میں ہاں کمی کمین اے ربا،اوچی تیری ذات
دوستوں پہلی بار پنجابی میں عرض کیا ھے ۔
میں ہان کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا نام اے ربا، اوچی تیری ذات
رحمتاں تیریاں برسا برسن کی سیدہ تے کمہار
تیری نظروچی سب برابر نا کوئی موچی ناسردار
بندہ اوھی چنگہ جو کرے تیرے بندے نال پیار
میں ہاں کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے ربا، اوچی تیری ذات
نا میں تکیا کعبہ تے نا گیا میں مسیتی
نا میں پڑھی نماز پانچگانہ ناخیرات کیتی
پھر وی تیرا کرم اے ربا، کوئی کمی نا کیتی
میں ہاں کمی کیمن اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے ربا، اوچی تیری ذات
مرشد میرا توں اے ربا ،توں ھی میرا والی
اکو اک تیرا ناں ، کر دی تیری ذات رکھوالی
کرقبول میری عرضی میں ہاں ایک سوالی
میری ہاں کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے رباا، اوچی تیری ذات































علی شاہ
نے لکھا؛
July 21, 2008 at 3:45 am
بہت عمدہ ! اللہ نظرِبد سے بچائے، زورِقلم ور زیادہ ہو۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 21, 2008 at 3:13 pm
بہت اچھے، بہت اعلیٰ، لگتا ہے بہت مواد ہے آپکے پاس، بہت روانگی سے لِکھتی ہو
آپ۔ جاری رکھیں۔ اس نظم کا عُنوان کیا رکھا ہے آپنے؟
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 21, 2008 at 4:07 pm
بہت شکریہ علی اللہ ھمیشہ خوش رکھے۔یہ حوصلہ آپ سب دوستوں کی وجہ سے ھی مجھے ملا ھے۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 21, 2008 at 4:11 pm
عمران جی آپ کی بھی ممنوں ھوں یقین جانیے میں نے ابھی تو شروع کیا ھے ۔جہاں تک عنوان کا سوال ھے تو ابھی نہیں سوچا۔اور جہاں تک مواد کی بات ھے ۔اس وقت چند الفاظ ھیں ۔مواد تو دور کی بات ۔اورہاں پنجابی میری زبان نہیں ھے لیکن بھی بہت اچھی لگتی ھے ۔خوش رہیں
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
July 21, 2008 at 4:38 pm
تانیہ صاحبہ.کیا علم تھا کہ آپ پشتو،ہندکو اور اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی ید طولیٰ رکھتی ہیں
شمس جیلانی
نے لکھا؛
July 21, 2008 at 9:42 pm
بہن تانیہ اسلام علیکم
آپ کی حمد بہ حضورِ باری تعالیٰ بہت ہی پیاری ہے،اللہ آپ کو اس زمین میں مزید لکھنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ اس میدان میں بہنوں کی تعداد نہ ہو نے کے برابر ہے ۔نعت میں تو کچھ ہیں، مگر حمد میں بہت ہی کم ۔میری دعا ئیں آپ کے ساتھ ہیں ۔شمس جیلانی
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 12:30 am
بہت عمدہ ۔اللہ پاک کرے زور ٍ قلم اور زیادہ ۔ آمین
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 22, 2008 at 1:29 am
صفدر جی پہلے تو آپ کی توجہ کا بہت شکریہ ۔جہاں تک پشتو لکھنے کا سوال ھے تو اچھا ھی ھے کہ نہیں لکھ رہی ورنہ پھر اس کا ترجمہ بھی مجھے ھی کرنا پڑتا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 22, 2008 at 1:32 am
محترم شمس صاحب آپ کی بھی ممنوں ھوں ۔جو تبصرہ کیا ۔یقین جانیے بہت خوشی ھوئی۔کیونکہ آپ جسے مہربان ھمارے لیے سند کا درجہ رکھتے ھیں۔اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 22, 2008 at 1:35 am
جی نگہت جی کہاں ھیں آپ ۔شکر ھے کہ آپ نے بھی اتنی مصروفیت میں تبصرہ کیا ۔دل سے شکریہ اللہ پاک خوش رکھے۔ آمین
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 7:51 am
تانیہ آپ کو شاید یاد نہیں رھا کہ میں نے بتایا تھا کہ میں ایک دوسرے ھوسپٹل ٹرانسفر کر دی گئی ھوں ۔ اور میرا نیا ھوسپٹل نا صرف میرے گھر سے ایک گھنٹے کی ڈرایو پر ھے بلکہ ڈیوٹی بھی شفٹس میں ھوتی ھے ۔ اٍس لیئے بروقت نظم کی خوشی میں شریک نہیں ھوسکی تھی ۔۔ دعاؤں میں یاد کا قلبی شکریہ ۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 22, 2008 at 3:35 pm
نگہت جی یاد آگیا اور یاد دہانی کا بہت شکریہ ۔مجھے بھی کسی کی عادت پڑ گیی ھے بھول جانے کی ۔
خاور کھوکھر
نے لکھا؛
July 24, 2008 at 1:57 am
اچھی نظم ہے ـ
مجھے نسلی لوگوں سے واسطه پڑتا رهتا ہے