Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

احمد فراز اور حکومت پاکستان کی بے حسی

بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

17 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 2:53 am

    ہم پتھروں میں رنگ وفا ڈھونڈھ رہے ہیں
    مے خانے میں جس طرح خداڈھونڈھ رہے ہیں
    شرم آتی ہے اب کہتے ہوئے خود کو بھی شاعر
    بے حس ہیں جو ہم اُن میں حیا ڈھونڈھ رہے ہیں

  2. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 4:02 am

    یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ھے بے حسی کی کتنے لوگ چلے گیے ، کسی نے بھی پوچھنا بھی گوارہ نہیں کیا ۔کہ مرنے سے پہلے وہ کس حال میں تھے۔اور آدب کی دنیا میں تو ذیادہ خوش ھوں گے کہ اتنا خوبصورت شاعری کرنے والا نا ھی ھو تو اچھا ھے کیونکہ ان کے راستے کی دیوار گرنے لگی ھے۔

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 4:23 am

    یہ بات ھم سب جانتے ھیں کہ موت برحق ھے پر ایسے کسی عہد کا خاموش ھوجا “ برق“ ھے ۔ ۔تانیہ تمھارا تبصرہ “ ادب کے لوگ تو خوش ھونگے “ پڑھ کر بہت افسوس ھوا ۔ میرا ایمان ھے کہ کسی کی پرواز کا سفر کوئی احمد فراز جیسا بھی نہیں روک سکتا ۔ میری تمنا ھے کہ ھم سب اپنے دلوں کی کثافتوں سے باہر نکلے اور اور سوچیں کہ ایسے لوگوں کا اٍس طرح سے جانا کس کی بے حسی ھے ؟ ۔

  4. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 5:46 am

    لوگوں کے درد بانٹ لینے والا خود دردناک انجام کی طرف جا رہا ہے، لوگوں کے احساسات پر چھا جانے والے پر اب موت چھائی جا رہی ہے۔ اور اب بھی وہ فرازِ دار سے (بقول بابا جی) اِس بے بصر عہد سے مُخاطب ہےاور اپنی بے بسی میں بھی اُسکا ‘ایک بھی حرف سرنِگوں نہیں ہے، بِلاشبہ فراز ایک عہد کا نام ہے اور جو اُسکے جانے کے بعد بھی زِندہ رہے گا۔ ایسے افراد مرا نہیں کرتے مُنتقِل ہوا کرتے ہیں، اور مُقتدر قوتیں ہمیشہ سے اپنی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھے رکھتی ہیں جِس میں‌سے اُنکو صِرف اُنکے اپنے مُفادات ہی نظر آتے ہیں اور ایسے افراد ہی کو مراعات دی جاتی ہیں جو اُنکے کِسی کام آسکے۔ یہ تو سب اہلِ قلم افراد ہی کو کُچھ کرنا ہوگا نہیں تو رائج جمہوریت تو صِرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی سرگرداں ہے۔

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 6:30 am

    چوہدری عمران صاحب آپ نے کیا اچھا کہا کہ “ایسے افراد مرا نہیں کرتے مُنتقِل ہوا کرتے ہیں“ اور میں آپ سے متفق ھوں کہ “ یہ تو سب اہلِ قلم افراد ہی کو کُچھ کرنا ہوگا نہیں تو رائج جمہوریت تو صِرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی سرگرداں ہے۔“ لیکن کیا ھی اچھا ھو کہ حکومت بھی اٍس ٹرسٹ کی سرپرستی کرے اور ھم میں ھی سے کوئی ایسا ھو جو اُن سے اپنی یہ بات منوا لے ۔اٍ سلسلے میں “آئی پٹیشن “ نام کے پلیٹ فارم پر کام ھو رھا ھے ۔ اللہ پاک ھم سب کی چھوٹی بڑی سب کوششیں قبول کرے ۔ آمین

  6. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 8:39 am

    دوستو ایک خوشی کی خبر آ ئی ھے کہ ھم سب کا پاکستانی حکومت سے احتجاج اور یو ایس کے ایمبیسیڈر جناب حسن حقانی کی کوششوں کی وجہ سے جناب احمد فراز کو پاکستانی گورمنٹ نے اپنے خرچے پر پاکستان لے جا کر علاج کروانے کی حامی بھر لی ھے ۔ مجھے ابھی اپنے دوستو کی طرف سے ای میل ملی ھے جو میں من و عن شایع کر رھی ھی ھوں

    Pakistan to pay for Faraz’s treatment

    http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2008\07\27\story_27-7-2008_pg7_34

    (By Khalid Hasan, Daily Times- 27 July 2008) WASHINGTON: The Pakistan government has decided to take responsibility for Ahmed Faraz’s hospitalisation as well as expenses incurred on his return to Pakistan, which could come as early as next week.

    This was confirmed to Daily Times by Pakistan’s Ambassador to US Husain Haqqani, who made personal efforts to get the decision approved at the highest levels of government. However, several uncertainties remain, Faraz’s delicate condition being the principal one. While his son Shibli Faraz, who flew in from Pakistan a fortnight ago, and the rest of the family would like to take him home as soon as his doctors permit, it is difficult to say when that might be.

    Next week looks like a possibility, but there is no certainty to that either. Ideally, Faraz’s family would want him to be on the non-stop Toronto-Islamabad PIA flight, but that would require Canadian visas for both father and son, something they do not have. However, the Canadian embassy ought to be willing to do the necessary on humanitarian grounds. There is no Canadian consulate in Chicago, so the application will either have to be made in New York or Washington. The fate of the application Faraz made for a Canadian visa in Washington is not known.

    One idea thrown up by some that Faraz should be taken home in Prime Minister Gilani’s special PIA plane, is not doable for a number of reasons. Gilani flies back on the afternoon of July 30 from Washington, not to Islamabad but Colombo. Even if he agrees to have Faraz on board, the poet will have to be disembarked at Manchester. In the end, it all depends on Faraz’s condition, which shows no sign of improvement.

  7. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 9:13 am

    مجھے یہ لکھتے ھوئے بے حد خوشی ھو رھی ھے کہ دوستوں کی آسڑیلیا ، کینیڈا ، لندن اور پاکستان سے برابر مجھے ای میلز آ رھی ھے کہ القمر آن لائن پر بر وقت کالم اور خبروں نے انہیں بہت حوصلہ دیا ھے ۔ لکھتے ھیں
    Faced with a growing international campaign, the Pakistan government has decided to take responsibility for Ahmad Faraz’s hospitalisation and travel.
    Credit goes to all who raised their concern in media and online, as well as Pakistani diplomats in the US made this happen.
    Thanks to all who signed the online petition. (http://www.ipetitions.com/petition/ahmadfaraz/index.html)
    سچ تو یہ ھے کہ ھم کسی بھی طرح سے کسی کا لکھا ھوا وقت ٹال تو نہیں سکتے ھاں اُس وقت کو آسان ضرور بنا سکتے ھیں ۔جیسے کہ میں ھمیشہ اپنے مریضوں سے یہی کہتی ھوں کہ میں تمھاری عمر میں اضافہ نہیں کر سکتی لیکن اُسے آسان بنانے کی کوشش ضرور کرسکتی ھوں ۔ تو دوستو جیسے کوالٹی آف لائف ھوتی ھے ویسے ھی میرے نزدیک کوالٹی آف ڈیتھ بھی ھوتی ھے اور بحثیت ایک دردمند انسان کے ھمیں ایک دوسرے کو یہ دونوں سہولتیں دینے کی پورے دل سے کوشش کرنی چاھیئے، چاھے وہ کتنی بھی چھوٹی سی کیوں نہ ھو ۔

  8. تانیہ رحمان نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 2:54 pm

    نگہت ھر جگہ اچھے برے ھیں اور ادب کی دنیا میں سب فرشتے نہیں ھیں ،جبکہ ھم بےحسی کی بات کرتے ھیں تو انسانوں کے لیے ھی بات ھو رہی ھے۔اور اس دنیا میں بھی کہی لوگ ھیں میری بات پر افسوس کرنے سے پہلے غور کرو پیلز جیسا کہ عمران جی نے کہا کہ یہ تو سب اہلِ قلم افراد ہی کو کُچھ کرنا ہوگا نہیں تو رائج جمہوریت تو صِرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی سرگرداں ہے۔

  9. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 3:10 pm

    تانیہ مجھے اٍس سے کبھی غرض نہیں رھی کہ لوگ کیسے ھیں اور کیا کرتے ھیں میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ھے کہ میں خود کیا ھوں اور میرا رویہ کیسا ھے ۔ میرے کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ھمیں کم از کم اٍس وقت اٍس کدورت کا زکر نہیں کرنا چاھیئے تھا ۔ میری بات تم کو ناگوار گزری اس کے لیئے تہہ دل سے معذرت خواہ ھوں ۔

  10. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 3:21 pm

    الحمد و لِلہ، بقول شیکسپیر ‘every thing is good if end is good’ سو اب جبکہ حکومتی ہرکاروں کو بُنیادی انسانی حقوق اور اپنے فرایض کا احساس ہو گیا ہے تو وقتی طور مسئلہ حل ہو گیا ہے، لیکن اس قِسم کے مسائل دوبارہ بھی پیش آتے رہیں گے اس لیے ہمیں اس بات کو ختم نہیں کر دینا چاہیے یہ تحریک جو نِگہت صاحبہ آپ نے شروع کی ہے اس تحریک کو کِسی نتیجہ پر پہنچا کر ہی دم لینا چاہئے نہیں تو دم تو ہر کِسی کا نِکل ہی جانا ھے، کوئی ایسا اِدارہ ہونا چاہیے جو زِندگی نہیں تو کم از کم موت کو تو آسان بنا سکے۔ اور نِگہت صاحبہ آپکا تو پروفیشن بھی یہی ہے میں بھی اِدھرPeace Education And Rehabilitation Link کے نام سے ایک NGO چلا رہا ہوں اور بھی بہت سے لوگ مربوط ہو سکتے ہیں اور پِھر قافلہ تو بن ہی جائے گا

  11. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 3:28 pm

    یہ اُردو انگلش مِکس تحریر لِکھکر مئجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ معن نے کیا لِکھا ہے اور کِسکو لِکھا ہے، لیکن اگر کہیں سمجھ نہ آئے تو میل کر لی جائے

  12. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 3:53 pm

    عمران صاحب مجھے آپ کی تحریر سمجھ آ گئی ھے ممکن ھے کہ دوسروں کو نہ آئے ۔ آپ جب بھی کوئی لفط انگلش کا لکھنا چاہے تو اٍس گرین بورڈ کے نیچے دی گئی آپشن انگش کو کلک کر دے اور جب پورا لکھ چکے تو دوبارہ اردو کی آپشن کلک کر دے ۔ سو آپ دونوں زبانوں میں لکھ سکتے ھیں ۔ میرا ای میل اڈریس ھے
    nasim_nighat@hotmail.com

  13. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 6:23 pm

    آپشن تو وہی کلک کی تھی لیکن ترتیب اُلٹ ہو گئی ، شائد کوئی سپیس آگے پیچھے ہو کئے ہونگے،

  14. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    July 27, 2008 at 7:57 pm

    عمران صاحب آپ تو اس دنیا کے بشر ہیں ہی نہیں ” سپیس”کے ہیں تو پھر سپیس آگے پیچھے کیسے ہو گئی. کچھ اور بات ہو گی جناب

  15. مجاھد حسین سید ھالینڈ NETHERLANDS نے لکھا؛

    August 3, 2008 at 7:24 am

    احمد فراز جیسے عظیم انسان کی صیحت سے مایوس ھوکر ڈاکٹرو ں نے جواب دے دیاھے اسی لیے ان کوپاکستان لایاجارھا ھے جس جس نےچلتی سانسوں کے دوران اپنی اپنی ذیادتی کی معافی مانگنا ھے مانگ لے ورنہ ئ وقت دوبارھ نھ ملے گا

  16. حبیب PAKISTAN نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 1:22 pm

    آپ مھربانی کر کی مجھے احمد فراز کی شاعری بھیجن

  17. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 2:17 pm

    حبیب صاحب آپ احمد فراز کی شاعری ھماری ھی ویب سائٹ پر شاعری والے سیکشن میں پڑھ سکتے ھیں .

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو