Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

آخر سوچ کیا ھے

ھر منگل کومجھے ایک گھنٹہ کے لیئے کنسلٹنٹ کی نگرانی میں اپنے مریض ڈسکس کرنے پڑتے ھیں ۔ آج تقریباً دس مریض ایسے تھے جس میں مجھے اُن کی رھنمائی کی ضرورت تھی ۔ اُن کے مسائل زیرٍ بحث رھے ۔ باتوں باتوں میں میرے کنسلٹنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ آخر ھم لوگ زہنی بیماریوں کو تشخیص کرنے میں کیا ایسا دیکھتے ھیں جس کے لیئے اُن کا علاج ناگزیر ھو جاتا ھے ۔ کیا اُن کا کم سونا ، زیادہ کھانا یا پھر اُن کا لوگوں سے دور ھو جانا ۔۔ میں نے کہا نہیں اُن کی سوچ انہیں ھم سے الگ کرتی ھے ۔ میری کنسلٹنٹ نے مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ اچھا “ آخر سوچ کیا ھے “ ۔ اور آج یہی سوال میں آپ سب سے کرناچاھتی ھوں ۔

دوستو مجھے یوں لگتا ھے جب ھم اپنے کسی خیال کو عملی جامعہ پہنا سکتے ھیں ، کسی کو سمجھا سکتے ھیں اور لوگوں کو وضاحت بھی دے سکتے اُسے سوچ یا فکر کہتے ھیں اور یہ ایک مسلسل فکری عمل ھے ۔جب اٍسی فکر اور خیال میں بے ترتیبی آ جاتی ھے تو اُسے ”فکری عدم تسلسل” کہتے ھیں ۔ سو جیئے میں نے آج دس مریض دیکھے تھے سب کی سوچ ایک دوسرے سے نہ صرف جدا تھی بلکہ نا قابلٍ فہم بھی ۔ مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اُسے اپنا بلڈ سسٹم واش کرنا ھے کہ اُس نے چار سو ڈالر کی چاکلیٹ کھا لی ھیں ۔ کسی نے کہا کہ مجھے لگا کہ مجھے کوئی کہہ رھا ھے کہ کسی کو جان سے مار ڈالو سو اُس وقت گھر کا پالا ھوا کتا ھی سامنے تھا تو اُس نے ٹیبل منہ پر رکھ کر مار دیا اور وہ اُس وقت تک مارتی رھی جب تک کتا مر نہیں گیا ۔ ایک نے کہا کہ گاڑیاں اُڑ سکتی ھیں ۔ ایک نے کہا کہ اُسے کم کھانا چاھیئے جبکہ وہ سارا وقت کھاتا رھا ، اسی طرح سے ایک عورت تیس سالوں سے صرف کچرا اپنے گھر جمع کر رھی تھی ۔۔۔
ایسی لاتعداد باتیں ھیں جو سوچ کو ناقابلٍ فہم بنا دیتی ھیں اور کئی دفعہ یوں لگتا ھے جیسے وہ سب صیحع کہہ رھے ھیں اور ھم کہی غلطی کر رھے ھیں ۔۔ لیکن مجھے حیرت اُس وقت ھوتی ھے جب لوگ ادیبوں شاعروں اور فلسفیوں کو پاگل کہتے ھیں ۔ حالانکہ یہ لوگ تو ھم جیسوں کی فکر کو ایک نظم اور تسلسل میں لاتے ھیں ۔۔ دوستو آپ کیا سمجھتے ھیں کیا واقعی ادیب شاعر اور فلاسفر پاگل ھوتے ھیں یعنی ”فکری عدم تسلسل” کا شکارھوتے ھیں ؟؟ یا پھر ھمیں یہاں رک کر سوچنا ھو گا کہ آخر سوچ کیا ھے ؟؟

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

11 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 2, 2008 at 4:21 am

    سوچ کا موضوع شاید اہل ادب کے لیئے تو ایک الگ جہت کا حامل ہو لیکن یقینی طور پر ماہرین نفسیات کے لیئے ایک الگ جہت رکھتا ہو گا. میرا مسلہ یہ ہے کہ نہ تو میں نفسیات کا ماہر ہوں اور نہ میرا شمار اہل ادب میں ہوتا ہے. میں تو ایک مبتدی ہوں اور ایسے موضوعات کو بھی ایک مبتدی کی ہی نظر سے دیکھتا ہوں. جس طرح ذہن اور دماغ میں فرق ہوتا ہے اسی طرح سوچ اور فکر میں بھی ایک ایسا فرق ہے جو شاید بہت آسانی سے سمجھ نہ آ سکے. تاہم میں اس بات کو اگر آسانی سے کہنا چاہوں گا تو ایسے کہوں گا کہ فکر دراصل سوچ کا جوہر ہے. ارسطو سے کسی نے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس مضبوط ترین چیز کیا ہے تو اس کا جواب تھا میرا ارادہ اور میرا عزم کیونکہ میرا ارادہ ہی مجھے کامیابیوں کی منزلوں سے آشنا کرتا ہے .اگر آپ کی سوچ مثبت ہے تو آپ ہر قسم کے حالات میں اپنے لئے مواقع تلاش کرلیں گے۔ مثبت سوچ حیرت انگیز طور پر آپ کی شخصیت کو تبدیل کرسکتی ہے۔ آپ اپنے بارے میں جیسا نظر آنے کا سوچیں گے یقین کریں کہ ویسا ہی نظر آنے لگیں گے۔ اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ اتنے ہی خوبصورت، خوش شکل، ہنس مکھ اور پرکشش ہیں جتنا کہ خود کو سمجھتے ہیں۔ اگر آپ نے ایک بار اپنے تصورات کی قوت سے کام لینے کا فیصلہ کرلیا تو وہ وقت ضرور آئے گا جب اس کے نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ اور لوگ انہی خوبیوں کا تذکرہ کریں گے جو آپ چاہتے تھے۔ وچ رکھنے والے افراد مقصد کا تعین ضرور کرتے ہیں کیونکہ جب تک آپ واضح طور پر ایک ہدف کا انتخاب نہیں کریں گے آپ اپنے ارادوں کی قوت کو درست طور پر استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔جیمز رسل لائل کہا کرتا تھا کہ ’’ناکامی نہیں بلکہ کمتر مقصد کا تعین جرم ہے۔ ہمیشہ بڑا سوچئے، آپ بڑے ہوجائیں گے‘‘۔ ہمارے اردگرد بہت ساری چیزیں ہیں، ایسی چیزیں جن پر انسانوں نے شاید ہی کبھی سوچا ہو۔ آپ ان پر سوچنا شروع کریں۔

  2. احمد علی PAKISTAN نے لکھا؛

    July 2, 2008 at 5:50 am

    بلاشبہ اچھی تحریر ہے۔

  3. آویز۔برمنگھم ۔ UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 2, 2008 at 8:22 pm

    سوچ کا موضوع اتنا سادھا اور آسان نہیں کہ اس کو اس بلاگ پر بیان کیا جائے اس کے لئے تو ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے ۔انسان کئی سو لاکھوں کیمیکل اور اس کی جزیات سے بنا ہے اور اس سے مشکل اس کی روحانیت کوتلاش کرنا ہے ۔ دنیا کا یہ پہلا ہی عجوبہ جانور ہے ( انسان ) جو بولتا ، ہنستا ، روتا ،لکھتا ۔ پڑھتا ۔لباس پہنتا۔نئی نئی ایجادات کرتا۔سوچتا۔ وغیرہ وغیرہ اور عمل کرتا ہے ۔ یہ خوبی دوسرے کسی بھی جانور میں ہے ہی نہیں ۔
    جسطرح دنیا کے کسی بھی انسان کا ایک انگھوٹے کا نشان کسی دوسرے انسان سے ملتا ہی نہیں تو انسان کی اندرونی روحانیت سوچ کسی دوسرے سے کیسے مل سکتی ہے ؟۔دنیا میں رہنے کے لئے شاید چند سو باتوں پر انسان آپسمیں متفق ہوچکے ہیں ۔جس سے انسانوں کا کارخانہ چل رہا ہے ۔یا جس کو ہم کہتے ہیں کہ میرے خیالات فلاں سے بہت ملتے جلتے ہیں ۔جب کہ ہر انسان کے خیالات ہر لمحہ ہی تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔مثلا ۔ بکر رات کو یہ سوچ کر سویا کہ کل صبح آٹھ بجے زید کو ملے گا مگر دوسرے ہی دن بکر سویا ہی رہتا ہے کہ آج موسم خراب ہے آج نہیں ملوں گا ۔اب سوچ میں موسم کا کیا تعلق۔؟
    بکر کہتا ہے میں رشوت نہیں لوں گامگر زیادہ رقم دیکھ کر دل میں لالچ پیدا ہوا اور رشوت وصول کرلی ۔ اب سوچ میں لالچ ؟ایسی سیکنڑوں مثالیں ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ انسان کی سوچ بدلتی ہی رہتی ہے ۔ انسان کی سوچ ۔ پیسے سے دولت سے ، شہرت سے ، رعب سے ، محبت سے ۔ عشق میں ۔نوکری میں ، ہنر میں ، لین دین میں ،غم میں خوشی میں ۔ وعدے میں ، فائدے میں نقصان میں بدلتی ہی رہتی ہے ۔ برادرم صفدر ہمدانی سے میں متفق بھی ۔ پکے ارادے کا انسان اور مثبت سوچ کا انسان اپنی سوچ سے صحیح فائدہ ضرور اٹھا سکتا ہے اور اس میں کسی حد تک اپنی فیلڈ میں کامیاب بھی ہوسکتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اگر تمام سوسائیٹی کی بھی یہ ہی سوچ ہو تو نتائج اور بھی بہتر ہوسکتے ہیں ۔خود غرض لالچ سوچ صرف جھگڑا پیدا کرتی ہے ۔
    پھر سوچ کی ایک رفتار یعنی سپیڈ بھی ہے کوئی نہایت سرعت سے فیصلہ کرتا ہے کوئی وہ ہی فیصلہ مہینوں بعد یا سالوں کے بعد جا کر کرتا ہے ۔ تعلیم ، تجربے۔مشاہدے ۔غور فکر انسان کی سوچ کو اور بھی نکھار سکتے ہیں ۔ انسانی سوچ کے ساتھ ساتھ فطرت نے انسانوں کو مختلف قسم کی قدرتی صلاحیتیں بھی دے رکھی ہیں کسی کی اچھی یادداشت کسی کا کم حافظہ اس کا اثر بھی انسانی سوچوں کو تبدیل کرتا ہے ۔ ایک کو میوزک پسند ہے دوسرے کو قطعی پسند نہیں ۔ گھروں کا ماحول دوستوں کا ماحول سوچ پسند اور ناپسند پر اختیار رکھتی ہے ۔
    سوچ ایک لامحدود سلسلہ طاقت ہے جس کے اختتام کا انسان کو خود بھی معلوم نہیں ۔
    سوچ میں لا محدود خوبیاں ہی خوبیاں ہیں دوسری طرف سوچ میں کچھ پوشیدگیاں بھی ہیں ۔
    یہ بھی سوچ ہی کی خوبی کی ایک برانچ ہے جس سے انسانی سوچ، ترقی جستجو ریسریچ کی طرف راغب ہو ؟ جیسے سوچ کو یہ ہی نہیں معلوم کہ چائے میں چینی پڑی ہے یا نہیں ۔ فلاں چیز زہیریلی ہے یا نہیں ۔؟
    پھر سوچ بھی کسی قانون اور قائدے کی حدود میں جھکڑی ہوئی ہے ۔
    مثلا ماں کے سر میں درد ہو اولاد کی سوچ کو خبر ہی نہیں کہ ماں کو کوئی تکلیف ہے ؟۔
    کاغذ کے دوسری طرف کیا ہے۔؟ وغیرہ وغیرہ۔
    جن قوموں نے ترقی کی ہیں انہوں نے اپنی سوچوں میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں ۔
    پاکستانی قوم کی سوچ اور دوسرے ممالک کی سوچ کا اندازہ سوچ کر کے ہی دیکھ لیں ۔؟
    سوچ کو صحیح سمت لانے کے لئے مثبت سوچ کے ساتھ ۔ تعلیم۔ قوت ارادی۔ فطرت پرمشاہدے ۔ معاشرے کے لئے اور خود اپنے لئے نہایت ضروری ہے۔

  4. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 3:55 am

    میں یہ سب پڑھ کر یہ سوچ رہی ھوں کہ سوچ کیا ھے ۔ اور انسان آخر کیوں سوچنے پر مجبور ھوتا ھے ۔اور وہ کیا چیز ھے جو اس کو سوچنے پر مجبور کرتی ھے۔ کوئی عقل مند سوچتا ھے ۔تو کیا سوچتا ھے ۔کوئی مجھے بھی بتا دے۔دعا دوں گیی۔

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 6:42 am

    تانیہ ھر عقلمند یہ سوچتا ھے کہ آخر میں ھی کیوں سب کے حصے کا سوچتا ھوں ۔سوال پوچھنے والے کب سوچنا شروع کرینگے ۔

  6. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 6:43 am

    آویز بھائی اتنی بھر پور سوچ کے لیئے شکر گزار ھوں ۔

  7. سعیدہ نثار علی CANADA نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 8:49 am

    آپ سب لکھنے والوں کاشکریہ صفدر بھائی بلاگ میں لکھنے کی دعوت کا بہت شکریہ۔ زندگی میں کئی بار سوچا کتنا اچھا ہوتا اگر سوچ ھی نھیں ھوتی? آپ جب بھی نظر اٹھا کر کسی کی طرف دیکھتے ھیں تو ایسے لگتا ھے کہ وہ کچھ سوچ رہا ھے? اور اگر پوچھیں کیا سوچ رہے ہو تو جواب میں کہتے ہیں کچہ نہیں بس ایسے ہی۔ سوچ کے تو کتنے پہلو ہوتے ہیں critical thinking
    higher- order thinking system thinking creative thinking معاف کیجے گا ان حروف کا اردو میں ترجمہ نہیں آتا اگر کسی کو آتا ہو مجہے ضرور بتائے۔

    آپ کو یاد آیا جب ہم کہتے ہیں۔ ارے یار کیا سوچ ہے۔

    والٹر وِنٹل انیسویں صدی کے شاعر ہیں لوگ انکے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ انکی اس نظم کا نام سوچ ہے۔
    If you think you are beaten, you are;
    If you think you dare not, you don’t.
    If you’d like to win, but think you can’t
    It’s almost a cinch you won’t.
    If you think you’ll lose, you’ve lost,
    For out in the world we find
    Success beings with a fellow’s will;
    It’s all in the state of mind.

    If you think you’re outclassed, you are:
    You’ve got to think high to rise.
    You’ve got to be sure of yourself before
    You can ever win a prize.
    Life’s battles don’t always go
    To the stronger or faster man,
    But soon or late the man who wins
    Is the one who thinks he can.

    - Walter D. Wintle

    اس نظم کا ترجمہ کرکے اس شاعر کی شاعری سے کچھ کم کرنا نہیں چاہتی تھی اسی لیے ترجمہ نہی کیا۔
    اس شعر کو غور سے اگر پڑھا جائے تو زندگی بدل سکتی ہے۔ میری زندگی کے راستے بہت کٹھن تھے سوچ
    نے زندگی بدل دی۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

  8. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 11:10 am

    آپا آپ ھمیشہ خزانوں کے ساتھ آتی ھیں ۔ میں والٹر کے ھم خیال ھوں کہ جیتتا وھی ھے جو بازی یہ سوچ کر کھیلتا ھے کہ جیت میری ھی ھے ۔ اور اس ساری کہانی میں صرف سوچ ھی بازی پلٹ دیتی ھے ۔

  9. سعیدہ نثار علی CANADA نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 11:23 am

    نگھت آپ کا بہت شکریہ ۔ جیتی رہو

  10. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    July 3, 2008 at 2:08 pm

    سعیدہ جی بہت شکریہ۔سوچ کے حوالے سے آپ کی سوچ بہت اچھی لگی۔ دراصل یہ موضوع آپکا اور ڈاکٹر نگہت کا ہے ہم تو صرف کچھ سیکھنے کو دو فقرے لکھ دیتے ہیں۔ آپ نے نظم کا ترجمہ نہ کر کے بہت اچھا کیا۔ کیونکہ ہر بات اور ہر چیز کا ترجمہ ممکن نہیں کیونکہ بعض اوقات ترجمے سے شہ پارے کا خمیر اور جوہر متاثر ہوتا ہے۔ ان تین الفاظ کے ترجمے کی کوشش کرتا ہوں اور بلا شبہ کوئی دوسرا ساتھی اسے مزید بہتر بنا سکے گا۔
    critical thinking کو ناقدانہ سوچ کہیں گے

    higher- order thinking system سوچ کا اعلیٰ ترین نظام یا اعلیٰ ترین سوچ کا نظام یا پھر صائب سوچ کا نظام
    کو تخلیقی سوچ creative thinking

  11. سعدیہ سحر نے لکھا؛

    July 4, 2008 at 12:51 am

    ایک گھر میں رھنے والےایک ماحول میں ایک ساتھ پلنے والے بہن بھایئوں کی سوچ بھی مختلف ھوتی ھے ..مگر ایک بات جس کچھ عرصے سے غور کر رھی ھوں جس کو سمجھنا بہت مشکل ھے نگہت بتا سکتی ھیں ..ھمارے گھر کے پاس ایک آدمی ھے اچھا بزنس تھا ان کا ..مستقبل کے بہت سے پروگرام اپنی زندگی سے بہت محبت کپڑے پہننے کا بھی سلیقہ کسی بات کا ان کے ذہن نے بہت اثر لیا کچھ دن کے بعد دیکھا تو ان کی کایا پلٹ چکی تھی ..یہ کیسے ھوتا ھے کہ ایک پل میں دماغ پہ جو لکھا ھوا تھا بچپن سے سب صاف ھو گیا ..سب خواب ..اپنا آپ… اپنی ذات اس سے وابستہ ھر چیز …کہتے ھیں دل نازک ھے مگر مجھے لگتا ھے انسان کا دماغ دل سے بھی نازک ھے جو ایک زرا سی ٹھیس سے ٹوٹتا ھی نہیں ایسے بکھرتا ھے کہ سمیٹنا مشکل ھی نہیں ناممکن بھی ھے

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو