اے میرے خدا تو ھی بتا یہی انصاف ھے
دوستوں ویسے تو مجھے شاعری نہیں آتی ۔جو کچھ محسوس کیا آپ سب کی نزر ھے۔اس دعاکے ساتھ کہ میری ارض پاک کی خیر ھو آمین
اے میرے خدا تو ھی بتا یہی انصاف ھے
میری ارض پاک پر آج یہ کیسی صورت حال ھے
ایک مسلمان کیوں مسلمان سے اتنا بےزار ھے
آج تیرا بندہ ھی تیرے بندے کا محتاج ھے
اے میرے خدا تو ھی بتا کیا یہی انصاف ھے
چار سو بھوک افلاس غیریبیچھائی ھوئی ھے
کیوں غیریب و بےکس اتنا مجبور لاچار ھے
آج تیری امت کیوں اتنی خستہ حال ھے
اے خدا تو ھی بتا کیا یہی انصاف ھے
ھر طرف موت اور لاشیوں کا انبار ھے
کیوں ھر چہرہ بے بس اور سوگوار ھے
ھر انکھ خوفزادہ اور اشکبار ھے
اے میرے خدا تو ھی بتا یہی انصاف ھے
کیوں اسلام کے نام پر ملک میں یلغار ھے
آج بےعمل ھاتھوں میں مسلمان کا قتِل عام ھے
گناہگار اور بےگناہ ایک ھی سولی پر سوار ھے
اے میرے خدا تو ھی بتایہی انصاف ھے
رحیم بھی تو۔ کریم بھی تو، رازق ہی تری زات ھے
مجھے ھر دم تیری ھی امید اور تیری ھی آس ھے
میری ارض پاک پر کرم کرنا لبوں پر یہی دعاھے































اجمل
نے لکھا؛
July 19, 2008 at 8:32 am
محترمہ یہ سب فساد من حیث القوم ہمارے اطوار کا نتیجہ ہے ۔ ہر مسلمان بالخصوص ہموطن کو اپنے گریبان میں جاکنا چاہئیے کہ اُس نے کتنی اللہ کے حُکم کی تابعداری کی اور کتنی سرکشی پھر سرکشی سے تائب ہو کر اپنی پچھلی غلطیوں کی معافی مانگنا چاہئیے اور آئیندہ ہر بُرائی اور غلطی سے بچنا چاہئیے ۔ صرف یہی اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کا نُسخہ ہے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 19, 2008 at 9:42 am
بے شک اجمل بھائی آپ نے سچ کہا اور تانیہ تمھاری لکھی ھوئی دعا “میری ارض پاک پر کرم کرنا لبوں پر یہی دعاھے “ پر صدقٍ دل سے آمین
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 19, 2008 at 12:57 pm
زبردست بہت اچھے، اور پھر شعر کی صداقت شاعر کے احساسات کے سچ ساتھ تب ہی محسوس ہوتی ہے کہ جیسے خیال ذہن میں آئے اُسی طرح نوکِ قلم پر آجائے، بِلیقیں یہی صورتِ حال ہے۔ اور اور اِس نظم میں حضرتِ فیض کی اُس نظم کا دُکھ محسوس ہو رہا ہے ، ربُا سچیا توں تے۔۔۔
انشا اللہ اگر ادارے مُلک کے ساتھ مُخلص ہو جائیں اور بِکھرے ہوئے لوگ خؤد کو ایک مِلت سمجھنا شِروع کر دیں تو بہتری کا امکان ہے۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 19, 2008 at 4:17 pm
درست کہا ھے اجمل جی آپ نے پتا نہیں کون کون سی غلطیوں کی سزا مل رہی ھے اللہ معاف فرمائے۔ آمین نگہت بہت شکریہ تبصرہ کرنے کا خوش رہو۔ اور عمران جی آپ کی بھی شکرگزر ھوں ۔جو اتنی حوصلہ افزائی کی۔اگر مجھے فیض صاحب کی نظم دے سکیں تو مہربانی ھو گی
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 20, 2008 at 6:54 am
بِلا شبہ فیض صاحب کی شاعری سے ہم سب کو فیضیاب ہونا چاہیے، اُنکی نظم پیشِ خدمت ہے
ربا سچیا توں تے آکھیا سی
جا اوے بندیا جگ دا شاہ ایں توں
ساڈیا ں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں
ساڈا نیب تے عالی جاہ این توں
ایس لارے تے ٹور کدی پُچھیا ای
کیہ ایس نمانے تے بیتیاں نین
کدی سار وی لئی او رب سائیاں
تیرے شاہ نال جگ کی کیتیاں نیں
کِتے دھونس پولیس سرکار دی اے
کِتے دھاندلی مال پٹوار دی اے
ایویں ہڈاں وِچ کلپے جان میری
جیویںپھاہی اچ کونج کُرلاوندی اے
چنگا شاہ بنایا ای رب سایاں
پولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے
مینوں شاہی نیں چاہیدی رب سایاں
میں تے عزت دا ٹُکر مانگدا ہاں
مینوں تاہنگ نیں محل مہاڑیاں دی
میں تے جیون دی نُکر منگدا ہاں
میری منین تے تیریاں میں مناں
تیری سونہ جے اِک وی گل موڑاں
جے ایہ مانگ نئیں پُجدی تیں ربا
فیر جاواں تے رب کوئی ہور لوڑان
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 20, 2008 at 4:25 pm
بہت شکریہ عمران جی بہت ھی خوبصورت نظم فیض صاحب کے بارے میں کچھ کہنا چھوٹا منہ بڑی بات۔
علی شاہ
نے لکھا؛
July 20, 2008 at 5:04 pm
تانیا جی
بہت مدت باد آپ کی طرف سے نظم آئ ہے، اور کیا خوب آئ ہے۔ ایک ایک لفظ حقیقت۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 21, 2008 at 1:45 am
علی بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا۔تم اور تمھارے بہن سعدیہ کہاں گم ھے ۔لگتا ھے وہ کسی لڑکی کی تلاش میں ھے ۔اپنے بھائی کی بڑی فکر ھے اس معصوم کو
علی شاہ
نے لکھا؛
July 21, 2008 at 3:47 am
تانیا جی،
سعدیہ بہن کو میری کوئ فکر نہیں، انہیں صرف پاکستان اور پاکستانیوں کی فکر ہے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 21, 2008 at 8:08 pm
علی تم پاکستانی نہیں ھو ،تمھاری تو ذیادہ فکر ھے بچی کو ایک بھائی اور دوسرا پاکستانی
علی شاہ
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 6:13 pm
پر بچی ہے کہاں. اتنی خاموشی تو کسی طوفان کی آمد کا پتہ دیتی ہے.
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 6:39 pm
بچی ضرور کہی نظم لکھ رھی ھو گی ۔ بس آتی ھی ھو گی ۔ تانیہ زرا اپنی ای میل تو دیکھنا ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 22, 2008 at 6:50 pm
نگہت لگتا ھے بچی نظم لکھنے کسی ٹرین میں سوار ھے ، یا کسی جہاز میں وہ بھی بحری جو ابھی تک نہیں پہنچا۔اگر بحری جہاز ھے تو پورا دیوان آنے والا ھے ۔میں اپنے ای میل کا خالی کر دوں۔