Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں July 1, 2008

آخر سوچ کیا ھے

ھر منگل کومجھے ایک گھنٹہ کے لیئے کنسلٹنٹ کی نگرانی میں اپنے مریض ڈسکس کرنے پڑتے ھیں ۔ آج تقریباً دس مریض ایسے تھے جس میں مجھے اُن کی رھنمائی کی ضرورت تھی ۔ اُن کے مسائل زیرٍ بحث رھے ۔ باتوں باتوں میں میرے کنسلٹنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ آخر ھم لوگ زہنی بیماریوں کو تشخیص کرنے میں کیا ایسا دیکھتے ھیں جس کے لیئے اُن کا علاج ناگزیر ھو جاتا ھے ۔ کیا اُن کا کم سونا ، زیادہ کھانا یا پھر اُن کا لوگوں سے دور ھو جانا ۔۔ میں نے کہا نہیں اُن کی سوچ انہیں ھم سے الگ کرتی ھے ۔ میری کنسلٹنٹ نے مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ اچھا “ آخر سوچ کیا ھے “ ۔ اور آج یہی سوال میں آپ سب سے کرناچاھتی ھوں ۔

دوستو مجھے یوں لگتا ھے جب ھم اپنے کسی خیال کو عملی جامعہ پہنا سکتے ھیں ، کسی کو سمجھا سکتے ھیں اور لوگوں کو وضاحت بھی دے سکتے اُسے سوچ یا فکر کہتے ھیں اور یہ ایک مسلسل فکری عمل ھے ۔جب اٍسی فکر اور خیال میں بے ترتیبی آ جاتی ھے تو اُسے ”فکری عدم تسلسل” کہتے ھیں ۔ سو جیئے میں نے آج دس مریض دیکھے تھے سب کی سوچ ایک دوسرے سے نہ صرف جدا تھی بلکہ نا قابلٍ فہم بھی ۔ مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اُسے اپنا بلڈ سسٹم واش کرنا ھے کہ اُس نے چار سو ڈالر کی چاکلیٹ کھا لی ھیں ۔ کسی نے کہا کہ مجھے لگا کہ مجھے کوئی کہہ رھا ھے کہ کسی کو جان سے مار ڈالو سو اُس وقت گھر کا پالا ھوا کتا ھی سامنے تھا تو اُس نے ٹیبل منہ پر رکھ کر مار دیا اور وہ اُس وقت تک مارتی رھی جب تک کتا مر نہیں گیا ۔ ایک نے کہا کہ گاڑیاں اُڑ سکتی ھیں ۔ ایک نے کہا کہ اُسے کم کھانا چاھیئے جبکہ وہ سارا وقت کھاتا رھا ، اسی طرح سے ایک عورت تیس سالوں سے صرف کچرا اپنے گھر جمع کر رھی تھی ۔۔۔
ایسی لاتعداد باتیں ھیں جو سوچ کو ناقابلٍ فہم بنا دیتی ھیں اور کئی دفعہ یوں لگتا ھے جیسے وہ سب صیحع کہہ رھے ھیں اور ھم کہی غلطی کر رھے ھیں ۔۔ لیکن مجھے حیرت اُس وقت ھوتی ھے جب لوگ ادیبوں شاعروں اور فلسفیوں کو پاگل کہتے ھیں ۔ حالانکہ یہ لوگ تو ھم جیسوں کی فکر کو ایک نظم اور تسلسل میں لاتے ھیں ۔۔ دوستو آپ کیا سمجھتے ھیں کیا واقعی ادیب شاعر اور فلاسفر پاگل ھوتے ھیں یعنی ”فکری عدم تسلسل” کا شکارھوتے ھیں ؟؟ یا پھر ھمیں یہاں رک کر سوچنا ھو گا کہ آخر سوچ کیا ھے ؟؟

تبصرہ جات (11)