھو رھی ھو ۔ وہ پوچھ رھی تھی کہ لوگ اتنے بے حس کیوں ھوتے ھیں ۔ ھر وقت تنقید کر کے خود کو سب سے اھم کیوں سمجھتے ھیں ۔ ھر وقت حکم دینے والے کتنے نا قابلٍ برداشت ھوتے ھیں ۔ وہ مجھے بتا رھی تھی کہ تیس برس کے اٍس رشتے میں تیس منٹ بھی ایسے نہیں تھے جس کی بنا پر وہ اپنے شوہر کو معاف کر سکتی ۔ میں بس اُسے روتا دیکھتی رھی اور سوچتی رھی کہ ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا یہی تنقیدی بے حسی ھی تو ھے جس کی وجہ سے ھم کسی کو برداشت تو کجا تحمل سے سنتے بھی نہیں ھیں ۔
مستقل لنک
June 16, 2008 at 9:15 pm |
راقم : صفدر ہمدانی |
علم و ادب میں شائع کیا گیا
جرمنی میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک معتبر نام اور معروف ادیب عارف نقوی کے تعاون سے ہمیں سید انوار ظہیر رہبر کا یہ خوبصورت افسانہ ملا ہے جس کے لیئے ہم دو حضرات کے ممنون ہیں۔ انوار ظہیر نوجوان قلم کار ہیں اور برلن میں رہائش پزیر اور اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں۔انکی شاعری کا مجموعہ ‘‘تجھے دیکھتا رہوں‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ القمر آن لائن انہیں اس بزم میں خوش آمدید کہتا ہے اور امید ہے تمام ساتھی انکی اس تخلیق پر اظہار خیال کریں گے۔(صفدر ھمدانی۔چیف ایڈیٹر) »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 16, 2008 at 5:25 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو’ ساتھیو! آپ سب کی نذر ایک بہت ہی مختصر کہانی جس پر آپ سب کی بے تکلفانہ رائے کا منظر ہوں۔ دیر نہیں کیجئے گا۔
وسلام ۔ نصر ملک ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 15, 2008 at 2:20 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
محترمہ نگہت بہن ۔
پاکستان میں وکلاء کے لانگ مارچ کے حوالے سے آپ کا آج کا کالم پڑھ رہا تھا اور اس میں خلیل جبران کی ایک تحریر ” کی “تختہ دار “ کا حوالہ جو آپ نے دیا ہے بہت ہی اچھا لگا ۔ خلیل جبران نے اپنی اس تحریر “تختہ دار “میں لکھا تھا کہ “ میں نے چیخ چیخ کر کہا کہ “ میں چاھتا ھوں کہ تم مجھے صلیب پر چڑھا دو “ ۔ لوگوں نے جواب دیا “ ھم تیرا خون اپنے سر کیوں لیں ؟ ۔ میں نے اُن سے کہا کہ “ اگر تم نے دیوانوں کو صلیب پر نہ چڑھایا تو تم اپنے اوپر فخر کیسے کر سکو گے ؟ ۔ انہوں نے میری بات مان لی اور مجھے سولی پر چڑھا دیا ۔”
خلیل جبران کے اسی تخیل کو آگے بڑھاتے ہوئے لیجئے ایک نہایت ہی مختصر کہانی اس بلاگ کے سبھی ساتھیوں اور خاص کر آپ کے ” ادبی ذوق لطیف ” کی نذر کرتا ہوں ‘ قبول کیجئے ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 14, 2008 at 11:56 pm |
راقم : نگہت نسیم |
سیاست میں شائع کیا گیا
ملک کے کونے کونے سے ھر فرد نے بغیر کسی حوالے اور تشخص کے نہ صرف لانگ مارچ میں حصہ لیا ۔بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ھم اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکل کر نہ صرف سڑکوں پر آ سکتے ھیں بلکہ دھرنا بھی مار کر بیٹھ سکتے ھیں اور وہ بھی ایسا پُر امن کہ اس لانگ مارچ کے دشمن بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔http://www.alqamar.info/blog/2008/06/14/long-march/
مستقل لنک
June 14, 2008 at 3:31 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
خوش فہمیاں اور خوش گمانیاں کچھ پل کی ھوتی ھیں پھر تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ھے جو بہت تکلیف دہ ھوتی ھیں اور جان لیوا بھی ….. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 14, 2008 at 3:11 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ, سیاست میں شائع کیا گیا
اپنے محترم اور سب کے مہرباں بزرگوارم شمس جیلانی صاحب اور آپ سب کی نذر ۔ آج کے اس خاص یوم کے حوالے سے ۔ اردو شاعری کے رموز اصول اور قافیہ بندی سے ہٹ کر ؛
دیکو تو آج پھر آباد ‘ اسلام ہو گیا
اسلام میں آباد ہجومِ عوام ہو گیا
کہنے کو وہ اک شہر ہے‘ شہر بے ضمیر
وللہ وہ بھی آج “ مشرف“ با سلام ہو گیا
مستقل لنک