مکروفریب کی اس دنیا میں وفا ڈھونڈتی ھوں۔۔۔۔سعدیہ سحر
مکروفریب کی اس دنیا میں وفا ڈھونڈتی ھوں
مکروفریب کی اس دنیا میں وفا ڈھونڈتی ھوں
لوگوں کی نگاھوں میں حیا ڈھونڈتی ھوں
گونج رھی ھیں زمانے میں کفروشرک کی آوازیں
ایسے میں کسی بندہء خدا کی صدا ڈھونڈتی ھوں
بکھرے ھیں چار سو اندھیرے ھی اندھیرے
ناامید ی کے اندھیروں میں دیا ڈھونڈتی ھوں
حالات کیوں بدلتے نہیں سوچتی ھوں میں اکثر
میں لاکھوں سجدوں کا صلہ ڈھوڈتی ھوں
بے حسی کی انتہا انسان لوٹتا ھے انسان کو
مردہ دلوں جو زندہ کر دے وہ دواڈھونڈتی ھوں
دلوں پہ چھا رھی ھے یہ کیسی خزاں
پت جھڑ کے موسم میں مہکتی فضاڈھونڈتی ھوں
کچھ نہیں بدلہ وہی قرآن ھے خدا ھے وہی
جو سزا ھے مل رہی اس کی خطا ڈھونڈتی ھوں































علی شاہ
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 2:36 am
سعدیہ جی
بہت ہی خوبصورت غزل ہے، دلی داد قبول کریں
خاورچودھری
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 9:50 am
اچھے خیالات ہیں۔ ماشا اللہ
میرا پاکستان
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 6:05 pm
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ نے شاعری کرنی ہے تو پہلے اس کے بنیادی قاعدے اصول سیکھ لیجیے اور کسی کو استاد مان لیجئے. اس طرح کی شاعری جس میں وزن نہ ہو وہ وقت ضائع کرنے والی بات ہے. ہاں اگر آپ کے پاس ان تمام لوازمات کیلیے وقت نہیںہے تو پھر آزاد شاعری شروع کردیجئے.
ویسے آپ کا تخیل اعلٰی ہے صرف اسے اچھے پیرائے میںبیان کرنے کیلیے تھوڑی محنت کی ضرورت ہے. امید ہے آپ ہماری تعمیری تنقید کا برا نہیںمنائیںگی اور دل چھوٹا بھی نہیںکریں گی.
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 26, 2008 at 11:01 pm
بہت خوب سعدیہ سچی اس دنیا میں وفا نام کی کوئی چیز نہیں ،
حالات کیوں بدلتے نہیں سوچتی ھوں میں اکثر
میں لاکھوں سجدوں کا بس اک صلہ ڈھوڈتی ھوں
بے حسی کی انتہا ھےکہ انسان لوٹتا ھے انسان کو
مردہ دلوں کو جو زندہ کر دے وہ دواڈھونڈتی ھوں
سماف نے لکھا؛
July 27, 2008 at 3:49 am
بھت اچھا خیال ھے
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 27, 2008 at 4:26 am
میرا خیال ھے کہ ھم سب کو “میرا پاکستان“ کی بات دھیان سے سننی چاھیئے اور پوری توجہ سے عمل بھی کرنا چاھیئے ۔ شکریہ
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
July 27, 2008 at 8:19 am
کمال تو یہ ہے کہ دنیا میں وفا سرگرداں ہے وفا شعاروں کی تلاش میں ۔
وفا بھی موجود ہے اور وفاشعار بھی ۔ جس دن یہ ختم ہو جائیں گے دنیا ختم ہو جائے گی ۔
اصل بات یہ ہے کہ کسی چیز کو پانے کیلئے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیئے کہ وہ کہاں مل سکتی ہے پھر وہاں ڈھونڈا جائے ۔ جس طرح بہترین آم ڈھونڈنے کیلئے ملتان جانا چاہیئے نہ کہ برلن جہاں لوگوں نے کبھی آم دیکھے بھی نہ ہوں گے
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
July 28, 2008 at 12:08 pm
سلام علیکم ثانیہ جی وفا تو ایسا احساس ہے یا یہ کہنا بہتر رھے گا کہ ضمیر کی وہ آواز ہے جو سب کی پاس نہی ہوتی۔ یہ تو دو طرفہ جزبہ عشق ہے۔ پہلے تو عشق کی عمق کو پھچاننا پڑتا ہے۔ ۔ پھچان کے ساتھ روح کو ٹٹولنا پڑتا ہے۔ کبھی وقت ملا تو اپنے عشق پر لکھے ہوے فلسفہ آپ کے لیے بھیجوں گی شایدآپ کو وفا مل جاے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 28, 2008 at 2:59 pm
نہایت ھی پیاری سعیدہ جی ویسے میں تانیہ ھوں ۔یہ شاعری میری نہیں ھے۔ سعدیہ کی ھے ۔میرا تو خیال ھے کہ مجھے اپنے حصے کا کام کرنا ھے۔مجھے اپنی وفا کرنی ھے۔ جواب میں کیا ملتا ھے یہ ضروری نہیں۔ہاں یہ ضرور ھے کہ ایک انسان ھونے کے ناطے کبھی کبھی لوگوں کی بے حسی پر افسوس ھوتا ضرور ھے۔پھر یہ سوچ کے کہ جو لوگ کر رہئے ھیں ان کو کرنے دو مجھے کیا کرنا ھے ۔جب نیکی کی جاتی ھے تو سب کچھ بھول کے،واپسی کی کبھی امید نہیں کرنی چاہئے ۔
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
July 28, 2008 at 8:54 pm
اچھا تانیہ جی معافی چھاتی ہوں آنکھیں بھت کمزور ھیں کبی ٹھیک سے دیکھای نھی دیتا۔ اب تو سعدیہ سے بھی معافی مانگنی پڑے گی۔ سعدیہ جی معاف کیجیے گا آپ کے کلام کو کسی اور کا سمجھ لیا۔ تانیہ تصحیع کرے کا شکریہ
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 29, 2008 at 1:36 am
سعیدہ جی اب آپ معافی مانگ کر مجھے شرمندہ کر رہی ھیں ۔چلیں اس بہانے آپ ھمیں اپنا عشق والا فلسفہ ضرور دیں گی انتظار رہئے گا خوش رہیں
سعیدہ نثار علی
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 7:02 am
تانیہ انتظار کرتی رہو ایک دن مل جاے گا
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 29, 2008 at 6:38 pm
سعیدہ جی انتطار تو میں کر لوں لیکن یہ نا ھو کہ آپ بھول جاہیں ،اور میں یہ گاتی پھروں دنوا دنوا میں گنہنوں کب آئے گا فلسفہ ۔