خواب بہت مہنگے ھیں
خواب کتنے کے ھیں
میں نے اپنی بیٹی سے ایک روز کہا تھا
دیکھا ھے میں نے خواب ۔جو موتیوں سے بھرا تھا۔
سکون ھی سکون ھر غم بے اثر تھا
پھولوں سے بھرا میرا یہ انگن تھا۔
اچانک جو کھولی انکھ
تو بہار میں خزاں کا سماں تھا
یہ خواب کیا ھوتے ھیں کیا یہ پیسوں سے ملتے ھیں؟
ہاں بیٹی جہاں پیٹ خالی اور انکھ سوالی ھو
۔وہاں خواب بھی پیسوں سے ملتے ھیں
ماں پھیری والا آیا ھے سچے خواب لایا ھے
تم نے کہا تھا اب خواب بھی پیسوں سے ملتے ھیں
آو نا ماں مجھے خواب لے دو نا
تم نے کہا تھا
خوابوں میں چاند بھی ھے اور تارے بھی
تم نے کہا تھا ۔پھولوں پر تیتلیاوں نےگھر سجایا تھا
ننھے ننھے پیڑوں پر پرندوں نے گھونسلا بنایا تھا
نیلے نیلے جھرونوں میں پانی نے رستہ بیچھایا تھا
مجھے بھی اس پانی پر چلنا ھے پرندوں کو پکڑنا ھے۔تیتلیوں کو تکناھے
دیکھو ماں میری مھٹی میں چند پیسے ھیں
آو نا ماں مجھے خواب لے دو نا
نا رو ماں مجھے نہیں لینے خواب
میں پھیری والے سے خواب نہیں روٹی لیتی ھوں
اب چپ ھو جا اور ناآنسو بھا
ماں میری پیاری ماں
خواب بہت مہنگے ھیں۔































نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 5:30 pm
اٍس مہنگائی کے دور میں خواب بھی مہنگے ھیں تو کیا عجب ھے ۔ ن م راشد نے کہا تھا خواب لے لو خواب ، لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ کہاں سے ؟
علی شاہ
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 6:08 pm
تانیہ جی آپ نے تخیلات اور موجودہ حالات کو اتنے خوبصورت الفاظ میں پرو کر بہت ہی پیاری نظم تشکیل دی ہے. دلی داد قبول کریں.
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 22, 2008 at 7:33 pm
دیکھو ماں میری مُٹھی میں چند پیسے ہیں ،
میں پھیری والے سے خواب نہیں روٹی لیتی ہوں
واہ اچھا ہے، بہت اچھا ہے
نئی نسل کو ماضی کی تلخیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے زمینی حقائق کی طرف توجہ دِلانے کا کیا خوبصورت اور فِطری انداز ہے
بہت اچھے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 23, 2008 at 1:46 am
نگہت سہی کہا جب کھانے کو کچھ نا ملے تو خواب کہاں سے آہیں گے۔ اس لیے اب لوگوں نے خواب دیکھنا ھو چھوڑ دیا۔اور جہاں تک ن م راشد کی شاعری کی بات ھے میں نے ابھی تک نہیں پڑھی ۔زندگی رہی تو ضرور پڑھوں گی۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 23, 2008 at 1:50 am
علی کبھی تنقید بھی کر دیا کرو ۔تنقید سے بہت کچھ سیکھا جاتا ھے۔بہت شکریہ۔عمران جی آپ کی بھی دل سے شکرگزر ھوں ۔ جو اتنی خوبصورتی سے تبصرہ کرتے ھیں۔آپ سب دوستوں کی حوصلہ افزائی چاہئے۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 23, 2008 at 11:59 am
آپکی شاعری کے موضوعات اچھے ہوتے ہیں اور جِس ترتیب کے ساتھ سوچ آتی ہے اُسی ترتیب سے آپ لِکھ دیتی ہوَ، بندشوں کے چکر پیں نہیں پڑتی ہو، بلکہ خیال کی نازُکی اور لہجے کی سچائی کی طرف دھیان دیتی ہو یہی اچھا لگتا ہے۔ جنابِ ہمدانی صاحب کے شعر کا ایک مِصرعہ ہے ، لِکھتا ہوں مرثیہ یہ کوئی شاعری نہیں۔اور یہی حق ہے۔
زرقا مفتی نے لکھا؛
July 23, 2008 at 12:32 pm
تانیہ جی
آپ کی نظم کا خیال بہت اچھا لگا
لکھتی رہیئے
اور خوش رہیئے
والسلام
زرقا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 23, 2008 at 3:45 pm
پہلے تو یہ بتاہیں زرقا جی آپ کہاں چلی جاتی ھیں۔ بہت شکریہ آپ کی کرم نوازی کا ۔اللہ خوش رکھے۔آمین
علی شاہ
نے لکھا؛
July 23, 2008 at 10:28 pm
تانیہ جی
آپ نے درست فرمایا کہ تنقید برائے اصلاح سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ مجھے خود کو کیا آتا ہے جو آپ پر تنقید کروں۔ دوسرا یہ کہ ابھی چند ماہ پہلے ہی آپ اس فیلڈ میں آئ ہیں، جتنا جلدی آپ نے اردو ادب میں نام کمایا شاید ہی کسی اور نے کمایا ہوں، اسلئیے یہ حوصلہ افزائ آپ کا حق ہے۔ آپ کو اس بات کیلیئے اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اتنی جلدی آپ کو ادب کے حوالے سے پہچان ملی ورنہ بہت سے اچھے لکھاری برسوں خاک چھاننے کے بعد بھی منظرِ عام پر نہیں آتے۔
میں القمر آن لائن کی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری بہن کے چھپی ہوئ صلاحیتوں کو باہر لانے کیلیئے پلیٹ فارم مہیا کیا۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 24, 2008 at 3:24 pm
علی تم تو بھائی ھو کہہ سکتے ھو میری تحریر اچھی ھے لیکن ضروری نہیں کہ ھر ایک کو پسند بھی آئے۔اس لیے میں تنقید پہلے اپنوں سے چاہتی تھی ۔میں اللہ کی شکر گزر ھوں کہ اس نے اظہار کا رستہ دیا۔ چاہئے وہ پروین شاکر یا احمد فراز جیسا نہیں ھے۔لیکن اپنی تسلی کے لیے بہت ھے۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 24, 2008 at 4:11 pm
میں سمجھتی ھوں کہ ھر شاعر یا لکھنے والا کسی بھی متعین کیئے ھوئے میعار سے بہت آگے جاسکتا ھے اگر وہ لگن سے محنت کرے ۔ اپنے آپ کو نکھارنے کے لیئے اپنے مطالعہ کو وسیع اور مشاھدہ کی آنکھ کو تیز رکھے اور ھمہ وقت ایک عاجز کی طرح سیکھنے کی کوشش میں رھے
۔ میں نے اکثر دیکھا ھے کہ ایک آدھ بار حوصلہ افزائی کے طور پر بھی چھپنے والے خود کو لکھاری یا ادب کا اثاثہ سمجھنے لگ جاتے ھیں۔ افسوس ایسے لوگوں کا سفر شروع ھونے کی بجائے رک جاتاھے ۔۔ لکھنے والا نیا ھو یا پرانا اُسے اپنے مقام تک پہنچنے کے لیئے اور اپنے مقام کو برقرار رکھنے کے لیئے ھمہ وقت ایک جدوجہد ھی کرتے رھنا پڑتا ھے ۔
احمد فراز یا پروین شاکر بننے کے لیئے اُن جیسی ریاضت بھی کرنی پڑتی ھے ۔ انہوں ھی نے کیا ، ھر وہ شخص جو اپنی ایک شناخت رکھتا ھے ، ان سب نے اپنے مقام سوتے ھوئے حاصل نہیں کیئے ھیں اور نہ ھی اپنوں یا غیروں کی مدح سرائی سے وہ عزت کے اُس منزل تک پہنچے ھیں ۔ سب نے اٍس دشت کی برسوں خاک چھانی ھے تو اٍس قابل ھوئے ھیں ۔ برسوں کی محنت اور ریاضت سے حاصل کیا ھوا نام اور مقام چند مہینوں میں کسی کو بھی نہیں مل سکتا ۔
میرا تمام نئے لکھنے والوں سے بڑی نیک نیتی سے درخواست ھے کہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اطراف میں دیکھیًں کہ کیا ھو رھا ھے ۔ ادب نہ تو القمر سے شروع ھوتا ھے اور نہ اس پر ختم ھوتا ھے ۔ ایسی کئی سایئٹس ھیں جہاں پر ھم جیسے کئی لکھنے والے ھم سے زیادہ اور کہی بہتر لکھ رھے ھیں ۔ کیا ھم سے کوئی اُن کے نام تک بھی جانتا ھے ۔۔ جتنا ھم جانتے ھیں وہ ھم سے بھی کم ھمارے نام جانتے ھیں ، سو جانا انہں ہی جاتا ھے جن کے سفر رکتے نہیں ھیں اور وہ اپنے قلم کو اللہ پاک کی امانت سمجھتے ھوئے عاجزی ، آہستگی اور شایئستگی سے آگے بڑھتے ھیں ۔خود کو عقل کُل نہیں سمجھتے بلکہ دھیان اور تحمل سے بات کو نہ صرف سُنتے ھیں بلکہ عقل دینے والے کی عزت بھی کرتے ھیں۔ ایسے لوگوں کے سفر کامیاب اور دور تک چلتے ھیں اور انہیں راہبر بھی اچھے ملتے ھیں ۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
July 24, 2008 at 8:23 pm
اسلام و اعلیکم سب کو
میں کچھ دن کیا گئ تانیہ نے ساعری شروع کر دی ول ڈن …اچھا لکھا
نگہت جب سے انسان کو اظہار کرنا آیا ھے وہ زندگی پہ محبت پہ لکھ رہا ھے مگر کوئ بھی تحریر آخری نہیں ھو سکتی کہ اس سے بہتر کوئ لکھ نہیں سکتا کہیں جذبوں کی گہرائ ھوتی ھے تو کہیں لفظوں کا چناؤ تو کبھی وہ احساس جس میں ڈوب کر کوئ بھی شاعر لکھتا ھے متاثر کرتا ھے غالب سے لے کر اب تک لاکھوں شاعر آئے اور چلے گئے مگر جن کا ادب میں ایک مقام ھے ان کے نام ھم انگلیوں پہ گن سکتے ھیں …اگر انسان اظہار کر سکتا ھے تو اسے اظہار کرنا چاھیے ..میں بھی شاعری کرتی ھوں مگر نا نام بنانے کے لیے کرتی ھوں نا مقام بنانے کے لیے کچھ لمحے کچھ کیفیت ایسی ھوتی ھے کہ لکھ کر سکون ملتا ھے کوئ تعریف نا بھی کرے کوئ فرق نہیں پڑتا مگر پڑھنا یا سیکھنا تو مرتے دم تک فرض ھے
سعدیہ سحر نے لکھا؛
July 24, 2008 at 8:27 pm
سوری تانیہ تمہاری شاعری کو ساعری لکھ دیا
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 25, 2008 at 2:01 am
سعدیہ تم آئی ھو یا بلائی گئی ھو دونوں صورتوں تمھارا آنا ھمیشہ کی طرح اچھا لگا ۔ کہو کہاں رہ جاتی ھو ۔۔ میری خواہش ھے کہ میرے تبصرے کو ایک مشورے کی طرح پڑھو تو وہی ھے جو تم نے کہا ھے ۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 25, 2008 at 2:07 am
ویسے سچ بتاو سعدیہ تم کو کس نے دی آواز بہت شکریہ ۔اب جلدی سے میری نظم کے جواب میں اپنی نظم لگا لو