بابا جی ۔۔۔۔پہلے کون
چند دِن پہلےکی بات ہے نِگہت صاحبہ نے لِکھا تھا کہ حضرت ہمدانی صاحب کانام’ بابا’ پہلے اِنہوں اور محترم نصر ملک صاحب نے رکھا تھا اور بعد میں ہارون عباس صاحب شامل ہوئے جبکہ میرا دعوہ ہے میں اور ہارون عباس آج سے ساڑھے تین سال پہلے جب پاکِستان میں ‘پرل’ این۔جی۔ او کی برانچ کھولنے کے اِمکانات کا جائزہ لے رہے تھے اُس وقت ہم دونوں میں سے کِسی ایک نے ایک خاص موضوع کے تحت اعلیٰ حضرت کو باباجی کہا تھا اور پِھر یہی پکا کر لیا تھا۔ چونکہ نَگہت صاحبہ کا بلاگ انتہائی سنجیدہ موضوع پر تھا اِس لیے اِس کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا اور اب بھی یہ مسئلہ نہیں ہے کہ پہلے کون تھا بس یہ درخواست ہے کہ ہمیں بھی’ باباجی کلب’ میں شامل کر لیا جائے، درخواست دھندہ کو اور کُچھ نہیں چاہیے۔































نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 6:04 am
میرا خیال ھے کہ آپ نے میرا کالم غور سے نہیں پڑھا ۔ جس میں واضع طور پر لکھا ھے کہ کس نے جناب محترم صفدر ھمدانی صاحب کو سب سے پہلے بابا کہا تھا ۔ میں نے کہیں یہ دعو یٰ نہیں کیا کہ وہ میں تھی ۔ آپ کو چونکہ میں جانتی نہیں ھوں ، اٍس لیئے کچھ نہیں کہہ سکتی ، لیکن ھارون کو جانتی ھوں اور پورے دعوے سے کہہ سکتی ھوں کہ اُس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ھو گاپہلے کہنے کی تو بات ھی بہت دور ھے ۔ خیر بات عزت اور بزرگی کی ھے جو اللہ پاک کسی کسی کو بغیر عمر کی قید کے دے دیتا ھے ۔ اور رھی بات میری تو میں انہیں اُس وقت سے جانتی ھوں جب وہ بھی مجھے نہیں جانتے تھے ۔ میں سمجھتی ھوں کہ کسی کو جاننے کے لیئے اُن سے ملنا ضروری نہیں ھوتا ۔
اگر میرے بابا کو پہلے بابا کہنے پر کسی کو کو ئی تمغہ امتاز ملنا ھے تو عمران صاحب وہ آپ کا ھوا ۔ مجھے ویسے بھی ان باتوں سے کوئی سروکار رھا ھی نہیں کہ کون کسے کتنا اور کب سے جانتا ھے ۔ میرے لیئے یہ اھم ھے کہ کوئی میری دنیا میں کب سے ھے ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 1:44 pm
اللہ آپکو صالحین میں شُمار کرے نِگہت صاحبہ آپ تو اپنے سنجیدہ ہو گیئں بات تمغے یا کِسی اونر شِپ کی بات ہی نہیں تھی بلکہ ایک باباجی کلب بنانے کی طرف اِشارہ تھا اور وہ بھی آپکی تفننِ طبع کے لیے، جو کہ میں لنےِلکھا بھی تھا کہ آُپکا کالم سنجیدہ تھا یعنی یہ بات غیر سنجیدہ ہے، آپ بائی پروفیشن بھی سب کے مسایل سُلجھاتی ہیں اور ہر طرف سے خبریں بھی ایسی ہیں سو کوئی کُنجِ قفس تو ایسی ہو کہ جہاں سے کوئی ایسا منظر ہی نظر آجائے کہ ایک ہلکی سی مُسکراہٹ پیدا ہو جائے اور اعصاب پُرسکون ہو جائیں، بس یہی بات تھی،
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 3:01 pm
ارے نہیں عمران صاحب اس میں سنجیدگی کی کوئی بات نہیں تھی ۔ مجھے لگا کہ آپ کو بتانا ضروری ھے ۔ رھی بات میرے پروفیشن کی تو یقین کرے بلکل بھی ایسا نہیں ھے جیسا آپ سوچ رھے ھیں ۔ میں جہاں آج کل ھوں وہ جگہ انتہائی کمال کی ھے ۔ اتنے خوبصورت لوگوں سے ملاقات کے بعد میرا تو کسی نارمل انسان سے بات کرنے کو دل ھی نہیں کرتا۔ ہاں رھی بات فین کلب کی تو وہ آپ جیسے محبتی لوگ سوچ سکتے ھیں اور بنا بھی سکتے ھیں ۔ میں تو اپنی ھی کنج میں رھتی ھوں اور اُسی میں خوش ھوں ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 4:05 pm
بلکہ لیجئے ایک اور بات یاد آگئی ابھی کذشتہ دِنوں 22 رجب کی نیاز کیلئے ہالینڈ جانا ہوا تو اِن کے بچپن کے دوست سیفی شاہ سے مُلاقات ہُوئی۔ اور اِنکے بچپن کے کافی قِصے اور حرکتیں سُنایئں، مزا آیا۔ میرے پی۔سی۔ میں اُردو فونٹ کا مسئلہ بنا ہُوا ہے نہیں تو کالم کی شکل میں آپ سب سے شیئر کرتا۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 5:40 pm
ھم سب کو آپ کے کالم کا انتظار رھے گا ۔
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 10:53 pm
بھائی عمران.بچپن ہمارا ہے اور ہم سے بہتر اپنے بچپن کو کون جانتا ہے.ہمیں تو اپنی آٹھویں کلاس کی وہ ادھ کھلی آنکھوں والی ”سنجیدہ تبسم ” بھی آج ستاون برس کی عمر میں نہیں بھولی. کوئی دوسرا ہمیں ہمارے بچپن کے بارے میں کتنا بتا سکتا ہے آخر؟ کسی دن اس غم روزگار اور ارد گرد کے منافقین سے نمٹنے سے فرصت ملی اور کچھ لمحے اپنے لیئے جینا چاہا تو ہم خود لکھیں گے اپنا بچپن. جی جب ہم دوپہر کی دھوپ میں محلے داروں کے گھروں کے باہر تالے لگا دیا کرتے تھے،محلے کی خالہ جی کو بتا کر آتے تھے کہ انکی بیٹے کا سڑک پر ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے،محلے کے مُلاں کی ٹوپی لےکر بھاگ جاتے تھے،بابو ستار کے کھیت سے مولیاں ،گاجریں اور گوبھی چُرا کر کھاتے تھے، جی جناب لکھیں گے اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر لکھیں گے.
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 4:49 am
وہ کِسی رکشے پر لکھا ہوا شعر آج تک یاد ہے ‘ یہ کھپلے کھُلے سے گیسو اِنہیں لاکھ تُم سنوارو، میرے ھاتھ سے سنورتے تو کُچھ اور بات ہوتی۔ تو جناب آُ پ تو لِکھیں گے ہی اپنی آپ بیتی لیکن جب ہم لِکھیں گے تو آپ کو وہ باتیں بھی یاد آ جائیں گی جو شاید آپکے ذہن میں بھی نہ ہوں۔
صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 5:32 am
تو سرکار کیجئے بسم اللہ.ہاتھ کنگن کو آرسی کیا.