Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

وصفِ مُسلم ۔ اوّل ۔ سلوک یا برتاؤ

ہم رمضان کے مہینہ میں روزے رکھتے ہیں ۔ چاہے تنہا ہوں کچھ کھاتے پیتے نہیں اور نہ کوئی بُرا یا غلط کام کرتے ہیں صرف اس لئے کہ اللہ تعالی دیکھ رہے ہیں ۔ باقی سارا سال ہمیں کیوں یاد نہیں رہتا کہ اللہ دیکھ رہے ہیں اس لئے بُرے یا غلط کام نہ کریں ؟

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے جوا وصاف مُسلمانوں کيلئے مقرر کئے ہيں اُن ميں سے روزمرّہ کے کردار کا ايک وصف سلوک یا برتاؤ کے بارے میں پيشِ خدمت ہے ۔ خيال رہے کہ مندرجہ ذيل آيات ميں امر کا صيغہ استعمال ہوا ہے يعنی مُسلمانوں کو حُکم ديا گيا ہے ۔ سب جانتے ہيں کہ حُکم عدولی کا نتيجہ کيا ہوتا ہے ۔ بہت دُکھ ہوتا ہے ديکھ کر کہ مُسلمان قرآن شريف ميں دی گئی واضح ہدايات کی طرف تو توجہ کرتے نہيں اور مغربی دنيا ميں ہدائت تلاش کرتے پھرتے ہيں ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت ۔ 263 ۔
ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو ۔ اللہ بے نیاز ہے اور بُردباری اس کی صفت ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت ۔ 36 ۔
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اور پڑوسی رشتہ دار سے ۔اجنبی ہمسایہ سے ۔ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں احسان کا معاملہ رکھو ۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔

سُورت ۔ 17 ۔ الْإِسْرَاء يا بَنِيْ إِسْرَآءِيْل ۔ آیات 23 و 24 ۔
اور تمہارے رب نے حُکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو اور ان دونوں کے سامنے نرم دلی سے جھُک کر رہو اور اﷲ کے حضور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے رحمت و شفقت سے پالا تھا

سورت ۔ 25 ۔ الفرقان ۔ آیت ۔ 68 ۔
جو اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہیں پکارتے ۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

15 تبصرے »

  1. آویز۔برمنگھم UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 1:29 pm

    بخدمت جناب محترم اجمل صاحب۔
    السلام علیکم۔
    معذرت کے ساتھ آپ سے درخواست ہے کہ آپ دینی علوم ، قرآن وحدیث کی معلومات کو اسلامی کالم میں لکھیں تو زیادہ بہتر ہے۔ویسے بھی القمر آن لائن کی انتظامیہ نے اسلامی کالم کی جگہ الگ رکھی ہے ۔
    یہ مخصوص جگہ تو صرف اپنے اپنے اظہارِ خیالات کے تبادلے اور تبصروں کی جگہ ہے ۔
    وسلام۔ آویز۔ برمنگھم

  2. سایرہ بتول،لند ن UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 3:39 pm

    محترم اجمل صاحب
    بہت قا بلِ غور موضوع کا انتخاب کیا ہے آپ نے خصوصاً یہ کہہ کر کے سارا سال ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللّہ دیکھ رہا ہے۔مجھے ایک کہاوت یاد آرہی ہے کہ اگر خدا پر ایمان رکھتے ہو تو گناہ ایسی جگہ جا کر کرو جہاں خدا نہ ہو۔

  3. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 4:16 pm

    نہایت ھی محترم جناب اجمل صاحب یئی تو مسلہ ھے کہ پورا سال ھم اس بات کو بھول جاتے ھیں لیکن جب حج پر جانا ھو تو اپنے گناہوں کی معافی کے لیے جاتے ھیں اور واپس آکر اس سے زیادہ غلط کام کرنے لگتے ھیں کہ پہلے گناہ معاف ھو گے۔اور یہی حال ھمارا رمضان میں بھی ھے کہ اللہ دیکھ رہا ھے ۔کیا اللہ صرف رمضان میں ھی دیکھتا ھے۔ٹھیک ھے ھم اانسان ھیں غلطی ھو جاتی ھے ۔لیکن ھم اپنی طرف سے کوشش تو کر سکتے ھیں ۔

  4. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 6:46 pm

    آویز صاحب
    یہ میں اپنے خیال کا اظہار ہی تو کر رہا ہوں ۔ میں عالمِ دین تو ہوں نہیں کہ دین کے کالم میں لکھوں ۔

  5. علی شاہ UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 8:25 pm

    اجمل جی میں آپ کی بات سے پوری طرح متفق ہوں. سچ میں اگر ہم پورا سال ہی رمضان کی طرح احتیاط سے گزاریں تو دونوں جہانوں میں کامیاب ہو جائیں. آللہ آپ کو اجر دے کہ آپ نے سب کی توجہ اس طرف کروائ۔ ا

  6. شمس جیلانی CANADA نے لکھا؛

    July 18, 2008 at 11:39 pm

    ساتھیوں ! آویز صاحب کی یہ تجویز بڑی اچھی ہے کہ بجا ئے ان کالموں کے جو کہ روز مرہ کے معاملات پر بحث اور مبا حچہ کے لیئے مخصوص ہیں ۔ یہ مضامین یاتو عام کالموں میں یا پھر اسلامی صفحے پر اجمل صا حب لکھیں تاکہ زیادہ لوگ مستفید ہوں۔رہی علی شاہ صا حب کی یہ تجویز کہ پورے سال روزے رکھے جا ئیں ۔وہ اسلام میں منع ہیں ۔ لگاتار صرف فر ض روزے رکھے جا سکتے ہیں اس کے علاوہ شوال کے چھ روزے ہیں، جو حضور نے چھ متواتر رکھے یا پھر ایک رکھ کر با قی بعد میں پو رے فر مائے ۔ اس کے علاوہ نفل روزے متواتر رکھنے سے حضور نے منع فر مایا ہے۔اور ایک دن چھو ڑ کر دوسرے دن رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لہذا متواتر رکھنے سے وہ مقصد ہی فوت ہو جا ئے گا جو کہ اس کی رو حانی اور طبی بر کتیں ہیں۔ اور حضور کی نا فر مانی الگ ہو گی ؟وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم ایک مہینہ روزہ رکھ کر بھول جا تے ہیں ۔بھو لے تو اس وقت بھی ہو تے ہیں جب ہم روزے رکھ رہے ہو تے ہیں، صرف رسم پو ری کرتے ہیں ورنہ خدا کی کو حا ضر اور نا ظر جانیں توپورے سال ،کو ئی گناہ ہی سرزدنہ ہو۔ شمس جیلانی

  7. اجمل PAKISTAN نے لکھا؛

    July 19, 2008 at 8:20 am

    شمس جیلانی صاحب

    علی شاہ صاحب نے کہا ہے
    اگر ہم پورا سال ہی رمضان کی طرح احتیاط سے گزاریں

    اُنہوں نے سارا سال روزے رکھنے کا تو نہیں لکھا

    یہ فیصلہ القمر آن لائین کی انتظامیہ نے کرنا ہے کہ میری یہ تحاریر کہاں لکھی جانی چاہئیں ۔ دینی کالم کے متعلق میں اپنے خیال کا اظہار اُوپر کر چکا ہوں ۔
    رہا یہاں کی بجائے دوسرا کالم تو اس کالم میں لکھنے میں کیا خرابی ہے ۔ کیا قاریوں اور انتظامیہ کی اکثریت مسلمان نہیں یا دین کی بات کو اُسی طرح علیحدہ کر دیا جائے جیسے میرے ہموطنوں کی خاصی بڑی تعداد نے دین کو اپنی زندگیوں سے علیحدہ کر دیا ہوا ہے ؟

  8. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 19, 2008 at 9:52 pm

    میرے ذاتی خیال میں اسلام ہی وہ ترقی پسند اور جدید ترین دین ہے جس میں دین اور دنیاالگ الگ نہیں.بلکہ خالق کائنات نے دنیا کی نعمتوں سے لطف اٹھانے کا حکم دیا ہے. میں خود بھی اس امر کا حامی ہوں کہ ہم نے دین کو دنیا سے اور دنیا کو دین سے بالکل الگ کر کے بہت سے مسائل پیدا کیئے ہیں. عجب رویہ ہے ہمارا کہ ہر نماز پڑھنے والے کو ہم مولوی یا جماعت اسلامی کا کہتے ہیں اور جدت ہسندی اور ترقی پسندی کی بات کرنے والے کو بائیں بازو کا کہا جاتا ہے.
    المقر آن لائن کے چیف ایڈیٹر کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر مجھے ان موضوعات پر لکھی جانے والی تحریروں کے یہاں شائع ہونے پر کوئی اعتراض نہیں.کیونکہ الگ جگہ پر ہم ایسے کسی موضوع پر بحث نہیں کر پائیں گے.

  9. شمس جیلانی CANADA نے لکھا؛

    July 20, 2008 at 12:43 am

    دین اور دنیا کو الگ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ صفدر بھائی نے بطور چیف ایڈیٹر فیصلہ دیدیا ۔ چلیئے! معاملہ ختم ۔جو حکم امیر کا! میں بھی صاد کرتاہوں ۔ شمس جیلانی

  10. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 20, 2008 at 2:50 am

    یہاں اگر آپ سب کو برا نا لگے تو ایک بات کہنا چاہوں گی وہ یہ کہ جہاں تک علی کا تبصرہ میری ناسمجھ عقل میں آیا ھے اس کا مطلب یہ ھرگز ھرگر نہیں تھا کہ پورے سال کے روزے رکھیں جاہیں ،بلکہ پورا سال کیوں نا ھم اچھے کام کریں ناکہ ایک رمضان میں ۔کوشش تو یہی ھونی چاہئے ایک مسلمان ھونے کے ناطے زیادہ سے ذیادہ دوسروں کا خیال رکھنا ۔اخلاق اور احسن طریقے سے نا صرف مسلمان سے بلکہ دوسرے مزاہب کے لوگوں سے بھی پیش آنا ۔وہ طور طریقے جو ھمارے تھے ،آج دوسرے ان کو اپنائے ھوئے ھیں ۔

  11. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    July 20, 2008 at 1:52 pm

    صفدر ہمدانی صاحب ۔ سلام علیکم
    جزاک اللہ خیرٌ ۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔

  12. آویز۔برمنگھم UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    July 22, 2008 at 4:29 am

    محترم اجمل صاحب نے “وصف مسلم سلوک یا برتاؤ “ قرآن کے حوالے سے جو کچھ بھی تحریر کیا یہ باتیں معلومات اورحوالے نہایت قیمتی اور سنہری باتیں ہیں ۔اگر اس کو خاص اور خالص اسلامی سیکشن میں لکھا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے تاکہ آئندہ جب بھی ضرورت پڑے تو اسلامی سیکش میں سے با آسانی دوبارہ مل سکے ۔ مگر یہاں تبصروں میں لکھ کرجس کا کوئی سرا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی صفحہ نمبر ہے دوبارہ تلاش کرنے میں دقت اور وقت الگ ہے ۔
    اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مشورہ دیا تھا کہ اس کو الگ لکھاجائےتو بہتر ہے ۔ مگر اس کی افادیت کو سمجھنے کی بجائے ایک ایسی مثال پیش کردی جواس جگہ پر فٹ بھی نہیں ہوتی ۔کہ “
    دین کو دنیا سےاوردنیا کو دین سے بالکل الگ کر کے بہت سے مسائل پیدا کیئے ہیں“
    یہ مثال اس جگہ پر فٹ نہیں ہے ۔
    یہ مثال ایسے ہی ہے جیسے سُنار کی دکان میں دھی بھلے کا کاروبار ۔ایسی قیمتی اور سنہری باتوں کو اس جگہ پر لکھ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔
    پھر ان سنہری باتوں کو دوسرا انجان شخص کیسے دوبارہ تلاش کرئے ۔کہ تبصروں کی دنیا میں کوئی سنہری بات بھی ان اوراق میں چُپھی پڑی ہے۔ ان باتوں کو پڑھنے والے ہم ہی چند تبصرہ نگار ہیں ۔اگر اس کو اسلامی سیکش میں لکھا جائے تو ہزاروں لوگ اس کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اور آئیندہ تلاش کرنے میں آسانی بھی رہے۔
    کچھ ہفتے پہلے القمر آن لائن کی انتظامیہ نے یہاں پر خودہی لکھا تھا ۔ کہ افسانے ۔ نظمیں ، غزلیں وغیرہ کے لئے الگ الگ جگہ بنا دی ہے آئندہ یہاں پر ای میل کریں ( ای میل نمبر بھی لکھے ہوئے تھے )
    افسوس اس بات کا بھی ہے کہ القمر آن لائن کی انتظامیہ خود قانون بناتی ہے اور خود عمل بھی نہیں کرتی ۔

  13. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    July 22, 2008 at 1:12 pm

    آویز صاحب
    آپ نے القمر آن لائین کی انتظامیہ کو مخاطب کیا ہے ۔ اُمید ہے وہ جواب لکھیں گے ۔
    میں صرف اپنے طور پر کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔
    اول ۔ اسلام والے حصہ میں قرآن شریف کا عربی متن ۔ اُردو اور انگریزی ترجمہ کے علاوہ محققین ۔ عُلماء ۔ مؤرخین اور مستند مصنّفین کے مضامین موجود ہیں ۔ میں یا میری تحریر اِن میں سے کسی کھاتے میں نہیں آتی ۔

    دوم ۔ لکھنے کا میرا مقصد سیکھنا اور سکھانا ہے جس کیلئے صحتمند مباحثہ ضروری ہے ۔ اسلام کے حصہ میں لکھی کسی تحریر پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ۔

    سوم ۔ میں دین پر نہیں بلکہ انسان کی زندگی اور انسانیت کے بارے میں لکھتا ہوں ۔ چونکہ مُسلِم ہوں اور مُسلم کی حثیت سے میرا فرض ہے کہ جس عمل کا تعلق اللہ کے حُکم سے ہو وہاں اللہ کا حُکم بیان کروں اسلئے کبھی کبھی میری تحریر میں قرآن کا حوالہ آتا رہے گا ۔

    چہارم ۔ اسلام والے حصہ کو صرف وہ لوگ پڑھتے ہیں جو پہلے سے اسلام کے متعلق جانتے ہیں اور مزید پڑھنا چاہتے ہیں ۔ میں اُن قارئین کیلئے لکھ رہا ہوں جن کے پاس اسلام والے حصہ کو کھولنے کا وقت نہیں ہوتا ۔

    پنجم ۔ جہاں تک میری تحریر کو مُستقبل میں دیکھنے کا تعلق ہے تو اس کو بلاگ پر اسلام والے حصہ کی نسبت زیادہ آسانی سے اور کمتر وقت لگا کر تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ اس کیلئے گوگل اُردو تلاش استعمال کیجئے ۔

    مندرجہ بالا وجوہات اور جو وجوہات محترم صفدر ہمدانی صاحب لکھ چکے ہیں اور اب لکھیں گے کی بناء پر میری تحاریر کیلئے موذوں ترین جگہ بلاگ ہی ہے ۔
    صرف مزاح کی خاطر لکھ رہا ہوں کہ اگر میری تحاریر کو اسلام والے حصہ میں ڈال دیا گیا تو ایسے لگے گا کہ ہیرے جواہرات کی دکان پر آلو چھولے بھی رکھ دیئے گئے ہیں

  14. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 22, 2008 at 3:57 pm

    بہت ھی محترم آ ویز بھائی آپ کی تحریر ھمارے سامنے ھے اور اٍس ضمن میں جناب صفدر ھمدانی صاحب کی وضاحت کے بعد کچھ کہنے کو ویسے باقی بچتا نہیں ھے لیکن چونکہ آپ نے لکھا کہ “ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ القمر آن لائن کی انتظامیہ خود قانون بناتی ہے اور خود عمل بھی نہیں کرتی “ تو بات یہ ھے کہ افسانہ ، کالم ، شاعری اور دینی باتوں میں فرق ھوتا ھے ۔ یہ ساری اصناف ایک دوسرے سے علیحدہ ھیں لیکن پھر بھی اٍن میں ایک بات مشترک ھے کہ جب بھی ان پر صحت مند مباحثہ یا تبادلہ خیال کرنے کی بات آتی ھے تو وہ صرف بلاگ میں ھی میں ممکن ھو سکتا ھے ۔ جیسا کہ اجمل بھائی نے اپنی تحریروں کی وجہ وضاحت سے بیان کر دی ھے ۔ ادارہ القمر سے کوئی بھی اٍس بات پر اعتراض نہیں رکھتا کہ دینی باتوں پر صحت مند تبادلہ خیال کے لیئے یہ بلاگ مناسب جگہ نہیں ھے ۔
    جہاں تک افسانوں اور شاعری کی بات ھے اُس میں بھی یہی بات ھے کہ جو احباب اپنی نگارشات پر تبصرے یا تبادلہ خیال چاھتے ھیں وہ یہاں لگا سکتے ھیں ۔ القمر کے ادبی صفحات پر چھپنے کے لیئے اُس کے معیار تک پہنچنا بہت ضروری ھو گا اور اُس کا فیصلہ القمر کی ٹیم پڑھنے کے بعد ھی کر سکے گی ۔ لیکن بلاگ میں کوئی بھی تخلیق بغیر کسی میعار کو متعین کیئے چھپ سکتی ھے اور میں سمجھتی ھوں کہ نئے لکھنے والوں کے لیئے سیکھنے کابہت ھی بہترین اور آسان طریقہ ھے اور جو لوگ سیکھا سکتے ھیں اُن کی کسی بھی بلاگ پر رائے یا اُن کی تحریر سیکھنے والوں کے لیئے انمول زریعہ ھو سکتی ھے ۔

  15. وصفِ مُسلم ۔ دوم ۔انصاف اورگواہی | Al Qamar Online Urdu News ::Largets Online Urdu newspaper القمرآن لائن بلاگ UNITED STATES نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 8:05 am

    […] سے قبل میں سلوک یا برتاؤ کے متعلق اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے احکام کی ایک جھلک پیش کر چکا […]

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو