اخلاق اور میعار سے گری ھوئی ای میلز
آج ایک بہت ھی اھم بات کرنے کو جی چاھتا ھے جس سے پتہ نہیں آپ سب پریشان ھیں کہ نہیں لیکن میں ضرور ھوں ۔ بات یہ ھے کہ مجھے ایسے لوگوں کی بھی ای میلز آتی ھیں جنہیں میں جانتی تک نہیں ھوں ۔
ایک آدھ مرتبہ ھوتا تو میں شاید نظر انداز کر دیتی لیکن مسلسل ھونے پر تشویش ھوئی اور پتہ کرنے پر عقدہ کھُلا کہ ھمارے ھی دوست بلکہ میں خود بھی کبھی کوتاھی کر جاتی ھوں کہ ای میل بھیجتے ھوئے دوسرے اور بہت سارے احباب جن کا اُس ای میل سے کوئی تعلق نہیں ھوتا اُن کے ایڈریس بھی شامل ھوتے ھیں ۔ سو وہ ای میلز انہیں بھی چلی جاتی ھے ۔ اسی طرح جو مجھے ای میل مل رھی تھیں وہ اُسی بے احتاطی کی وجہ سے مل رھی تھیں کہ انہیں میرا ایڈریس کسی کی ای میل سے ملا تھا ۔ چلیئے یہاں تک بھی صیحع تھا پر اُن ای میلز کا کیا کیجئے جس پر باقاعدہ “ حد “ لگنی چاھیئے ۔ جیسا کہ اکثر گھروں میں کمیپیوٹر سب کے ھی استعمال میں ھوتے ھیں ۔ میرا اپنا حال یہ ھے کہ اپنے سارے پاس ورڈ گھر والوں سے پوچھ رھی ھوتی ھوں ۔نہ صرف یہ بلکہ کئی دفعہ ای میلز بھی انہیں سے چیک کرنے کو کہہ دیتی ھوں ۔ ھر چیز کے اصول اور قوائد ھوتے ھیں ۔ اٍسی طرح کم از کم اور کچھ نہیں تو اخلاقی سطح پر ھمہیں خود کو ھی اٍس کا پابند کرنا چاھیئے کہ ایسی اخلاق باختہ اور میعار سے گری ھوئی ای میلز ارسال نہ کی جائے ۔ زرا سوچیئے تو اگر ایسی ای میل آپ کے گھر میں آپ کی بہن آپ کی بیٹی آپ کی بیوی آپ کا چھوٹا بچہ یا گھر کا کوئی بھی بزرگ دیکھ لے تو ؟؟































تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 11, 2008 at 5:10 pm
نگہت بہت ھی اچھا اور کارآمد بلاگ بلکل درست کہتی ھو ۔جب ھم کوئی بھی پیغام آگے بیھجتے ھیں ۔اس میں ھمارا ای میل چلا جاتا ھے ۔مجھے بھی کہی دفعہ اس طرح کی صورت حال درپیش آہیں تو اس کا آسان علاج یہی ھے کہ ای میل کرنے والے کو بلاک کر دو ۔جب تک کہ یہ جان نا جاو کہ وہ کوئی اپنا ھے۔جہاں تک بہن بیٹی کا سوال ھے تو اس طرح کے مردہ ضمیر لوگوں کو احساس دلانا بلکل دیواد سے سر ٹکرانے کے مترادف ھے۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 5:14 pm
ایک طرح سے سچ ھی کہتی ھو تانیہ ۔ بس کیا کرؤں جب دل بہت جلتا ھے تو تسلی کے لیئے آپ سب سے کہہ دیتی ھوں ۔
اصغر کرمانی
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 5:58 pm
میں بھی اسی مصیبت میں مبتلا ہوں ۔ میرےبھی ایک دوست نے اسیطرح میرا ای میل استعمال کیا اور اب مجھے بھی ایسی میلز مل رہی ہیں جاکی وجہ سے گھر میں مجھے شرمندگی اٹھانا پڑ رہی ہے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 6:07 pm
اصغر صاحب سب سے پہلے تو آپ کو ھمارے بلاگ کی محفل میں خو ش آمدید ۔ اور میں آپ کے غم میں برابر کی شریک ھوں لیکن تانیہ کا مشورہ بڑا سعد ھے کہ ایسے لوگوں کو بلاک کر دینا چاھیئے ۔ جی ایک بات اور بھی کی جا سکتی ھے کہ جہاں چار لوگ دیکھے وہاں ایجوکیشن کے طور پر یہ ٹاپک ڈسکس کرلیا کہ ھم سب کو ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنا چاھیئے اور ای میل بھیجتے ھوئے ضرور ھی غیر ضروری ایڈریس دھیان سے خارج کر دینے چاھیئے یا “بی سی “ پر لکھنے چاھیئے ۔
میرا پاکستان
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 6:46 pm
ہمارا نہیںخیال کہ یہ گندی ای میلز پاکستانی ارسال یا دیسی ارسال کرتے ہوںگے اور اگر ایسا ہے تو یہ واقعی ذلیل حرکت ہے. عمومی طور پر اس طرحکی ای میلز گھٹیا کاوربار کرنے والوںکی طرف سے آتی ہیں اور اگر آپ نے فلٹر آن کر رکھا ہے تو پھر زیادہ تر خود بخود جنک میل میںچلی جاتی ہیں اور جو بچ جاتی ہیںانہیںآپ سپیم میل میںبھیجنا شروع کردیں.
ویسے ہم لوگوںکو ایک ای میل ایڈریس صرف اور صرف ذاتی مقاصد کیلیے رکھنا چاہیے جو آپ کسی ادارے کو نہ دیں. جی میل کا ہمارا تجربہ اچھا رہا ہے اور یہ اس طرحکی ای میلز جنک میل میںبھیج دیتا ہے.
صفدر ہمدانی نے لکھا؛
July 11, 2008 at 7:06 pm
خواتین و حضرات یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس پر ایک بلاگ میں ہی نہیں بلکہ ریڈیو ،ٹی وی اور آن لائن جرنلزم میں مستقل بات ہونی چاہیئے. اس کے بارے میں ہم میں سے ہر ایک کو لکھنا ہو گا. میرے خیال میں اسکی بنیادی وجہ ”آن لائن جرنلزم” سے عدم واقفیت اور اسکے قواعد و ضوابط سے نا آشنائی ہے. کوئی بھی ایجاد یا ذریعہ ابلاغ ”مادر پدرآزادی” نہیں دیتا، ہر چیز ایک حصار اور چار دیواری کے اندر ہوتی ہے اور اس چار دیواری کو بنیادی اصولوں کا نام بھی دیا جا سکتا ہے. اصلی بات اس سارے فسانے میں اس احساس کا ہونا ہے کہ ہم ایک غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت تو اسوقت کر رہے ہوتے ہیں جب اپنے احباب اور دوستوں کے ای میل ایڈریسز انکی اجازت کے بغیر کسی ایسے دوسرے فرد کو بھی اپنی ناموں کی فہرست کے ساتھ روانہ کر رہے ہوتے ہیں جنکا ان دوستوں سے کوئی تعلق واسطہ ہوتا ہی نہیں. اب جن صاحب یا صاحبہ کو یہ ای میل گئی ہے وہ بھی کسی قسم کا تردد کیئے بغیر اس ای میل کو کسی کتر بیونت یا ایڈٹنگ کے بغیر آگے اپنے کسی دوست کو روانہ کرتے ہیں اور اس طرح یہ ای میل ایک کی بجائے ہزاروں افراد تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر اب بلامبالغہ یہ حالت ہو چکی ہے کہ اکثر لوگ ای میل کو پڑھے بغیر اور اسکے ساتھ منسلک تصویر یا فائل دیکھے بغیر ہی اسے ” فارورڈ” کر دیتے ہیں اور اسی طرح بہت سی ایسی برائیاں لا شعوری طور پر جنم لیتی ہیں جو متعدد مسائل کا پیش خیمہ بنتی ہیں.ڈاکٹر نگیت نسیم نے ایک بار پھر ایک نہایت حساس موضوع کی طرف توجہ دلوائی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک کو اس پر اظہار خیال کرنا چاہیئے.اصغر کرمانی میرے دوست ہیں اور وہ بھی کئی بار اس مسلے پر مجھ سے گفتگو کر چکے ہیں.لیکن یہ عجب اتفاق ہے کہ لندن میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی سوچ کی لہر نہ جانے کیسے ہزارہا میل کا سفر کر کے سڈنی میں پہنچی اور نگیت نسیم صاحبہ نے جو کچھ لکھا وہ یوں تھاکہ” میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا”. اب میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ہم لوگوں کا خاص طور پر قلم کاروں کا فرض ہے کہ وہ دوسرے دوستوں کی اس ضمن میں تربیت کریں. میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں متعدد دوست ایک ای میل میں صدر بش سے منسوب ایک ایسا”کریہہ اور بیہودہ” پین ہولڈر تصویر کی شکل میں ارسال کر رہے ہیں جو وہ شاید خود بھی اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کرکبھی دیکھنے کی جرآت نہ کر سکیں. ایک بات یاد رکھیں کہ اصول اور ضابطے اپنے اور دوسروں کے لیئے ایک جیسے پونے چاہیئں. اللہ کے حبیب اور آخری نبی محمد مصطفی ٰصلی اللہ و علیہ وسل کا ارشاد ہے کہ”جو چیز اپنے لیئے پسند کرؤ وہی اپنے دوست کے لیئے پسند کرؤ.
علی شاہ
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 10:49 pm
I have a solution for getting rid of unwanted emails. Under every email, sent by some company there is a link”unsubscribe” by pressing this link you will see a new web page stating “if u want to unsubscribe from our mailing list write down your email address” put your email address in the given space and you will get a confirmation message.
I use it quite often and have found it useful. Thanks
صعرفراز ھئسساین کاےانیص
نے لکھا؛
July 11, 2008 at 11:49 pm
Magherbii Mumalik Mien Rahtey Hohey . Ghandey E-Mail Ager Th bii Jahein too Ghossah nien Karna Chieyee Magherbii Mumalak mien Aeyssah Kohi bii nien Kartah ” Zahruret nien Partti Hann Pakistani India Afghanistan Key Efrad Kartey. Qeyunkey Enn kii Zahniet mien Farq hohtah hey. Hummien darghuzer karna Ho Ghah.
اکمل سید نے لکھا؛
July 14, 2008 at 11:53 pm
اہم مسلہ کی طرف توجہ دلانے کا شکریہ ان دنون مین اس عمل سے سخت نالان ہون روزانہ تقربیا 30 میل موصول کرتا ہوں اور اکثر اپنے دوستو ں سے گززارش بھی کرتا ہون کہ اس قسم کی میل سے پرہیز کرین مگر اس طوطی کی آواز کو کون سنے بعض اوقات گھر مین ماں پہن اور کم عمر افراد بھی اس میل پر نظر کر لیتے ہیں اور پاعث شرمندگی تو ہوتی ہی ہے
ابو تیمور نے لکھا؛
July 15, 2008 at 12:01 am
جناب اکمل جناب کرمانی اور صفدر ہمدانی صاحبان
عرصہ دراز سے آپ کے بلاگ پڑھتا ہون اور کبھی لکھنے کی کوشین نہیں کرتا آپ نے درست لکھا کہ قانون اور کم علمی کے تحت یہ عمل معارض وجہ مین آتا ہے بہودہ ذہہں اور بری سوج کے حامل افراد ایسا عمل بجا لاتے ہین معاشرہ مین اس قسم کے افراد کی کمی تو نہین جو ان کو درست نہ کرسکے جن افراد کو اس قسم کی میل موصول ہوتی ہین ان کو چاہے کہ وہ ان کی میل کو بلاک کر دین اور کچھ عرصہ کے بعد آپ کو اس قسم کی میل انا بند ہو جائے گی۔ وسلام
خاور چودھری
نے لکھا؛
July 15, 2008 at 5:17 pm
ڈاکٹرصاحبہ
آداب عرض
یقینا یہ سنگین مسئلہ ہے۔ محترم صفدرہمدانی نے جو بات کی ہے وہ بہت اہم ہے۔
آویز۔برمنگھم ۔
نے لکھا؛
July 15, 2008 at 10:16 pm
شروع ابتدا ہی سے ای میل بناتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کی ای میل بناتے وقت اس کے آپشن میں ہر طرح کی ایڈورٹائز پر کلک نہ کریں ۔جیسے ماہانہ فلاں میگزین یا فلاں معلومات یا فلاں ٹریول ٹکٹ کمپنی یا فلاں ہیلتھ معلومات وغیرہ وغیرہ اس طرح کسی بھی کمپنی پر کلک کی ہوئی بعد میں جنک میلز آٹو میٹک مختلف فرموں سے آتی ہی رہی گی۔
جب آپ نے ایک بار کسی کی آفر قبول کرکے ٹک کردیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے جنک میلز کا دروازہ خود ہی کھول دیا۔پھر ایک کے بعد دوسری ۔جنک میلز آتی ہی رہی گی ان نیک فرموں کے ساتھ کچھ بد فرمیں بھی آگئی ہیں ۔ جہاں جعلی ادویات نقلی دوائیں۔ ممنوع دوائیں لوگ فروخت کرتے ہیں ۔ ایک ملک میں کوئی دوائی ممنوع ہے تو دوسرے ملک میں اس پر کوئی پابندی نہیں ۔جعلی لوگ اس سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں پھر مردوں عورتوں کے مسائل کی ادویات ۔بے ہودہ فلمیں تصویریں ۔ ناول کہانیاں کارٹون۔جسکی کوئی انتہا نہیں ۔ہر ممنوع چیز اور اخلاق سے گری ہوئی چیزیں آن لائن دستیاب ہیں اور یہ کمپنیاں دن رات لوگوں کو ای میلز بھیجتی ہی رہتی ہیں۔
دوسرا طبقہ ایک ایسا طبقہ ہے جو کمپنیوں سے زیادہ بد تر ہے ۔ وہ ہمارے ہی بھائی ہیں۔جو ہمارے ہی درمیان رہتے ہیں ۔اگر کسی نے کسی اچھے سینس سے کوئی اچھی بات دوسروں کو بتانے کے لئے فارورڈ ای میلز کو آگے فارورڈ کردیا تو ان میں سے بے شمار شر پسند ۔فسٹریشن لوگ لڑکیوں کے نام سے بنی ہوئی ای میلز کو فورا الگ کرکے اپنی شر کی آگ کو ای میلز کے زریعے ٹھنڈا کرتے ہیں۔ جب کے ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کچھ بھی نہیں آنا۔اب آپ اندازہ کریں کہ اسلامی ملک پاکستان میں دن کے وقت اکیلی عورت باہر نہیں جاسکتی اگر وہ چلی بھی جائے تو کتنے ہی لوگ راستے میں اس کو گُھوریں گے یا فقرے بازی کریں گے ۔ ان لوگوں کے بس میں ہو تو دن دھاڑے لڑکیا ں اٹھا کر لے جائیں ۔جو اکثر ہو بھی جاتا ہے ۔ اب اسی زہینیت کے لوگ انٹرنیٹ میں بھی آگئے ہیں ۔ جن کا کام ہی لڑکیوں کے نام کی بنی ہوئی ای میلز پر زیادہ سے زیادہ بہیودگی دیکھانا ۔ یہ کوئی اب نئی بات نہیں رہی جب سے انٹرنیٹ دستیاب ہے یہ فحاشی بھی ساتھ ساتھ ہے ۔ اس کا سیدھا سادھا حل ۔کسی کو بھی تمام کی تما م فارورڈ ایمیلزایڈریس کے ساتھ نہ ایڈریس فارورڈ نہ کریں کریں ایک وقت میں ایک ای میل ایڈریس کے ساتھ ۔یعنی ون ٹو ون ای میل ۔جن لوگوں کے ساتھ یہ مسائل ہیں ان کو چاہیے۔
اپنی اپنی ای میلز کے آپشن میں جاکراُن لوگوں کے ای میلز ایڈریس بلاک لسٹ میں جاکر بلاک کردیں ۔ یا اپنی اپنی ای میلز کو سرے ہی سے ڈیلیٹ کردیں نہ رہے درخت نہ رہے اس کی جڑ ۔ اس کے بعد نئی ای میل بنا لیں ۔نئی ای میلز بناتے وقت ہر کمپنی پر ٹک نہ کریں ۔اور فارورڈ میل کو فارورڈ کرتے وقت باقی سب کے ایڈریس کاٹ دیں ۔