’’ وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘
بلاگرز دوستو۔برلن میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک نہایت اہم رکن،معروف ادیب،شاعر،اور افسانہ نگار عارف نقوی نے اپنا ایک خوبصورت اور غیر مطبوعہ تازہ افسانہ ارسال کیا ہے۔ ضرور ہڑھیئے اور اس پر اپنی رائے بھی دیجئے۔صفدرھمدانی
’’ وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘
از۔ عارف نقوی (برلن)
’’ٹور، ٹور (گول، گول)، جرمنی، جرمنی۔۔۔‘‘
وہ زور سے چلایا اور پھر اس طرح سے اچھلنے لگا جیسے اسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ سامنے لگے ہوئے ایک
بڑے سے اسکرین پر فٹ بال میچ آرہا تھا۔ جیتی ہوئی جرمن ٹیم کے کھلاڑی خوشی سے اچھل رہے تھے، گلے مل رہے تھے،
ایک دوسرے پر کود رہے تھے اور ہاری ہوئی ترکی کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسکرین کے
سامنے پانچ لاکھ مرد عورتوں، بوڑھے بچوں کا سمندرجوار بھاٹا میں بدل گیا تھا۔ لوگ پاگلوں کی طرح خوشی سے
اچھل رہے اور ناچ گا رہے تھے، ایک دوسرے کو گود میں لے کر ہوا میں اچھال رہے تھے۔ان کے بازوؤں، گالوں
اور ماتھوں پر جرمنی کے قومی جھنڈے بنے ہوئے تھے، گلے میں کالے، لال اور سنہرے رنگ کے نقلی پھولوں کے ہار
لٹکے تھے، قومی رنگ کی ٹی شرٹس پہنے، کنٹوپ لگائے اورجھنڈوں کو پینٹ کے اوپر لنگیوں کی طرح کسے ، باجے تاشے لئے ،
سیٹیاں بجاتے، گانے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے جشن منا رہے تھے اور آسمان آتش بازیوں سے جگمگا اٹھا تھا، لگتا تھا
سارے ستارے پارہ پارہ ہوکر زمین پر آرہے ہیں۔
’’ٹور ، ٹور، گول گول، ڈائچلانڈ، ڈائچلانڈ (جرمنی جرمنی) کے کورس نے آسمان کو سر پر اٹھا لیا تھا۔ ہر طرف
کالی، لال، سنہری پٹّی والے جھنڈے اور تیزی سے لہرانے لگے جیسے کسی جنگل میں طوفان آنے پر پیڑوں
کی شاخیں جھومتی ہیں۔ کہیں کہیں پر ستارے بنے ہوئے ترکی کے سرخ جھنڈے بھی نظر آرہے تھے، لیکن ایسا لگتا تھا
جیسے اداسی میں ڈوب گئے ہیں۔انھوں نے لہرانا کم کر دیا تھا۔
پیٹر نے خوشی سے ماریا کو اپنی گود میں لیا اور پھراپنے چوڑے شانوں پر بٹھا کر دوڑنے کی کوشش کی مگر جمع غفیر میں
ٹس سے مس ہونے کی جگہ نہ ملی۔ اس نے ماریا کو اتار کر اس کے ساتھ ناچنا شروع کر دیا۔
پیٹر کئی ہفتوں سے فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کے میچ دیکھتا رہا تھا۔ شروع میں اسے اپنی قومی ٹیم سے
بہت مایوسی ہوئی تھی۔ بعض جرمن کھلاڑیوں کے لئے اس کے مہنہ سے موٹی موٹی گالیا ں تک نکل گئی تھیں۔ وہ اپنے
گروپ میں پہلا میچ پولینڈ سے جیت گئی تھی۔ جب جرمن ٹیم کے کھلاڑی ’پوڈوسکی‘ نے جو خود پہلے پولش تھا، اپنی ہم وطن
ٹیم کے خلاف جرمنی کی طرف سے دو گول کئے تھے تو اس کا سینہ اپنی ٹیم کے لئے فخر سے پھول گیا تھا۔ا ور اسے یقین
ہو گیا تھا کہ اس کی ٹیم ضرور یوروپین چیمپین بنے گی۔ مگر دوسرے میچ میں اس کی ٹیم ’کروایشیا‘ جیسی ناتجربہ کار ٹیم سے
۔۲۔
بری طرح ہار گئی تھی اور اس کی زبان پر اپنی ٹیم کے لئے ’شائسے‘ اور ’آرش لوخ‘ جیسی موٹی موٹی گالیاں آگئی تھیں۔
پھر جب وہ آسٹریا جیسی کمزور ٹیم سے برابر کھیل کر اگلے راؤنڈ میں آگئی تھی تو اس کی جان میں جان آئی تھی۔ مگر جب جرمن
ٹیم نے پرتگال کی ٹیم کو جو اپنے گروپ میں سب سے کامیاب رہی تھی دو کے مقابلے میں تین گول بنا کرہرا دیا، تو اسے یقین
ہو گیا تھا کہ جرمنی نے اپنی طاقت کو پھر سے حاصل کر لیا ہے اور اب اسے کوئی ہرا نہیں پائے گا۔ اس کا سینہ خوشی سے پھول
گیا تھا۔ اسے اپنی قومی عظمت پر فخر ہو رہا تھا اوراس کی کار پر اب ایک کی جگہ چار قومی جھنڈیاں نصب تھیں۔ اور فلیٹ کی
بالکونی پر ایک بڑا سا قومی پرچم لہرارہا تھا۔ اسکا جی چاہتا تھا کہ کسی طرح سے اڑ کرآسٹریا کی راجدھانی ویانا یا سوئؔٹزرلینڈ کے
شہر باسل میں پہنچ جائے، جہاں اگلے میچ ہونے والے تھے اور اپنی آنکھوں سے اپنے کھلاڑیوں ’بالاخ‘، ’ پوڈوسکی‘، ’ شوائن برگر‘ اور کلوزے لیہمان اور فلپ لام کے کارنامے دیکھے۔
لیکن اس کی ماںسخت بیمار تھی۔ اور کسی وقت بھی سانس بند ہو سکتی تھی۔ باپ کا سایہ اسے بچپن سے ہی نصیب نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا اور پھر مڑ کر کبھی خبر نہیں لی تھی۔ ااس کی ماں نے اسے دن رات محنت کرکے اکیلے پالا پوسا تھا اور اپنی لاتعدادخواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنایا تھا کہ اب وہ پڑھ لکھ کر ایک بڑی جرمن فرم سی مینس میں انجینئیر کی حیثیت سے ملازم تھا۔اور اچھی تنخواہ پا رہا تھا۔ وہ اپنی زندگی پر بہت خوش تھا۔ آج کے زمانے میں جبکہ جرمنی بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ کئی ملین لوگ بے روزگار ہیں یا کم اجرتوں پر کام کر رہے ہیں، اور ضروریات کی چیزوں کی قیمتیں آسمان کوچھونے لگی ہیں، سیمینس جیسی عالمی شہرت کی فرم میں کام ملنا آسان نہیں ہے۔وہ خوش قسمت تھا کہ اس کے لئے چین و سکون کے دروازے کھل گئے تھے۔ اس کی گرل فرینڈ بھی نہایت خوبصورت اور ہونہار تھی اور ایک جمنازیم میں انٹر میڈیٹ کا کورس کر رہی تھی اور پڑھائی پوری کرنے کے بعد پیٹر ہی کی فرم میں ملازمت کے خواب دیکھ رہی تھی۔
پیٹر کی ماں برلن کے ایک اسپتال ’چیریٹی‘ میں بھرتی تھی۔ اس کے دماغ میں ٹیومر تھا اور سوائے آپریشن کے کوئی دوسرا راستہ نہیںرہ گیا تھا۔ ابتداء میں وہ آپریشن کے لئے اپنی رضامندی دینے پر تیار نہیں تھا۔ مگر جب ڈاکٹروں نے یقین دلا یا کہ اسکو بچانے کے لئے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، تو اس نے مجبوراً کاغذات پر دستخط کر دئے تھے۔ وہ دن بھر اسپتال میں بیٹھ کر آپریشن کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر تیسرے پہر کو جب اسے بتایا گیا کہ ’ آپریشن میں وقت لگے گا ، شاید رات کو یا اگلے دن کیا جائے ۔ اسے وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کو اس مریضہ کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہے ‘، تو وہ مایوس ہو کر اپنی منگیتر کے گھر چلا گیا تھا اور پھر وہاں سے وہ دونوں مقامی ٹرین سے شہر کے مرکز میں قائم تاریخی دروازے
۔۳۔
’برانڈن بُرگر گیٹ‘ کی طرف چل دئے تھے، جہاں رنگ برنگی جھنڈیوں اور غباروں سے سجی ہوئی ایک بہت ہی چوڑی اور لمبی سڑک پر بڑے بڑے دیو قامت اسکرینوں کے سامنے لاکھوں لوگ فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا سیمی فائنل میچ دیکھنے کے لئے جمع تھے ، جو جرمنی اور تُرکی کے بیچ ہو رہا تھا۔ اور کیونکہ برلن میں تقریباً دو لاکھ ترک بھی رہتے ہیں، اس لئے یہ میچ دونوں کے بیچ اور بھی سنسنی خیز ہو گیا تھا۔ پھر بھی دونوں قومیتوں کے لوگ ایک ہی جگہ پر جمع ہو کر کھیل کا مزہ لے رہے تھے اور اپنی اپنی ٹیموں کے لئے نعرے لگا رہے تھے ۔جیوں جیوں کھلاڑیوں کے دوڑنے اور گیند کے اچھلنے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی پیٹر کے دل کی دھڑکن میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جب جرمنی کے خلاف پہلا گول ترکی کے کھلاڑی اُگارؔنے کیا تو پیٹر نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ’شائسے‘، ’آرش لوخ‘۔۔۔نہ جانے کتنے گندے الفاظ اس کی زبان سے نکل گئے۔ سامنے لہراتے ہوئے بہت سے ہلال جھنڈے دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔ اچانک ایسا لگا جیسے پانچ لاکھ کی بھیڑ کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ مگر پھر چند منٹ کے بعد وہ اچھل پڑا ۔ اس نے اپنی منگیتر کو بازوؤں میں بھینچ کر اسکے ہونٹوںکو چوم لیا۔ جرمنی کے شوائن اسٹائگرنے گول کر کے حساب برابر کر دیا تھا۔ اور لوگ پاگلوں کی طرح شور مچانے اور جھومنے لگے تھے۔ اورپھر ایسا لگا جیسے آسمان پھٹ پڑے گا جرمن کھلاڑی کلوزے نے۷۹ ویں منٹ پر ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو آگے کر دیا تھا۔
’’ دیکھا ، میں نے کہا تھا ہم جیتیں گے ۔ وی آر گریٹ۔۔۔‘‘ اس نے اپنی منگیتر کو خوشی سے جھنجھوڑ دیا۔ مگر جلد ہی وہ آسمان سے زمین پر آگیا۔ سات منٹ بعد ترکی کے سمیع نے ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو ہارنے سے بچا لیا تھا اور اب پلہ پھر برابر تھا۔
’’ ہائے اب کیا ہو گا۔ ‘‘ ماریہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ’’ او گاڈ مدد کر۔۔۔‘‘
’’ شائسے ، ہمارے ڈیفنس کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ۔ ترکی کے کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں۔ دیکھو کمبخت صابری نے پھر ڈاش دیدیا، یہ بہت خطرناک پاس ہے۔ اب مشکل ہے وقت ختم ہو رہا ہے ، آخری منٹ بچا ہے ۔‘‘
’’ بس تین منٹ ایکسٹرا ملیں گے ۔‘‘ اناؤنسر نے اسکرین پر کہا۔
’’ ایکسٹرا ٹائم ہمارے کھلاڑیوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘‘ ماریہ نے کہا۔
’’ ہاں مگر اگر پنالٹی شارٹس کی نوبت آگئی تو ہم اس میں بہت اچھے ہیں۔‘‘ پیٹر نے ڈھارس بڑھائی۔ ’’ شاید بالک، شوائناسٹائگر، کلوزے اور پوڈوسکی کچھ کر سکیں۔ ‘‘
’’ بالک نے آسٹریہ کے خلاف بہت شاندار گول کیا تھا۔ پتہ نہیں آج اسے کیا ہو گیا ہے۔‘‘ ایک دوسرے نو جوان نے جو ان کے
قریب کھڑا باتوں کو سن رہا تھا گفتگو میں دخل دیا۔
’’ کچھ ہو میچ تو اب ترکی والے لے گئے۔‘‘ ایک ترکی نوجوان نے جملہ کسا اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔’’یار کوئی جیتے۔ اپنے تو دونوں میٹھے۔‘‘
۔۴۔
’’گول، گول، جرمنی زندہ باد، جرمنی جرمنی۔‘‘ زبردست نعرے گونجے اور ترک نوجوان کی آواز ان میں دب کر رہ گئی۔
اور اس کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے زبردست زلزلہ آگیا ہو، پہاڑ پھٹ رہے ہوں۔آتش فشاں کے دہانے کھل گئے ہوں، لاوے آسمان پر پھیل گئے ہوںاور ستارے ٹوٹ کر آسمان سے زمین کی طرف آ رہے ہوں۔ جرمنی کے فلپ لام نے خوبصورتی سے گیند کو گول میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ۲ :۳ کے اسکور سے فتحیاب کر دیا تھا۔
’’ دیکھا دیکھا ، میں نے کہا تھا ، وی آر گریٹ۔ ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا۔‘‘ پیٹر نے ماریہ کو فاتح کی طرح گود میں اٹھا لیا۔
لاکھوں جھنڈے اس کے ارد گرد لہرا رہے تھے۔ مرد عورتیں بوڑھے بچے خوشی سے جھوم رہے تھے ناچ رہے تھے ، گا رہے تھے اور
طغیانی کی لہروں میں بدل گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پیٹر اور ماریہ وہاں سے نکل کردوستوں کے ساتھ ایک بڑے سے کھلے پَب
میں چلے گئے اور اور کھیل پر رائے زنی کرتے اور بیئر کے گلاس ٹکراتے رہے۔ کبھی کسی کھلاڑی کے لئے موٹی سی گالی نکالتے، کبھی تعریف کرتے اورجام سے جام اور لب سے لب ملاتے اور گانے لگتے ’’ جرمنی از گریٹ، وی آر گریٹ۔‘‘
صبح تین بجے کے قریب پیٹر گھر پہنچا۔ ماریہ بھی اس کے ساتھ تھی۔
’’ میں بہت خوش ہوں ماریہ‘‘ اس نے نشے کی حالت میں کہا: ’’ ہم جیت گئے۔‘‘
’’ ہم فائنل میں بھی جیتیں گے۔‘‘ ماریہ نے بھی جھومتے ہوئے کہا۔
’’ ضرور جیتیں گے بھر کس نکال دیں گے۔ جرمنی از گریٹ۔ اس نے نشے کی حالت میں گنگناتے ہوئے کہا اور ماریہ کو بازوؤں
میں لے لیا۔ اس کے گھر کے پاس سے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور کاروں کے ہارن سنائی دیتے رہے۔ کھڑکی کے باہر آسمان پر آتش بازیاں چمکتی رہیں۔ مگر اب وہ اس سب سے بے نیاز خرّاٹے لے رہا تھا اور فٹ بال کے خواب دیکھ رہا تھا۔
تقریباً گیارہ بجے دن کو دونوں کی آنکھ کھلی۔ اس کا ایک دوست فون پر انھیں کامیابی کی مبارکباد دے رہا تھا۔ سورج کی تیز کرنیں کھڑکی سے چھن کر کمرہ میں آرہی تھی اور گرمی اور گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ باہر سڑک پر ابھی بھی بہت سے لوگ فتح کے گیت گا رہے تھے۔پیڑوں پر ہریالی چھائی ہوئی تھی۔ بالکونی پر گملوں میں سجے ہوئے پودوں کے رنگ برنگے خوشبو دار پھول مسکرا رہے تھے۔
ناشتہ کرتے ہوئے اس نے ٹی وی آن کیا تو اس میں بھی کل کے فٹ بال میچ پر تبصرہے ہو رہے تھے اور فائنل میں جیت کی پیشین گوئیاں کی جا رہی تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے گراؤنڈ فلور پر جاکر اپنے لیٹر بکس سے تازہ اخبار ’مارگن پوسٹ‘ نکالا اور واپس آ کر بالکونی میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ اخبار کی شاہ سرخی تھی : ’ جرمنی نے ترکی کو ہرا دیا۔‘ اس کا سینہ ایک بار پھر فخر سے پھول گیا، رگ و پے میں فتحمندی کی برق دوڑ گئی۔ ’وی آر گریٹ ‘ کے احساس نے اس کے جسم میں بے پناہ قوت بھر دی۔ لیکن ۔۵۔
دوسرے ہی لمحے اس کی نظر ایک اور خبر کی سرخی پر پڑی :
’ سیمینس اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرے گی۔‘
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ لکھا تھا: ’’ سیمینس میں ملازمتوں کی کمی توقع سے بھی زیا دہ ہو گی۔’IG Metal کے اندیشے کے مطابق عالمی پیمانے پر دس ہزار لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھوئیں گے۔ قیاس ہے کہ بیس ہزار
ملازمین تک اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘‘
پیٹر کا دل دھک سے ہو گیا’۔ سیمینس جیسی عالمی شہرت کی اتنی بڑی فرم ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے الگ کر دے گی۔ ان کو
لاوارث کر دے گی۔ وہ بے روزگار ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھا ئیں گے۔ کہیں وہ بھی تو اس کا شکار نہیں ہو نے والا ہے؟‘
اچانک ماریہ نے اس کے خیالات کو توڑ دیا:
’’ پیٹر تمھاری ماں۔۔۔‘‘ اور وہ ہر چیز کو بھول گیا۔ جرمنی اور ترکی کے میچ کو، سیمینس کی کہانی کو، کھڑکی کے باہر جیت کے نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کو اور کاروں کے شور کو۔
’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر۔ اس نے ایک وارڈ میں داخل ہوتے ہوئے دعا مانگی۔ اسپتال میں کام کرنے والے کئی لوگ اپنے
سینے پر جرمن ٹیم کے بلّے لگائے ہوئے قریب سے گزر گئے۔ اس نے ایک کمرے میں جا کر نرس سے اپنی ماں کے بارے میں
دریافت کیا تو بولی: ’’ آپ ادھر ، ویزیٹرس کے رُوم میں بیٹھ جائیے، ڈاکٹر صاحب آپ کو خود بتائیں گے۔‘‘
’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر!‘‘ اس کے موٹے موٹے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے۔ ماں کا چہرہ نظروں کے سامنے
گھوم رہا تھا۔ ایک خوبصورت درمیانی قد کی عورت، سنہرے بال بڑی بڑی جھیل کی مانند پرکشش نیلی آنکھیں، جو اب کچھ موٹی ہو گئی تھی چہرہ پر کچھ جھرّیاں نمایا ہوگئی تھیںمگر پھر بھی اس میں بلا کی کشش تھی۔نہایت ہی ملنسار اور ہمدرد تھی۔ پیٹر کے دوستوں کی خاص طور سے خاطر کرتی تھی اور ماریہ پر تو اپنی بیٹی کی طرح مہربان تھی۔
اسے یاد آیا ، جب وہ بچہ تھا تو کتنی محبت سے کہانیاں اور لوریاں سنا کر ماں اسے سلاتی تھی۔اپنے ساتھ باغوں اور جھیلوں میں
لے جاتی تھی۔ روز صبح اپنے ہاتھوں سے کپڑے پہناتی اور کنڈرگارٹن لے جاتی تھی اور پھر شام کو اسے گھر لا کر ممتا کے سارے دروازے کھول دیتی تھی۔ اس کی ماں جو اس کی پرورش کے لئے ایک بڑے دفتر میں فرش کی صفائی کرتی تھی لیکن اسے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتی تھی۔اور اپنی تمام خواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا کہ اب وہ سیمینس جیسی بڑی فرم میں ایک انجینئیر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا اور اچھی تنخواہ کما رہا تھا۔
ڈاکٹر ابھی بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا نا ہی اس نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا تھا۔ کچھ فاصلے پر بیٹھا ہوا ایک مریض اخبار
میں گم تھا۔ فٹ بال میچ سے بھری شاہ سرخیاں دور سے نظر آرہی تھیں۔ پیٹر نے منت بھری نظروں سے ڈاکٹر کے کمرہ کے ۔۶۔
دروازے کی طرف اور پھر اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئی نرس کی طرف دیکھا۔ مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔
’’ اوہ گاڈ، میری ماں کی مدد کر۔۔۔‘‘ اس نے ایک بار پھر نظریں اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا۔اسے یاد آیا:
دسمبر کی ایک شام تھی ۔ سڑکوں ، پارکوں اور پیڑوں پر برف جمی ہوئی تھی۔ ہر طرف کرسمس کا جشن منایا جا رہا تھا۔گھروں اور
سڑکوں پر قمقموں کی قطاریں جگمگا رہی تھیں۔ لیکن اس کے گھر میں کرسمس کا کوئی پیڑ نہیں تھا۔
’’ ماں ہمارے وہاں کوئی ’ٹنین باؤم‘ (کرسمس پیڑ) نہیں ہے۔
’’ ہاں بیٹا ۔۔۔‘‘ ماں نے اداس لہجہ میں جواب دیا۔
’’لے آ ؤماں۔ سب کے وہاں ’ ٹنین باؤم ‘ ہیں۔ کنڈر گارٹن میں، رالف کے وہاں، اُووے کے وہاں،
سب کے وہاں۔۔۔‘‘
’’ ان کے پاس دھن ہے بیٹے ۔ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم غریب ہیں۔
’’ ہم کیوں غریب ہیں ماں؟ غریب کیا ہوتا ہے؟‘‘ پیٹر روہانسا ہو کر بولا۔
’’ بیٹے مجھے مہینے میں بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ٹنین باؤم خرید سکیں اور اس کو سجا سکیں۔ ہمارا فلیٹ بھی بہت چھوٹا ہے۔‘‘
’’ ہم کیوں اس قابل نہیں ہیں ماں؟ ہم بھی اپنے گھر میں ٹنین باؤم لگائیں گے۔‘‘ وہ رونے لگا۔
’’ تو میں اپنی جان دیدوں تیرے کرسمس پیڑ کے لئے۔‘‘ ماں نے اس کے گال پر طمانچہ مارا اور پھر سینے سے چمٹا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر اس نے کچھ نہ کہا ، کوئی ضد نہ کی۔ ماں کے سینے سے چمٹا رہا ۔ ایک عجیب سے پیار کا لمس اسے مل رہا تھا۔ ماں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔ اس کے سر کو سہلا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور رنگ برنگے قمقموں سے سجے کرسمس کے پیڑوں کے باغوںکی سیر کر رہا تھا۔
دوسرے دن اسے کنڈر گارٹن میں پہنچانے کے بعد ماں کام پر چلی گئی۔ اولیور نے بتایا کہ اس کے باپ نے ایک بہت بڑا ،
خوبصورت ’ٹنین باؤم‘ لا کر ڈرائنگ روم میں لگایا ہے اور کرسمس کے دن اسے سجائے گا۔اوشی گا رہی تھی: ’ او ٹنین باؤم۔۔۔او ٹنین باؤم (اے کرسمس کے پیڑ تیرے پتّے کتنے خوبصورت ہیں)۔‘
ریڈیو پر کرسمس کے گانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔لیکن پیٹر کو اب ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
’’ ہم غریب ہیں بیٹے۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔‘‘
ماں کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ اور گال پر ماں کا طمانچہ اور پھر محبت سے سینے سے چمٹاکر پھوٹ ۔۷۔
پھوٹ کر رونا یاد آرہا تھا۔
تیسرے پہر کو جب ماں پیٹر کو لینے کے لئے کنڈر گارٹن پہنچی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ پیٹر نے دوڑکر اس کے گال کو چومااوراس کی بانہوں میں سما گیا۔ پھر اس نے اپنا کوٹ پہنا۔ بیگ کو پیٹھ پر لادا او ر اچھلتا ہو ہنسی خوشی ماں کے ساتھ گھر کو چل دیا۔
فلیٹ میں داخل ہو تے ہی اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک کونے میں رکھے، بیگ کو کوری ڈور میں ایک طرف ڈالا اور کوٹ کو ہینگر پرلٹکادیا۔ پھر جیسے ہی وہ کمرہ میں داخل ہوا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ایک چھوٹا سا ٹنین باؤم (کرسمس کا پیڑ ) کونے میںکھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔
’’ یہ ہمارا ہے ماں؟‘‘ فرط مسرت سے اس کی زبان سے نکلا۔
’’ ہاں بیٹا، یہ تیرا ہے۔‘‘ ماں نے فخر سے جواب دیا اور پھر اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکلے اور گالوں پر پھیلنے لگے۔پیٹر کی کچھ سمجھ میں نہ آیا اور کیا کہے ، کیا پوچھے۔ ماں نے تو کہا تھا ہم غریب ہیں۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہمارا فلیٹ بہت چھوٹا ہے۔صرف ایک کمرے، کچن اور باتھ روم کا۔ اور اب یہ سب۔ اسے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے ماں کے سینے سے لپٹ کر اس کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے پونچھنا شروع کر دیا۔
دوسرے دن اس نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر کرسمس پیڑ کو سنہرے اور روپہلے شیشے کے گولوں اور رنگ برنگے ستاروں سے سجایا۔ اس کی شاخوں پر پر سیب لٹکائے، چاکلیٹ کی ٹکیاں ٹانگیں، موم بتتیاں نصب کیں اور سارے پیڑ کو ابرق سے دُلہن کی طرح سجا دیا۔ اس کے بعد تیسرے پہر کو دونوں نے ایک قریبی گرجا گھر میں جا کر ایک پادری کا واعظ سنا اور عیسی مسیح کی پیدائش کے باریمیںبچوں کا ایک ڈرامہ دیکھا اور پھر گھر لوٹ کر ’ ٹنین باؤم ‘ (کرسمس پیڑ) کو روشن کر دیا۔
’’ ہیر مایر! ہیرپیٹر مایر۔۔۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مخاطب کیا۔
’’ ہمیں افسوس ہے۔ ہم آپ کی ماں کو نہیںبچا سکے۔ آپریشن کامیاب نہیں ہوا۔۔۔‘‘
پیٹر نے مہنہ کھولا ، مگر الفاظ زبان سے نہ نکل سکے۔آنسوؤں کی جھڑی جاری ہو گئی۔
اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ ماں کی محبت اور قربانیوں کی بے شمار مثالیں یاد آ رہی تھیں۔ لیکن اب وہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکی تھی۔ وہ فٹ بال کے نشے میں اندھا ہو کر آپریشن کے وقت بھی اسپتال میں موجود نہیں تھا۔
آس پاس بیٹھے ہوئے کچھ مریض اب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ان میں سے کچھ کے سینوں پر قومی فٹ بال ٹیم کے نشان چسپاں
تھے۔ وارڈکے باہر بنچوں پر بیٹھے کچھ مریض کل کے کھیل پر تبصرے کر رہے تھے۔ اور اسپتال کے باہر سڑک پر دوڑتی ہوئی ۔۸۔
بہت سی کاروں پر جرمنی کے قومی جھنڈے لہرا رہے تھے اور دیواروں پر لگے بڑے بڑے پوسٹروں پر فٹ بال کے کھلاڑٰی نظر
آ رہے تھے۔
دن بھر اس نے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو اطلاع دینے اور ان سے مشورے لینے میں صرف کیا۔ تجہیز و تکفین کا بندوبست کرنا تھا، ایک دفنانے والے دفتر سے رجوع کرنا تھا، قبر کی زمین کو ریزرو کرنا تھا، سنگ مرمر کی پلیٹ اس پر لگوانی تھی۔ بہت سے لوگوں کو کارڈ بھیجنے تھے اور دفنانے کے بعد وہاں پر آئے ہوئے لوگوں کو قبرستان کے قریب ہی ایک ریستوراں میں لے جا کر ماں کے نام پر کھانا کھلانا اور شراب پلانی تھی۔ اور اس سب کے لئے بنک سے قرض لینا تھا۔
وہ کئی دن بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ سوچتے سوچتے اس کا سر چکرانے لگتا تھا۔ آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ دل کسی چیز میں نہیں لگتا تھا۔ نہ کھانا، نہ بئیر، نہ ریڈیو اور ٹی وی۔ اسے رہ رہ کر بس اپنی ماں یاد آتی تھی۔
لیکن آج پھر وہ اپنے سینے پرکالی لال، اور سنہری پٹّی والا بیج لگائے ’ برانڈن برگر‘ پھاٹک پر موجود ہے۔ ماریہ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے گال لال کالے اور سنہری دھاریوں کے میکپ سے مزین ہیں، گلے میں کاغذی پھولوں کا ترنگا ہار
پڑا ہوا ہے۔
’ برانڈن برگر گیٹ‘ کے سامنے لاکھوں ہنستے گاتے، نعرے لگاتے جھومتے انسانوں کا سیلاب موجزن ہے، جو فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا فائنل میچ ایک بڑے سے اسکرین پر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے ہیں، جو جرمنی اور اسپین کی ٹیموں کے درمیان ہونے جا رہا ہے۔
سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ’وی آر گریٹ‘۔ پیٹر اور ماریہ بھی اس نعرے میں شامل ہو گئے ہیں۔































انورظہیر
نے لکھا؛
July 25, 2008 at 3:56 pm
متحرم عارف بھائ!
یو آر گریٹ کہ آپ نےخوبصورت اور جدید چُبھتے موضوع پر قلم اُٹھایا- بہت خوب !!!!
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 25, 2008 at 6:01 pm
کیپیٹلِزم کے شِکنجے میں جکڑے ہوئے روبوٹ نُما پیٹر میں اپنی ماں کیلئے اتنی ہمدردی بھی غنیمت ہے۔ ورنہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ یس کی ماں کی لاش کہ جلا کر اُسکی راکھ کی پوٹلی کو قبرستان میں ایستادہ دیوار کے کِسی 100سینٹی میٹر سکویئر کے جھروکے میں رکھ کر ٹاؤن ہال والے خط لِکھ دیتے اور فاینل میں پرتگال کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ماں کے مرنے کا خط بی مِل جاتا اور یہ پھر بھی اپنے دوستوں کو کھانہ اور شراب تو پِلا ہی دیتا۔
دراصل افراد اور انکی سوچیں سِسٹمز کی مرہونِ مِنت ہیں۔ اور نظام، خکومت، مُنتظمین اور پِھر جا کر عوام آتی ہے۔ اب جب تک نظام بنانے والا عوام کا ہمدرد نہ ہو جو کہ خالق کے سِوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ اور اُس نِظام کو نافِذ کرنے والے اُسی خالق کے حقیقی نُمائندے نہ ہوں تب تک معاشرے میں انسانی اِقدار کی پامالی کے یہی مناظر دیکھنے اور سُننے میں آئیں گے۔ ہم اگر گاڑی مرسیڈیز لیتے ہیں تو ہر مخصوص مُدت کے بعد مرسیڈیز والوں ہی کے گیراج سے اُسکی ٹیوننگ کراتے ہیں، لیکن کبھی انسان نے اپنے بارے میں نہیں سوچا کہ ہمیں بھی خود پر وہی نظام لاگو کرنا چاہیے ،اُسی یوزر گایڈ کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو ہمیں بنانے والے نے کاینات کی امین ترین ہستی کے ہاتھ بھیجی اور اُسکو نافذ کرنے والی شخصیات بھی اُتنی ہی امین اور کاینات کے آخری دِن تک ساتھ رہنے والی ہیں۔ کاش کہ ہماری اکثریت اس نظام کو مان لے اور اُسکا نِفاذ کرنے والوں کو اپنا حاکم تسلیم کر لے۔ تو پھِر انسان فرِشتوں سے بڑھ جاتا ہے۔ افسانہ بہت خوبصورت اور اِس معاشرے کی سہی عکاسی ہے۔ بہت اچھے۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 25, 2008 at 6:51 pm
یوں تو افسانہ بہت اچھا تھا ۔شروع سے لے کر آخر تک چھوڑنے کو دل نہیں کرتا۔پیٹر کو اپنی ماں کی محنت اور قربانی تو یاد رہی ۔ورنہ جس معاشرے کی عکاسی کی گیی ۔وہاں تو پوچھ لینا بھی بڑی بات ھے۔یہاں پر مجھے اپنا ملک مین یاد آگیا ایک دن وہ نہیں آیا ۔تو اگلے دن میں نے نا آنے کی وجہ پوچھی تو اپنے باپ کے مرنے کی خبر یوں دی ۔جیسے کوئی بڑی بات نا ھو ۔جبکہ اس کی بات سن کر میری انکھوں میں آنسو آگیے۔اب یہی باتیں ھمارے پاکستانیوں نے بھی بہت حد تک اپنا لی ھیں کہ ماں باپ کو پیسے بھج دیے ،اور اپنا فرض پورا کر لیا۔ یہ جانے بنا کہ ماں باپ کو پیسوں سے ذیادہ اپنے بچوں کی ضرورت ھوتی ھے۔
علی شاہ
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 2:38 am
عارف نقوی صاحب کی تحریر بہت اچھی لگی۔
خاورچودھری
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 9:47 am
عارف نقوی صاحب نے جس انداز سے اپنے مشاہدات و محسوسات کو پیش کیا ہے قابل داد ہے۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 26, 2008 at 7:04 pm
اٍس پلاٹ پر بہت سے لوگوں نے لکھا ھے لیکن اٍس بے ساختگی سے شاید ھی کسی نے لکھا ھو ۔ تحریر ھمیشہ وہی خوبصورت ھوتی ھے جو تصور باندھ دے اور پھر پڑھنے والے کی انگلی تھام کراُسے اپنے ساتھ لے چلے اور اُس سے اپنی بات کہے بغیر کہی جانے نہ دے ۔ اٍس افسانے میں وہ سب ھے ۔۔۔ جیسے “ روز صبح اپنے ہاتھوں سے کپڑے پہناتی اور کنڈرگارٹن لے جاتی تھی اور پھر شام کو اسے گھر لا کر ممتا کے سارے دروازے کھول دیتی تھی۔ ایک اور جگہ پر لکھا ھے “تو میں اپنی جان دیدوں تیرے کرسمس پیڑ کے لئے۔‘‘ ماں نے اس کے گال پر طمانچہ مارا اور پھر سینے سے چمٹا کر دیر تک روتی رہی۔“
بہت خوبصورت بنت ھے ۔۔۔ !