نیرو ظالم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ سحر
دنیا کی تاریخ میں جب بھی ظالم لوگوں کا زکر آتا ھے تو نیرو کا ذکر آتا ھے کہ وہ ظالم تھا اس میں اب کتنی حقیقت ھے کتنی کہانی ھے کہتے ھیں جب روم جل رھا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رھا تھا
یہ پرانی کہانی ھے اب انسان مہذب ھو گیا ھے اب ھر انسان کے لیے قانون ھیں سب کے حقوق ھیں اب کوئ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا ھم اپنے اردگرد دیکھیں تو ھمیں مہذب لوگ نظر آتے ھیں
سنا تھا قانون اندھا ھوتا ھے وہ کسی ذات برادری کو نہیں دیکھتا پاکستان میں تو اندازہ ھوتا ھے کے واقعی ھی قانون اندھا ھو چکا ھے
ظالم نیرو جلتے ھوئے لوگوں کو دیکھ کر چین کی بانسری بجاتا تھا آج کا مہذب نیرو عوام کو گرمی میں بنا بجلی کے جلتا ھوا دیکھ کر اپنے اے سی کمرے میں تھری پیس سوٹ پہن کر سکون سے رٹے رٹائے جملے بولتا ھے دل بہلانے والے وعدے کرتا ھے جھوٹی تسلیاں دیتا ھے خوبصورت مستقبل کے سپنے دیکھاتا ھے …
جلتے ھوئے روم کا نظارہ ظالم نیرونے دور پہاڑ سے کیا تھا آج کا نیرو دھماکوں میں جلتے مرتے خودکشی کرتے عوام کو دور سے بھی نہیں دیکھتا خبریں بھی نہیں سنتا کیونکہ اس میں حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ھمت نہیں ..وہ آرام دہ گھر میں بیٹھ کر غیر ملکی ٹی وی چینلز سے لطف اندوز ھوتا ھے
ظالم نیرو روم کو نئ شکل دینا چاھتا تھا ایک ماڈرن روم دیکھنا چاھتا تھا اپنے خواب کی تعبیر چاھتا تھا آج کے مہذب نیرو کی آنکھوں میں غیر ممالک کے پو فضا مقام پہ محل بنانے کے سپنے ھوتے تھے
آج کا نیرو خود غرض ھی نہیں بے حس بھی ھے ماضی میں ایک نیرو تھا مگر اب ھماراپالیمنٹ ھاؤس بھرا ھوا ھے یہ ھی نہیں بلکہ وہ لوگ جو منتخب نہیں ھوئے کسی فرعون کی طرح قانون بناتے ھیں اور خود ھی توڑتے ھیں اور منتخب افراد کو کٹ پتلی کی طرح نچاتے ھیں اور عوام موت کے سائے میں بیٹھی دم بخود پتلی تماشہ دیکھ رھی ھے































چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 4:50 am
ماشاءاللہ، اچھا ہے، بہت اچھا ہے لیکن کوئی تبصرہ کرنے سے پہلےایک کنفیوژن دور کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اوپر نام سعدیہ سحر کا آتا ہے اور راقم کی جگہ تانیہ رحمان ہوتا ہے، تو کیا یہ ایک شخصیت کے دو نام ہیں یا اِنکی اِجتماعی کوشش ہے یا کوئی چمتکار ہے جو میری سمجھ میں نہیں آ رہا اور اگر کوئی یہ اُلجھن سُلجھا دے تو نوازش ہوگی۔ دوسری بات یہ نیرو ہو یا نمرود، فرعون ہو یا یزید یہ افراد نہیں ہیں کِردار ہیں اور وقتا“ فوقتا“ اس دُنیا میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور یہ بھی آزمائش ہوتی ہے اھلِ فِکر و شعور کی کہ کیا وہ ظُلم کے خِلاف سوچتے ہیں۔ لِکھتے ہیں، بولتے ہیں، اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں یا خاموش پُتلی کی طرح آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے تماشیہ دیکھتےرہتے ہیں اور اپنی باری کا اِنتظار کرتے رہتے ہیں۔ بخُدا اِن خاموش پُتلیوں کا حشر بھی نیرو، فرعون یا شداد کے ساتھ ہی ہوگا۔ اور بقولِ فیض
چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں،
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رختِ دِل باندھ لو دِل فگارو چلو
پِھر ہمی قتل ہو آئیں یارو چلو
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 4:59 am
ہمممم صحیح شائد ایسا ہو کہ سعدیہ سحر تانیہ کو میل کرتی ہوں اور وہ اپنے کمپیوٹر سے اِسے القمر میں لگا دیتی ہوں، تو اگر ایسا ہے تو تانیہ جی آپ ٹایٹل سے اُس وقت اپنے نام کی جگہ سعدیہ صاحبہ کا نام ہی لِکھ دیا کریں۔ (معذرت کے ساتھ)
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 5:35 pm
Zardarii And Co kii Parliment Aur Nawaz Sharif kii. Haq Mehlney kii aWaz kissi ko Sonahii nien detti. Ajj jo kuch Amrika key sath Daskhat keyee. 2012 Tak kohi kuch bii nien ka ceyktah Zarrdari and Co ney 38 Arb Rupee Hassal kar lieyee. Kissi ko Kuch Kehney kii Zaruret nien Ajj Tumam N A T O key Mumalik Jadiid aEYSSLAH jALD aZ jALD aFGHANISTAN cEYRAHD PAR PUNCHAHEY:
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 29, 2008 at 6:33 pm
عمران جی آپ نے درست کہا ۔سعدیہ یہ کام خود نہیں کرتیں مجھے میل کر دیتی ھیں ۔عمران جی یہ میری عیجب عادت ھے ۔یا کسی کو دوست کہتی نہیں ھوں ،جب کہتی ھوں ۔تو پھر مجھے ھرچیز سے ذیادہ عزیز ھوتا ھے۔یہاں بھی اپنی دوست کی دوستی پہلے ھے۔اتنی سے بات ھے۔اسی لیے بڑا بڑا سعدیہ سحر لکھتی ھوں۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 2:34 am
دوستی کا مطلب یہ نہیں ھوتا تانیہ کہ دوست کو درست سمت نہ دیکھائی جائے ۔ میرا خیال ھے کہ دوستی کا یہ معیار اچھا نہیں ھے ۔ دوست ھمیشہ وہ ھوتا ھے جو اپنے دوست کو سنوارتا ھے اور لوگوں کے سوالات سے بچاتا ھے ۔ میں سمجھتی ھوں کہ سعدیہ جب خود بلاگ لکھ سکتی ھے تو خود لگا بھی سکتی ھے ۔ اور اگر تم ھی لگانا چاھتی ھو تو پھر اُس کے نام کا اکاونٹ استعمال کر سکتی ھو۔ تاکہ راقم پر سعدیہ کا نام لکھا ھو اور تم کو بڑا بڑا سعدیہ سحر نہ لکھنا پڑے اور باقی احباب کو الجھنا نہ پڑے کہ کس کو مخاطب کریں ۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 5:59 am
یہ بحث تو کسی اور طرف چل نکلی ۔
میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ نیرو تو مر گیا تھا لیکن ظُلم دنیا میں اُس سے زیادہ موجود ہے ۔ نیرو تو صرف روم کو جلتا دیکھ کر چین کی بانسری بجا رہا تھا آج کا نیرو امریکہ ساری دنیا میں خود آگ لگا کر بھنگڑے ڈالتا رہتا ہے
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 2:52 pm
اجمل صاحب آپ صحیح کہہ رہے ہیں آج کا نیرو، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اُس کے بھنگڑے میں دو طریقوں سے خلل ڈالا جا سکتا ہے یا روکا جا سکتا ہے۔ یا تو اُس ڈھول کو پھاڑ دیا جائے جِس کی لے اُسکو بھنگڑا ڈالنے پر اُکساتی ہے اور یا اُسکے پاؤں کاٹ ڈالے جائیں۔ لیکن اِدھر جو صورتِ حال آپ عوام کی بتا رہے ہیں پُتلیوں والی تو میں پہلے بھی اِس بارے میں لِکھ چُکا کہ جب تک لوگ پُتلیاں بنے رہے گے تب تک اں کو نچایا جاتا رہے گا، اور خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جِسکو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔
اجمل صاحب ہر اہلِ شعور پر واجب ہے کہ بے شعور لوگوں کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے جو کر سکتا ہے کرے۔ اور اپنی عزتِ نفس کے تحفط کے لیے مُتحرک کرے۔ اب اِس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے جو آپ کر رہے ہیں، ماشاءاللہ، خُدا قبول فرمئیں۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 30, 2008 at 3:15 pm
نگہت جی آُ پ اچھی طرح جانتی ھیں کہ سعدیہ خود نہیں کر پا رہی ۔میری جب بھی اس سے بات ھوتی ھے تو وہ یہی کہتی ھے کہ تم نے لگا لیا میرے لیے کافی ھے۔اتنے دوستوں کی کہنے کے باوجود وہ اگر یہ نہیں کر سکتی تو کوئی وجہ ھو گی۔جہاں تک اس کے اکاونٹ کی بات ھے تو یہ میری سستی ھے ۔نگہت دوستی میں ھر ایک کا اپنا خیال ھوتا ھے۔اور میرا خیال ھے دوست سے ھی سب سے ذیادہ خوشی اور تکلیف ملتی ھے۔جو کہ میں کم از کم سعدیہ کی تحریر نا لگا کر یہ کام نہیں کر سکتی۔اور جن احباب کو مسلہ ھوتا ھے ۔وہ تبصرہ ھی نا کریں ۔بقول سعدیہ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 3:50 pm
تانیہ اچھا کیا بتا دیا ۔ شکریہ
سعدیہ سحر نے لکھا؛
July 30, 2008 at 7:38 pm
اسلام و اعلیکم
دو دن سے کچھ بزی تھی ..اب دیکھے سب کے تبصرے ..لگ رھا ھے بلاگ سنجیدگی کی طرف جا رھا ھے ..سب کا باری باری جواب حا ضر ھے
سب سے پہلے میں نے نیرو اپنے وزیر اعظم اور منتخب ممبران کو کہا تھا بش کو نہیں ..بش آج کے زمانے کا فرعون ھے جو اپنی سلامتی کے لیے کسی کوبھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ھے
عمران جی ظالم اپنا کردار نباہ رھا ھے تو باقی لوگ اپنا کردار کیوں نہیں نباہ رھے وہ کیوں پتلی تماشہ دیکھ رھے ھیں
نگہت میرا اپنا خیال تھا کہ ھم بلاگ لکھتے ھیں اپنی سوچ کو دوسروں سے شیئر کرنے کے لیے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کے لیے..بلاگ پہ میرا نام آئے یا تانیہ کا کوئ فرق نہیں پڑتا میں نے لکھنے لکھانے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا کبھی کوئ بات دل پہ لگتی ھے تو لکھتی ھوں باقاعدہ نہیں …
ھم جو بھی لکھتے ھیں اس پہ تبصرہ کرنے کا حق سب کو ھے چاھے وہ اس تحریر کے حق میں ھو یا اس پہ تنقید …یہاں ھمیں اپنی سوچ کو جج کرنے کا موقع ملتا ھے
تانیہ کا شکریہ جو اتنے پیار سے سب بلاگ لگاتی ھے اور میرا نام اتنا بڑآ بڑا لکھتی ھے
میں بہت سے لوگوں سے اب تک ملی ھوں مگر بہت کم لوگ ھیں جن کو میں اپنا دوست کہتی ھوں اور تانیہ میری بہت اچھی دوست ھے
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 9:08 pm
جناب سعدیہ سحر، بس یہی تو میرا نقطہء نظر ہے کہ ظالم کے خلاف کام نہ کرنا یا کم از کم نہ بولنا بھی ظلم کا ساتھ دینے کے مُترادف ہے۔ اور ہر اہل ِ شعور پر لازم ہے کہ عملی طور پر جو کرسکتا ہو کرے۔ البتہ اس میں راہنُمائی کی اور مُشاورت کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ میں بذاتِ خود بھی کافی کُچھ کر رہا ہوں۔ انشاء اللہ اگر کوئی اور بھی اھلِ جنوں ساتھ چلیں تو مزید موثر انداز میں کام ہو سکتا ہے۔ اور پھِر ظُلم و جور سے دُنیا بھری پڑی ہے۔ ہر جگہ ریسکیو کی ضرورت ہے۔ اور تجاوز کرنے والوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔ بس انفرمیشن کی ضرورت ہے، اِس لئے ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ معلومات کا تبادلہ ہوتا رہے اور اور اگر ہو سکے تو مِل کر عملی اِقدامات بھی کرناے چاھیئں۔ اور پِر آپکا تو نام ہی سحر ہے، اور ہر شبِ ظُلمت کے بعد ایک سحر ہمیشہ ہوتی ہے۔