Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

پاکستان کے محسن کس سلوک کے مستحق ہیں

کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسدان ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں اور باقی سب وقت کے ساتھ بدلتے رھتے ھیں جیسے حکمران اور حکومتی مشینیریاں ۔ لیکن اپنا پاکستان خطہ ارض پر نیپال اور برما سے بھی نایاب ترین ھے کہ ھماری عزت قومی چور اور ڈاکوؤں سے بنی ھوئی ھے ۔ ھماری حکومت کا یہ بھکاری مزاج آج چور ڈاکوؤں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل کر ساری دنیا کو یہ بتا رھا ھے کہ ھمیں نہ ڈاکٹر قدیر چاھیئے ،نہ اعتزاز چاھیئے بلکہ ھمیں تو اپنےھی جیسے چور ، لٹیرے ، ڈاکو اور بھکاری چاھئیں جو ھمارے کام میں ھمارا ھاتھ بٹا سکیں ۔ مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

4 تبصرے »

  1. عمران چوہدری BELGIUM نے لکھا؛

    July 7, 2008 at 2:54 am

    پھِر خُکم ہُوا کہ اھلِ جُنوں
    پِھر حاضر ہوں درباروں میں
    سب اھلِ سُخن سب اھلِ قلم
    اپنے ہاتھوں سے اپنے لبوں کو پھِر سی لیں
    اب ساقٰی گری کا وقت نہیں
    اب مے نوشی پِھر خواب ہوئی
    اب کوئی سچ نہیں بولے گا
    کوئی حق کی بات کرے تو سہی
    گردن کٹوا دی جائے گی ٹانگیں کٹوا دی جائیں گی
    خواہش تو کرو سچ سُننے کی
    سیسہ پِگھلا کر رکھا ہے
    سب زِندانوں کے دروازےکھُل جائیں گے اک دو پل میں
    سب قاتِل مُلا دہشت گرد آزاد کرو یہ حُکم ہُوا
    جمہور کی اب آواز ہے یہ
    کہ جو بھی ہمارے ساتھ چلا
    وہ حق بھی ہے اور سچ بھی ہے
    اور جِس نے اب کہ لب کھولے
    اُس کی گردن کا تازہ لہو
    ایوانوں کی دیواروں پر
    بارش کی شکل میں برسے گا
    اب زنجیروں کی چھن چھن سے
    سب اھلِ خِرد محظوظ ہوں
    اب
    سب قید رہیں گی آوازیں

  2. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 7, 2008 at 6:06 pm

    نگہت تم بھی کمال کرتی ھو چور اور ڈاکو کو اپنے جیسا چاہئے۔ یہ تو دنیا کا دستور ھے ۔اور آج وہی لوگ ھر جگہ کامیاب بھی ھیں جو جھوٹ دغا چور اور ڈاکو کا ساتھی اور ہاں میں ہاں ملانے والا ۔جہاں کہیں سچ بولا گیا ۔اس کے ساتھ ڈاکڑ قدیر اور اعتزاز حسن والا سکوک کیا گیا۔ھم لوگ وہ نہیں ھیں جو ھیں اور جو ھیں وہ ھم نہیں ھیں ۔اللہ ھم کو توفیق دے کہ جو ھم دل سے کہتے ھیں عمل بھی ویسا ھی ھو۔

  3. آویز۔برمنگھم ۔ UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 7, 2008 at 8:58 pm

    اس اکسیویں صدی کوآپ اکنامکس کی صدی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ دنیا جہاں میں ہر ملک سے ہر طرف سے نئی سےنئی مصنوعات کا دور ہے۔
    اس اکنامکس کی صدی میں کسی ملک کا وقار اس کی پروڈکٹس ہیں ۔ کمپیوٹر کے سافٹ وئیر کو بل گیٹس نےگھرگھر پہنچا دیا ۔ کوکا کولا۔برگرز۔ دنیا بھر کے گاؤں گاؤں میں امریکہ کے نام سے ہی پہنچانا جاتا ہے۔ جاپان دنیا بھر میں الیکٹرونک میں اب بھی سب سے آگے ہے ۔
    جرمنی کی مرسیڈیز کار جس کی پائیداری کا اب بھی کوئی توڑ نہیں۔ وغیرہ وغیرہ
    سائنسدان ۔ ڈاکٹر ۔ انجنئیر ہر ملک میں ڈھیروں کے حساب سے موجود ہیں ۔ جرنلسٹ اور ادیب جو کچھ لکھتے ہیں ان کی اکثریت خود اس پر عمل نہیں کرتی۔ادیبوں اور لکھاریوں کو تو آپ میرے سے بہتر جانتے ہیں جس کا ذکر برادرم صفدر ہمدانی کئی بار اپنے تبصروں میں کرچکے ہیں ۔
    اب پاکستان کی کونسی ایسی پروڈکٹس ہے جس سے ملک کا وقار بلند ہو۔ یا پاکستان میں ایسا کونسا سائنسدان، ڈاکٹر انجنئیر ہے جس نے کوئی ایسی چیز ایجاد کی ہو جو پہلے سے موجود نہ ہو ۔کسی ملک کی ترقی یا اس کے وقار کا دارومدار نہ تو سائنسدانوں۔ ڈاکڑوں انجنئیروں ۔ادیبوں پر ہے نہ ہی کسی ایک خاص مخصوص شخص پر ہے۔
    ملک کا وقار اور اس کی ترقی صرف ایمانداری ۔وقت کی پابندی۔ عدل کے قانون پر ہے ۔ جن ملکوں نے اپنے نام پیدا کئے ہیں وہ کوئی ایک دو دن یا ایک دو سال میں دنیا کی وقار لسٹوں میں نہیں آئے ، انہوں نے نہایت ایمانداری ، وقت کی پابندی ،عدل کے تقاضوں پر عمل کیا اور خود بھی وقار سے جئے اور دنیا میں بھی اپنے وقار کا لوہا منوایا۔ اور اس عمل میں ان کو سالوں سال لگے۔
    اہم بات : کسی ملک کی ترقی اور اس کا وقار ۔ایک نہایت زمہ وار محکمہ اور انتظامیہ پر ہے جس کو پولیس کہتے ہیں ۔پولیس اور عدلیہ ملک کی ترقی کے لئے ایک ریڑھ کی ہڈی کی طرح مقام رکھتی ہے ۔
    پاکستان کے وقار اور اس کی ترقی پر نظر ڈالیں۔۔۔۔۔۔۔ کون سے ایسا محمکہ ہے جو پاکستان کے وقار میں رکاوٹ ہے ۔وہ صرف پولیس ہی تو ہے ۔جس کا اثر سارے محکمہ پر چھا چکا ہے ۔
    اگرحکومت میں تو فرشتے نما سیاست دان بھی آجائیں جو ناممکن ہے اور انتظامیہ میں شیطان ہی شیطان ہوں ۔ نتیجہء تو یہ ہی رہنا ہے ۔
    اگر پولیس ہی بدکار ۔رشوت خور ، بے ایمان ۔ ہو تو ملک کا حال اور وقار کیسے بلند ہو ۔
    مگر یہاں تو حکومت بھی بدکار اور انتظامیہ بھی رشوت خور۔

  4. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 7, 2008 at 9:31 pm

    آویز جی آپ نے جو کہا بجا کہا لیکن ھم نے کیا خودکش دھماکوں میں نام نہیں کمایا۔پوری دنیا میں سرفہرست دشتگردی میں ھم ھیں۔ اب تو ھمارا یہ حال ھے کوئی کالا کچھ کر جائے تو بہت ھی پیار سے کہا جاتا ھے کہ یہ غلط کام پاکی نے کیا ھے۔اسی طرح ھمارے حکمران کتنے فخر کرتے ھوں گے جب دوسرے ممالک کے لوگ ھم کو اتنا مان دیتے ھوئے ھم سے دور رہتے ھیں بم کا مشورہ تو ڈاکڑ قدیر نے دیا ۔لیکن آج تک یہ معلوم نا ھو سکاکہ یہ خودکش دھماکے کس کے کہنے پر ھو رہئے ھیں ۔اور اس کا سہرا کس کے سر جاتا ھے۔کاش کے دوسرے سرجوکہ خودکش دھماکوں کے بعد ملتے ھیں۔حملہ آورں کے اس میں وہ سر بھی مل جائے ۔جوکہ یہ سب کچھ کروا رہا ھے۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو