July 31, 2008 at 10:53 pm |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
نظریات کو کبھی قتل نہیں کیا جا سکتا، ہاں البتہ نظریات رکھنے والے افراد پر موت ضرور طاری کی جا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے، بوسنیا کے مُسلمان لاکھوں کی تعداد بے گھر و بے آسرا ہو گئے اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 31, 2008 at 5:47 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 30, 2008 at 5:47 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا
نہ کہ اِس میں کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 29, 2008 at 5:45 am |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
آج سے دو سال پہلے بیلجیم میں ڈاکٹرز نے اپنی کنسلٹینسی فیس 21 یورو سے بڑہا کر 26 یورو کر دی تھی تو سابق وزیرِاعظم نے اِس کی اِطلاع مِلتے ہی فورا” پریس کانفرنس کی اور ڈاکٹرز کو سختی سے ہدایت کی کہ فیس نہ بڑہائی جائے کیونکہ اُس سال بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 29, 2008 at 5:15 am |
راقم : چوہدری عمران |
بین الاقوامی تعلقات میں شائع کیا گیا
چند دِن پہلےکی بات ہے نِگہت صاحبہ نے لِکھا تھا کہ حضرت ہمدانی صاحب کانام’ بابا’ پہلے اِنہوں اور محترم نصر ملک صاحب نے رکھا تھا اور بعد میں ہارون عباس صاحب شامل ہوئے جبکہ میرا »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 29, 2008 at 2:51 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
دنیا کی تاریخ میں جب بھی ظالم لوگوں کا زکر آتا ھے تو نیرو کا ذکر آتا ھے کہ وہ ظالم تھا اس میں اب کتنی حقیقت ھے کتنی کہانی ھے کہتے ھیں جب روم جل رھا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رھا تھا »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 27, 2008 at 8:05 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
اس سے قبل میں سلوک یا برتاؤ کے متعلق اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے احکام کی ایک جھلک پیش کر چکا ہوں ۔ آجکل دنیا مین انصاف کا بہت شور و غوغا ہے لیکن عملی صورت یہ ہے کہ انصاف کے بڑے علمبرداروں نے صرف »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 27, 2008 at 5:21 am |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
جب بھی دو اقوام یا دو نظریات ایک دوسرےسے بر سرِپیکار ہو جاتے ہیں، لاشیں بِکھرنا شِروع ہو جاتی ہیں اور خون بہنا شِروع ہو جاتا ہے تو پِھر کوئی نہ کوئی مُداخلت کار آہی جاتا ہے، »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 27, 2008 at 2:45 am |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, شاعری, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
مستقل لنک
July 26, 2008 at 8:05 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بلاگنگ, شاعری, مزاح میں شائع کیا گیا
ایک لڑکا بہت ھی اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ھے۔جس کے لیئے لڑکی درکار ھے۔
آمدن بے حساب ھے۔جو اپنا نہیں دوسروں کا مال ھے
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس یہی کوئی ٥٥ سال ھے۔
دیکھنے میں خوش شکل اور توند با کمال ھے
لیکن چلنے میں تھوڑا سا لاغر اور نڈحال ھے۔
قریب کی نظر کمزور پردور کی نظر بحال ھے۔
بچپن کی شادی کیوجہ سے بیوی کوجاننا محال ھے۔
بچے ایک دو نہیں پورے کا پورا پنڈال ھے ۔
خوبصورت خوب سیرت بچی درکار ھے۔
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس ١٨ سال ھے۔
جہیز پر ھمارا کوئی نہیں اختیار ھے۔
ماں باپ کی مرضی اور بچی کا سوال ھے
یوں تو دولت میرے پاس بے شمار ھے
لیکن ذیادہ کا لالچ مجھے میری سرکار ھے
غریب غرباء کے لیے ھرگزنہیں یہ اشتہار ھے
مستقل لنک