دے جا سخیا راہِ خُدا تیرا۔۔۔۔۔۔
آج سے دو سال پہلے بیلجیم میں ڈاکٹرز نے اپنی کنسلٹینسی فیس 21 یورو سے بڑہا کر 26 یورو کر دی تھی تو سابق وزیرِاعظم نے اِس کی اِطلاع مِلتے ہی فورا” پریس کانفرنس کی اور ڈاکٹرز کو سختی سے ہدایت کی کہ فیس نہ بڑہائی جائے کیونکہ اُس سال بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور اِدھر ہمارے وزیرِاعظم صاحب ہیں کہ مُلک میں عوام الناس آٹا، پانیَ بِجلی اور دیگر اشیاءصرف سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور قوتِ خرید اِتنی کم ہو گئی ہے کہ افراد خود فروشی پر تُل گئے ہیں اور پِھر بھی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور بجائے اِس کے کہ گندم اور بِجلی کی سمگلنگ کو روکا جائے بذاتِ خود آٹے روٹی کی بھیک مانگنے فرعونِ وقت کے دربار میں حاضر ہو گئے ہیں اور کِتنے فخر کے ساتھ بیان دیا ہے کہ ہمیں چند ملین ڈالر آٹے کی مد میں بھیک مِل گئی ہے۔ جِس روزی سے عِزتِ نفس مجروح ہو رہی ہو اُس سے بہتر ہے کہ بھوک سے مر جایا جائے۔ اور پِھر کیا ہماری زمینیں بنجر ہو گئی ہیں یا کیا وہ ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو زمینوں سے سونا نِکالا کرتے تھے اگر نہیں تو پِھر چیف ایگزیکٹیو صاحب اپنی اور اپنی ٹیم کی اِصلاح کرنے کی بجائے آپکو پوری قوم کی توہین کا مینڈیٹ کِس نے دیا ہے، میرا دِل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔































صفدر ہمدانی
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 6:15 am
یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف
یاجیسے مصر کے بازار میں گیا یوسف
۔۔۔۔۔
یہ کیا کہ بھوکے سے کھانے کی بھیک مانگی ہے
یہ کیسے قریہ خونخوار میں گیا یوسف
۔۔۔۔۔
گداگری سے تو بہتر ہے خود کشی یارو
عجب ہے درد کی منجدھار میں گیا یوسف
۔۔۔۔
بنامِ تمغہ جمہور یہ ملامت ہے
نکل کے حجرے سے سرکار میں گیا یوسف
۔۔۔۔
یہ اقتدار بھی صفدر عجیب لعنت ہے
بس ایک عرصہء آزار میں گیا یوسف
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 2:07 pm
واہ ہمدانی صاحب کیا کہنے، بنامِ تمغہِ جمہوریہ ملامت ہے واہ۔ آپ پی کا آفاقی شعر ہے نہ کہ ‘ رات دِن ایک ہی صفدر میں دُعا کرتا ہوں،،مُجھ کو محتاجوں کا محتاج نہ کرنا یارب‘۔ لیکن بقول اکبر اں کی غیرتِ مِلی جانے کہان چلی گئی ہے اور جانے کیوں اقبال کا شاہین کرگس کا مِزاج اِختیار کر چُکا ہے ۔۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 5:39 pm
عمران صاحب آپ نے بہت عمدہ لکھا ۔ ایک ایک لفط ایک حقیقت بیان کر رھا ھے ایسے کہ اٍن باتوں کی وضاحت بھی تحریر کے حسن کو میلا کر دے گی ۔ اٍس لیئے اٍس پر بابا کے اشعار ھی سند ھیں ۔
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
July 29, 2008 at 5:50 pm
واہ صفدر بھائ خوش رہیےء اورسداسلامت رہیں
آمین
سائرہ
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 29, 2008 at 7:27 pm
امریکہ کا بازار لگا ھے ،لوگوں دیکھو
یہاں بھی یوسف پہنچ گیا ھے دیکھو
اپنے ملک کےحالات سدھرتے نہیں ھیں
امریکہ کو دھمکی دینے آگیا ھے دیکھو
بس کچھ ناموں کی ھیرا پھیری ھے دیکھو
ورنہ مشرف کے ساتھ سبھی جھوٹ ھے۔دیکھو
ھماری حکومت میں ھی امریکہ کے غلام ھیں
کچھ نام تو ویسے ھی بدنام ھیں لوگوں دیکھو
عمران چوہدری
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 3:51 am
واہ، یہ تو فی البدیھ نظموں کا سِلسلہ چل نِکلا، بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سُبحان اللہ. ہمدانی صاحب کی تو خیر کیا بات ہے، ہر وقت ہر موقے پر اُنکے پاس الفاظ کے ڈھیر ہوتے ہیں ججِس کو جِس مرضی لہر میں بہا دعتے ہیں. لیکن قابِلِ داد تو تانیہ صاحبہ ہیں، جو بقو ل اُنکے نئی لِکھنے والی ہیہں اور جِس حوصلے اور مُستقل مِزاجی سے لِکھتی ہیں ماشاءاللہ. خُدا انکے قلم کو قوتِ تخلیق سے بھر دے.آمین
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 4:42 am
شُکریہ نگہت صاحبہ نپے تُلے انداز میں حوصلہ افزائی کرنے کا، اور جب تک قلم کی قوت موجود ہے اور اِس کو مثبت انداز میں اِستعمال کرنے والے موجود ہیں استعماری سوچ کے خلاف مزاحمت جاری رہےگی۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 6:10 am
جان کیامان پاؤں تو عرض کروں
مغربی طرز کی جمہوریت کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ حکومت بہت کم عوام کی نمائندہ ہوتی ہے ۔ آپ امریکہ کو ہی لیجئے ۔ وہاں کے عوام کی اکثریت عراق جنگ کے خلاف ہے لیکن حکومت اس کے حق میں ہے اور عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھائے جا رہی ہے ۔
رہا وطنِ عزیز کے لوگ ایسی جماعت کو منتخب کیوں کرتے ہیں جو اُن کے مسائل حل نہیں کر سکتی ؟ کبھی اس پر بھی غور ہونا چاہیئے
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 30, 2008 at 7:08 pm
عمران جی لگتا ھے آپ نے بس حوصلہ افزائی ھی کرنی ھے ،اس کے لیے بھی بہت بڑا دل چاہیے ۔ویسے بڑا دل بیماری کی نشانی ھوتی ھے یہ میں نہیں ڈاکڑ حضرات کہتے ھیں ۔بہت بہت شکریہ۔اللہ ھمیشہ خوش رکھے۔امین
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 9:18 pm
تانیہ صاحبہ بِلاشبہ آپ دِل کے بڑآ ہونے کی بات کیپیسٹی یا وسیع القلبی کے عُنوان سے کر رہی ہیں نہیں تو اِن اِستعاروں کو اگر وجودی اعتبار سے محسوس کرنا شِروع کر دیں تو۔ بس پِھر کِسی شاعر کی محبوبہ کے بارے میں ذرا سوچ کر دیکھیں کہ، پیشانی کی جگہ کوئی ستارہ ہو، آنکھوں کی جگہ کوئی سُرخ رنگ کے شربت سے بھرا کوئی کٹورا ہواور اُس میں سے تیر نِکل رہے ہوں، ہونٹوں کی جگہ گُلاب کی پتیاں کِسی طرح چِپکائی ہوئی ہوںاور یہ سب کُچھ کِسی صُراحی پر رکھا رکھا ہوا ہو اور اور اور۔۔
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 31, 2008 at 3:24 pm
عمران جی جب میں نے پہلی دفعہ اپنے کورس کی کتاب میں شاعری کی جب تشریح کی ۔تو آپ یقین جانیئے کہ مجھے اس وقت بڑی حیرت ھوئی، جب ھماری استانی جی نے یہ کہا کہ شاعر کہتا ھے کہ اس کی محبوبہ اتنی خوبصورت ھے انکھیں بلکل ھرنی جیسی چال مور کی طرح گردن صرائی دار۔اور ھونٹوں کو تشبہ دی گلاب کی پتیاں ۔جب ان سب کو یکجاکیا تو جو تصویر بنی ۔خوبصورت ھونا تو دور کی بات ۔وہ شاعر کی محبوبہ کم اور چڑیل ذیادہ لگ رہی تھی۔
عمران چوہدری نے لکھا؛
August 2, 2008 at 5:44 pm
مزا آیا آپکا تبصرہ پڑھ کر۔ زندگی ایک انتہائی سنجیدہ حقیقت ہے اور ا۔ س کو گُذارنے کے لئے سنجیدہ پلاننگ ضروری ہے، لیکن کبھی کبھی مُسکرا دینے سے یہ نہیں کہا جائے گا شید یہ لوگ اپنے اھداف کاے ساتھ مُخلص نہیں ہیں۔ تو اے میرے بلاگر دوستو جو کہ سب مُجھ سے سینئیر ہو مُسکراہٹ خواہ چہرے کی ہو یا تحریر کی، قایم وہنی چاہیے۔
سیسے میں اس وقت ڈنمارک اور سویڈن کے ٹوئر پر ہوں، اگر جصر ملک صاحب متوجہ ہوں تو اُن سے بھی مُلاقات ڈآلی جا سکتی ہے۔